اینڈومیٹرائیوسس خواتین میں پائی جانے والی ایک پیچیدہ اور طویل مدتی بیماری ہے۔ جس میں رحم کی اندرونی تہہ سے ملتا جلتا بافت رحم کے باہر بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بافت جسم کے مختلف حصوں میں سوزش، درد، چپکنے والے داغ اور بعض صورتوں میں تولیدی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
دنیا بھر میں تولیدی عمر کی تقریباً دس فیصد خواتین، یعنی لگ بھگ ۱۹ کروڑ خواتین، اینڈومیٹرائیوسس سے متاثر ہیں۔ یہ بیماری عموماً ماہواری شروع ہونے کے بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ اور سنِ یاس تک رہ سکتی ہے۔ بعض خواتین میں علامات بہت واضح ہوتی ہیں۔ جبکہ کچھ میں بیماری موجود ہونے کے باوجود کوئی نمایاں علامت نہیں ہوتی۔
اینڈومیٹرائیوسس میں رحم کی اندرونی تہہ سے ملتا جلتا بافت رحم کے باہر بن جاتا ہے۔ یہ بافت عموماً حوض کے اندر موجود اعضا کے قریب پایا جاتا ہے۔ تاہم بعض خواتین میں یہ پیٹ اور سینے کے حصوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
یہ بیماری رحم کے پیچھے موجود جگہ، رحم کی دیوار کی تہہ، بیضہ دانی، پیٹ کی جھلی اور فلوپین نالیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ کم عام صورتوں میں آنتوں، مثانے، مقعد، اندام نہانی، پردۂ شکم اور پھیپھڑوں کے قریب بھی اینڈومیٹرائیوسس پایا جا سکتا ہے۔
اس غیر معمولی بافت کی موجودگی جسم میں سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں داغ دار بافت اور اندرونی چپکاؤ بن سکتے ہیں۔ یہی تبدیلیاں درد، آنتوں یا مثانے کی تکلیف اور حمل ٹھہرنے میں دشواری کا باعث بن سکتی ہیں۔
Symptoms of Endometriosis in Urdu
اینڈومیٹرائیوسس کی سب سے عام علامت حوض کے حصے میں درد ہے۔ یہ درد ہلکا بھی ہو سکتا ہے اور شدید بھی، جبکہ بعض خواتین میں یہ مستقل رہتا ہے اور ماہواری ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
عام علامات میں ماہواری کے دوران انتہائی تکلیف دہ درد، زیادہ خون آنا، ماہواری کے درمیان ہلکا خون آنا، پیٹ یا کمر میں درد اور ازدواجی تعلق کے دوران درد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پاخانہ کرنے یا پیشاب کرتے وقت درد بھی ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین کو قبض، اسہال، پیٹ پھولنے، متلی اور پیٹ کی دوسری شکایات کا سامنا رہتا ہے۔
اینڈومیٹرائیوسس زرخیزی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ کچھ خواتین کو حمل ٹھہرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ جبکہ بعض خواتین میں بیماری موجود ہونے کے باوجود کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ اور بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب حمل ٹھہرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ بیماری کی شدت اور درد کی شدت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض خواتین میں بیماری کے بہت کم حصے موجود ہونے کے باوجود درد شدید ہو سکتا ہے۔ جبکہ کچھ خواتین میں بیماری زیادہ پھیلی ہوئی ہونے کے باوجود درد بہت کم ہوتا ہے۔
اینڈومیٹرائیوسس براہِ راست جسمانی وزن میں اضافہ نہیں کرتا۔ تاہم پیٹ پھولنے اور جسم میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے بعض خواتین کو عارضی طور پر ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ ان کا وزن بڑھ گیا ہے۔
Causes of Endometriosis in Urdu
ابھی تک اینڈومیٹرائیوسس کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ تحقیق میں کئی ممکنہ عوامل پر غور کیا جا رہا ہے۔
حالیہ تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مدافعتی نظام میں خرابی یا بے قاعدگی کا اینڈومیٹرائیوسس سے تعلق ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا خواتین میں مدافعتی نظام سے متعلق بعض دوسری بیماریوں کی شرح بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔
خاندانی تاریخ بھی اہم ہو سکتی ہے۔ اگر والدہ، بہن یا نانی کو اینڈومیٹرائیوسس رہا ہو تو بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
People at Higher Risks
