ایک خاتون نے درد کی وجہ سے اپنی پنڈلی پکڑ رکھی ہے جس کا علاج ضروری ہے۔

پنڈلیوں میں درد کا علاج – وجوہات بھی جانیں اس بلاگ میں

کیا آپ پنڈلیوں میں درد کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو پنڈلیوں میں درد کا علاج پتہ ہے؟ اس بلاگ میں اس جیسے بہت سارے سوالات کے جوابات دیے جائیں گے تا کہ آپ آسانی کے ساتھ پنڈلی کے درد سے نجات پا سکیں۔

آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ بہت سارے لوگ پنڈلی میں درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں ٹانگوں کے نچلے حصے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حتی کہ کئی لوگوں کی تکلیف کی وجہ سے رات کو گہری نیند کے دوران آنکھ بھی کھل جاتی ہے۔

پنڈلیوں کی درد کا گھریلو علاج تو ممکن ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ درد شدت اختیار کرجاتا ہے۔ جب کہ کئی مرتبہ اس درد کی وجوہات کافی شدید طبی علامات ہوتی ہیں۔ اس صورت میں مریض کو ڈاکٹر کے ساتھ رابطے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

چلیے پھر ہم پہلے میں پنڈلیوں میں درد کی وجہ جان لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اس کے علاج پر بھی بات کریں گے۔

پنڈلیوں میں درد کی وجوہات

ٹانگوں کی پنڈلیوں میں درد کی کافی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ ہم ان وجوہات کو ایک ایک کر کے آپ کو بتاتے ہیں۔

کھنچاؤ

پنڈلی کی ہڈی میں درد کی پہلی وجہ اس کے پٹھوں میں کھنچاؤ ہے۔ پنڈلی کے پٹھوں میں کھنچاؤ کو چارلی ہارس کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ جب پنڈلی کے یہ پٹھے سکڑتے ہیں تو آپ کو اچانک شدید درد محسوس ہونے لگتا ہے۔

کئی مرتبہ پٹھوں کے سکڑنے کی وجہ سے آپ کی جِلد کے نیچے ایک گلٹی بھی بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پنڈلی کا کچھ حصہ سرخی اور سووزش کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔

پٹھوں کی تھکاوٹ اور پانی کو کم مقدار میں استعمال کرنے سے پنڈلی کے پٹھے کھنچاؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ نے کوشش کرنی ہے کہ تھکاوٹ سے بچا جائے اور پانی زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔

خون کی گردش میں کمی

بعض اوقات آپ کی ٹانگوں میں خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹانگوں میں خون کی روانی یا گردش کم ہو جاتی ہے۔ حتی کہ آپ کو تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد ہی درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خون کی روانی متاثر ہونے سے آپ کو رانوں، کولہوں، اور پاؤں کا درد لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے لیے سیڑھیاں چڑھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈی وی ٹی

ڈی وی ٹی ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ٹانگوں میں موجود خون کی گہری شریانوں میں بلڈ کلاٹ بن جاتا ہے۔ یہ عام طور پر تب بنتا ہے جب آپ بہت زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہیں۔ جیسے کہ کوئی لمبی فلائٹ سے آنے والا شخص۔

اس بیماری کی وجہ سے آپ کو ایک ٹانگ میں درد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جب آپ کھڑے ہوتے یا چلتے ہیں تو اس درد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

چوٹ یا انجری

چوٹ یا انجری بھی پنڈلیوں کے درد کی وجہ ہے۔ جب آپ کوئی سخت مشقت کرتے ہیں یا کسی اسپورٹ میں حصہ لیتے ہیں تو اس بات کے امکانات ہوتے ہیں کہ آپ کو چوٹ لگ جائے۔

کچھ لوگوں کو رننگ یا جاگنگ کرنے سے بھی چوٹ یا انجری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر یہی چوٹ یا انجری پنڈلیوں میں درد کی وجہ بنتی ہے۔ اس لیے کھیل کود کے دوران آپ کو احتیاط کرنی چاہیے۔

گاؤٹ 

گاؤٹ ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں بہت زیادہ یورک ایسڈ بننے لگتا ہے۔ یورک ایسڈ زیادہ بننے کی وجہ سے پھر آپ کو درد، سوزش، اور جِلد کی سرخی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ درد عام طور پر پاؤں اور ٹانگوں کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں لاحق ہوتا ہے۔

پنڈلیوں مین درد کی وجوہات تو ہم نے جان لی ہیں۔ اب ہم اس درد کے علاج پر بات کر لیتے ہیں۔

پنڈلیوں میں درد کا علاج

آپ کے لیے پنڈلیوں کے درد کے یہ علاج لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

پنڈلیوں کو آرام دیں

اگر آپ کو معمولی چوٹ یا کھنچاؤ کی وجہ سے پنڈلیوں کوے درد کا سامنا ہے تو ان کو آرام دیجیے۔ پنڈلیوں کو آرام دینے سے آپ کا درد شدت نہیں اختیار کرے گا۔ پنڈلیوں کو آپ جتنا زیادہ آرام دیں گے اتنا ہی آپ کے لیے یہ عمل مفید ہو گا۔

کوشش کیجیے کہ آرام کے دوران تکیوں کی مدد سے ٹانگوں کو اونچا رکھا جائے۔ اس کے علاوہ آپ درد کی شدت میں کمی لانے کے لیے ادویات بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ ان ادویات میں آئبو پروفن اور اسپرین شامل ہیں۔

بازار سے آپ کو ایسی جرابیں بھی مل جاتی ہیں جو گھٹنوں تک آتی ہیں۔ پنڈلیوں میں درد کا علاج کے لیے آپ ان جرابوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

وارم باتھ

پنڈلیوں کے درد کو ختم کرنے کے لیے آپ وارم باتھ یعنی گرم پانی سے نہا لیں۔ اس کے بعد پٹھوں کو آرام سے سٹریچ کریں۔ سٹریچ کرنے کے لیے آپ پاؤں کے انگوٹھے کو آہستگی سے سیدھا کریں اور پھر اس کو اصلی حالت میں وآپس لے آئیں۔

برف سے پنڈلیوں میں درد کا علاج

برف کے استعمال سے بھی پنڈلیوں کے درد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو دن میں چار مرتبہ متاثرہ حصے پر برف سے ٹکور کرنا ہو گی۔ حتی کہ ابتدائی دنوں میں آپ چار بار سے زیادہ بھی ٹکور کر سکتے ہیں۔

کچھ طبی ماہرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ برف کو پندرہ منٹ تک متاثرہ حصے پر رکھا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ برف کو کسی صاف تولیے میں لپیٹ کر متاثرہ حصے پر رکھا جائے۔

تاہم اگر آپ کی ٹانگیں سوزش کا شکار ہو چکی ہیں اور چلنے آپ کو چلنے پھرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے تو پھر آپ کو کسی معالج سے رجوع کرنا ہو گا۔ کیوں کہ اس صورت میں پنڈلیوں میں درد کی وجہ کا پتہ لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ایک طبی معالج ہی اس وجہ کا پتہ لگا سکتا ہے۔

کچھ آخری الفاظ

پنڈلیوں میں درد کا علاج بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اس کو آسانی کے ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو یہ درد لاحق ہو چکا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ ایورہیلدی ہر پل آپ کے ساتھ رہے گا اور معلومات فراہم کرے گا۔ مزید بلاگز پڑھنے کے لیے ایور ہیلدی سے جڑے رہیں۔

سوالات و جوابات

پنڈلیوں میں درد کی وجوہات کیا ہیں؟

پنڈلیوں میں درد کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ ان وجوہات میں پٹھوں کا کھنچاؤ، چوٹ، اور شریانوں میں خون کی روانی متاثر ہونا ہے۔

پنڈلی کی ہڈی میں درد ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

پنڈلی کی ہڈی میں درد کی صورت میں آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی پنڈلیوں یا ٹانگوں کو زیادہ سے زیادہ سے آرام دینے کی کوشش کریں۔

پنڈلیوں کے درد کا علاج کیا ہے؟

پنڈلیوں میں درد کے علاج کے لیے آپ برف کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سٹریچنگ یا وارم باتھ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

پنڈلیوں کا درد in English

پنڈلیوں کے درد کو انگلش میں لور لیگ پین کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ پنڈلیاں آپ کی ٹانگوں کو نچلا حصہ ہوتی ہیں۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts