نیکروسس جسم کے خلیوں یا بافتوں کے غیر معمولی اور ناقابلِ واپسی طور پر مرنے کی طبی حالت ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہو سکتی ہے۔ جب جسم کے کسی حصے کے خلیوں کو شدید چوٹ، خون کی کمی، آکسیجن کی کمی، انفیکشن، بیماری، زہریلے مادوں یا دیگر نقصان دہ عوامل کا سامنا ہو۔
عام طور پر مردہ خلیے دوبارہ صحت مند نہیں ہو سکتے۔ اس لیے نیکروسس کی صورت میں صرف مردہ بافتے کو ہٹانا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس بنیادی وجہ کا علاج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے خلیوں کو نقصان پہنچا۔
نیکروسس جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ ہڈیوں، جلد، گردوں، لبلبے، چھاتی کے چربی والے بافتوں، دماغ، دانت اور خون کی نالیوں سمیت کئی حصوں میں ہو سکتی ہے۔ اس کی شدت اور علاج اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ نیکروسس کہاں پیدا ہوئی ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔
Causes of Necrosis in Urdu
خلیوں کو نقصان پہنچانے والی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ جسم کے کسی حصے تک مناسب خون اور آکسیجن کا نہ پہنچنا ہے۔ خون کی روانی میں رکاوٹ، شدید صدمہ یا بعض بیماریوں کے نتیجے میں خلیوں کو ضروری آکسیجن نہیں ملتی۔ اور وہ مرنا شروع ہو سکتے ہیں۔
نیکروسس کی اہم وجوہات میں درج ذیل شامل ہیں۔
Oxygen Deficiency
خلیوں کو توانائی پیدا کرنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب خون کی روانی کم ہو جائے، شدید صدمے کی وجہ سے خون کا دباؤ بہت گر جائے یا سانس کی شدید خرابی پیدا ہو جائے۔ تو جسم کے بعض حصوں تک آکسیجن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں خلیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Body Injury
شدید چوٹ، درجہ حرارت کی انتہائی شدت، تابکاری یا بجلی کے جھٹکے جیسے عوامل خلیوں کو براہِ راست نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر نقصان بہت زیادہ ہو۔ تو متاثرہ خلیے ناقابلِ واپسی طور پر مر سکتے ہیں۔
Chemicals
کچھ زہریلے مادے، کام کی جگہ پر بعض کیمیائی اشیا سے واسطہ، بعض ادویات کی زہریلی مقدار اور نشہ آور اشیا خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ شدید نقصان کی صورت میں یہ عمل نیکروسس کا سبب بن سکتا ہے۔
Bacterial Infections
بیکٹیریا، وائرس اور فنگس سمیت مختلف جراثیم خلیوں اور بافتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بعض انفیکشن میں مردہ خلیوں اور جراثیمی مواد کے جمع ہونے سے پیپ بھی بن سکتی ہے۔
Immune Response
بعض خودکار مدافعتی بیماریوں میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی بافتوں یا خون کی نالیوں کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ اس طرح پیدا ہونے والا نقصان بعض صورتوں میں نیکروسس کا باعث بن سکتا ہے۔
Necrosis and Cells
نیکروسس کے دوران خلیے کی بیرونی جھلی اپنی مضبوطی اور سالمیت کھونے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیرونی مادے خلیے کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ اور پانی کے جمع ہونے سے خلیہ اور اس کے اندر موجود ساختیں پھولنے لگتی ہیں۔
خلیے کے اندر موجود مخصوص چھوٹی ساختوں کی جھلیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان ساختوں سے ایسے خامرے خارج ہو سکتے ہیں۔ جو خلیے کے پروٹین، جینیاتی مادے اور دیگر اجزا کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