اینڈومیٹرائیوسس عموماً تولیدی عمر کے خواتین میں پایا جاتا ہے۔ تاہم نوعمری میں بھی اس کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بعض خطرے کے عوامل میں خاندان میں اینڈومیٹرائیوسس کی موجودگی، ماہواری کا دورانیہ 28 دن سے کم ہونا، آٹھ دن سے زیادہ جاری رہنے والی یا بہت زیادہ خون والی ماہواری اور کبھی حمل نہ ٹھہرنا شامل ہیں۔
یہ بیماری کسی خاص نسلی یا سماجی طبقے تک محدود نہیں ہے۔ یہ ماہواری شروع ہونے سے سنِ یاس تک متاثر کر سکتی ہے۔
Endometriosis and Infertility
اینڈومیٹرائیوسس حمل ٹھہرنے میں دشواری کی ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے۔ اس بیماری سے پیدا ہونے والی سوزش، داغ دار بافت اور اندرونی چپکاؤ بیضہ، فلوپین نالی اور نطفے کے باہمی ملاپ کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بانجھ پن کا سامنا کرنے والی خواتین میں تقریباً 25 سے 50 فیصد میں اینڈومیٹرائیوسس پایا جا سکتا ہے۔ تاہم اینڈومیٹرائیوسس ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حمل ممکن نہیں۔
بعض خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ کو علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ حمل کی خواہش رکھنے والی خاتون کے لیے علاج کا انتخاب کرتے وقت زرخیزی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
Diagnosis of Endometriosis in Urdu
اینڈومیٹرائیوسس کی تشخیص بعض اوقات مشکل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس کی علامات ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں۔ کئی خواتین میں تشخیص میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اور اوسطاً تشخیص میں چار سے بارہ سال تک کی تاخیر دیکھی جاتی ہے۔
تشخیص کے لیے ماہواری کی مکمل تاریخ، درد کی شدت، خون آنے کی مقدار اور دیگر متعلقہ علامات کے بارے میں معلومات بہت اہم ہیں۔ ڈاکٹر جسمانی اور حوض کے معائنے کے ساتھ الٹراساؤنڈ یا مقناطیسی گونج کی تصویربرداری تجویز کر سکتا ہے۔
بعض صورتوں میں پیٹ کے اندر باریک کیمرے کے ذریعے معائنہ، یعنی لیپروسکوپی، کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس دوران مشتبہ بافت کا نمونہ لے کر اس کی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔
تاہم ہر مریض میں علاج شروع کرنے سے پہلے جراحی کے ذریعے حتمی تصدیق ضروری نہیں ہوتی۔ علامات اور تصویری معائنے کی بنیاد پر بھی طبی تشخیص کی جا سکتی ہے۔
مستقبل میں خون، لعاب، ماہواری کے خون اور علامات کی سادہ فہرستوں پر مبنی کم تکلیف دہ تشخیصی طریقوں پر بھی تحقیق جاری ہے۔
Treatment of Endometriosis in Urdu
اینڈومیٹرائیوسس کا فی الحال کوئی ایسا حتمی علاج موجود نہیں۔ جو بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ علاج کا بنیادی مقصد درد اور دوسری علامات کو قابو کرنا، روزمرہ زندگی بہتر بنانا اور طویل مدتی اثرات کو کم کرنا ہے۔
علاج کا انتخاب بیماری کی شدت، علامات، عمر، مستقبل میں حمل کی خواہش، ممکنہ مضر اثرات، طویل مدتی تحفظ، اخراجات اور علاج کی دستیابی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
Painkillers
درد کے لیے غیر سٹیرائیڈی سوزش کم کرنے والی ادویات، جیسے آئبوپروفین اور نیپروکسین، استعمال کی جا سکتی ہیں۔ بعض دیگر درد کم کرنے والی ادویات بھی ضرورت کے مطابق دی جا سکتی ہیں۔
ان ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کرنا چاہیے، خصوصاً اگر انہیں بار بار یا طویل عرصے تک لینا ہو۔
Hormonal Treatment
ہارمونی علاج بعض خواتین میں درد کی شدت اور تکرار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس میں مشترکہ ہارمونی مانع حمل گولیاں، پیچ اور حلقہ، جبکہ پروجسٹن پر مبنی طریقے بھی شامل ہیں۔
رحم کے اندر رکھا جانے والا ہارمونی آلہ اور بعض انجکشن بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص ادویات ایسی ہیں جو ماہواری سے متعلق ہارمونز کے عمل کو دبا کر علامات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
کچھ خواتین میں ہارمونز کے دوسرے متبادل طریقے بھی زیرِ استعمال آ سکتے ہیں۔ تاہم ہر علاج ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتا، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو حمل کی کوشش کر رہی ہوں۔
Surgery
کچھ شدید صورتوں میں جراحی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کا مقصد اینڈومیٹرائیوسس کے متاثرہ حصوں، اندرونی چپکاؤ اور داغ دار بافت کو ہٹانا ہوتا ہے۔
