پستہ دنیا کے قدیم ترین اور مقبول ترین خشک میوہ جات میں شمار ہوتا ہے۔ ہزاروں سال سے مختلف تہذیبوں میں اسے ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت بخش غذا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق انسان تقریباً چھ ہزار قبل مسیح سے پستہ استعمال کر رہا ہے۔
جبکہ اس کی کاشت کا آغاز موجودہ ایران اور افغانستان کے علاقوں سے ہوا۔ جہاں یہ قدرتی طور پر بھی پایا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ مختلف ممالک میں پھیل گیا اور آج دنیا بھر میں شوق سے کھایا جاتا ہے۔
پستہ نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہے۔ اس میں صحت بخش چکنائیاں، عمدہ پروٹین، غذائی ریشہ، منرلز، وٹامنز اور طاقتور قدرتی محافظ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ جو جسم کے مختلف اعضا کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے روزمرہ خوراک میں شامل کرنا صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
Benefits of Pistachio in Urdu
پستہ کا استعمال کئی طرح کے فوائد پہنچاتا ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ پستہ ہماری صحت کے لیے کیوں اتنا اہم ہے۔
1. Nutrition Value
پستہ اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے دیگر کئی خشک میوہ جات سے ممتاز ہے۔ تقریباً اٹھائیس گرام یا انچاس دانوں پر مشتمل ایک مقدار میں درج ذیل غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔
- کیلوریز: تقریباً ایک سو انسٹھ
- پروٹین: تقریباً چھ گرام
- غذائی ریشہ: تقریباً تین گرام
- کاربوہائیڈریٹس: تقریباً آٹھ گرام
- چکنائی: تقریباً تیرہ گرام
اس کے علاوہ پستہ میں پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم، کیلشیم، کاپر، مینگنیز، آئرن اور دیگر منرلز بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس میں متعدد اہم وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔ جن میں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، وٹامن ای، فولیٹ اور وٹامن بی کے مختلف اجزاء شامل ہیں۔
پستہ خاص طور پر وٹامن بی چھ کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو خون کے سرخ خلیات بنانے، جسم میں آکسیجن پہنچانے اور خون میں شکر کی مقدار کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
2. Antioxidant Activity
پستہ میں ایسے قدرتی اجزاء بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ جو جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچانے والے مضر ذرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے قدرتی محافظ غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
پستہ میں خاص طور پر دو اہم قدرتی محافظ اجزاء، یعنی لیوٹین اور زیاگزینتھن موجود ہوتے ہیں۔ یہ دونوں آنکھوں کی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ آنکھوں کو تیز روشنی سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ نظر کمزور ہونے کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ پستہ میں قدرتی محافظ مرکبات، ٹوکوفیرول، رنگ دار نباتاتی اجزاء، فلاوونائڈز، اینتھو سائنن، پرو اینتھو سائنن اور دیگر نباتاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔ جو جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
3. Heart Health
دل کو صحت مند رکھنے میں خوراک کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اور پستہ اس حوالے سے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے مناسب مقدار میں پستہ کھانے سے مضر کولیسٹرول میں کمی اور مفید کولیسٹرول میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون میں موجود چکنائی کے توازن کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔
پستہ میں موجود غیر سیر شدہ چکنائیاں، غذائی ریشہ، نباتاتی مرکبات اور قدرتی محافظ اجزاء خون کی نالیوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں اس کی افادیت پر متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں۔
4. Blood Pressure Regulation
بلند فشار خون دل اور دماغ کی متعدد بیماریوں کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ مناسب مقدار میں پستہ کھانے والے افراد میں اوپری اور نچلے دونوں قسم کے فشار خون میں بہتری دیکھی گئی۔
پستہ میں موجود پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر معدنیات خون کی نالیوں کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موجود امائنو تیزاب جسم میں ایک ایسے مادے کی تیاری میں حصہ لیتا ہے۔ جو خون کی نالیوں کو مناسب حد تک پھیلانے میں مدد دیتا ہے۔ جس سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔
5. Better for Blood Veins
خون کی نالیوں کی اندرونی سطح اگر صحت مند رہے۔ تو دل بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور پورے جسم تک خون کی فراہمی مناسب رہتی ہے۔
پستہ میں موجود مفید غذائی اجزاء خون کی نالیوں کی لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے خون کی روانی بہتر ہو سکتی ہے۔ اور دل پر غیر ضروری دباؤ کم پڑ سکتا ہے۔
کچھ طبی مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مسلسل چند ماہ تک مناسب مقدار میں پستہ استعمال کرنے سے خون کی نالیوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی۔ اور ان کی سختی میں کمی دیکھی گئی۔
6. Weight Loss
