چنے کی دال ایک غذائیت سے بھرپور اور عام دستیاب غذا ہے۔ جو صدیوں سے مختلف معاشروں کے کھانوں کا حصہ رہی ہے۔ اسے عموماً چھوٹے، زرد رنگ کے دانوں کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دراصل چنے کی ایسی قسم ہے جس کا بیرونی چھلکا اتار کر دانے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ثابت چنے کے مقابلے میں نسبتاً جلدی پک جاتی ہے۔ جبکہ مسور کی دال کے مقابلے میں پکنے کے بعد اپنی ساخت بہتر طور پر برقرار رکھتی ہے۔
چنے کی دال میں پروٹین، غذائی ریشہ، نشاستہ، وٹامنز اور منرلز اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہی غذائی خصوصیات اسے متوازن غذا کا مفید حصہ بناتی ہیں۔ دستیاب تحقیقی معلومات کے مطابق چنے اور چنے کی دال کا استعمال نظامِ ہاضمہ، خون میں شکر کے توازن، وزن کو قابو میں رکھنے اور مجموعی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
Chana Dal Benefits for Men and Women
چنے کی دال کو استعمال کر کے مندرجہ ذیل فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
1. Nutritional Value
چنے کی دال میں پودوں سے حاصل ہونے والا پروٹین، پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس، غذائی ریشہ، چکنائی، وٹامنز اور معدنی اجزا شامل ہوتے ہیں۔ ثابت پکے ہوئے چنوں کے ایک کپ، یعنی تقریباً 164 گرام، میں تقریباً 269 کیلوریز، 14.5 گرام پروٹین، 45 گرام کاربوہائیڈریٹس، 12.5 گرام غذائی ریشہ اور 4 گرام چکنائی موجود ہوتی ہے۔
چنوں میں فولاد، مینگنیز، کاپر، زنک، فاسفورس، میگنیشیم، پوٹاشیم اور مختلف وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک کپ پکے ہوئے چنوں سے روزانہ درکار مینگنیز کا تقریباً 74 فیصد، فولیٹ کا 71 فیصد، کاپر کا 64 فیصد اور آئرن کا 26 فیصد حاصل ہو سکتا ہے۔
چنے کی دال کی غذائی ترکیب مختلف اقسام اور تیاری کے طریقے کے مطابق بدل سکتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر یہ پروٹین اور غذائی ریشے کا اچھا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
2. Protein Source
چنے کی دال ان افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتی ہے۔ جو اپنی غذا میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں موجود پروٹین جسم کے مختلف اہم کاموں میں حصہ لیتا ہے۔ جن میں پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت اور جسمانی نشوونما شامل ہیں۔
چنوں کے پروٹین میں زیادہ تر ضروری امینو تیزاب موجود ہوتے ہیں۔ تاہم میتھیونین کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے اسے مکمل پروٹین کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چنے کی دال کو اناج کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔
مثلاً چنے کی دال کے ساتھ چاول یا کسی مناسب ثابت اناج کا استعمال مجموعی غذا میں مختلف ضروری امینو تیزاب فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
3. Chana Dal for Digestion
چنے کی دال کے نمایاں فوائد میں اس کا غذائی ریشہ شامل ہے۔ غذائی ریشہ آنتوں کی صحت اور معمول کے مطابق اجابت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نظامِ ہاضمہ میں خوراک کی حرکت کو بہتر بنانے اور قبض سے بچاؤ میں مدد کر سکتا ہے۔
چنے میں موجود ریشہ آنتوں کے مفید جراثیم کے لیے خوراک کا کام بھی کرتا ہے۔ آنتوں میں موجود جراثیم اس ریشے کو خمیر کے عمل کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ جس سے مختصر زنجیری چکنائی والے تیزاب پیدا ہوتے ہیں۔
ان مرکبات میں خاص طور پر بیوٹیریٹ بڑی آنت کے خلیوں کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ آنتوں کی جھلی کی صحت، سوزش کے توازن اور بڑی آنت کے ماحول کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
4. Better for Intestines
صحت مند نظامِ ہاضمہ کے لیے آنتوں میں مفید جراثیم کا متوازن ہونا اہم ہے۔ چنے کی دال میں موجود غذائی ریشہ، مزاحم نشاستہ اور بعض نباتاتی مرکبات آنتوں کے جراثیمی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق چنے کا استعمال مفید جراثیم کی افزائش کو فروغ دے سکتا ہے۔ اور آنتوں کی اندرونی جھلی کو مضبوط رکھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ بعض مطالعات میں چنے کے غذائی ریشے کے استعمال کے ساتھ مفید جراثیم، خصوصاً لیکٹو بیکیلس اور بعض بیکٹیروئڈز کی مقدار میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چنے اور چنے کی دال کو آنتوں کی صحت کے لیے مفید غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