لیپروسکوپی کے ذریعے چھوٹے شگاف سے پیٹ کے اندر داخل ہو کر متاثرہ بافت کو دیکھا اور ہٹایا جا سکتا ہے۔ بعض شدید صورتوں میں رحم نکالنے کی جراحی بھی زیرِ غور آ سکتی ہے۔ خاص طور پر ان خواتین میں جو دوسرے علاج سے فائدہ نہ اٹھا رہے ہوں اور مستقبل میں اولاد کی خواہش نہ رکھتے ہوں۔
تاہم رحم نکالنے کی جراحی بھی ہر صورت میں بیماری کا حتمی خاتمہ نہیں کرتی۔ اور بعض خواتین میں علامات برقرار رہ سکتی ہیں۔
جراحی کے بعد علامات دوبارہ ظاہر بھی ہو سکتی ہیں۔ بیماری کی شدت اور متاثرہ حصوں کی نوعیت اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ علامات کتنی جلد واپس آتی ہیں۔
Treatment for Pregnancy
اینڈومیٹرائیوسس کی وجہ سے حمل ٹھہرنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے خواتین میں زرخیزی بڑھانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
بعض صورتوں میں بیضہ بننے کے عمل کو تحریک دینے والی ادویات، رحم کے اندر نطفہ پہنچانے کا طریقہ یا مصنوعی طریقے سے بارآوری کا عمل تجویز کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے علاج کا انتخاب فرد کی عمر، بیماری کی شدت، زرخیزی کی صورتحال اور مستقبل کے حمل کے منصوبے کے مطابق کیا جاتا ہے۔
Effects of Endometriosis in Urdu
اینڈومیٹرائیوسس صرف جسمانی درد تک محدود بیماری نہیں ہے۔ شدید درد، زیادہ خون آنا، تھکن، بانجھ پن اور ازدواجی تعلق میں تکلیف زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔
مسلسل درد اور بیماری کے بارے میں پریشانی ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض خواتین میں بے چینی، افسردگی اور سماجی تنہائی پیدا ہو سکتی ہے۔
کچھ مریض اتنی شدید علامات کا سامنا کرتے ہیں کہ انہیں کام یا تعلیم سے غیر حاضر رہنا پڑتا ہے۔ اس سے آمدنی میں کمی اور خاندان پر مالی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ جبکہ علاج کے اخراجات الگ بوجھ بن سکتے ہیں۔
ازدواجی تعلق کے دوران درد بعض خواتین کو تعلق سے گریز یا اس میں کمی پر مجبور کر سکتا ہے۔ جس سے فرد اور اس کے شریکِ حیات دونوں کی جنسی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہواری کے درد کو معمول سمجھنا اور بیماری سے متعلق سماجی شرمندگی ان مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
Conclusion on Endometriosis in Urdu
اینڈومیٹرائیوسس ایک عام مگر پیچیدہ طویل مدتی بیماری ہے۔ جو دنیا بھر میں کروڑوں تولیدی عمر کی خواتین کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیت رحم کی اندرونی تہہ سے ملتے جلتے بافت کا رحم سے باہر بڑھنا ہے۔ جس سے سوزش، درد، اندرونی چپکاؤ اور بعض اوقات بانجھ پن پیدا ہو سکتا ہے۔
اس بیماری کا فی الحال کوئی حتمی علاج موجود نہیں۔ لیکن درد اور دیگر علامات کو مختلف ادویات، ہارمونی علاج، جراحی اور زرخیزی کے مخصوص طریقوں سے قابو کیا جا سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ شدید ماہواری کے درد، مسلسل حوض کے درد یا غیر معمولی خون آنے کو معمول سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے بہت سے خواتین اپنی علامات کو بہتر طور پر قابو کر سکتے ہیں اور زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
FAQs
What is endometriosis?
اینڈومیٹرائیوسس ایک طویل مدتی بیماری ہے۔ جس میں رحم کی اندرونی تہہ سے ملتا جلتا بافت رحم کے باہر بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بافت عموماً حوض کے اندر موجود اعضا کے قریب پایا جاتا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں پیٹ اور سینے کے حصوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں سوزش، داغ دار بافت اور اندرونی چپکاؤ پیدا ہو سکتے ہیں۔
اینڈومیٹرائیوسس کی عام علامات میں ماہواری کے دوران شدید درد، زیادہ خون آنا، مسلسل حوض کا درد، ازدواجی تعلق کے دوران تکلیف، پیٹ پھولنا، متلی اور حمل ٹھہرنے میں دشواری شامل ہیں۔ بعض خواتین میں بیماری موجود ہونے کے باوجود کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ اس بیماری کا فی الحال کوئی حتمی علاج موجود نہیں۔ تاہم مناسب علاج سے علامات کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
What are the common symptoms of endometriosis?