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پستہ میں چکنائی موجود ہوتی ہے۔ اس لیے یہ وزن بڑھاتا ہے۔ لیکن تحقیق اس کے برعکس اشارہ کرتی ہے۔
اگر مناسب مقدار میں متوازن غذا کے ساتھ پستہ استعمال کیا جائے۔ تو یہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پستہ میں غذائی ریشہ اور لحمیات اچھی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ جو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس برقرار رکھتے ہیں۔ اس طرح بار بار بھوک کم لگتی ہے اور غیر ضروری کھانے کی خواہش میں کمی آ سکتی ہے۔
مزید یہ کہ پستہ کی سخت ساخت اور اس کا چھلکا اتار کر کھانے کا عمل کھانے کی رفتار کو سست کر دیتا ہے۔ جس سے انسان کم مقدار میں بھی مطمئن ہو جاتا ہے۔
تحقیقی جائزوں میں یہ بھی سامنے آیا کہ پستہ کھانے والے افراد میں جسمانی کمیت کے اشاریے میں کمی، میٹھی اشیا کے استعمال میں کمی اور غذائی ریشے کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا۔
7. Intestinal Health
پستہ غذائی ریشے سے بھرپور خشک میوہ ہے۔ جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود ریشہ مکمل طور پر ہضم نہیں ہوتا۔ بلکہ بڑی آنت تک پہنچ کر وہاں موجود مفید جراثیم کی خوراک بن جاتا ہے۔
یہ مفید جراثیم غذائی ریشے کو توڑ کر ایسے مفید مادے پیدا کرتے ہیں۔ جو آنتوں کی اندرونی سطح کو مضبوط بنانے، سوزش کم کرنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں ایک اہم مادہ بیوٹیریٹ ہے۔ جسے آنتوں کی صحت کے لیے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ پستہ کھانے سے آنتوں میں بیوٹیریٹ بنانے والے مفید جراثیم کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ اثر بعض دیگر خشک میوہ جات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔ اسی وجہ سے پستہ کو قدرتی طور پر آنتوں کی صحت بہتر بنانے والی غذا بھی سمجھا جاتا ہے۔
8. Blood Sugar Regulation
اگرچہ پستہ میں دیگر کئی خشک میوہ جات کے مقابلے میں نشاستہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کا شکر بڑھانے والا اثر کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایسی غذا تصور کیا جاتا ہے۔ جو خون میں شکر کی مقدار کو اچانک نہیں بڑھاتی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب مقدار میں پستہ استعمال کرنے سے خالی پیٹ خون میں شکر کی مقدار کم رکھنے، جسم میں انسولین کی بہتر کارکردگی اور شکر کے بہتر توازن میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر زیادہ نشاستہ والی غذا کے ساتھ پستہ کھایا جائے تو کھانے کے بعد خون میں شکر کے اچانک اضافے میں کمی آ سکتی ہے۔
پستہ میں موجود غذائی ریشہ، صحت بخش چکنائیاں، قدرتی محافظ اجزاء اور نباتاتی مرکبات اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
9. May Help in Diabetes
حالیہ طبی تحقیقات میں پستہ کو ذیابیطس اور قبل از ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔
متعدد مطالعات میں دیکھا گیا کہ مناسب مقدار میں پستہ استعمال کرنے سے درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
- خون میں شکر کی مقدار بہتر رہتی ہے۔
- جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت کم ہو سکتی ہے۔
- طویل مدت کی شکر کی جانچ بہتر ہو سکتی ہے۔
- دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔
ایک تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کے کھانے کے بعد مناسب مقدار میں پستہ کھانا قبل از ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک مناسب ہلکی غذا ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پستہ کسی بھی صورت ذیابیطس کی دوا کا متبادل نہیں۔ بلکہ متوازن غذا کا ایک مفید حصہ ہے۔
10. Eye Health
بڑھتی عمر کے ساتھ بینائی متاثر ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ لیکن مناسب غذائیں اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
پستہ میں موجود لیوٹین اور زیاگزینتھن نامی قدرتی محافظ اجزاء آنکھوں کے پردے کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ سورج اور برقی آلات سے نکلنے والی تیز روشنی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی معاون سمجھے جاتے ہیں۔
باقاعدہ متوازن مقدار میں پستہ استعمال کرنا عمر کے ساتھ بینائی میں آنے والی بعض تبدیلیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
11. Cancer Prevention
پستہ میں متعدد ایسے قدرتی نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ جو جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچانے والے مضر ذرات کے خلاف کام کرتے ہیں۔
اس میں موجود حیاتین ہ، مختلف قدرتی محافظ اجزاء، رنگ دار نباتاتی مرکبات اور دیگر غذائی عناصر خلیوں کی حفاظت میں کردار ادا کرتے ہیں۔
کچھ تحقیقات کے مطابق یہ اجزاء کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مزید وسیع اور طویل مدتی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
12. Mental Health
حالیہ برسوں میں سائنس دان اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پستہ دماغی بیماریوں سے تحفظ میں کردار ادا کر سکتا ہے یا نہیں۔
پستہ کے چھلکے اور اس میں موجود بعض قدرتی مرکبات پر تحقیق جاری ہے۔ تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ بڑھاپے میں یادداشت کی کمزوری اور اعصابی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ ابتدائی نتائج امید افزا ہیں۔ لیکن اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت موجود ہے۔