5. Effects on Constipation
چنے کی دال میں موجود غذائی ریشہ اجابت کو معمول پر رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ مناسب مقدار میں ریشہ لینے سے فضلے میں حجم بڑھتا ہے اور آنتوں کی حرکت بہتر ہو سکتی ہے۔ جس سے قبض ختم ہونے لگتی ہے۔
چنوں کے استعمال سے اجابت کی باقاعدگی، آسانی اور ساخت میں بہتری کے امکانات بھی تحقیقی جائزوں میں سامنے آئے ہیں۔ تاہم اگر کسی شخص کی غذا میں پہلے ریشہ بہت کم ہو تو اچانک بڑی مقدار میں چنے کی دال کھانے سے پیٹ میں گیس یا اپھارہ ہو سکتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ ابتدا کم مقدار سے کی جائے اور ساتھ مناسب مقدار میں پانی پیا جائے۔
6. May Reduce Hunger
چنے کی دال میں پروٹین اور غذائی ریشہ دونوں پائے جاتے ہیں۔ اور یہ دونوں غذائی اجزا ہاضمے کو نسبتاً سست کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کھانے کے بعد زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہ سکتا ہے۔
کچھ مطالعات میں چنوں کا موازنہ سفید ڈبل روٹی جیسی غذاؤں سے کیا گیا۔ جس میں چنے کھانے کے بعد بھوک اور مجموعی خوراک کی مقدار میں کمی دیکھی گئی۔ ایک اور چھوٹے مطالعے میں چنے سے تیار کردہ غذا بطور ہلکی غذا لینے والے افراد میں پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ رپورٹ ہوا۔
اس کے باوجود بھوک پر اثرات کے حوالے سے مزید انسانی تحقیق کی ضرورت ہے۔
7. Weight Loss
چنے کی دال خود وزن کم کرنے کی دوا نہیں۔ لیکن متوازن غذا کا حصہ بن کر وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پروٹین اور غذائی ریشہ ہے، جو پیٹ بھرنے کا احساس بڑھا سکتے ہیں۔ اور غیر ضروری کھانے کی خواہش کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
کچھ مشاہداتی مطالعات میں باقاعدگی سے چنے یا دالیں استعمال کرنے والے افراد میں جسمانی وزن اور کمر کے گھیرے کے حوالے سے بہتر نتائج دیکھے گئے ہیں۔ ایک جائزے میں روزانہ دالوں کی ایک مقدار استعمال کرنے والوں میں وزن کم ہونے کے زیادہ امکانات بھی رپورٹ ہوئے۔
تاہم وزن میں کمی کے لیے مجموعی خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند اور روزمرہ طرزِ زندگی بھی اہم ہیں۔
8. Chana Dal and Blood Sugar
چنے کی دال کے اہم فوائد میں خون میں شکر کے توازن میں ممکنہ مدد بھی شامل ہے۔ چنوں کا غذائی درجہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یعنی انہیں کھانے کے بعد خون میں شکر عموماً بہت تیزی سے نہیں بڑھتی۔
اس کی ایک وجہ ان میں موجود غذائی ریشہ اور پروٹین ہے۔ جو کاربوہائیڈریٹس کے ہضم اور جذب ہونے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ایک چھوٹے مطالعے میں تقریباً 200 گرام چنے کھانے سے سفید ڈبل روٹی کے مقابلے میں کھانے کے بعد خون میں شکر کے اضافے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
چونکہ ذیابیطس میں ہر فرد کی غذائی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے چنے کی دال کو علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
9. Heart Health
چنے کی دال میں میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے معدنی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ جو دل اور دورانِ خون کے معمول کے کام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ چنوں میں موجود حل پذیر غذائی ریشہ خون میں کم کثافت والے نقصان دہ کولیسٹرول اور خون کی بعض چکنائیوں کی مقدار کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ متعدد مطالعات کے جائزوں میں دالوں کے باقاعدہ استعمال اور نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
تاہم دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے صرف چنے کی دال کافی نہیں۔ کم نمک، متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور دیگر صحت مند عادات بھی ضروری ہیں۔
10. May Prevent Iron Deficiency
چنے کی دال فولاد کا ایک اچھا نباتاتی ذریعہ ہے۔ جسم میں فولاد سرخ خون کے خلیوں کی تیاری، جسمانی نشوونما، دماغی نشوونما اور پٹھوں کے معمول کے کام کے لیے ضروری ہے۔
غذا میں فولاد کی کمی سے کمزوری، تھکن اور سانس پھولنے جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے سبزی خور افراد کے لیے فولاد والی غذاؤں کا مناسب استعمال خاص اہمیت رکھتا ہے۔