اینڈومیٹرائیوسس کی سب سے عام علامت حوض کے حصے میں درد ہے۔ جو بعض خواتین میں ماہواری کے دوران بہت شدید ہو سکتا ہے۔ اور کبھی کبھی ماہواری ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ دیگر علامات میں ماہواری کے دوران انتہائی تکلیف دہ درد، معمول سے زیادہ یا طویل خون آنا، ماہواری کے درمیان ہلکا خون آنا، پیٹ یا کمر کا درد اور ازدواجی تعلق کے دوران تکلیف شامل ہیں۔
بعض خواتین کو پاخانہ کرنے یا پیشاب کرتے وقت درد، قبض، اسہال، پیٹ پھولنے اور متلی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ اینڈومیٹرائیوسس زرخیزی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بیماری کی شدت اور علامات کی شدت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کم بیماری میں بھی درد شدید ہو سکتا ہے۔
Can endometriosis cause infertility?
اینڈومیٹرائیوسس حمل ٹھہرنے میں دشواری پیدا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس بیماری سے سوزش، داغ دار بافت اور اندرونی چپکاؤ بن سکتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں بیضہ دانی، فلوپین نالیوں اور تولیدی نظام کے دوسرے حصوں کے معمول کے کام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ جس سے نطفے اور بیضے کے ملنے کا عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بانجھ پن کا سامنا کرنے والی خواتین میں تقریباً 25 سے 50 فیصد میں اینڈومیٹرائیوسس پایا جا سکتا ہے۔
تاہم اینڈومیٹرائیوسس ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حمل ممکن نہیں۔ بہت سے خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ بعض کو علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ حمل کی خواہش رکھنے والے فرد کے لیے علاج کا انتخاب بیماری کی شدت اور زرخیزی کی صورتحال کے مطابق کیا جاتا ہے۔
How is endometriosis diagnosed?
اینڈومیٹرائیوسس کی تشخیص بعض اوقات مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی علامات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ تشخیص کے آغاز میں ڈاکٹر ماہواری کی تاریخ، درد کی شدت، خون آنے کی مقدار اور دیگر علامات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرتا ہے۔ جسمانی اور حوض کے معائنے کے بعد الٹراساؤنڈ یا مقناطیسی گونج کی تصویربرداری تجویز کی جا سکتی ہے۔
بعض صورتوں میں لیپروسکوپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جس میں باریک کیمرے کے ذریعے حوض کے اندر موجود حصوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اور ضرورت پڑنے پر بافت کا نمونہ بھی لیا جاتا ہے۔ تاہم ہر فرد میں علاج شروع کرنے سے پہلے جراحی کے ذریعے تصدیق ضروری نہیں ہوتی۔ علامات اور تصویری معائنے کی بنیاد پر بھی طبی تشخیص کی جا سکتی ہے۔
What treatments are available for endometriosis?
اینڈومیٹرائیوسس کا فی الحال کوئی ایسا حتمی علاج موجود نہیں۔ جو بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ علاج کا مقصد درد اور دوسری علامات کو کم کرنا، روزمرہ زندگی بہتر بنانا اور طویل مدتی اثرات کو محدود کرنا ہے۔ درد کے لیے آئبوپروفین اور نیپروکسین جیسی غیر سٹیرائیڈی سوزش کم کرنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ہارمونی علاج بھی بعض خواتین میں درد کی شدت اور تکرار کم کر سکتا ہے۔ ۔
شدید یا مخصوص صورتوں میں جراحی کے ذریعے اینڈومیٹرائیوسس کے متاثرہ حصے، اندرونی چپکاؤ اور داغ دار بافت ہٹائے جا سکتے ہیں۔ علاج کا انتخاب بیماری کی شدت، علامات، عمر، حمل کی خواہش، ممکنہ مضر اثرات، طویل مدتی تحفظ، اخراجات اور دستیابی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
Can endometriosis go away on its own?
