بچے کی پیدائش زندگی کے اہم ترین مراحل میں سے ایک ہے۔ اس دوران خوشی، محبت اور جوش کے ساتھ تھکن، بے چینی، خوف اور جذباتی اتار چڑھاؤ بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔ لیکن بعض خواتین میں یہ کیفیت معمول کے چند دنوں تک محدود نہیں رہتی۔ بلکہ مسلسل اداسی، بے چینی، ناامیدی اور بچے سے جذباتی تعلق میں دشواری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کیفیت کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کہا جاتا ہے۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن صرف اداس ہونے یا رونے کا نام نہیں۔ اس میں شدید بے چینی، خود کو ناکام سمجھنا، روزمرہ کاموں میں دلچسپی ختم ہونا، نیند اور بھوک میں تبدیلی اور بچے کی دیکھ بھال کے بارے میں شدید خوف بھی شامل ہو سکتا ہے۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک اہم ذہنی کیفیت ہے۔ جو حمل کے دوران یا بچے کی پیدائش کے بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری حمل کے دوران یا بچے کی پیدائش کے بعد پہلے ایک سال تک ظاہر ہونے والی افسردگی کی کیفیت کو شامل کرتی ہے۔
یہ کیفیت عام طور پر بچے کی پیدائش کے بعد چند ہفتوں میں سامنے آ سکتی ہے۔ لیکن بعض افراد میں اس کا آغاز حمل ہی کے دوران ہو جاتا ہے۔ یہ معمول کے جذباتی اتار چڑھاؤ سے زیادہ شدید ہوتی ہے اور علاج نہ ہونے کی صورت میں کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کسی ایک وجہ سے نہیں ہوتا۔ ہارمونز میں تیزی سے تبدیلی، جینیاتی رجحان، نیند کی کمی، جسمانی تبدیلیاں، بچے کی دیکھ بھال کا دباؤ اور سماجی یا نفسیاتی مشکلات اس کے خطرے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
Symptoms of Postpartum Depression in Urdu
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی علامات ہر فرد میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ لیکن چند نمایاں علامات درج ذیل ہیں۔
- مسلسل اداسی یا ناامیدی
- بار بار یا بلاوجہ رونا
- معمول کی پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا
- شدید بے چینی یا خوف
- خود کو بے قدر، قصوروار یا ناکام سمجھنا
- توانائی اور حوصلے میں کمی
- توجہ مرکوز کرنے یا فیصلہ کرنے میں دشواری
- نیند نہ آنا یا بہت زیادہ سونا
- بچے کے سو جانے کے باوجود ذہن کا مسلسل متحرک رہنا
- بھوک میں کمی یا اضافہ
- بچے سے جذباتی تعلق قائم کرنے میں دشواری
- بچے کی دیکھ بھال کے بارے میں حد سے زیادہ خوف
- خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات
بعض افراد میں یہ احساس بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اچھے والدین نہیں ہیں یا بچے کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں۔ یہ احساس حقیقت کی عکاسی ضروری نہیں کرتا۔ بلکہ بیماری کا حصہ ہو سکتا ہے۔
Difference Between Postpartum Depression & Baby Blue
بچے کی پیدائش کے بعد بہت سے افراد کو چند دن تک جذباتی اتار چڑھاؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ جسے بیبی بلوز کہا جاتا ہے۔ اس دوران بلاوجہ رونا، بے چینی، چڑچڑاپن، نیند میں خلل اور تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔
بے بی بلوز عموماً پیدائش کے دو سے تین دن بعد شروع ہوتا ہے۔ اور تقریباً دو ہفتوں کے اندر خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں عام طور پر روزمرہ زندگی اور بچے کی دیکھ بھال کی صلاحیت شدید متاثر نہیں ہوتی۔
برعکس اس کے پوسٹ پارٹم ڈپریشن زیادہ شدید ہوتا ہے۔ اس کی علامات مسلسل رہ سکتی ہیں۔ روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے اور فرد کو اپنی یا بچے کی دیکھ بھال کرنا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ اگر علامات دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں یا مسلسل بڑھ رہی ہوں تو طبی مدد لینا ضروری ہے۔
Causes of Postpartum Depression
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی مکمل وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔ طبی شواہد کے مطابق اس کے پیچھے کئی حیاتیاتی، ہارمونی، نفسیاتی اور سماجی عوامل مل کر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حمل کے دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ بچے کی پیدائش کے بعد ان ہارمونز میں تیزی سے کمی آتی ہے۔ یہ تبدیلی حساس افراد میں افسردگی کی علامات کو متحرک کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ نومولود کی دیکھ بھال، مسلسل تھکن، نیند کی کمی، دودھ پلانے میں مشکلات، جسمانی تبدیلیاں اور والدین بننے کی نئی ذمہ داریاں ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
Women at Higher Risks