13. Sexual Health
صحت مند خون کی روانی جسم کے تمام اعضا کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
چند طبی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مناسب مقدار میں پستہ استعمال کرنے سے خون کی نالیوں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مردوں میں جنسی صحت کے بعض پہلوؤں، جیسے رغبت اور جسمانی کارکردگی، پر مثبت اثرات دیکھے گئے۔
البتہ اس مقصد کے لیے صرف پستہ پر انحصار کرنا درست نہیں۔ بلکہ مجموعی صحت مند طرزِ زندگی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
Conclusion on Pistachio Benefits in Urdu
پستہ ایک نہایت غذائیت سے بھرپور خشک میوہ ہے۔ جو صحت بخش چکنائیوں، عمدہ پروٹین، غذائی ریشے، منرلز، وٹامنز اور قدرتی محافظ اجزاء سے مالا مال ہوتا ہے۔
تحقیقی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مناسب مقدار میں پستہ کھانے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ خون میں کولیسٹرول اور فشار خون کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رہتی ہے۔ وزن کے انتظام میں بہتری آتی ہے۔ آنتوں کی صحت بہتر بنانے، آنکھوں کی حفاظت اور مجموعی جسمانی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی لیے اگر اسے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے تو پستہ روزمرہ خوراک کا ایک نہایت مفید حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔
FAQs
What is the best time to eat pistachio?
پستہ دن کے کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے صبح ناشتے میں یا دوپہر کے وقت بھوک لگنے پر کھانا زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق رات کے کھانے کے بعد ہلکی مقدار میں پستہ کھانا خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پری ذیابیطس کا شکار ہیں۔
کھانے سے پہلے پستہ کھانا بھوک کو کم کرتا ہے۔ جس سے اگلی خوراک میں کیلوریز کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ورزش سے پہلے پستہ کھانا جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے پستے کو متوازن مقدار میں اور باقاعدگی سے اپنی غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔
How many pistachios can we eat in a day?
ماہرین کے مطابق روزانہ ایک مٹھی یعنی تقریباً اٹھائیس گرام یا انتالیس دانے پستے کھانا صحت کے لیے مناسب مقدار سمجھی جاتی ہے۔ اس مقدار میں پستہ کھانے سے جسم کو ضروری پروٹین، فائبر، صحت مند چکنائی اور اہم وٹامنز حاصل ہوتی ہیں۔ بغیر اس کے کہ کیلوریز کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ جائے۔
ضرورت سے زیادہ پستہ کھانے سے وزن میں اضافہ اور ہاضمے کی خرابی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ ذیابیطس یا دل کے مریضوں کو اپنی مقدار کا تعین معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔ متوازن مقدار میں پستے کا استعمال ہی زیادہ سے زیادہ فوائد فراہم کر سکتا ہے۔
Does pistachio increases weight?
پستہ اگرچہ کیلوریز سے بھرپور غذا ہے۔ لیکن تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال وزن بڑھانے کے بجائے وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود فائبر اور پروٹین پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ جس سے مجموعی خوراک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ پستے کی کچھ چکنائی جسم میں مکمل طور پر جذب نہیں ہو پاتی۔ چھلکے والے پستے کھانے سے کھانے کی رفتار سست ہوتی ہے۔ جس سے کم مقدار میں غذا کھائی جاتی ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ مقدار میں پستہ کھانے سے کیلوریز کی زیادتی کے باعث وزن میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن مقدار ضروری ہے۔
Can diabetic patients eat pistachio?
جی ہاں، ذیابیطس کے مریض پستہ کھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ یعنی یہ خون میں شکر کی سطح کو اچانک نہیں بڑھاتا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ پستہ کھانے سے فاسٹنگ بلڈ شوگر اور انسولین کی مزاحمت میں بہتری آ سکتی ہے۔
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر اور صحت مند چکنائی بھی خون میں شکر کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانوں کے ساتھ پستہ شامل کرنے سے کھانے کے بعد شکر کی سطح میں اضافے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی مقدار اور استعمال کا طریقہ اپنے معالج کے مشورے سے طے کرنا چاہیے۔
Is pistachio beneficial for heart health?
جی ہاں، پستہ دل کی صحت کے لیے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ پستے کا باقاعدہ استعمال کل کولیسٹرول اور نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی جبکہ مفید کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پستہ بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بھی مؤثر پایا گیا ہے۔ خاص طور پر دیگر خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ۔
پستے میں موجود امینو ایسڈ ایل آرجینین خون کی نالیوں کو کھولنے میں مدد دیتا ہے۔ جس سے خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور صحت مند چکنائی بھی دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