نباتاتی غذاؤں میں موجود فولاد جسم میں جانوروں سے حاصل ہونے والے فولاد کے مقابلے میں کم جذب ہوتا ہے۔ چنے کی دال کے ساتھ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں، مثلاً لیموں یا شملہ مرچ، استعمال کرنے سے فولاد کے جذب میں مدد مل سکتی ہے۔
11. Benefits for Bones and Muscles
چنے کی دال میں پروٹین کے ساتھ میگنیشیم، فاسفورس، کیلشیم اور دیگر معدنی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ پروٹین پٹھوں کی تعمیر اور مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جبکہ معدنی اجزا ہڈیوں اور جسم کے دوسرے بافتوں کے لیے ضروری ہیں۔
میگنیشیم اعصاب اور پٹھوں کے معمول کے کام میں بھی حصہ لیتا ہے۔ اسی طرح فاسفورس جسم میں کئی اہم حیاتیاتی عمل کے لیے ضروری ہے۔
اس لیے مناسب مقدار میں چنے کی دال کو متوازن غذا میں شامل کرنا مجموعی غذائیت بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔
12. Brain Health
چنے میں فولیت، میگنیشیم، زنک، سیلینیم اور کولین جیسے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ کولین دماغی افعال اور اعصابی پیغامات کی تیاری سے متعلق اہم غذائی جز ہے۔
میگنیشیم اعصابی نظام کے معمول کے کام میں کردار ادا کرتا ہے۔ جبکہ زنک اور سیلینیم بھی جسم کے کئی اہم افعال میں حصہ لیتے ہیں۔
کچھ تحقیقی شواہد ان غذائی اجزا اور ذہنی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن چنے کی دال کو ذہنی بیماریوں کے علاج کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مزید انسانی تحقیق کی ضرورت ہے۔
13. May Reduce Swelling
چنے میں غذائی ریشے کے علاوہ مختلف نباتاتی مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ جن میں فینولک مرکبات اور صابونیات شامل ہیں۔ تحقیقی مطالعات میں چنے کے بعض اجزا میں ضدِ سوزش اور اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی دیکھی گئی ہے۔
آنتوں میں غذائی ریشہ مفید جراثیم کے ذریعے مختصر زنجیری چکنائی والے تیزاب پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جو بڑی آنت کے ماحول اور سوزش کے توازن کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
کچھ تحقیقی شواہد چنے کے استعمال کو بڑی آنت کے خلیوں کی حفاظت اور کینسر کے خطرے میں ممکنہ کمی سے بھی جوڑتے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے چنے کو سرطان سے بچاؤ کی یقینی غذا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
How to Use Chana Dal?
چنے کی دال کو عام طور پر سالن، دال، سوپ اور مختلف سبزیوں کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسے اناج کے ساتھ کھانے سے غذا میں پروٹین کے مختلف ذرائع شامل ہو جاتے ہیں۔
اگر دال کھانے سے پیٹ میں گیس یا اپھارہ ہوتا ہو تو ابتدا میں کم مقدار استعمال کریں۔ چنے کی دال کو دو سے چار گھنٹے بھگونے سے اس میں موجود بعض پیچیدہ شکر کی مقدار یا اثر کم کرنے اور پکنے کا وقت گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بھگونے کے بعد اسے صاف پانی سے دھو کر مناسب مقدار میں پانی کے ساتھ پکایا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہر شخص کی ہاضمے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے اپنی برداشت کے مطابق مقدار اختیار کرنا بہتر ہے۔
Conclusion on Chana Dal Benefits in Urdu
چنے کی دال ایک سستی، آسانی سے دستیاب اور غذائیت سے بھرپور غذا ہے۔ اس میں پروٹین، غذائی ریشہ، پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس، فولاد، میگنیشیم، فولیٹ، زنک، فاسفورس اور دیگر اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔
اس کے غذائی ریشے سے ہاضمے، آنتوں کے مفید جراثیم اور اجابت کی باقاعدگی کو سہارا مل سکتا ہے۔ جبکہ پروٹین اور ریشہ پیٹ بھرنے کا احساس بڑھا کر وزن کو قابو میں رکھنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اس کا نسبتاً کم غذائی درجہ خون میں شکر کے توازن کے لیے بھی مفید انتخاب بناتا ہے۔
چنے کی دال دل، ہڈیوں، پٹھوں اور مجموعی غذائی صحت کے لیے بھی اہم غذائی اجزا فراہم کرتی ہے۔ تاہم اسے کسی بیماری کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہترین فائدے کے لیے اسے متوازن غذا کا حصہ بنائیں۔ مناسب مقدار میں استعمال کریں۔ اور اگر کسی خاص غذا سے الرجی یا طبی مسئلہ ہو تو ماہرِ صحت سے مشورہ کریں۔
FAQs
Is chana dal good for digestion?