کچھ حالات پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان میں ماضی میں ڈپریشن یا بے چینی کا سامنا، خاندان میں ذہنی بیماری کی تاریخ اور پچھلی حمل کے دوران پوسٹ پارٹم ڈپریشن شامل ہیں۔
حمل یا ولادت کی پیچیدگیاں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ زیادہ خطرے والا حمل، ہسپتال میں داخل ہونا، مشکل یا تکلیف دہ ولادت، ہنگامی آپریشن، قبل از وقت پیدائش اور کم وزن بچے کی پیدائش خطرے سے وابستہ عوامل میں شامل ہیں۔
سماجی عوامل بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ مناسب مدد کا نہ ہونا، ازدواجی یا خاندانی تنازع، گھریلو تشدد، مالی پریشانی، مشکل حالات زندگی اور تنہائی ذہنی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
دودھ پلانے میں مشکلات، کم نیند، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کی کمی بھی بعض افراد میں خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
Diagnosis of Postpartum Depression
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی تشخیص کے لیے کوئی ایک مخصوص خون کا ٹیسٹ موجود نہیں۔ ڈاکٹر عموماً علامات، طبی تاریخ اور جذباتی کیفیت کا جائزہ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ علامات کب شروع ہوئیں۔ کتنی دیر سے موجود ہیں۔ اور روزمرہ زندگی، بچے کی دیکھ بھال اور تعلقات پر ان کا کتنا اثر پڑ رہا ہے۔
بعض اوقات خون کے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ تاکہ تھائیرائڈ کی بیماری جیسی دوسری جسمانی وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔ کیونکہ بعض تھائیرائڈ مسائل بھی موڈ، توانائی اور نیند میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔
تشخیص کے لیے ایڈنبرا بعد از پیدائش افسردگی پیمانہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سوالات پر مشتمل ایک معروف جانچ کا طریقہ ہے۔ جس کے ذریعے پچھلے چند دنوں کے جذبات اور علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
Treatment of Postpartum Depression in Urdu
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا علاج علامات کی شدت اور فرد کی ضروریات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ نفسیاتی علاج، معاون گروہوں اور ادویات میں سے ایک یا ایک سے زیادہ طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ہلکی سے درمیانی شدت کے ڈپریشن میں نفسیاتی علاج اہم ابتدائی طریقہ ہو سکتا ہے۔ ادراکی رویہ جاتی علاج اور باہمی تعلقات پر مبنی علاج مؤثر طریقوں میں شامل ہیں۔
درمیانی سے شدید ڈپریشن میں نفسیاتی علاج کے ساتھ افسردگی کم کرنے والی ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض ادویات حمل اور دودھ پلانے کے دوران بھی ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ لیکن دوا کا انتخاب ہمیشہ ماں اور بچے دونوں کے ممکنہ فوائد اور خطرات کو دیکھ کر ہونا چاہیے۔
اگر کوئی فرد دودھ پلا رہا ہو تو دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ بعض ادویات کی معمولی مقدار دودھ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ تاہم کئی ادویات مناسب طبی نگرانی میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
شدید صورتوں میں خصوصی علاج بھی موجود ہیں۔ بعض حالات میں رگ کے ذریعے دی جانے والی بریکسینولون یا مخصوص اعصابی ہارمون سے متعلق علاج استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے علاج صرف ماہر طبی نگرانی میں کیے جاتے ہیں۔
Care at Home
پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں صرف خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کافی نہیں ہوتی۔ لیکن روزمرہ زندگی میں کچھ اقدامات علاج کے ساتھ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اپنے قریبی لوگوں سے بات کریں اور اپنے جذبات چھپانے کے بجائے انہیں بیان کریں۔ گھر کے کام، کھانا تیار کرنے یا بچے کی دیکھ بھال میں مدد لینے سے جسمانی اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
جتنا ممکن ہو آرام کریں۔ مناسب غذا لیں۔ اور ہلکی جسمانی سرگرمی اختیار کریں۔ تازہ ہوا میں کچھ وقت گزارنا اور اپنی پسند کی سرگرمی کے لیے تھوڑا وقت نکالنا بھی ذہنی کیفیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر دودھ پلانا انتہائی دباؤ کا باعث بن رہا ہو تو اپنی ذہنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے بات کریں۔ بچے کی غذا کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ماں اور بچے دونوں کی ضروریات کو سامنے رکھنا چاہیے۔
Help from Family
پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا فرد کو تنقید یا الزام نہیں۔ بلکہ سمجھ، توجہ اور عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
