خصیوں کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جو مردوں میں پائی جاتی ہے۔ اور جس کے بارے میں اکثر لوگ کھل کر بات نہیں کرتے۔ یہ خاموشی بعض اوقات بیماری کو پکڑنے میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ اگر اس بیماری کے بارے میں صحیح معلومات ہوں تو نہ صرف بروقت تشخیص ممکن ہے بلکہ مکمل شفایابی بھی۔
خصیے مردانہ تولیدی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ دو بیضوی غدود ہوتے ہیں جو تھیلی نما جلد کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ جسے پھوتی کہا جاتا ہے۔ خصیے مردانہ ہارمون اور نطفہ بناتے ہیں۔
جب خصیوں کے خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی آتی ہے تو یہ خلیے بے قابو ہو کر تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔ صحت مند خلیے اپنی فطری عمر پوری کر کے ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن کینسری خلیے مرتے نہیں۔ یہ اکٹھے ہو کر ایک گانٹھ بنا لیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کینسر خصیے سے باہر لمفی غدودوں، پھیپھڑوں اور جگر تک پھیل سکتا ہے۔
تقریباً تمام خصیوں کے کینسر جراثیمی خلیوں سے شروع ہوتے ہیں۔ ان کی دو بڑی اقسام ہیں۔ سیمینوما اور نان سیمینوما۔ سیمینوما آہستہ بڑھتا ہے اور شعاعی علاج کے لیے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ نان سیمینوما تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر ایک گانٹھ میں دونوں اقسام کے خلیے ہوں تو اسے نان سیمینوما کے طریقے سے علاج کیا جاتا ہے۔
Causes of Testicular Cancer Meaning in Urdu
اس بیماری کی براہِ راست وجہ ابھی تک پوری طرح واضح نہیں۔ تاہم کچھ ایسے عوامل ہیں جو خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
- غیر اترے ہوئے خصیے: ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما کے دوران خصیے پیٹ کے اندر بنتے ہیں۔ اور پیدائش سے پہلے یا پہلے چھ مہینوں میں اپنی جگہ پر آ جاتے ہیں۔ اگر خصیہ اپنی جگہ پر نہ اترے تو اسے غیر اترا ہوا خصیہ کہتے ہیں۔ ایسے افراد میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ آپریشن کے بعد بھی۔ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب آپریشن بلوغت کے بعد کروایا جائے۔
- خاندانی تاریخ: اگر باپ یا بھائی کو یہ بیماری رہی ہو تو اگلی نسل میں خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جینیاتی تبدیلیاں اس میں کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم ابھی مزید تحقیق جاری ہے۔
- پہلے خصیوں کا کینسر: اگر ایک بار یہ بیماری ہو چکی ہو تو دوسرے خصیے میں بھی ہونے کا قدرے خطرہ رہتا ہے۔
- غیر معمولی خلیے: یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں خصیے میں غیر معمولی خلیے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کینسر نہیں ہوتے۔ اگر علاج نہ کروایا جائے تو تقریباً پچاس فیصد مریضوں میں پانچ سال کے اندر یہ کینسر میں بدل جاتے ہیں۔
- پیدائشی اسامانیتا: جو مرد پیدائشی طور پر غیر معمولی پیشاب کی نالی کے ساتھ پیدا ہوں، انہیں بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
- ایچ آئی وی: ایچ آئی وی یا ایڈز کے مریضوں میں بھی خطرہ کچھ بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ کچھ شواہد بتاتے ہیں کہ وائرس مخالف ادویات اس بڑھے ہوئے خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔
- نسلی پس منظر: گوری جلد کے مردوں میں یہ بیماری دیگر نسلوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔
Symptoms of Testicular Cancer in Urdu
اس بیماری کی علامات شروع میں ہلکی ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے کئی لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ عام علامات درج ذیل ہیں۔
- خصیے میں گلٹی یا سوجن: اکثر مریض کو خصیے میں سخت گلٹی یا سوجن محسوس ہوتی ہے۔ یہ عموماً درد کے بغیر ہوتی ہے، لیکن اس کا فوری معائنہ ضروری ہوتا ہے۔
- خصیوں میں بھاری پن: بعض افراد کو خصیوں یا تھیلی میں غیر معمولی بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ یہ احساس مسلسل رہ سکتا ہے۔
- پیٹ یا ران کے قریب درد: پیٹ کے نچلے حصے یا ران کے قریب ہلکا درد یا کھنچاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔
- تھیلی میں اچانک پانی بھر جانا: بعض مریضوں میں خصیوں کی تھیلی میں اچانک پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔
- خصیے میں درد یا بے آرامی: اگرچہ زیادہ تر صورتوں میں درد نہیں ہوتا، لیکن بعض افراد کو خصیے یا تھیلی میں تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔
- کمر درد: اگر بیماری جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے تو کمر میں درد بھی ہو سکتا ہے۔
- سینے میں تبدیلیاں: بعض مریضوں میں سینے کی نرمی یا سوجن بھی دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ ہارمون کی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اگر یہ علامات دو ہفتوں سے زیادہ رہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
Diagnosis of These Symptoms
معالج چند طریقوں سے اس بیماری کی تشخیص کرتا ہے