توانائی کی کمی بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آکسیجن کی کمی یا بعض کیمیائی نقصانات کے نتیجے میں خلیہ مناسب مقدار میں توانائی پیدا نہیں کر پاتا۔ اس سے خلیے کا نمکیات اور پانی کو متوازن رکھنے والا نظام متاثر ہوتا ہے۔ کیلشیم کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ خلیے کے اندر مزید نقصان دہ تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
آخرکار خلیے کی جھلی پھٹ سکتی ہے۔ اور اس کے اندر موجود مواد اردگرد کے بافتوں میں خارج ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیکروسس اکثر سوزش کے ردِعمل سے وابستہ ہوتی ہے۔
Necrosis and Swelling
مردہ خلیوں سے مختلف ایسے مادے خارج ہوتے ہیں۔ جو جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سوزش پیدا ہوتی ہے اور اردگرد کے بافتوں میں بھی ردِعمل شروع ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے نیکروسس صرف خلیے کی موت تک محدود نہیں رہتی۔ بلکہ متاثرہ جگہ کے اردگرد سوزش اور بافتوں کے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
Types of Necrosis in Urdu
نیکروسس مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ خلیوں کی ظاہری شکل اور نقصان کی نوعیت کے مطابق اس کی کئی اقسام بیان کی جاتی ہیں۔
Coagulative Necrosis
اس قسم میں خلیوں کی بنیادی ساخت کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ حالانکہ خلیے مر چکے ہوتے ہیں۔ عام طور پر جسم کے زیادہ تر اعضا میں خون کی فراہمی رکنے سے یہ قسم پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن دماغ اس سے مستثنیٰ ہے۔
خلیے خوردبین کے نیچے بے مرکز اور گلابی رنگ کے دکھائی دے سکتے ہیں۔ جبکہ ان کی بنیادی ساخت کچھ وقت تک محفوظ رہتی ہے۔
Liquefactive Necrosis
اس صورت میں مردہ خلیے خامروں کے ذریعے ٹوٹ کر گاڑھے مائع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ قسم خاص طور پر دماغ میں دیکھی جاتی ہے۔ بعض بیکٹیریائی انفیکشن میں بھی مردہ مواد جمع ہو کر پیپ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
Fat Necrosis
چربی کے خلیوں کے مرنے کے بعد ان سے خارج ہونے والے خامرے چربی کو توڑ سکتے ہیں۔ یہ کیفیت خاص طور پر شدید لبلبے کی سوزش میں پیدا ہو سکتی ہے۔
ٹوٹنے والی چربی کیلشیم کے ساتھ مل کر سفید اور چاک جیسے ذخائر بنا سکتی ہے۔ اس عمل کو صابونی بننے کا عمل بھی کہا جاتا ہے۔ چھاتی کے چربی والے بافتوں میں چوٹ کے بعد بھی چربی کی نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔
Caseous Necrosis
اس قسم میں مردہ بافتہ سفید اور نرم دکھائی دے سکتا ہے۔ اور اس کی شکل پنیر جیسی محسوس ہوتی ہے۔ یہ کیفیت خاص طور پر تپِ دق کے انفیکشن میں دیکھی جاتی ہے۔
Fibrinoid Necrosis
یہ قسم خون کی نالیوں کی دیواروں میں پیدا ہونے والے نقصان سے وابستہ ہے۔ بعض مدافعتی ردِعمل میں خون کی نالیوں کی دیواروں کو نقصان پہنچنے کے بعد خون کے پروٹین اور ریشے دار مادے وہاں جمع ہو سکتے ہیں۔
خوردبینی معائنے میں متاثرہ حصہ نمایاں گلابی اور بے ساختہ مادے کی شکل میں نظر آ سکتا ہے۔
Gangrenous Necrosis
گینگرین دراصل ٹانگوں یا جسم کے دوسرے حصوں میں خون کی شدید کمی سے پیدا ہونے والی نیکروسس کے لیے استعمال ہونے والی طبی اصطلاح ہے۔ خشک گینگرین میں خون کی کمی کے نتیجے میں جم جانے والی نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔ جبکہ گیلی گینگرین میں جراثیمی انفیکشن بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اور بافتہ مائع شکل اختیار کر سکتا ہے۔
Types of Necrosis
نیکروسس صرف ایک خاص عضو تک محدود نہیں۔ اس کی مختلف طبی صورتیں جسم کے مختلف حصوں میں سامنے آ سکتی ہیں۔
Osteonecrosis
جب ہڈی تک خون کی فراہمی متاثر ہو جائے تو ہڈی کے خلیے مرنے لگ سکتے ہیں۔ اسے ہڈی کی نیکروسس یا خون کی کمی سے ہونے والی ہڈی کی موت کہا جاتا ہے۔ کولہے کی ہڈی اس کیفیت سے متاثر ہونے والی عام جگہوں میں شامل ہے۔
