خناق ایک خطرناک جراثیمی بیماری ہے۔ جو زیادہ تر ناک اور گلے کی اندرونی جھلی کو متاثر کرتی ہے۔ جبکہ بعض مریضوں میں یہ جلد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بیماری ایک ایسے جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے جو جسم میں ایک طاقتور زہریلا مادہ خارج کرتا ہے۔ یہی زہریلا مادہ بیماری کو سنگین بنا دیتا ہے اور دل، اعصاب اور بعض اوقات گردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگرچہ حفاظتی ٹیکوں کی بدولت بہت سے ممالک میں خناق کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لیکن جہاں حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم ہے وہاں آج بھی اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت مسلسل اس بیماری سے بچاؤ کے لیے مکمل حفاظتی ٹیکہ کاری پر زور دیتا ہے۔
اگر خناق کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اس سے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
خناق ایک مخصوص جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ جراثیم زیادہ تر گلے، ناک یا جلد پر حملہ کرتا ہے اور وہاں بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے بعد یہ ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر شدید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں آسانی سے منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسے متعدی بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
How Does Diphtheria Spread?
خناق مختلف طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتی ہے۔
سب سے عام طریقہ کھانسی یا چھینک کے دوران خارج ہونے والے ننھے قطروں کے ذریعے بیماری کا پھیلنا ہے۔ جب متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے تو جراثیم فضا میں پھیل جاتے ہیں اور آس پاس موجود افراد انہیں سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ مریض کے استعمال شدہ رومال، تولیہ یا دیگر ذاتی اشیاء استعمال کرنے سے بھی یہ بیماری منتقل ہو سکتی ہے۔
اگر کسی مریض کی جلد پر زخم موجود ہوں تو ان زخموں کو چھونے سے بھی جراثیم دوسرے شخص تک پہنچ سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ بعض افراد میں بیماری کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن وہ پھر بھی دوسروں میں جراثیم منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ایسے افراد بیماری کے خاموش پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
Who Are at Higher Risk?
اگرچہ خناق کسی بھی غیر محفوظ شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن بعض افراد میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
ان میں وہ بچے اور بالغ افراد شامل ہیں جنہوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے یا جن کی ٹیکہ کاری مکمل نہیں ہوئی۔
اسی طرح گنجان آبادی، ناقص صفائی والے ماحول یا ایسے علاقوں میں رہنے والے افراد جہاں بیماری عام ہو، ان میں بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وہ لوگ جو ایسے ممالک کا سفر کرتے ہیں جہاں حفاظتی ٹیکوں کی شرح کم ہے۔ انہیں بھی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
قدرتی آفات، جنگ یا صحت کے نظام کی خرابی کے باعث جن علاقوں میں معمول کی ٹیکہ کاری متاثر ہو جائے وہاں خناق کے پھیلنے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔
Symptoms of Diphtheria in Urdu
عام طور پر جراثیم جسم میں داخل ہونے کے دو سے پانچ دن بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں مریض کو گلے میں شدید درد، بخار، کمزوری اور گردن کے غدود میں سوجن محسوس ہو سکتی ہے۔
اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت گلے اور ٹانسلز پر بننے والی موٹی سرمئی رنگ کی جھلی ہے۔ یہ جھلی مردہ خلیات، جراثیم اور دیگر مادوں سے مل کر بنتی ہے۔
جوں جوں یہ جھلی موٹی ہوتی جاتی ہے، مریض کے لیے سانس لینا اور نگلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دیگر عام علامات میں درج ذیل شامل ہیں۔
- گلے میں درد
- آواز بیٹھ جانا
- گردن کے غدود کا پھول جانا
- ناک سے رطوبت آنا
- بخار اور کپکپی
- شدید تھکن
- تیز سانس آنا یا سانس لینے میں دشواری
اگر بیماری جلد کو متاثر کرے تو جلد پر سرخی، درد، سوجن اور ایسے زخم بن سکتے ہیں جن پر سرمئی رنگ کی تہہ جمی ہوئی نظر آتی ہے۔
جلد والا خناق زیادہ تر ناقص صفائی اور ہجوم والے علاقوں میں رہنے والے افراد میں دیکھا جا سکتا ہے۔
Treatment of Diphtheria in Urdu
اگر خناق کا شبہ ہو تو تشخیص کے لیے فوری ٹیسٹ اور جلد از جلد علاج شروع کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ابتدائی مرحلے میں علاج شروع ہونے سے پیچیدگیوں اور اموات کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
خناق کے مریضوں کا علاج عام طور پر خناق کے اینٹی ٹاکسن اور اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ اینٹی ٹاکسن خون میں گردش کرنے والے زہریلے مادے کو بے اثر کرتا ہے۔ جبکہ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کی افزائش کو روکتے ہیں۔
جس سے ٹاکسن کی پیداوار رک جاتی ہے۔ بیکٹیریا جلد ختم ہوتا ہے اور دوسروں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ تاہم خناق کی کچھ موجودہ اقسام میں عام اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت بھی دیکھی گئی ہے۔