- جسمانی معائنہ: ڈاکٹر خصیے کو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔
- الٹراساؤنڈ: آواز کی لہروں سے خصیے کی اندرونی تصویر بنائی جاتی ہے۔
- خون کے ٹیسٹ: خون میں تین اہم نشانات دیکھے جاتے ہیں۔ الفا فیٹو پروٹین، بیٹا ایچ سی جی، اور لیکٹیٹ ڈی ہائیڈروجنیز۔ ان کی سطح بیماری اور اس کے مرحلے کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔
- آپریشن سے نمونہ: خصیے کو نکال کر خوردبین سے دیکھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پھوتی کو کاٹ کر نمونہ نہیں لیا جاتا کیونکہ اس سے کینسر پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
Treatment of Testicular Cancer in Urdu
علاج کا انتخاب بیماری کے مرحلے، قسم اور مریض کی مجموعی صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
Surgery
زیادہ تر مریضوں میں متاثرہ خصیہ نکال دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں پیٹ کے غدود بھی نکالے جاتے ہیں۔
Radiation Therapy
اس طریقے میں طاقتور شعاعوں کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر بعض اقسام میں مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
Chemotherapy
کیموتھراپی کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ علاج اس وقت زیادہ ضروری ہوتا ہے جب بیماری جسم میں پھیل چکی ہو۔
Monitoring
کچھ مریضوں میں ابتدائی علاج کے بعد صرف باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ بیماری دوبارہ ظاہر ہونے کی صورت میں فوری علاج شروع کیا جا سکے۔
Last Words on Testicular Cancer
خصیوں کا کینسر ایک سنگین لیکن قابلِ علاج بیماری ہے۔ بروقت تشخیص اور صحیح علاج سے مکمل شفایابی ممکن ہے۔
اگر آپ کو اپنے جسم میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو شرم یا جھجھک کو ایک طرف رکھیں اور فوری طور پر کسی تجربہ کار معالج سے رابطہ کریں۔ آگاہی ہی بہترین بچاؤ ہے۔
FAQs
What is the meaning of testicular cancer in Urdu?
خصیوں کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں مردوں کے خصیوں میں غیر معمولی خلیے بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں۔ خصیے مردانہ تولیدی نظام کا حصہ ہیں جو نطفہ اور مردانہ ہارمون بناتے ہیں۔
جب ان میں کینسری خلیے بن جائیں تو یہ گانٹھ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور جسم کے دوسرے حصوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ یہ بیماری پندرہ سے پینتالیس سال کی عمر کے مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ لیکن بروقت علاج سے مکمل شفایابی ممکن ہے۔
What are the causes of testicular cancer?
خصیوں کے کینسر کی کوئی ایک واضح وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ تاہم کچھ عوامل خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ اگر پیدائش کے وقت خصیہ اپنی جگہ پر نہ اترے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاندان میں باپ یا بھائی کو یہ بیماری رہی ہو تو بھی امکان زیادہ ہوتا ہے۔
ایچ آئی وی کے مریضوں میں بھی یہ کینسر زیادہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے خصیوں کا کینسر ہو چکا ہو تو دوسرے خصیے میں بھی ہو سکتا ہے۔ خصیے میں غیر معمولی خلیوں کی موجودگی بھی پانچ سال میں کینسر بن سکتی ہے۔
What are the stages of testicular cancer?
خصیوں کے کینسر کے چار مراحل ہیں۔ مرحلہ صفر میں خصیے کے اندر غیر معمولی خلیے ہوتے ہیں۔ لیکن کینسر نہیں پھیلا ہوتا۔ مرحلہ اول میں کینسر صرف خصیے تک محدود ہوتا ہے۔
مرحلہ دوم میں یہ پاس کے لمفی غدودوں تک پہنچ جاتا ہے۔ تیسرا مرحلہ سب سے سنگین ہے جس میں کینسر دور کے لمفی غدودوں، پھیپھڑوں، جگر یا ہڈیوں تک پھیل چکا ہوتا ہے۔ خون میں موجود کینسر کی علامات بھی مرحلے کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
What is the treatment of testicular cancer?
خصیوں کے کینسر کا علاج مرحلے اور قسم کے مطابق کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے آپریشن کے ذریعے متاثرہ خصیہ نکالا جاتا ہے۔ سیمینوما قسم میں شعاعی علاج بہت مؤثر ہوتا ہے۔ کیموتھراپی میں ادویات کینسری خلیوں کو ختم کرتی ہیں۔
اگر بیماری واپس آ جائے تو اعلیٰ خوراک کیموتھراپی اور خلیہ پیوند کاری کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ کچھ مریضوں کو فوری علاج کی بجائے نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ یہ کینسر جسم میں پھیلنے کے بعد بھی اکثر مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔
How do doctors diagnose testicular cancer in men?
ڈاکٹر سب سے پہلے خصیے کا جسمانی معائنہ کرتا ہے اور گانٹھ یا سوجن دیکھتا ہے۔ پھر الٹراساؤنڈ کے ذریعے خصیے کی اندرونی تصویر بنائی جاتی ہے۔ خون کے ٹیسٹ میں تین اہم نشانات، الفا فیٹو پروٹین، بیٹا ایچ سی جی اور لیکٹیٹ ڈی ہائیڈروجنیز، کی سطح جانچی جاتی ہے۔
اس کے بعد آپریشن سے خصیہ نکال کر خوردبین سے کینسری خلیوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ پھیلاؤ جاننے کے لیے سینے کا ایکسرے، سی ٹی اسکین اور لمفی غدودوں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