گھر والے علامات کو سمجھیں۔ بات سنیں۔ اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ بچے کی دیکھ بھال، کھانا بنانے، صفائی اور دوسرے روزمرہ کاموں میں مدد فراہم کرنا بہت مفید ہو سکتا ہے۔
اگر ممکن ہو تو ماں کو مناسب نیند اور آرام کا موقع دیں۔ بعض اوقات بچے کی دیکھ بھال باری باری کرنے سے ماں کو مسلسل آرام کا کچھ وقت مل سکتا ہے۔
اگر وہ طبی مدد لینے سے گھبرا رہی ہو تو اس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ یا ضرورت پڑنے پر ملاقات طے کرنے میں مدد کریں۔
Complications of Postpartum Depression
علاج نہ ہونے والا پوسٹ پارٹم ڈپریشن صرف ماں کی ذہنی صحت کو متاثر نہیں کرتا۔ بلکہ بچے اور پورے خاندان پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اس سے والدین اور بچے کے درمیان جذباتی تعلق متاثر ہو سکتا ہے۔ بچے میں نیند، خوراک، رویے، زبان، سماجی صلاحیت اور نشوونما سے متعلق مشکلات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مسلسل ڈپریشن ازدواجی اور خاندانی تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔ اور مستقبل میں ڈپریشن کی دوسری اقساط کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔
سب سے سنگین خطرات میں خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات شامل ہیں۔ اگر ایسے خیالات موجود ہوں تو اسے معمول کی علامت سمجھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
Prevention of Postpartum Depression
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کو مکمل طور پر روکنا ہمیشہ ممکن نہیں۔ لیکن خطرے کو کم کرنے کے لیے پہلے سے تیاری مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
حمل کے دوران ذہنی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اور اگر ماضی میں ڈپریشن یا بے چینی رہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کو بتائیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ پہلے سے بات کریں کہ بچے کی پیدائش کے بعد کس طرح مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
اپنی توقعات حقیقت پسندانہ رکھیں۔ ہر دن بہترین نہیں ہوگا اور نئے والدین کے لیے اچھے اور مشکل دونوں دن آنا معمول ہے۔
نیند اور آرام کو ترجیح دیں۔ مناسب غذا لیں۔ جسمانی سرگرمی کے لیے وقت نکالیں اور خود کو سماجی طور پر الگ تھلگ نہ کریں۔
زیادہ خطرے والے افراد میں حمل کے دوران مشاورت، ادراکی رویہ جاتی علاج اور باہمی تعلقات پر مبنی علاج بعض صورتوں میں بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
Our Note on Postpartum Depression in Urdu
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کسی کی غلطی یا کمزوری نہیں۔ بچے کی پیدائش کے بعد جسم، ہارمونز، نیند، ذمہ داریوں اور سماجی زندگی میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس لیے مدد کی ضرورت محسوس ہونا شرمندگی کی بات نہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ علامات کو پہچانا جائے اور بروقت مدد حاصل کی جائے۔ مناسب علاج، نفسیاتی مدد، ادویات اور گھر والوں کے تعاون سے بہت سے افراد اپنی ذہنی صحت بہتر کر سکتے ہیں۔ اور بچے کے ساتھ دوبارہ مضبوط جذباتی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔
مدد مانگنا اچھی والدینیت کے خلاف نہیں بلکہ اپنی اور اپنے بچے کی صحت کی حفاظت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
FAQs
What is postpartum depression?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والی ایک اہم ذہنی کیفیت ہے۔ جس میں مسلسل اداسی، ناامیدی، بے چینی، تھکن اور روزمرہ کاموں میں دلچسپی کی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض خواتین میں اس کا آغاز حمل کے دوران ہی ہو جاتا ہے۔ جبکہ بعض میں بچے کی پیدائش کے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ کیفیت عام جذباتی اتار چڑھاؤ یا بیبی بلوز سے زیادہ شدید اور دیرپا ہوتی ہے۔ اس میں بچے کی دیکھ بھال مشکل محسوس ہو سکتی ہے۔ اور بعض اوقات ماں کو بچے سے جذباتی تعلق قائم کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ ہارمونز میں تبدیلی، نیند کی کمی، جسمانی تھکن، ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی یا سماجی عوامل اس کیفیت کے خطرے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے بہتری ممکن ہے۔
What are the symptoms of postpartum depression?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی علامات ہر خاتون میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ عام علامات میں مسلسل اداسی، بار بار رونا، ناامیدی، شدید بے چینی، چڑچڑاپن، توانائی میں کمی اور پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا شامل ہیں۔ بعض خواتین کو توجہ مرکوز کرنے یا فیصلے کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ نیند میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ مثلاً نیند نہ آنا یا بہت زیادہ سونا۔ جبکہ بھوک کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