Osteonecrosis of the Jaw
جبڑے کی ہڈی کے خلیوں کے مرنے سے جبڑے کی نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔ اس میں منہ اور جبڑے میں شدید درد، متاثرہ حصے سے پیپ کا اخراج اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
Pancreatic Necrosis
شدید لبلبے کی سوزش کی ایک سنگین پیچیدگی لبلبے کے بافتوں کی نیکروسس ہے۔ جب لبلبے کے کسی حصے کو مناسب خون نہ ملے تو اس کے بافتے مر سکتے ہیں۔ مردہ بافتے میں انفیکشن بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اور انفیکشن خون میں پھیل کر خون میں شدید جراثیمی ردِعمل اور اعضا کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔
Fat Necrosis of the Breast
چھاتی کے چربی والے بافتے کو نقصان پہنچنے کے بعد بعض چربی کے خلیے مر سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں جسم ان کی جگہ داغ کا بافتہ بنانے کے بجائے چربی والے مائع کی ایک تھیلی بنا دیتا ہے۔ جسے روغنی سسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت سرطان نہیں ہوتی۔
Acute Tubular Necrosis
گردے کی باریک نالیوں کے خلیوں کو نقصان پہنچنے سے شدید گردوں کی ناکامی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کیفیت کو شدید نالی دار نیکروسس کہا جاتا ہے۔ بعض ادویات بھی گردے کے نقصان سے وابستہ رہی ہیں۔ جن میں فینائل بیوٹازون، آئیبوپروفین اور میفینامک تیزاب شامل ہیں۔
Radiation Necrosis
دماغ، سر یا گردن پر زیادہ مقدار میں تابکاری کے علاج کے بعد نایاب صورت میں تابکاری سے نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ کے بافتوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Renal Papillary Necrosis
گردے کے اندر پیشاب کے راستوں کے آخری حصوں کو پیپلری حصے کہا جاتا ہے۔ ان حصوں کے خلیے مر جائیں تو گردے کے پیپلری حصے کی نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔
Skin Necrosis
جلد کی نیکروسس اس وقت ہو سکتی ہے۔ جب جلد یا اس کے نیچے موجود بافتوں کو خون کی مناسب فراہمی نہ ملے۔ بعض بیکٹیریائی انفیکشن بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ تر انگلیوں، ہاتھوں، پاؤں اور انگلیوں کے پوروں کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے۔
Spider Bite Necrosis
بعض مخصوص مکڑیوں کے کاٹنے کے بعد ان کے زہر سے جلد میں ایسا زخم پیدا ہو سکتا ہے۔ جس میں بافتے مرنے لگیں۔ تاہم مکڑی کے کاٹنے سے نیکروسس پیدا ہونا نایاب ہے۔
Pulp Necrosis
اگر دانت کو شدید چوٹ لگے یا دانت میں گہری سڑن پیدا ہو جائے۔ تو اس کے اندر موجود نرم بافتہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس میں خون کی نالیاں اور اعصاب شامل ہوتے ہیں۔ انفیکشن کی صورت میں یہ بافتہ مر سکتا ہے۔ جسے دانت کے اندرونی بافتے کی نیکروسس کہا جاتا ہے۔
Symptoms of Necrosis in Urdu
نیکروسس کی علامات متاثرہ عضو اور بنیادی وجہ کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں متاثرہ جگہ پر درد، حساسیت، رنگ میں تبدیلی یا سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔
جلد کی نیکروسس میں جلد سفید، سرخ، نیلی، جامنی یا سیاہ دکھائی دے سکتی ہے۔ خاص طور پر کسی خوبصورتی کے انجیکشن کے بعد غیر معمولی درد، جلد کا سفید پڑ جانا، دھبہ دار سرخی یا نیلا اور جامنی رنگ اختیار کرنا خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔
خوبصورتی کے انجیکشن کے بعد متوقع حد سے زیادہ درد، حساسیت اور جلد کے رنگ میں اچانک تبدیلی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
Diagnosis of Necrosis
