Pay special attention to cyst.

Cyst Meaning in Urdu and Diagnosis Procedure

سسٹ جسم کے اندر یا جلد میں بننے والی ایک بند تھیلی یا ساخت کو کہتے ہیں۔ جس کے اندر مائع یا نیم ٹھوس مواد موجود ہو سکتا ہے۔ جلد میں بننے والے سسٹ عام بھی ہیں، لیکن ان کی اقسام اور وجوہات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض سسٹ جلد کے قدرتی غدود یا بالوں کی جڑوں سے بنتے ہیں۔ جبکہ کچھ پیدائشی یا جنینی باقیات سے وجود میں آتے ہیں۔

زیادہ تر جلدی سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ تاہم بہت کم صورتوں میں کسی عام نظر آنے والے سسٹ کے اندر سرطانی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے سسٹ کی درست شناخت کے لیے اس کی ظاہری شکل، جگہ، اندر موجود مواد اور ضرورت پڑنے پر بافتوں کے خوردبینی معائنے کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

Types of Cyst in Urdu

جلد میں بننے والے سسٹ کو بنیادی طور پر تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم جلد کے ساتھ موجود بالوں اور چکنائی بنانے والے نظام سے متعلق سسٹ ہیں۔ دوسری قسم پیدائشی یا نشوونمایاتی سسٹ ہیں جو جنینی باقیات سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ تیسری قسم مختلف دیگر وجوہات سے بننے والے سسٹ ہیں۔ جن میں بعض جراثیمی، طفیلی، لمفی یا بافتوں میں مواد جمع ہونے سے متعلق ہو سکتے ہیں۔

حقیقی سسٹ اور نام نہاد نقلی سسٹ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ حقیقی سسٹ کے اندر ایک باقاعدہ جھلی یا اپی تھی لیئل تہہ موجود ہوتی ہے۔ جبکہ نقلی سسٹ میں ایسی جھلی موجود نہیں ہوتی۔ تشخیص کے دوران اس فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے۔

Epidermal Inclusion Cysts

ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ جلد کے عام سسٹوں میں شامل ہے۔ یہ عموماً بالوں کی جڑ کے اوپری حصے سے مشابہ ساخت یا جلد کے کسی حصے کے اندر چلے جانے کے نتیجے میں بن سکتا ہے۔ یہ مردوں میں نسبتاً زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اور عام طور پر آہستہ آہستہ بڑھنے والی گانٹھ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ سسٹ عموماً سر اور گردن، دھڑ، بازوؤں اور بعض اوقات جنسی اعضا کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس کا حجم تقریباً ایک سے چار سینٹی میٹر تک ہو سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں اس کے اوپر جلد پر ایک چھوٹا سا سوراخ بھی دکھائی دیتا ہے۔

اگر سسٹ پھٹ جائے، اس میں جراثیمی انفیکشن ہو جائے یا اسے بار بار چھیڑا جائے تو اس کا حجم تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ سرخی، درد اور پیپ جیسا مواد خارج ہونے کی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

اس قسم کے سسٹ کی بعض صورتیں موروثی بیماریوں کے ساتھ بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ متعدد ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ بعض موروثی جلدی بیماریوں کے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی شخص میں غیر معمولی تعداد میں ایسے سسٹ موجود ہوں تو مکمل طبی جائزہ اہم ہو سکتا ہے۔

یہاں پر آپ ہیموریجک سسٹ کے متعلق پڑھ سکتے ہیں۔

Milia

ملیا جلد میں بننے والی چھوٹی سسٹ نما ساختیں ہیں۔ یہ بالوں اور چکنائی بنانے والے نظام یا پسینے کے غدود کی نالی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ نومولود بچوں میں یہ سر اور گردن پر قدرتی طور پر بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

بڑی عمر میں ملیا بعض اوقات جلد کو رگڑنے یا جلدی علاج کے بعد، مخصوص جلدی ادویات کے استعمال، شعاعی علاج یا بعض جلدی اور سوزشی بیماریوں کے بعد پیدا ہو سکتی ہیں۔

خوردبینی معائنے میں ملیا ایک چھوٹے ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ جیسی دکھائی دے سکتی ہے۔ جس کے اندر کیراٹن موجود ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں اس کا تعلق باریک بالوں یا پسینے کے غدود کی نالی سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Comedonal Cysts

کامیڈون کو اکثر ملیا سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں میں فرق موجود ہے۔ کامیڈون دراصل بالوں اور چکنائی بنانے والے مسام کے پھیل جانے اور اس میں کیراٹن جمع ہونے سے بنتا ہے۔