اینڈومیٹرائیوسس ایک طویل مدتی بیماری ہے۔ اور اکثر خواتین کو علامات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض خواتین میں سنِ یاس کے بعد علامات کم ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ اس مرحلے پر جسم میں ایسٹروجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں کہ اینڈومیٹرائیوسس ہر شخص میں خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
علاج کے بعد بھی علامات دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اور بعض خواتین میں جراحی کے بعد بھی بیماری کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔ اگر علامات موجود رہیں تو باقاعدگی سے ڈاکٹر سے رابطہ رکھنا ضروری ہے۔ مسلسل یا شدید حوض کے درد، غیر معمولی خون آنے یا حمل ٹھہرنے میں دشواری کی صورت میں طبی معائنہ کرانا چاہیے۔
Can endometriosis be prevented?
فی الحال اینڈومیٹرائیوسس سے مکمل طور پر بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں ہے۔ اس بیماری کی بنیادی وجہ بھی ابھی پوری طرح معلوم نہیں۔ اس لیے ایسا کوئی مخصوص طریقہ دستیاب نہیں جس سے بیماری کو یقینی طور پر روکا جا سکے۔ تاہم بیماری کے بارے میں بہتر آگاہی، علامات کی بروقت پہچان، جلد تشخیص اور معیاری طبی نگہداشت اس کے طویل مدتی اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحقیق میں حمل اور دودھ پلانے کا بیماری کے نسبتاً کم خطرے سے تعلق دیکھا گیا ہے۔ لیکن انہیں اینڈومیٹرائیوسس سے بچاؤ کا یقینی طریقہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی خاتون کو شدید ماہواری کا درد، بہت زیادہ خون آنا یا مسلسل حوض کا درد ہو تو اسے علامات کو معمول سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Can endometriosis affect mental health?
اینڈومیٹرائیوسس جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ مسلسل یا شدید درد، زیادہ خون آنا، تھکن، حمل ٹھہرنے میں دشواری اور ازدواجی تعلق کے دوران تکلیف زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک درد برداشت کرنے والے بعض خواتین میں بے چینی، افسردگی اور سماجی تنہائی پیدا ہو سکتی ہے۔
بیماری کے بارے میں غلط فہمیاں اور ماہواری کے شدید درد کو معمول سمجھنے کا رجحان بھی متاثرہ خواتین کی مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے اینڈومیٹرائیوسس کے علاج میں صرف جسمانی علامات پر توجہ دینا کافی نہیں۔ بعض خواتین کو درد کے جامع انتظام، جسمانی بحالی اور نفسیاتی مدد سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاکہ جسمانی اور جذباتی دونوں مشکلات کو بہتر طور پر سنبھالا جا سکے۔
When should you see a doctor for endometriosis?
اگر ماہواری کے دوران درد غیر معمولی طور پر شدید ہو، حوض کے حصے میں مسلسل درد رہتا ہو، ماہواری بہت زیادہ یا طویل ہو، ازدواجی تعلق کے دوران تکلیف ہوتی ہو یا حمل ٹھہرنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت درد بھی ایسی علامت ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بعض خواتین میں اینڈومیٹرائیوسس کی علامات روزمرہ کام، تعلیم، ملازمت اور ذاتی زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں بروقت طبی معائنہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شدید علامات کو صرف عام ماہواری کا حصہ سمجھنا درست نہیں۔ ڈاکٹر علامات اور طبی تاریخ کا جائزہ لے کر مناسب معائنے اور تصویری جانچ تجویز کر سکتا ہے۔ اور ضرورت کے مطابق علاج شروع کر سکتا ہے۔
Can you get pregnant with endometriosis?
اینڈومیٹرائیوسس کے باوجود حمل ٹھہر سکتا ہے۔ لیکن بعض خواتین کے لیے یہ عمل ان خواتین کے مقابلے میں مشکل ہو سکتا ہے جنہیں یہ بیماری نہیں ہوتی۔ اینڈومیٹرائیوسس سے پیدا ہونے والی سوزش، اندرونی چپکاؤ اور داغ دار بافت تولیدی نظام کے معمول کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ اگر کسی فرد کو اینڈومیٹرائیوسس کے ساتھ حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر بیماری کی شدت، عمر اور زرخیزی کی صورتحال کو دیکھ کر مناسب منصوبہ بنا سکتا ہے۔
بعض صورتوں میں جراحی علاج سے مدد مل سکتی ہے۔ جبکہ کچھ خواتین کے لیے بیضہ بننے کے عمل کو تحریک دینے والی ادویات، رحم کے اندر نطفہ پہنچانے کا طریقہ یا مصنوعی بارآوری جیسے زرخیزی کے علاج تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ مناسب علاج کا انتخاب انفرادی حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