جو شخص خناق سے متاثر ہو چکا ہو، اسے شدید بیماری کے خاتمے کے بعد ویکسین بھی لگوانی چاہیے۔ اسی طرح جو افراد خناق کے مریض کے رابطے میں آئے ہوں۔ انہیں احتیاطی طور پر اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں اور ان کی ویکسینیشن کی حیثیت بھی چیک کی جاتی ہے۔ اگر وہ مکمل طور پر ویکسین شدہ نہ ہوں تو انہیں بھی ویکسین دی جاتی ہے۔
Prevention and Vaccination
اینٹی بائیوٹکس کی دستیابی سے پہلے خناق چھوٹے بچوں میں ایک عام بیماری تھی۔ آج یہ نہ صرف قابل علاج ہے بلکہ ویکسین کے ذریعے قابل بچاؤ بھی ہے۔
خناق کی ویکسین عام طور پر تشنج اور کالی کھانسی یعنی پرٹسس کی ویکسینز کے ساتھ ملا کر دی جاتی ہے۔ اس تین اجزاء والی ویکسین کو خناق، تشنج اور پرٹسس ویکسین کہا جاتا ہے۔ بچوں کے لیے اس کی جدید شکل کو ڈی ٹی اے پی ویکسین اور نوجوانوں و بڑوں کے لیے ٹی ڈیپ ویکسین کہا جاتا ہے۔
یہ ویکسین بچپن میں دی جانے والی لازمی ویکسینز میں شامل ہے۔ اس کا شیڈول پانچ خوراکوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو عموماً بازو یا ران میں لگائی جاتی ہیں، اور یہ درج ذیل عمروں میں دی جاتی ہیں۔ دو ماہ، چار ماہ، چھ ماہ، پندرہ سے اٹھارہ ماہ، اور چار سے چھ سال کی عمر میں۔
یہ ویکسین خناق سے بچاؤ میں انتہائی مؤثر ہے۔ تاہم اس کے کچھ ہلکے ضمنی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسے ہلکا بخار، چڑچڑاپن، غنودگی یا انجیکشن کی جگہ پر ہلکا درد۔ سنگین پیچیدگیاں بہت نایاب ہیں، مگر بعض صورتوں میں الرجک ردعمل، جیسے انجیکشن کے چند منٹ بعد جلد پر خارش یا دانے، دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ مرگی یا دیگر اعصابی امراض میں مبتلا کچھ بچوں کو یہ ویکسین نہیں دی جا سکتی۔
Complications of Diphtheria in Urdu
اگر خناق کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس بیماری کا زہریلا مادہ جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خناق کی سنگینی صرف گلے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ دل، اعصاب اور سانس کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
بروقت علاج سے زیادہ تر مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن بیماری کی شدت بڑھنے کی صورت میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
Breathing Issues
خناق کی سب سے اہم پیچیدگی سانس لینے میں دشواری ہے۔ جب خناق کا جراثیم گلے اور ناک کے اندر موجود بافتوں کو متاثر کرتا ہے تو وہاں مردہ خلیات، جراثیم اور دیگر مادوں سے ایک موٹی سرمئی جھلی بن جاتی ہے۔
یہ جھلی سانس کی نالی کو تنگ کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔
شدید حالت میں یہ جھلی سانس کی نالی کو روک بھی سکتی ہے۔ جس سے فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
بعض حالات میں خناق کا زہریلا مادہ سانس لینے والے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر یہ اعصاب متاثر ہو جائیں تو سانس لینے والے پٹھے کمزور یا مفلوج ہو سکتے ہیں۔ اور مریض کو سانس لینے کے لیے مشینی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Heart Damage
خناق کا زہریلا مادہ خون کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ سکتا ہے اور دل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دل کے پٹھوں میں سوزش پیدا ہونے کو ایک اہم پیچیدگی سمجھا جاتا ہے۔ اس حالت میں دل صحیح طریقے سے کام کرنے میں مشکلات محسوس کر سکتا ہے۔
کچھ مریضوں میں دل پر اثر معمولی ہوتا ہے اور علاج کے بعد بہتری آ جاتی ہے۔ جبکہ بعض شدید حالات میں دل کی کمزوری، دل کی کارکردگی میں کمی اور اچانک موت کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے خناق کے مریضوں کی صرف گلے کی علامات پر نظر نہیں رکھی جاتی بلکہ دل کی صحت کو بھی مسلسل جانچا جاتا ہے۔
Nerve Damage
خناق کا زہریلا مادہ اعصاب کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
عام طور پر یہ گلے کے ان اعصاب کو متاثر کرتا ہے۔ جو نگلنے کے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس وجہ سے مریض کو کھانا یا پانی نگلنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ہاتھوں اور ٹانگوں کے اعصاب بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ جس سے پٹھوں میں کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔
اگر بیماری زیادہ بڑھ جائے تو جسم کے مختلف حصوں کے پٹھوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور مریض کی حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
Conclusion on Diphtheria in Urdu
خناق ایک ایسا مرض ہے جو مکمل طور پر قابل بچاؤ ہونے کے باوجود آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جانیں لے رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ویکسینیشن میں کمی اور عدم آگاہی ہے۔
بروقت تشخیص، مکمل ویکسینیشن شیڈول اور باقاعدہ بوسٹر خوراکیں لینا خناق سے تحفظ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ اگر آپ یا آپ کے بچے کی ویکسینیشن کی حیثیت واضح نہ ہو، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
FAQs
What is the meaning of diphtheria in Urdu?