بند کامیڈون سفید نقطے کی طرح جبکہ کھلے کامیڈون سیاہ نقطے کی طرح نظر آ سکتے ہیں۔ کھلے کامیڈون کا گہرا رنگ کسی بیرونی گندگی کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ کھلے مواد میں موجود رنگ دار مادے کے آکسیڈائز ہونے سے متعلق ہوتا ہے۔

ایک سے زیادہ بند کامیڈون بعض مخصوص جلدی بیماریوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس لیے متعدد یا غیر معمولی کامیڈون کی صورت میں صرف ظاہری شکل پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

Vellus Hair Cysts

ویلَس ہیئر سسٹ باریک اور نرم بالوں کی جڑ کے اوپری حصے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً چھوٹی چھوٹی جلد کے رنگ کی یا قدرے گہری رنگت والی گانٹھوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اور کئی بار ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ زیادہ تر نوجوان افراد اور بچوں میں دھڑ، سینے یا بغلوں کے علاقے میں دیکھے جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں یہ موروثی طور پر بھی پائے جا سکتے ہیں۔

خوردبینی معائنے میں ان کی دیوار نسبتاً پتلی ہوتی ہے۔ اور اندر کیراٹن کے ساتھ چھوٹے، باریک اور ہلکے رنگ کے بال موجود ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ان کا اوپر والی جلد سے تعلق بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Pilar Cysts

پائلر سسٹ بالوں کی جڑ کے بیرونی حصے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بالغ خواتین کی سر کی جلد پر گانٹھ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں بعض اوقات سسٹ کی پوری جھلی کے ساتھ اسے نکالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

زیادہ تر پائلر سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض غیر معمولی صورتوں میں ان کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو زیادہ سنگین نوعیت کی ہوں۔ خاص طور پر بڑھنے والے پائلر سسٹ میں خوردبینی معائنہ اہم ہو جاتا ہے۔

ان سسٹوں کی ایک قسم میں خلیوں کی غیر معمولی افزائش ہو سکتی ہے۔ اگر غیر معمولی خلیاتی تبدیلی، اندرونی حملہ آور بڑھوتری، غیر معمولی خلیاتی تقسیم یا بافتوں کے مرنے کے نمایاں حصے موجود ہوں تو اس میں بدخیم رویے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

Steatocystoma

اسٹیٹو سسٹومہ چکنائی بنانے والے غدود کی نالی سے پیدا ہونے والا سسٹ ہے۔ یہ ایک سسٹ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور متعدد سسٹوں کی شکل میں بھی۔

یہ عموماً سینے، دھڑ، بغلوں، چہرے یا جنسی اعضا کے بالوں والے حصوں میں جلد کے رنگ یا زرد رنگ کی چھوٹی گانٹھوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان میں عام طور پر اوپر کی جلد پر نمایاں سوراخ نہیں ہوتا۔

اگر یہ سسٹ پھٹ جائے تو اس سے روغنی یا چکنا مائع خارج ہو سکتا ہے۔ پھٹنے کے بعد بعض صورتوں میں انفیکشن بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ متعدد اسٹیٹو سسٹومہ بعض موروثی بیماریوں کے ساتھ وابستہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے متعدد سسٹوں کی موجودگی میں طبی پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Hidrocystomas

پسینے کے غدود سے متعلق سسٹ کو ہائیڈرو سسٹومہ کہا جاتا ہے۔ یہ پسینے کے غدود یا چکنائی والے غدود کی مخصوص ساختوں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ سادہ سسٹ کے بجائے رسولی نما ساخت تصور کیے جاتے ہیں۔

پسینے کے غدود سے متعلق یہ ساختیں عموماً گالوں یا آنکھوں کے گرد نمودار ہو سکتی ہیں۔ اور گرم ماحول یا زیادہ پسینہ آنے کے دوران زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔

ان کی درست شناخت صرف ظاہری شکل سے ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ خوردبینی معائنہ، سسٹ کی جھلی اور غدود سے تعلق کو دیکھنا تشخیص میں مدد دیتا ہے۔

Developmental Cysts

کچھ سسٹ پیدائش کے وقت موجود ہوتے ہیں۔ یا جنینی نشوونما کے دوران بننے والی باقیات سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں نشوونمایاتی سسٹ کہا جاتا ہے۔