جی ہاں، چنے کی دال نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس میں غذائی ریشہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ غذائی ریشہ آنتوں میں خوراک کی حرکت کو بہتر بنانے اور اجابت کو باقاعدہ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ جس سے قبض کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ چنے میں موجود حل پذیر ریشہ آنتوں کے مفید جراثیم کے لیے خوراک کا کام بھی کرتا ہے۔
یہ جراثیم ایسے مرکبات پیدا کر سکتے ہیں۔ جو بڑی آنت کے ماحول اور آنتوں کی صحت کو سہارا دیتے ہیں۔ تاہم کچھ افراد میں چنے کی دال زیادہ مقدار میں کھانے سے گیس یا اپھارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ابتدا میں کم مقدار استعمال کرنا، دال اچھی طرح پکانا اور مناسب پانی پینا بہتر ہے۔
Can chana dal help with weight management?
چنے کی دال متوازن غذا کا حصہ بن کر وزن کو قابو میں رکھنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ اس میں پروٹین اور غذائی ریشہ دونوں موجود ہوتے ہیں۔ اور یہ دونوں اجزا کھانے کے بعد پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ جب انسان زیادہ دیر تک سیر محسوس کرتا ہے تو غیر ضروری کھانے اور بار بار کچھ کھانے کی خواہش کم ہو سکتی ہے۔
بعض مطالعات میں چنے اور دیگر دالوں کے باقاعدہ استعمال کو کم جسمانی وزن اور کمر کے نسبتاً کم گھیرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ تاہم صرف چنے کی دال کھانے سے وزن کم نہیں ہوتا۔ وزن کو صحت مند انداز میں قابو کرنے کے لیے مجموعی خوراک، مناسب جسمانی سرگرمی، نیند اور روزمرہ عادات بھی اہم ہیں۔
Is chana dal beneficial for blood sugar control?
چنے کی دال خون میں شکر کے توازن کے لیے ایک مفید غذائی انتخاب ہو سکتی ہے۔ چنوں کا غذائی درجہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں کھانے کے بعد خون میں شکر عموماً بہت تیزی سے نہیں بڑھتی۔ اس میں موجود غذائی ریشہ کاربوہائیڈریٹس کے ہضم اور جذب ہونے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جبکہ پروٹین بھی خون میں شکر کے نسبتاً متوازن اضافے میں معاون ہو سکتا ہے۔
ایک چھوٹے مطالعے میں چنے کھانے سے سفید ڈبل روٹی کے مقابلے میں کھانے کے بعد خون میں شکر کے اضافے میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے باوجود ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی مجموعی غذا اور دوا کے بارے میں ماہرِ صحت کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ اور چنے کی دال کو علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
Does chana dal provide enough protein?
چنے کی دال پودوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کا اچھا ذریعہ ہے۔ اور خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو گوشت یا جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں کم استعمال کرتے ہیں۔ ایک کپ، تقریباً 164 گرام، پکے ہوئے چنوں میں تقریباً 14.5 گرام پروٹین پایا جاتا ہے۔ پروٹین پٹھوں کی مضبوطی، جسمانی نشوونما، ہڈیوں کی صحت اور پیٹ بھرنے کے احساس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم چنے کا پروٹین مکمل پروٹین نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ اس میں میتھیونین نامی ضروری امینو تیزاب کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اس لیے چنے کی دال کو چاول یا کسی مناسب ثابت اناج کے ساتھ کھانے سے مختلف ضروری امینو تیزاب حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
Can chana dal help prevent iron deficiency?