بچے کی دیکھ بھال کے بارے میں حد سے زیادہ خوف اور بچے کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنے میں مشکل بھی اہم علامات ہیں۔ بعض شدید صورتوں میں خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اور بروقت ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔
How long does postpartum depression last?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی مدت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر علامات کا علاج نہ کیا جائے تو یہ کیفیت کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں زیادہ عرصے تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس بیبی بلوز عموماً بچے کی پیدائش کے بعد چند دنوں میں شروع ہوتا ہے۔ لیکن تقریباً دو ہفتوں کے اندر بہتر ہو جاتا ہے۔
اگر اداسی، بے چینی، ناامیدی یا دوسری علامات دو ہفتوں سے زیادہ رہیں یا وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی جائیں تو اسے معمول کا جذباتی اتار چڑھاؤ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج علامات کی شدت اور مدت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نفسیاتی علاج، گھر والوں کی مدد اور ضرورت کے مطابق ادویات کے ذریعے بہت سے افراد اپنی ذہنی صحت میں نمایاں بہتری حاصل کر سکتے ہیں۔
What causes postpartum depression?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ کئی عوامل مل کر اس کیفیت کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے بعد ہارمونز میں اچانک تبدیلی اہم حیاتیاتی عوامل میں شامل ہے۔ حمل کے دوران بعض ہارمونز کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ اور ولادت کے بعد تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔ جس سے حساس افراد میں افسردگی کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ نیند کی کمی، مسلسل تھکن، بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری، دودھ پلانے میں مشکلات اور جسمانی تبدیلیاں بھی ذہنی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ ماضی میں ڈپریشن یا بے چینی، خاندان میں ذہنی بیماری کی تاریخ، حمل یا ولادت کی پیچیدگیاں، سماجی تنہائی، مالی پریشانی اور خاندانی تنازع بھی خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
Who is at risk of postpartum depression?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کسی بھی خاتون کو ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض حالات میں اس کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں ڈپریشن یا بے چینی کا سامنا کرنے والی خواتین میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر پچھلی حمل یا ولادت کے بعد بھی ڈپریشن رہا ہو۔ خاندان میں ذہنی بیماری کی تاریخ بھی ایک اہم عامل ہو سکتی ہے۔
حمل یا ولادت کے دوران پیچیدگیاں، قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچے کی پیدائش، مشکل یا تکلیف دہ ولادت اور ہسپتال میں داخلہ بھی خطرے سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مناسب خاندانی مدد نہ ہونا، ازدواجی تنازع، مالی مشکلات، تنہائی، گھریلو تشدد، کم نیند اور دودھ پلانے میں مشکلات ذہنی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم خطرے کے عوامل موجود نہ ہونے کے باوجود بھی یہ کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
How is postpartum depression diagnosed?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی تشخیص کسی ایک مخصوص خون کے ٹیسٹ سے نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عموماً خاتون کی علامات، طبی تاریخ اور روزمرہ زندگی پر ان علامات کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اداسی، بے چینی، نیند یا بھوک میں تبدیلی اور دوسری علامات کب شروع ہوئیں۔ اور کتنی دیر سے موجود ہیں۔
بعض اوقات خون کے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ تاکہ تھائیرائڈ کی بیماری جیسی جسمانی وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔ کیونکہ ایسی بیماریاں بھی موڈ اور توانائی میں تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں۔ علامات کی جانچ کے لیے ایڈنبرا بعد از پیدائش افسردگی پیمانہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر علامات شدید ہوں یا خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات موجود ہوں تو فوری طبی جائزہ ضروری ہے۔
Can postpartum depression be treated?
جی ہاں، پوسٹ پارٹم ڈپریشن قابل علاج کیفیت ہے۔ اور مناسب علاج سے بہتری ممکن ہے۔ علاج کا انتخاب علامات کی شدت، فرد کی ضروریات اور دیگر طبی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ ہلکی سے درمیانی شدت کی صورت میں نفسیاتی علاج مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ادراکی رویہ جاتی علاج اور باہمی تعلقات پر مبنی علاج اہم طریقوں میں شامل ہیں۔
درمیانی سے شدید ڈپریشن میں نفسیاتی علاج کے ساتھ افسردگی کم کرنے والی ادویات بھی تجویز کی جا سکتی ہیں۔ دودھ پلانے والی خواتین کے لیے دوا کا انتخاب ڈاکٹر ماں اور بچے دونوں کے ممکنہ فوائد اور خطرات کو دیکھ کر کرتا ہے۔ شدید صورتوں میں مخصوص خصوصی علاج بھی موجود ہیں۔ اس لیے علامات کو چھپانے یا خود سے دوا لینے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے مناسب تشخیص اور علاج کروانا ضروری ہے۔
How can family help someone with postpartum depression?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا خاتون کے لیے گھر والوں کی سمجھ، توجہ اور عملی مدد بہت اہم ہو سکتی ہے۔ اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اور اس کی کیفیت کسی ذاتی کمزوری یا ناکامی کی علامت نہیں۔ گھر والے اس کی بات توجہ سے سنیں اور تنقید، الزام یا غیر ضروری مشوروں سے گریز کریں۔
بچے کی دیکھ بھال، کھانا بنانے، صفائی اور دوسرے روزمرہ کاموں میں مدد فراہم کرنا جسمانی اور ذہنی دباؤ کم کر سکتا ہے۔ جہاں ممکن ہو اسے آرام اور مناسب نیند کا موقع دینا بھی مفید ہے۔ اگر وہ ڈاکٹر سے ملنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے تو گھر کا کوئی فرد اس کے ساتھ جا سکتا ہے۔ شدید علامات یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنے میں بھی تعاون کرنا چاہیے۔
When should you seek help for postpartum depression?
اگر بچے کی پیدائش کے بعد اداسی، بے چینی، ناامیدی یا دوسری ذہنی علامات دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر علامات اتنی شدید ہوں کہ روزمرہ کام، بچے کی دیکھ بھال، نیند یا معمول کے تعلقات متاثر ہونے لگیں۔ تو طبی مدد ضروری ہے۔ بچے کے سو جانے کے باوجود مسلسل ذہنی بے چینی، شدید خوف، بار بار رونا یا بچے کی دیکھ بھال کے بارے میں غیر معمولی تشویش بھی ڈاکٹر سے مشورے کی وجوہات ہیں۔
اگر خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات، موت یا خودکشی کے خیالات، شدید الجھن، وہم، آوازیں سنائی دینے یا غیر معمولی رویے جیسی علامات ظاہر ہوں تو انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ سنگین ہنگامی کیفیت ہو سکتی ہے۔
Can postpartum depression be prevented?
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کو ہر صورت میں مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ لیکن بعض اقدامات اس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ حمل کے دوران اپنی ذہنی صحت پر توجہ دینا اور ماضی میں ڈپریشن یا بے چینی کی تاریخ ہو تو ڈاکٹر کو آگاہ کرنا اہم ہے۔ بچے کی پیدائش سے پہلے خاندان اور قریبی لوگوں کے ساتھ مدد کا منصوبہ بنانا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
مناسب آرام، متوازن غذا، ہلکی جسمانی سرگرمی اور سماجی رابطہ برقرار رکھنا ذہنی صحت کے لیے مددگار ہیں۔ زیادہ خطرے والے افراد میں حمل کے دوران مشاورت اور بعض نفسیاتی طریقے بچاؤ میں مفید ہو سکتے ہیں۔ اپنی توقعات حقیقت پسندانہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ نومولود کی دیکھ بھال کے دوران تھکن اور مشکل دن آنا معمول ہے۔ علامات ظاہر ہوں تو جلد مدد لینا سب سے اہم قدم ہے۔