Dermoid Cysts

ڈرموئڈ سسٹ پیدائشی سسٹ ہے۔ جو جنینی نشوونما کے دوران جلد بنانے والے بیرونی بافتوں کے پھنس جانے سے وجود میں آ سکتا ہے۔ یہ اکثر بھنویں کے بیرونی حصے کے قریب بغیر درد کی گانٹھ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

بعض اوقات اس کی تشخیص بچپن کے بجائے بعد کے زمانے میں ہوتی ہے۔ ناک کی جڑ، پیشانی کے درمیان اور سر کی جلد پر بھی یہ سسٹ پائے جا سکتے ہیں۔

خوردبینی معائنے میں اس کی اندرونی تہہ جلد جیسی تہہ سے بنی ہوتی ہے۔ اور اس کے اندر کیراٹن موجود ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں بالوں کی جڑیں، چکنائی والے غدود، پسینے کے غدود اور چھوٹے عضلاتی اجزا بھی اس کے اندر یا اس کی دیوار کے قریب موجود ہوتے ہیں۔

Bronchogenic Cysts

برونکو جینک سسٹ جنینی دور میں سانس کی نالی بنانے والے بافتوں کی باقیات سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ اکثر پیدائش کے فوراً بعد سامنے آ سکتا ہے۔ اور سینے کے اوپری حصے کے درمیانی مقام، گردن، کمر یا ٹھوڑی کے قریب سسٹ نما گانٹھ کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

خوردبینی معائنے میں اس کے اندر سانس کی نالی جیسی جھلی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس میں بعض مخصوص مخاطی خلیات، غدودی بافت اور ہموار عضلات بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

Branchial Cleft Cysts

برانکیئل کلیفٹ سسٹ عموماً گردن کے اطراف میں پایا جاتا ہے۔ اور بچپن یا جوانی کے ابتدائی دور میں سامنے آ سکتا ہے۔ یہ کان کے سامنے، جبڑے کے ساتھ یا گردن کے ایک مخصوص پٹھے کے سامنے والے حصے کے قریب نمودار ہو سکتا ہے۔

اس کی اندرونی تہہ جلد جیسی یا ستونی خلیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ جبکہ اس میں لمفی بافت اور کولیسٹرول سے بھرپور گاڑھا مواد بھی موجود ہو سکتا ہے۔

Thyroglossal Duct Cysts

یہ سسٹ جنینی دور میں تھائیرائڈ غدود کی اپنی جگہ کی طرف منتقلی کے دوران باقی رہ جانے والی نالی کے حصے سے بن سکتا ہے۔ عموماً گردن کے اگلے حصے کے درمیان ایک گانٹھ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ نگلنے یا زبان باہر نکالنے کے دوران یہ گانٹھ حرکت کر سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر بچوں اور نوجوان بالغ افراد میں دیکھی جاتی ہے۔

Miscellaneous Cysts

جلد میں کچھ ایسے سسٹ بھی پائے جاتے ہیں۔ جو بالوں یا غدود سے براہ راست متعلق نہیں ہوتے۔ ان میں گردن کے تھائیمس غدود سے متعلق سسٹ، جلدی مژگانی سسٹ، درمیانی نالی کے سسٹ، خواتین کے مخصوص علاقوں میں مخاطی اور مژگانی سسٹ، اور ناف کے قریب بننے والے سسٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بعض سسٹ طفیلی جراثیم، پھپھوندی، لمفی نظام، چپچپے مادے کے جمع ہونے، چوٹ کے بعد جوڑ یا بافتوں میں تبدیلی، یا خواتین میں رحم کی اندرونی جھلی جیسے بافت کے جلد میں موجود ہونے کی وجہ سے بھی بن سکتے ہیں۔

Diagnosis of Cyst in Urdu

سسٹ کی درست تشخیص کے لیے صرف اس کی ظاہری شکل دیکھنا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔ ماہر معالج سسٹ کی جگہ، سائز، بڑھنے کی رفتار، جلد کے ساتھ تعلق اور اس کے اندر موجود مواد کو دیکھتا ہے۔

اگر سسٹ نکالنے کے بعد بافتی نمونے کا معائنہ کیا جائے تو اس کی اندرونی تہہ اور مواد تشخیص کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بعض صورتوں میں سوزش، پھوڑے جیسی تبدیلی، دانے دار بافت، جسم کے ردعمل سے بننے والی ساخت یا جلد میں ریشے دار تبدیلی بھی تشخیص میں مدد دیتی ہے۔

بعض پیچیدہ صورتوں میں مریض کی عمر، سسٹ کی جگہ، طبی علامات اور مخصوص اضافی بافتی معائنوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہی جامع طریقہ مختلف سسٹوں میں درست فرق کرنے میں مدد دیتا ہے۔

Is Cyst Dangerous?