چنے کی دال فولاد کا اچھا نباتاتی ذریعہ ہے۔ اور فولاد کی غذائی ضرورت پوری کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ فولاد جسم میں سرخ خون کے خلیوں کی تیاری، جسمانی نشوونما، دماغی نشوونما اور پٹھوں کے معمول کے کام کے لیے ضروری ہے۔ غذا میں فولاد کی کمی سے کمزوری، تھکن اور سانس پھولنے جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
چنے اور چنے کی دال سبزی خور افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان کی غذا میں جانوروں سے حاصل ہونے والا فولاد کم یا موجود نہیں ہوتا۔ نباتاتی غذا میں موجود فولاد کے جذب کو بہتر بنانے کے لیے چنے کی دال کے ساتھ وٹامن ج سے بھرپور غذائیں، جیسے لیموں یا شملہ مرچ، استعمال کی جا سکتی ہیں۔
Is chana dal good for heart health?
چنے کی دال میں موجود غذائی ریشہ، پوٹاشیم اور میگنیشیم دل کی صحت کے لیے مفید غذائی خصوصیات رکھتے ہیں۔ پوٹاشیم اور میگنیشیم دورانِ خون اور جسم کے معمول کے افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ مناسب غذائی ریشہ خون میں بعض نقصان دہ چکنائیوں کی مقدار کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ تحقیقی جائزوں میں دالوں کے باقاعدہ استعمال اور کم کثافت والے نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا ہے۔
چنے کی دال میں موجود ریشہ خون کی چکنائیوں اور مجموعی غذائی معیار پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم دل کی بیماری سے بچاؤ یا علاج کے لیے صرف چنے کی دال کافی نہیں۔ کم نمک والی متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور دیگر صحت مند عادات بھی ضروری ہیں۔
Can chana dal improve gut health?
چنے کی دال آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس میں غذائی ریشہ موجود ہوتا ہے۔ اس ریشے کا ایک حصہ آنتوں کے مفید جراثیم کے لیے خوراک کا کام کرتا ہے۔ جب یہ جراثیم ریشے کو خمیر کرتے ہیں۔ تو مختصر زنجیری چکنائی والے تیزاب پیدا ہو سکتے ہیں۔ جن میں بیوٹیریٹ بھی شامل ہے۔
یہ مرکبات بڑی آنت کے خلیوں کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ اور آنتوں کے ماحول کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ غذائی ریشہ اجابت کی باقاعدگی اور فضلے کی مناسب ساخت میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ تاہم جن افراد کا معدہ حساس ہو، انہیں زیادہ مقدار میں چنے کی دال کھانے سے گیس یا اپھارہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے مقدار بتدریج بڑھانا بہتر ہے۔
How should chana dal be prepared for better digestion?
چنے کی دال کو بہتر ہاضمے کے لیے اچھی طرح دھو کر مناسب طریقے سے پکانا مفید رہتا ہے۔ اگرچہ چنے کی دال ثابت چنوں کی نسبت جلدی پک جاتی ہے۔ لیکن اسے کچھ وقت پانی میں بھگونے سے پکنے کا عمل مزید آسان ہو سکتا ہے۔ بھگونے کے بعد دال کو صاف پانی سے دھو کر تازہ پانی میں پکایا جا سکتا ہے۔
دالوں میں بعض قدرتی غذائی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ جن میں فائٹک تیزاب اور پروٹین کے ہضم میں رکاوٹ ڈالنے والے اجزا شامل ہیں۔ بھگونے اور پکانے جیسے طریقے ان میں کمی لانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اگر چنے کی دال کھانے سے گیس یا اپھارہ ہوتا ہو تو کم مقدار سے آغاز کریں اور اسے اچھی طرح نرم ہونے تک پکائیں۔
Are there any side effects of eating chana dal?
چنے کی دال عموماً متوازن غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ لیکن کچھ افراد میں اس کے استعمال سے گیس، اپھارہ یا پیٹ کی بے آرامی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اس وقت زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔ جب کوئی شخص پہلے بہت کم غذائی ریشہ استعمال کرتا رہا ہو اور اچانک زیادہ مقدار میں دال کھانے لگے۔
اس لیے مقدار بتدریج بڑھانا بہتر ہے۔ مناسب پانی پینا بھی مفید رہتا ہے۔ جن افراد کو چنے یا دالوں سے الرجی ہو۔ انہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر چنے کھانے کے بعد چہرے، ہونٹ یا زبان پر سوجن، سانس لینے میں دشواری یا پورے جسم پر چھتے جیسی شدید علامات ظاہر ہوں۔ تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