تشخیص کا انحصار متاثرہ عضو، علامات اور بنیادی بیماری پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جسمانی معائنے کے ساتھ مریض کی طبی تاریخ، چوٹ، انفیکشن، ادویات اور دیگر ممکنہ عوامل کو دیکھ سکتا ہے۔
بعض صورتوں میں متاثرہ بافتے کا خوردبینی معائنہ نیکروسس کی نوعیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ خلیوں کے پھولنے، مرکزے میں تبدیلی، مرکزے کے ٹوٹنے یا گھلنے، خلیے کے اندر خالی جگہوں اور اردگرد موجود سوزش کے خلیوں جیسی تبدیلیاں نیکروسس کی شناخت میں مدد کر سکتی ہیں۔
Treatment of Necrosis in Urdu
نیکروسس کا علاج اس کی بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ صرف مردہ بافتے کو ہٹانا ہر صورت میں بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ اگر خون کی نالی بند ہونے کی وجہ سے بافتہ مر رہا ہو۔ تو علاج کا مقصد خون کی فراہمی بحال کرنا ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر دل کی شریان بند ہونے سے دل کے پٹھوں میں نیکروسس پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں علاج کا اہم مقصد متاثرہ شریان میں خون کی روانی بحال کرنا ہوتا ہے۔ بعض حالات میں خون کا لوتھڑا گھلانے کا علاج یا خون کی نالی کھولنے کا طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگر نیکروسس انفیکشن کے ساتھ موجود ہو تو جراثیمی انفیکشن کا فوری علاج ضروری ہو سکتا ہے۔ بعض شدید حالات میں مردہ یا شدید متاثرہ بافتے کو جراحی کے ذریعے ہٹانا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
اس لیے نیکروسس کے علاج کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہے۔ درست علاج کے لیے اس کی وجہ، جگہ اور شدت کا تعین ضروری ہے۔
Last Words on Necrosis Meaning in Urdu
نیکروسس صرف خلیوں کے مرنے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ جسم میں ہونے والے کسی سنگین نقصان یا بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی وجوہات میں خون اور آکسیجن کی کمی، چوٹ، انفیکشن، زہریلے مادے، بعض ادویات، مدافعتی ردِعمل اور دیگر بیماریوں کا کردار ہو سکتا ہے۔
نیکروسس کی مختلف اقسام کی ظاہری شکل اور جسم پر اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے جلد، ہڈی، گردے، لبلبے، دماغ، دانت یا کسی دوسرے عضو میں نیکروسس کی علامات ظاہر ہونے پر خود سے علاج کرنے کے بجائے طبی معائنہ ضروری ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ صرف مردہ بافتے کو ہٹانے کے بجائے نیکروسس کی بنیادی وجہ تلاش کرنا اور اس کا مناسب علاج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب طبی علاج بعض سنگین پیچیدگیوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایسے مزید بلاگز پڑھنے کے لیے ایور ہیلدی کو وزٹ کرتے رہیں۔
FAQs
What is necrosis?
نیکروسس جسم کے خلیوں یا بافتوں کے غیر معمولی اور ناقابلِ واپسی طور پر مرنے کی حالت ہے۔ یہ عموماً کسی شدید نقصان دہ عامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے خون اور آکسیجن کی کمی، جسمانی چوٹ، انفیکشن، زہریلے کیمیائی مادے یا بعض مدافعتی ردِعمل۔ نیکروسس کے دوران خلیے کی جھلی کی سالمیت متاثر ہو جاتی ہے۔ خلیہ پھول سکتا ہے۔ اور بالآخر پھٹ کر اپنے اندر موجود مواد کو اردگرد کے بافتوں میں خارج کر سکتا ہے۔
اس عمل کے نتیجے میں سوزش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ نیکروسس جسم کے مختلف حصوں، مثلاً جلد، ہڈیوں، گردوں، لبلبے، دماغ، دانت اور چھاتی کے چربی والے بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ مردہ بافتہ دوبارہ صحت مند نہیں ہوتا۔ اس لیے بنیادی وجہ کا علاج بہت اہم ہے۔
What causes necrosis?