زیادہ تر جلدی سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ اور ان میں خطرناک تبدیلی نہیں ہوتی۔ تاہم بہت کم صورتوں میں عام دکھائی دینے والے سسٹ میں بدخیم تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے ایسے سسٹ جو تیزی سے بڑھ رہے ہوں۔ غیر معمولی شکل اختیار کر رہے ہوں۔ بار بار پھٹتے ہوں یا جن میں واضح غیر معمولی بافتی تبدیلی کا شبہ ہو۔ ان کا مناسب طبی جائزہ ضروری ہے۔ خاص طور پر غیر معمولی پائلر سسٹ اور بڑھنے والے بعض سسٹوں میں محتاط تشخیص اہمیت رکھتی ہے۔

کچھ مخصوص سسٹ محض جلد کا الگ مسئلہ نہیں ہوتے۔ بلکہ کسی موروثی یا سوزشی بیماری کی علامت بھی بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر متعدد مخصوص سسٹ بعض موروثی جلدی بیماریوں کے ساتھ وابستہ پائے گئے ہیں۔

اس لیے اگر کسی شخص میں غیر معمولی جگہوں پر متعدد سسٹ ہوں۔ خاندان میں اسی طرح کی شکایات موجود ہوں۔ یا سسٹ کے ساتھ دوسری غیر معمولی جلدی علامات بھی ہوں تو معالج کو مکمل طبی پس منظر سے آگاہ کرنا چاہیے۔

یہ پہلو خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ بعض جلدی ساختیں کسی اندرونی یا موروثی بیماری کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔

Last Word on Cyst Meaning in Urdu

سسٹ جلد میں بننے والی ایک عام مگر مختلف اقسام رکھنے والی ساخت ہے۔ اس میں مائع یا نیم ٹھوس مواد موجود ہو سکتا ہے۔ اور اس کی اندرونی تہہ کی نوعیت اس کی شناخت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

سسٹ کی عام اقسام میں ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ، ملیا، کامیڈون، ویلَس ہیئر سسٹ، پائلر سسٹ اور اسٹیٹو سسٹومہ شامل ہیں، جبکہ ڈرموئڈ، برونکو جینک اور گردن کے بعض پیدائشی سسٹ جنینی باقیات سے بن سکتے ہیں۔

زیادہ تر سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض غیر معمولی صورتوں میں سنگین تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے سسٹ کی درست شناخت کے لیے اس کی طبی کیفیت، جگہ، اندرونی مواد اور ضرورت پڑنے پر بافتی معائنے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ درست تشخیص نہ صرف سسٹ کی نوعیت واضح کرتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں موروثی یا سوزشی بیماری کی نشاندہی میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

FAQs

What is a cyst in Urdu?

سسٹ جسم کے اندر یا جلد میں بننے والی ایک بند تھیلی نما ساخت ہوتی ہے۔ جس کے اندر مائع یا نیم ٹھوس مواد موجود ہو سکتا ہے۔ جلد میں بننے والے سسٹ مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ بعض سسٹ بالوں کی جڑوں، چکنائی بنانے والے غدود یا پسینے کے غدود سے بنتے ہیں۔ جبکہ کچھ جنینی باقیات کی وجہ سے پیدائشی طور پر موجود ہو سکتے ہیں۔

زیادہ تر جلدی سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔ تاہم بعض سسٹ پھٹنے، زخمی ہونے یا جراثیمی انفیکشن کی وجہ سے درد، سرخی اور مواد کے اخراج کا باعث بن سکتے ہیں۔ درست تشخیص کے لیے سسٹ کی ظاہری شکل، مقام، اندرونی مواد اور ضرورت پڑنے پر بافتی معائنے کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

What are the common types of cysts?

جلد میں پائے جانے والے سسٹ کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔ اور ہر قسم کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں۔ عام اقسام میں ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ، ملیا، کامیڈون سسٹ، ویلَس ہیئر سسٹ، پائلر سسٹ اور اسٹیٹو سسٹومہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرموئڈ سسٹ، برونکو جینک سسٹ، برانکیئل کلیفٹ سسٹ اور تھائروگلوسل ڈکٹ سسٹ بھی پائے جاتے ہیں۔

کچھ سسٹ پسینے یا چکنائی بنانے والے غدود سے متعلق ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض جنینی باقیات سے وجود میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ طفیلی جراثیم، پھپھوندی، لمفی نظام، چپچپے مادے کے جمع ہونے یا مخصوص بافتی تبدیلیوں سے متعلق کم عام سسٹ بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ ہر سسٹ کی درست شناخت اس کی جگہ، ساخت، اندرونی مواد اور بافتی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

Are cysts dangerous?

