ذیابیطس نیوروپیتھی ایک ایسی حالت ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار زیادہ عرصے تک بڑھی رہنے کی وجہ سے جسم کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ ذیابیطس کی سب سے عام اور سنگین پیچیدگیوں میں سے ایک ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ خون میں شکر دو طریقوں سے اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پہلا یہ کہ یہ اعصاب کے اندر موجود ان کیمیائی راستوں میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ جن کے ذریعے اعصاب اشارے بھیجتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ ان باریک خون کی نالیوں کو کمزور کر دیتی ہے جو اعصاب کو آکسیجن اور غذائیت فراہم کرتی ہیں۔
ذیابیطس نیوروپیتھی ذیابیطس کے مریضوں میں بہت عام ہے۔ اندازہ ہے کہ ذیابیطس میں مبتلا نصف تک افراد کسی نہ کسی حد تک اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر پردیی اعصابی نقصان ساٹھ سے ستر فیصد مریضوں میں دیکھا جاتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھا جائے اور صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے۔
Types of Diabetic Neuropathy in Urdu
ذیابیطس نیوروپیتھی کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1. Peripheral Sensorimotor Neuropathy
یہ سب سے عام قسم ہے۔ یہ سب سے پہلے پاؤں اور ٹانگوں کو متاثر کرتی ہے، اور بعد میں ہاتھوں اور بازوؤں تک پھیل سکتی ہے۔
اس کی علامات میں شامل ہیں۔
- پاؤں، ٹانگوں یا ہاتھوں میں جھنجھناہٹ یا سُن پن
- جلن کا احساس، خاص طور پر رات کے وقت
- تیز یا چبھنے والا درد
- چھونے پر حساسیت، یہاں تک کہ چادر کا بوجھ بھی تکلیف دہ ہو سکتا ہے
- عضلات کی کمزوری اور چلنے پھرنے میں دشواری
- توازن میں خرابی
پاؤں اور ٹانگوں کے اعصاب سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ جسم کے سب سے لمبے اعصاب ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ بیماری بڑھتی ہے، یہ گھٹنوں تک اور پھر ہاتھوں تک پہنچ سکتی ہے۔
2. Autonomic Neuropathy
خودکار اعصابی نظام جسم کے غیر ارادی افعال کو کنٹرول کرتا ہے، جیسے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، ہاضمہ اور پیشاب کا نظام۔ جب ذیابیطس ان اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس کے اثرات کئی اعضاء پر پڑتے ہیں۔
- ہاضمے کی علامات: پیٹ پھولنا، متلی، قے، قبض یا دست، کھانے کے بعد جلدی پیٹ بھرا محسوس کرنا
- دل اور خون کی نالیوں کی علامات: کھڑے ہونے پر چکر آنا یا بے ہوشی، تیز دھڑکن، بلڈ پریشر میں اچانک گراوٹ
- پیشاب کی علامات: مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہونا، پیشاب کا رساؤ، رات کو بار بار پیشاب کی حاجت
- جنسی اعضاء کی علامات: مردوں میں قوت باہ میں کمی اور خواتین میں ویجائنا کی خشکی یا تکلیف کی شکایت ہو سکتی ہے۔
اس قسم کی نیوروپیتھی اس لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ خون میں شکر کی کمی کے وارننگ اشاروں کو محسوس کرنے کی صلاحیت ختم کر سکتی ہے۔ جو ایک سنگین خطرہ ہے۔
3. Proximal Neuropathy
یہ قسم ران، کولہے، کمر اور ٹانگوں کے اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ یہ زیادہ تر پچاس سال سے زیادہ عمر کے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں دیکھی جاتی ہے۔
اس کی علامات میں شامل ہیں۔
- ران، کولہے یا کمر میں شدید درد، عام طور پر ایک طرف
- ٹانگوں کے عضلات کا کمزور یا سکڑنا
- بیٹھنے کے بعد اٹھنے میں دشواری
- وزن میں کمی اور بعض اوقات سینے یا پیٹ میں درد
4. Mononeuropathy
یہ قسم کسی ایک مخصوص اعصاب کو متاثر کرتی ہے اور اچانک ظاہر ہو سکتی ہے۔ یہ سر، دھڑ یا ٹانگ میں کسی بھی اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کی علامات میں شامل ہیں۔
- دو جگہ نظر آنا یا آنکھوں کو فوکس کرنے میں دشواری
- چہرے کے ایک حصے کا فالج
- پشت یا ٹانگ میں شدید جلن یا چبھن
- سینے یا پیٹ میں ایسا درد جسے بعض اوقات دل کا دورہ سمجھ لیا جاتا ہے
یہ قسم تکلیف دہ ضرور ہوتی ہے، لیکن عام طور پر چند ہفتوں یا مہینوں میں خود بہتر ہو جاتی ہے اور مستقل نقصان نہیں پہنچاتی۔
Causes of Neuropathy in Urdu
جب خون میں شکر مسلسل زیادہ رہتی ہے تو یہ اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی خون کی نالیاں بھی متاثر ہوتی ہیں جو اعصاب کو آکسیجن اور غذائیت فراہم کرتی ہیں۔ وقت کے ساتھ اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور اپنی کارکردگی کھو دیتے ہیں۔
Risk Factors
کچھ عوامل اعصابی نقصان کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں:
- ناقص خون میں شکر کا کنٹرول: یہ سب سے بڑا خطرہ ہے
- ذیابیطس کا طویل عرصہ: جتنا زیادہ عرصہ، اتنا زیادہ خطرہ
- گردے کی بیماری: گردے کا نقصان خون میں زہریلے مادے بڑھاتا ہے
- موٹاپا: جسمانی وزن کا اشاریہ پچیس یا زیادہ ہونا خطرہ بڑھاتا ہے
- سگریٹ نوشی: خون کی نالیوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے
- ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول: دونوں خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں
Complications
اگر ذیابیطس نیوروپیتھی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ کئی سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
- پاؤں کا کٹنا: پاؤں میں سُن پن کی وجہ سے چھوٹے زخم محسوس نہیں ہوتے۔ یہ زخم پھوڑے یا انفیکشن بن جاتے ہیں، جو بعض اوقات انگلی، پاؤں یا ٹانگ کو کاٹنے کی نوبت تک پہنچا دیتے ہیں۔
- گردے اور پیشاب کے مسائل: مثانے کے اعصاب کو نقصان پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
- ہاضمے کی خرابی: معدے کا غذا کو آہستہ ہضم کرنا یا قبض اور دست کی شکایت مستقل ہو سکتی ہے۔
- بلڈ پریشر میں اچانک گراوٹ: کھڑے ہونے پر چکر آنا اور گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
Conclusion ion Diabetic Neuropathy in Urdu
ذیابیطس نیوروپیتھی ایک سنگین لیکن قابل علاج حالت ہے۔ اس کا سب سے بڑا علاج خون میں شکر پر قابو رکھنا ہے۔ اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو باقاعدہ معائنہ کروائیں، صحت مند طرز زندگی اپنائیں، اور کسی بھی نئی علامت کو نظر انداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے آپ ایک بھرپور اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
FAQs
What is the meaning of diabetic neuropathy in Urdu?
ذیابیطس نیوروپیتھی ایک ایسی بیماری ہے۔ جس میں خون میں شکر کی مقدار طویل عرصے تک بڑھی رہنے کی وجہ سے جسم کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔ اردو میں اسے ذیابیطس سے پیدا ہونے والا اعصابی نقصان کہا جا سکتا ہے۔
جب خون میں شکر کی سطح مسلسل زیادہ رہے تو یہ اعصاب کے اندر موجود کیمیائی نظام کو بگاڑ دیتی ہے اور ان باریک خون کی نالیوں کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جو اعصاب کو غذائیت اور آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ یہ بیماری سب سے پہلے پاؤں اور ٹانگوں کے اعصاب کو متاثر کرتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ دیگر اعضاء تک پھیل سکتی ہے۔ ذیابیطس کے نصف تک مریض کسی نہ کسی حد تک اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
What are the symptoms of diabetic neuropathy?
ذیابیطس نیوروپیتھی کی علامات اس بات پر منحصر ہیں کہ کون سے اعصاب متاثر ہوئے ہیں۔ پاؤں اور ٹانگوں میں جھنجھناہٹ، جلن اور سُن پن سب سے عام علامات ہیں۔ رات کے وقت یہ تکلیف عام طور پر زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چھونے پر غیر معمولی حساسیت بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں اور چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
اگر ہاضمے کے اعصاب متاثر ہوں تو متلی، قے، پیٹ پھولنا اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔ کھڑے ہونے پر چکر آنا، دل کی تیز دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اچانک گراوٹ بھی ممکن ہے۔ مثانے پر قابو نہ رہنا اور جنسی مسائل بھی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔
What is the treatment for diabetic neuropathy?
ذیابیطس نیوروپیتھی کا سب سے بنیادی علاج خون میں شکر کو قابو میں رکھنا ہے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں شکر کو معمول پر لایا جائے تو علامات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ درد اور جلن کے لیے ڈاکٹر پریگابالین یا گابا پینٹن جیسی ادویات تجویز کرتے ہیں۔
اعصابی درد کے لیے کیپساسین کریم بھی مددگار ہو سکتی ہے۔ جسمانی معالجہ یعنی فزیو تھیراپی کمزور عضلات کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ پیشہ ورانہ معالجہ روزمرہ کاموں میں مدد کرتا ہے۔ آکوپنکچر بھی بعض مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اعصابی نقصان کو مکمل طور پر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، لیکن علاج سے مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔
What are the complications of diabetic neuropathy?
اگر ذیابیطس نیوروپیتھی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ پاؤں میں سُن پن کی وجہ سے چھوٹے زخم محسوس نہیں ہوتے اور یہ انفیکشن کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جو بعض اوقات پاؤں یا ٹانگ کاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مثانے کے اعصاب کا نقصان بار بار پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔
ہاضمے کی خرابی سے معدہ غذا کو درست طریقے سے ہضم نہیں کر پاتا۔ خون کی نالیوں کے اعصاب کا نقصان بلڈ پریشر میں اچانک گراوٹ اور گرنے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ خون میں شکر کی کمی کے اشاروں کو محسوس نہ کر پانا بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ جنسی اعضاء کے اعصاب متاثر ہونے سے مردوں اور خواتین دونوں کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
Can we prevent diabetic neuropathy?
جی ہاں، ذیابیطس نیوروپیتھی سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم قدم خون میں شکر کو ہدف کی سطح پر رکھنا ہے۔ سال میں کم از کم دو بار خون کا ٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔ تمباکو نوشی فوری بند کریں کیونکہ یہ خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں۔ پاؤں کا روزانہ معائنہ کریں اور آرام دہ جوتے پہنیں۔ متوازن غذا کھائیں، جسمانی وزن مناسب رکھیں اور باقاعدہ ورزش کریں۔ ڈاکٹر سے باقاعدہ ملاقات رکھیں تاکہ ابتدائی مرحلے میں ہی مرض کی تشخیص ہو سکے۔ بروقت احتیاط ایک بھرپور اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