نیکروسس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اور اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جسم کا کون سا حصہ متاثر ہوا ہے۔ خون کی روانی یا آکسیجن کی کمی اس کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ شدید جسمانی چوٹ، انتہائی درجہ حرارت، تابکاری اور بجلی کا جھٹکا بھی خلیوں کو ناقابلِ واپسی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بعض زہریلے مادے، کام کی جگہ پر کیمیائی اشیا سے واسطہ، بعض ادویات کی زہریلی مقدار اور نشہ آور اشیا بھی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ بیکٹیریا، وائرس اور فنگس جیسے جراثیم بھی نیکروسس کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض خودکار مدافعتی ردِعمل خون کی نالیوں یا دوسرے بافتوں کو نقصان پہنچا کر نیکروسس پیدا کر سکتے ہیں۔
What are the main types of necrosis?
نیکروسس کی کئی اقسام ہیں۔ اور ہر قسم میں مردہ خلیوں کی ظاہری شکل اور متاثر ہونے کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ جم جانے والی نیکروسس میں خلیوں کی بنیادی ساخت کچھ وقت تک برقرار رہتی ہے۔ اور یہ عموماً دماغ کے علاوہ دوسرے اعضا میں خون کی کمی کے بعد دیکھی جاتی ہے۔
مائع بن جانے والی نیکروسس میں خلیے خامروں کے ذریعے ٹوٹ کر گاڑھے مائع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ پنیر نما نیکروسس خاص طور پر تپِ دق میں دیکھی جاتی ہے۔ چربی کی نیکروسس شدید لبلبے کی سوزش اور بعض اوقات چھاتی کے چربی والے بافتوں میں ہو سکتی ہے۔ ریشے دار نیکروسس خون کی نالیوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ گینگرین خون کی کمی سے ہونے والی نیکروسس کی طبی اصطلاح ہے۔
What are the symptoms of necrosis?
نیکروسس کی علامات اس کے مقام، وجہ اور شدت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ متاثرہ حصے میں درد، حساسیت، سوجن یا جلد کے رنگ میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ جلد کی نیکروسس میں جلد سفید، سرخ، نیلی، جامنی یا سیاہ دکھائی دے سکتی ہے۔ گینگرین میں متاثرہ جلد سیاہ ہونے اور بافتے کے خراب ہونے کی علامات ظاہر کر سکتی ہے۔ اگر نیکروسس کسی اندرونی عضو میں ہو تو علامات اس عضو کی خرابی سے متعلق ہو سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر لبلبے کی نیکروسس شدید لبلبے کی سوزش کے ساتھ پیدا ہو سکتی ہے۔ اور انفیکشن کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ خوبصورتی کے انجیکشن کے بعد معمول سے زیادہ درد، حساسیت، جلد کا سفید پڑنا یا نیلا اور جامنی ہونا بھی فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔
Can necrosis be treated?
نیکروسس کا علاج اس کی بنیادی وجہ، متاثرہ عضو اور نقصان کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ چونکہ مردہ خلیے دوبارہ صحت مند نہیں ہو سکتے۔ اس لیے علاج کا اہم مقصد اس وجہ کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ جس نے بافتے کو نقصان پہنچایا۔ اگر خون کی فراہمی میں رکاوٹ نیکروسس کا سبب بن رہی ہو تو خون کی روانی بحال کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر دل کی شریان بند ہونے سے پیدا ہونے والی نیکروسس میں متاثرہ شریان کو کھولنے کے لیے مخصوص طبی طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مردہ بافتے میں انفیکشن موجود ہو تو اس کا مناسب علاج ضروری ہوتا ہے۔ بعض شدید صورتوں میں مردہ یا ناقابلِ استعمال بافتے کو جراحی کے ذریعے ہٹانا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
What is the difference between necrosis and apoptosis?
نیکروسس اور قدرتی خلیاتی موت دونوں خلیوں کے مرنے سے متعلق عمل ہیں۔ لیکن ان میں بنیادی فرق موجود ہے۔ قدرتی خلیاتی موت جسم کا ایک منظم اور معمول کا عمل ہے۔ جس کے ذریعے غیر ضروری یا پرانے خلیے ختم ہوتے ہیں۔ جسم میں خلیوں کا توازن برقرار رہتا ہے۔
اس کے برعکس نیکروسس عموماً کسی نقصان دہ عامل، بیماری، انفیکشن، چوٹ یا خون اور آکسیجن کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ نیکروسس میں خلیے کی جھلی متاثر ہو سکتی ہے اور خلیے کے اندر موجود مواد اردگرد کے بافتوں میں خارج ہو سکتا ہے۔ جس سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ نیکروسس عموماً معمول کی جسمانی نشوونما کا حصہ نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ کی تشخیص اور علاج ضروری ہو سکتا ہے۔
What is gangrenous necrosis?