زیادہ تر جلدی سسٹ خطرناک نہیں ہوتے اور ان میں سرطانی تبدیلی نہیں پائی جاتی۔ بہت سے سسٹ طویل عرصے تک آہستہ آہستہ بڑھتے رہتے ہیں۔ اور صرف ایک گانٹھ یا ابھار کی صورت میں موجود رہ سکتے ہیں۔ تاہم ہر سسٹ کو صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر مکمل طور پر بے ضرر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بہت کم صورتوں میں کسی عام سسٹ کے اندر بدخیم تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح سسٹ پھٹنے یا اس میں جراثیمی انفیکشن ہونے سے درد، سرخی، سوجن اور پیپ جیسے مواد کا اخراج ہو سکتا ہے۔ اگر سسٹ تیزی سے بڑھ رہا ہو۔ اس کی شکل غیر معمولی ہو۔ یا اس میں بار بار تبدیلیاں آ رہی ہوں تو طبی معائنہ ضروری ہے۔ اس طرح سسٹ کی اصل نوعیت معلوم کرکے مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

Can a cyst become infected?

جی ہاں، بعض جلدی سسٹ جراثیمی انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ پھٹ جائیں، زخمی ہوں یا بار بار چھیڑے جائیں۔ ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ کے پھٹنے یا متاثر ہونے کی صورت میں سسٹ تیزی سے بڑا ہو سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ سرخی، درد اور پیپ جیسے مواد کا اخراج بھی ہو سکتا ہے۔ بعض حالات میں انفیکشن کے ساتھ سوزش اور پھوڑے جیسی تبدیلیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

بعض مخصوص مقامات پر موجود سسٹوں کے انفیکشن میں مختلف جراثیم شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے متاثرہ سسٹ کو خود سے دبانا، پھوڑنا یا بار بار چھیڑنا مناسب نہیں۔ درد، سرخی، سوجن یا مواد کے اخراج کی صورت میں معالج سے مناسب تشخیص اور علاج کروانا چاہیے۔ تاکہ انفیکشن کے پھیلنے یا مزید پیچیدگی پیدا ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

What causes epidermal inclusion cysts?

ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ بالوں کی جڑ کے اوپری حصے سے مشابہ ساخت سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ یا جلد کے بیرونی خلیوں کے جلد کے اندر پھنس جانے کے نتیجے میں بن سکتے ہیں۔ یہ عموماً جلد کے اندر آہستہ آہستہ بڑھنے والی گانٹھ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کیراٹن جمع ہوتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ سسٹ کا حجم بڑھ سکتا ہے۔

یہ سسٹ سر، گردن، دھڑ، بازوؤں اور بعض اوقات جنسی اعضا کے علاقے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض افراد میں سسٹ کے اوپر جلد پر ایک چھوٹا سا سوراخ موجود ہوتا ہے۔ اگر سسٹ پھٹ جائے یا اس میں انفیکشن پیدا ہو جائے تو اچانک سوجن، سرخی، درد اور مواد کے اخراج جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں متعدد سسٹ موروثی بیماریوں کے ساتھ بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔

What is the difference between milia and comedones?

ملیا اور کامیڈون دونوں جلد پر چھوٹی ساختوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ملیا جلد کے اندر بننے والے چھوٹے سسٹ ہیں جو بالوں اور چکنائی بنانے والے نظام یا پسینے کے غدود کی نالی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے اندر عموماً کیراٹن موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کامیڈون بالوں اور چکنائی بنانے والے مسام کے پھیلنے اور اس میں کیراٹن جمع ہونے سے بنتے ہیں۔

بند کامیڈون سفید نقطے کی طرح جبکہ کھلے کامیڈون سیاہ نقطے کی شکل میں نظر آ سکتے ہیں۔ کھلے کامیڈون کا گہرا رنگ بیرونی گندگی کی وجہ سے نہیں بلکہ اندر موجود مواد کے آکسیڈائز ہونے سے متعلق ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں کو صرف ظاہری مشابہت کی وجہ سے ایک ہی بیماری سمجھنا درست نہیں۔

What is a pilar cyst?