خناق ایک بیکٹیریل مرض ہے۔ جسے انگریزی میں ڈفتھیریا کہا جاتا ہے۔ یہ کورائن بیکٹیریم ڈفتھیریائی نامی جراثیم سے پیدا ہوتا ہے اور بنیادی طور پر ناک اور گلے کی نرم جھلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ جلد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جسے جلدی خناق کہا جاتا ہے۔
یہ بیکٹیریا ایک زہریلا مادہ یعنی ٹاکسن پیدا کرتا ہے۔ جو نہ صرف مقامی طور پر گلے اور ناک کے بافتوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خون کے ذریعے دل اور اعصاب تک بھی پھیل سکتا ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جو کھانسنے، چھینکنے یا آلودہ اشیاء کے استعمال سے دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں یہ بچوں میں ایک عام مرض تھا، تاہم اب ویکسینیشن کی بدولت اس پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
What are the symptoms of diphtheria?
خناق کی علامات عام طور پر بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے دو سے پانچ دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں گلے اور ٹانسلز پر ایک موٹی سرمئی جھلی بن جانا سب سے نمایاں علامت ہے۔ اس کے ساتھ گلے میں شدید درد، آواز کا بھاری پن، گردن کے غدود کا سوج جانا، سانس لینے میں دشواری یا تیز تیز سانس آنا بھی شامل ہے۔
مریض کو ناک سے پانی بہنے، بخار، سردی لگنے اور مسلسل تھکاوٹ کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ بعض افراد میں بیماری بہت ہلکی ہوتی ہے یا کوئی واضح علامت ظاہر ہی نہیں ہوتی۔ ایسے افراد کیریئر کہلاتے ہیں کیونکہ وہ خود بیمار نظر آئے بغیر بھی دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جلدی خناق میں زخم، سرخی اور سوجن نمایاں ہوتی ہے۔
Is diphtheria common among people?
ترقی یافتہ ممالک میں خناق اب انتہائی نایاب ہے۔ کیونکہ وہاں کئی دہائیوں سے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن جاری ہے۔ تاہم دنیا کے کئی حصوں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جہاں طبی سہولیات محدود ہیں یا ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔ وہاں یہ مرض اب بھی موجود ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کوئی بھی خطہ خناق سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اور کم ویکسینیشن والے علاقوں میں بیکٹیریا آسانی سے گردش کرتا رہتا ہے۔
قدرتی آفات، جنگی حالات یا ٹوٹے ہوئے طبی نظام کے باعث بھی وباؤں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہجوم اور ناقص صفائی والے ماحول میں رہنے والے افراد اور بین الاقوامی سفر کرنے والے غیر ویکسین شدہ لوگ بھی زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
What is the treatment of diphtheria in Urdu?
خناق کا علاج بنیادی طور پر خناق کے اینٹی ٹاکسن اور اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ اینٹی ٹاکسن خون میں گردش کرنے والے زہریلے مادے کو بے اثر کرتا ہے۔ جبکہ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کی افزائش روک کر ٹاکسن کی پیداوار کم کرتے ہیں اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکتے ہیں۔ اگر خناق کا شبہ ہو تو فوری تشخیص اور جلد از جلد علاج کا آغاز پیچیدگیوں اور اموات کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔
صحت یاب ہونے کے بعد مریض کو ویکسین بھی لگوانی چاہیے تاکہ دوبارہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔ مریض کے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کو بھی احتیاطی طور پر اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں۔ اور ان کی ویکسینیشن کی حیثیت چیک کی جاتی ہے۔
What is the prevention method for diphtheria?
خناق سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ مکمل ویکسینیشن شیڈول کی پیروی کرنا ہے۔ بچپن میں پانچ بنیادی خوراکیں دو ماہ، چار ماہ، چھ ماہ، پندرہ سے اٹھارہ ماہ اور چار سے چھ سال کی عمر میں دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد گیارہ یا بارہ سال کی عمر میں پہلا بوسٹر اور پھر ہر دس سال بعد اگلے بوسٹر لینا ضروری ہوتا ہے۔
حاملہ خواتین کو بھی ایک بار ٹی ڈیپ ویکسین لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صاف ستھرے ماحول میں رہنا، ہجوم والی جگہوں سے احتیاط، اور متاثرہ افراد کی ذاتی اشیاء کے استعمال سے گریز بھی مرض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