گینگرین ایسی حالت ہے جس میں جسم کے کسی حصے کے بافتوں کو مناسب خون نہ ملنے کے نتیجے میں نیکروسس پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر ہاتھوں، پاؤں، انگلیوں یا ٹانگوں کے بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ جسم کے دوسرے حصے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ گینگرین کی خشک قسم میں خون کی کمی کے نتیجے میں جم جانے والی نیکروسس پیدا ہوتی ہے۔
گیلی گینگرین میں خون کی کمی کے ساتھ بیکٹیریائی انفیکشن بھی شامل ہو جاتا ہے۔ جس سے بافتے مائع شکل میں ٹوٹنے لگتے ہیں۔ متاثرہ حصے کی جلد کا رنگ سیاہ ہونا، بافتوں کا خراب ہونا اور دیگر تبدیلیاں خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ گینگرین سنگین حالت بن سکتی ہے۔ اس لیے اس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
Can necrosis affect the bones?
جی ہاں، نیکروسس ہڈیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جب ہڈی کے بافتوں تک خون کی مناسب فراہمی رک جاتی ہے۔ تو ہڈی کے خلیوں کو ضروری آکسیجن اور غذائی اجزا نہیں مل پاتے۔ اس کے نتیجے میں ہڈی کے بافتے کمزور ہو کر مر سکتے ہیں۔ اس کیفیت کو خون کی کمی سے ہونے والی ہڈی کی نیکروسس کہا جاتا ہے۔ اور اسے ہڈی کی موت کے نام سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔
کولہے کی ہڈی اس بیماری سے متاثر ہونے والی عام جگہوں میں شامل ہے۔ جبڑے کی ہڈی بھی نیکروسس کا شکار ہو سکتی ہے۔ جس میں منہ اور جبڑے میں شدید درد یا پیپ کا اخراج ہو سکتا ہے۔ ہڈی کی نیکروسس کا علاج اس کی وجہ، متاثرہ حصے اور بیماری کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
Is pancreatic necrosis dangerous?
لبلبے کی نیکروسس شدید لبلبے کی سوزش کی ایک سنگین پیچیدگی ہو سکتی ہے۔ جب لبلبے کے کسی حصے کو مناسب خون کی فراہمی نہیں ملتی۔ تو وہاں کے بافتے مر سکتے ہیں۔ مردہ بافتے میں جراثیمی انفیکشن پیدا ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اگر انفیکشن خون میں پھیل جائے تو جسم میں شدید جراثیمی ردِعمل پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض حالات میں مختلف اعضا کی ناکامی بھی ہو سکتی ہے۔
اسی وجہ سے لبلبے کی نیکروسس کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی تشخیص اور علاج طبی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔ علاج کا طریقہ مریض کی حالت، نیکروسس کی شدت اور انفیکشن کی موجودگی سمیت مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ شدید علامات کی صورت میں فوری طبی توجہ بہت اہم ہے۔
What is fat necrosis?
چربی کی نیکروسس اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب چربی کے خلیے شدید نقصان کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ شدید لبلبے کی سوزش اس کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس حالت میں لبلبے سے خارج ہونے والے خامرے چربی والے خلیوں کو توڑ دیتے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی چربی کیلشیم کے ساتھ مل کر سفید اور چاک جیسے ذخائر بنا سکتی ہے۔
اس عمل کو صابونی بننے کا عمل کہا جاتا ہے۔ چربی کی نیکروسس چھاتی کے چربی والے بافتوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر بافتے کو نقصان پہنچنے کے بعد۔ چھاتی میں اس کے نتیجے میں چربی والے مائع کی ایک تھیلی بن سکتی ہے۔ جسے روغنی سسٹ کہا جاتا ہے۔ چھاتی کی چربی کی نیکروسس ایک غیر سرطانی حالت ہوتی ہے۔ تاہم کسی نئی گانٹھ یا تبدیلی کا طبی معائنہ ضروری ہے۔