پائلر سسٹ بالوں کی جڑ کے بیرونی حصے سے پیدا ہونے والا سسٹ ہے۔ یہ عموماً بالغ خواتین کی سر کی جلد پر گانٹھ کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ عام پائلر سسٹ زیادہ تر غیر سرطانی ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات اس کی پوری جھلی کے ساتھ اسے نکالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ تاہم اس کی کچھ غیر معمولی اقسام زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

بڑھنے والا پائلر سسٹ ایسی صورت ہے جس میں خلیوں کی افزائش نمایاں ہو سکتی ہے۔ اور بعض غیر معمولی حالات میں یہ زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ اگر خلیاتی غیر معمولیت بہت زیادہ ہو، غیر معمولی خلیاتی تقسیم، بافتوں کے مرنے کے حصے یا اردگرد کے بافتوں میں حملہ آور بڑھوتری موجود ہو تو بدخیم تبدیلی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں محتاط بافتی تشخیص ضروری ہوتی ہے تاکہ سسٹ کی اصل نوعیت واضح ہو سکے۔

What is a dermoid cyst?

ڈرموئڈ سسٹ ایک پیدائشی سسٹ ہے۔ جو جنینی نشوونما کے دوران سطحی جلد بنانے والے بافتوں کے مخصوص مقامات پر پھنس جانے کے نتیجے میں بن سکتا ہے۔ یہ عموماً بھنویں کے بیرونی حصے کے قریب بغیر درد کی گانٹھ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگرچہ ناک کی جڑ، پیشانی کے درمیانی حصے اور سر کی جلد پر بھی پایا جا سکتا ہے۔

بعض افراد میں یہ پیدائش سے موجود ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ میں اس کی تشخیص بچپن یا جوانی کے بعد ہوتی ہے۔ اس سسٹ کے اندر جلد سے مشابہ بافت، کیراٹن اور بعض اوقات بالوں کی جڑیں، چکنائی بنانے والے غدود اور پسینے کے غدود بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ اس کی پیدائشی نوعیت اور مخصوص مقام اسے دوسرے جلدی سسٹوں سے مختلف بناتے ہیں۔ درست شناخت کے لیے طبی اور بافتی معائنہ اہم ہو سکتا ہے۔

Can cysts be associated with genetic diseases?

جی ہاں، بعض مخصوص سسٹ موروثی بیماریوں یا جلد کی سوزشی بیماریوں کے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر متعدد ایپی ڈرمل انکلوژن سسٹ بعض موروثی جلدی بیماریوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ملیا، ویلَس ہیئر سسٹ اور اسٹیٹو سسٹومہ بھی مخصوص موروثی بیماریوں یا جینیاتی کیفیتوں کے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم صرف سسٹ کی موجودگی سے کسی موروثی بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔

اس کے لیے مریض کی عمر، سسٹوں کی تعداد، جسم پر ان کی جگہ، خاندانی طبی تاریخ اور ساتھ موجود دوسری علامات کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص میں متعدد غیر معمولی سسٹ موجود ہوں تو معالج کو مکمل طبی معلومات فراہم کرنا اہم ہے۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید تحقیق کی جا سکے۔ اور کسی ممکنہ موروثی کیفیت کو بروقت سمجھا جا سکے۔

How are cysts diagnosed?

سسٹ کی تشخیص کے لیے سب سے پہلے اس کی طبی خصوصیات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ معالج سسٹ کی جگہ، حجم، ظاہری شکل، بڑھنے کی رفتار اور جلد کے ساتھ اس کے تعلق کو دیکھتا ہے۔ بعض سسٹوں کی شناخت ان کی مخصوص ظاہری علامات سے ممکن ہو جاتی ہے۔ جبکہ پیچیدہ یا غیر معمولی صورتوں میں بافتی معائنہ زیادہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔

سسٹ کے اندر موجود جھلی اور مواد کو خوردبین کے ذریعے دیکھنے سے مختلف اقسام کے درمیان فرق کیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں سوزش، پھوڑے جیسی تبدیلی، جسم کے دفاعی ردعمل سے بننے والی ساخت یا ریشے دار تبدیلی بھی تشخیص میں مدد دیتی ہے۔ مخصوص حالات میں مریض کی طبی کیفیت اور سسٹ کی جگہ کے ساتھ اضافی بافتی معائنے بھی درست تشخیص کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد سسٹ کی صحیح نوعیت معلوم کرنا ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts