یہ تصویر اس عورت کی ہے جس کو حیض کی بندش کا سامنا ہے اور علاج لینا چاہ رہی ہے۔

حیض کی بندش کا دیسی علاج – گھر بیٹھے ہی چھٹکارا پائیں

حیض کی بندش یا ماہواری کا نہ آنا عورتوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ لیکن یہ مسئلہ کافی خطرناک ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حیض کا آنا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ کیوں کہ حیض نہ آئے تو پھر اسے حمل نہ ٹھہرنے کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ حیض کا نہ آنا ہڈیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے آج ہم حیض کی بندش کا دیسی علاج پر بات کرنے لگے ہیں۔

حمل میں اور مینوپاز کے بعد اگر حیض یا ماہواری نہ آئے تو اس ایک عام بات سمجھا جاتا ہے۔ لیکن باقی ساری خواتین کے لیے حیض کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اگر دوسری عورتوں کو ماہواری نہ آئے تو سمجھ جائیں کہ انہیں کوئی طبی مسئلہ لاحق ہو چکا ہے۔ حمل اور مینوپاز کے علاوہ حیض کے نہ آنے کی دو اقسام ہوتی ہیں۔

پہلی قسم کو پرائمری اور دوسری کو سیکنڈری کہا جاتا ہے۔ پرائمری قسم یہ ہے کہ ایک لڑکی سولہ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور اسے پھر بھی ماہواری نہ آئے۔ ان لڑکیوں میں حیض نہ آنے کی وجہ بچہ دانی کے مسائل ہوتے ہیں۔ سیکنڈری قسم میں خواتین کو تین ماہ تک حیض نہیں آتا، جب کہ ان تین ماہ سے پہلے انہیں لگاتار نو ماہ حیض آیا ہوتا ہے۔ حیض کی یہی قسم سب سے عام ہے۔

حیض یا ماہواری نہ آنے کی وجوہات

ماہواری یا حیض نہ آنے کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جن لڑکیوں کے جنسی اعضاء کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوتا ہے انہیں ماہواری نہ آنے کی پرائمری قسم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ قسم اووری کے مسائل کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

جب کہ تھائی رائیڈ گلینڈ کے مسائل حیض نہ آنے کی سیکنڈری قسم کی وجہ بنتے ہیں۔ کیوں کہ یہ گلینڈ ان ہارمونز کو پیدا کرتا ہے جو حیض یا ماہواری لانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہواری نہ آنے کی دیگر وجوہات میں موٹاپہ، جسم میں وٹامنز کی کمی، اور بہت زیادہ ورزش کرنا بھی شامل ہے۔

وزن کو بہت زیادہ کم کر لینا، اووری کا کینسر، اور یوٹرس کے ہٹانے کی وجہ سے بھی حیض نہیں آتا۔ ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اور جسم میں ہارمونز کا عدم توازن بھی ماہواری کے نہ آنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ حیض کے نہ آنے کی کچھ قدرتی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ ان وجوہات میں مینوپاز، حمل، اور بریسٹ فیڈنگ شامل ہے۔

بعض اوقات جب آپ برتھ کنٹرول پلز استعمال کرتے ہیں تو پھر بھی آپ کو حیض نہیں آتا۔

حیض نہ آنے کی علامات

جب آپ کو حیض یا ماہواری نہیں آتی تو آپ کو کافی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حیض نہ آنے کی علامات میں جسم پر بہت زیادہ بال اگ آنا، ہاٹ فلیشز، اورشرم گاہ کی خشکی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایکنی اور سر درد بھی آپ کو لاحق ہو سکتے ہیں۔ آپ کے دیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حتی کے حمل یا بریسٹ فیڈنگ کے بغیر بھی آپ کی چھاتیوں سے دودھ آ سکتا ہے۔

حیض کی بندش کا علاج

جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ماہواری کا نہ آنا بہت ساری وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے آپ کو کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کا ڈاکٹر حیض کے نہ آنے کی وجہ کو جانے گا اور پھر کوئی دوا تجویز کرے گا۔

اگر آپ کو موٹاپے کی وجہ سے حیض نہیں آ رہا تو پھر آپ کو وزن کم کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔ امید ہے کہ وزن کم کرنے سے آپ کی حیض کی بندش ٹوٹ جائے گی۔

لیکن اگر آپ کا وزن بہت زیادہ کم ہو چکا ہے تو پھر آپ کو وزن بڑھانے کا مشورہ دیا جائے گا۔ اس صورت میں آپ کو وزن بڑھانے والی غذائیں استعمال کرنا ہوں گی۔ وزن بڑھانے کے مشورے کے ساتھ ڈاکٹر آپ کو کچھ ادویات یا تھراپیز بھی تجویز کر سکتا ہے۔

اگر تھائی رائیڈ گلینڈ کی وجہ سے ماہواری نہیں آ رہی تو پھر ہارمون رپلیسمنٹ تھراپی کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ کچھ کیسز میں سرجری بھی تجویز کی جا سکتی ہے۔ اگر اووری کا کینسر ماہواری نہ آنے کی وجہ ہے تو پھر کیموتھراپی یا ریڈی ایشن تھراپی تجویز کی جائے گی۔

ماہوای کھولنے کا علاج تو آپ نے جان لیا ہے۔ اب ہم حیض کی بندش کا دیسی علاج آپ کو بتاتے ہیں۔ جس سے آپ میں حیض آئے گا اور آپ کے لیے حمل ٹھہرانا آسان ہو جائے گا۔

حیض کی بندش کا دیسی علاج

مندرجہ ذیل علاج حیض کی بندش یا ماہواری کے نہ آنے کی صورت میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

ورزش اور صحت مند غذائیں

اگر آپ کی ماہواری بند ہے تو آپ کو اپنی روٹین میں تبدیلی لانا ہو گی۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ورزش ایک فائدے مند عادت ہے۔ لیکن اگر ہر روز سخت ورزش کی جائے تو یہ ماہواری کے مسائل کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے آپ کو ہر روز نارمل ورزش ہی کرنی چاہیے۔

نارمل ورش کے ساتھ آپ کو اپنی غذا کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی۔ آپ کو وہ غذائیں استعمال کرنا ہوں گی جو نیوٹرنٹس سے بھرپور ہوں۔ ان غذاؤں میں دہی جیسی مفید چیزیں بھی شامل ہیں۔ یہ غذائیں آپ کے ہاضمے کے نظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس کے علاوہ یہ آپ کی مجموعی صحت میں بھی بہتری لائیں گی۔ ورزش اور متوازن غذا کا کمبی نیشن آپ کی ماہواری کی بندش کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

ذہنی دباؤ کا خاتمہ

ذہنی دباؤ کے خاتمے کو ماہواری کھولنے کا علاج بھی سمجھا جاتا ہے۔ بہت ساری خواتین ذہنی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں جس سے ان کے جسم میں ہارمونز کا لیول متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر ان میں ماہواری نہیں آتی۔

ماہواری یا حیض کی بندش کا سامنا کرنے والی خواتین کو اسی لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ انہیں ذہنی دباؤ کو ختم کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ذہنی دباؤ سے نجات پانے کے طریقے جانیں۔ اس سے ماہواری کو لانے میں مدد ملے گی۔

ایسٹروجن والی غذائیں

جن خواتین کو ماہواری نہیں آتی انہیں ایسٹروجن والی غذائیں بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ان غذاؤں کے ساتھ ہارمون تھراپی بھی تجویز کی جاتی ہے۔ تاہم یہ یاد رکھیں کہ ہارمون تھراپی ہمیشہ آپ کا طبی معالج ہی تجویز کرے گا۔

ایسٹروجن والی غذاؤں کے ساتھ خواتین کو کیلشیم اور وٹامن ڈی استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف حیض کو لانے میں مدد ملتی ہے بلکہ مجموعی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

حیض کی بندش کا روحانی علاج

یہ بات شروع ہی میں سمجھ لیں کہ حیض کی بندش کا کوئی روحانی علاج نہیں ہوتا۔ حیض کی بندش ایک طبی مسئلہ ہے اور اس سے نجات بھی ادویات یا دیسی علاج کی مدد سے پائی جائے گی۔ روحانی طریقہ علاج میں کچھ اذکار یا دم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اگر آپ کو حیض کی بندش کا سامنا ہے تو روحانی علاج دھونڈنے پر اپنا وقت ضائع مت کریں۔ روحانی علاج آپ کو کسی بھی سطح پر فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ بر وقت کسی طبی معالج سے رجوع کیا جائے۔

کچھ آخری الفاظ

ماہواری یا حیض کی بندش کا دیسی علاج آپ کو بتا دیا گیا ہے۔ جو طریقے آپ کو بتائے گئے ہیں ان پر عمل کریں۔ امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں حیض دوبارہ شروع ہو جائے اور پھر آپ آسانی سے ماں بن سکیں گی۔

سوالات و جوابات

کیا حیض کی بندش کا دیسی علاج ممکن ہے؟

جی بالکل۔ حیض کی بندش کا دیسی علاج ممکن ہے۔ اگر موٹاپے کی وجہ سے آپ کو ماہواری نہیں آ رہی تو وزن کم کیجیے۔ اس سے ماہواری یا حیض آنا شروع ہو جائے گا۔

حیض نہ آنے کی کتنی اقسام ہیں؟

حیض کے نہ آنے یا بندش کی دو اقسام ہیں۔ پہلی قسم کو پرائمری کہا جاتا ہے اور دوسری کو سیکنڈری۔ سیکنڈری قسم سب سے زیادہ عام ہے جو کافی عورتوں کو شکار بناتی ہے۔

ماہواری نہ آنے کی وجوہات کیا ہیں؟

ماہواری نہ آنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ ان میں تھائی رائڈ کے مسائل، جنسی اعضاء کی صحت، اور غیر صحت مندانہ طرزِ عمل شامل ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts