خون کی کمی کیسے دور کریں؟ ایک نارمل انسان میں کتنا خون ہوتا ہے؟ خون کی کمی ان دنوں ایک عام بیماری بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں سمیت جوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے انسان کی روزمرہ کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آج ہم خون کی کمی کا علاج ڈسکس کرنے لگے ہیں۔
خون کی کمی کو انیمیا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آپ کا جسم اتنے خون کے سرخ خلیات نہیں بناتا جتنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا پھر جو خون کے سرخ خلیات بنتے ہیں وہ کام نہیں کرتے۔ خون کی کمی آپ کی زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ کئی مرتبہ یہ کمی شدت اختیار نہیں کرتی اور اس کو غذاؤں کے ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
جب کہ کئی مرتبہ خون کی کمی شدید ہو جاتی ہے۔ جس سے کئی طبی مسائل کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات ہو سکتا ہے کہ آپ کو حیران کرے کہ خون کی شدید کی کمی موت کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنے خون کے لیول پر توجہ دینا ہو گی۔ یہ توجہ آپ خون کے ٹیسٹ کی مدد سے ہی دے سکتے ہیں۔
خون کی کمی کا ٹیسٹ
خون کی کمی کے ٹیسٹ کا نام سی بی سی ہے۔ یعنی مکمل بلڈ کاؤنٹ۔ سی بی سی کی مدد سے خون کے سیمپل میں بلڈ سیلز کے نمبر کی تعداد معلوم کی جاتی ہے۔
خون کی کمی کے لیے اس ٹیسٹ میں ریڈ بلڈ سیلز کی تعداد کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ اور یہ بات بھی معلوم کی جاتی ہے کہ خون میں ہیموگلوبن کا لیول کیا ہے۔ خون کی کمی کا ٹیسٹ ہر کسی کو کروانا چاہیے۔ خاص طور پر انہیں جو خون کی کمی کی علامات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ علامات کون سی ہوتی ہیں؟ چلیے پھر ان کے متعلق جانتے ہیں۔
خون کی کمی کی علامات
خون کی کمی کی وجہ سے آپ کو بہت ساری علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علامات میں تھکاوٹ، سینے کا درد، اور غنودگی شامل ہیں۔ سر درد، جلد کا پیلا ہو جانا، دل کی دھڑکن بے ترتیب یا تیز ہونا، اور سانس کی تنگی بھی خون کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔
خون کی کمی کا سامنا کرنے والوں کو بار بار انفیکشنز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خون کی کمی کے شکار افراد کو کانوں کے مسائل یعنی گھنٹی کی آواز سننا بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ خون کی کمی علامات ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں۔ ہر فرد میں ایک جیسی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
خون کی کمی کا علاج
جب آپ صحت مند یا قدرتی غذائیں استعمال نہیں کرتے تو اس سے خون کی کمی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور ان غذاؤں سے فولیٹ اور وٹامن بی12 حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان کی کمی سے آپ کا جسم خون کے سرخ خلیات نہیں بنا پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خون کی کمی کو پورا کرنا کے لیے آپ کو آئرن، بی وٹامنز، اور وٹامن سی سے بھرپور غذائیں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
خشک میوہ جات اور بیج
خشک میوہ جات اور بیجوں کے استعمال کو خون کی کمی کا دیسی علاج کہا جاتا ہے۔ بہت سارے میوے اور بیج آئرن حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ بیج اور میوے نہ صرف خوش ذائقہ ہوتے ہیں بلکہ آپ کی صحت کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
بیجوں میں پہلے نمبر پر کدو کے بیج ہیں۔ کدو کے بیجوں کی افادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ آپ کو ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتے ہیں۔ ان بیجوں کے ساتھ آپ پستہ، کاجو، تخم بھنگ، اور سورج مکھی کے بیج بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
کسی اچھے سٹور سے یہ میوے اور بیج خرید لیں۔ یہ آپ کو خون کی کمی کو پورا کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ لیکن کرنے آپ نے میوہ جات اور بیج باقاعدگی سے استعمال ہیں۔
گوشت اور پولٹری
گوشت اور پولٹری بھی خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ دونوں چیزیں آئرن کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ سرخ گوشت یعنی مٹن اور بیف آئرن حاصل کرنے کے لیے بہترین آپشن ہیں۔ آپ چکن اور پولٹری بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ان میں آئرن سرخ گوشت کی نسبت کم پایا جاتا ہے۔
گوشت کو اگر آپ سبز پتوں والی سبزیوں کے ساتھ استعمال کریں گے تو آپ کو خون کی کمی دور کرنے میں زیادہ مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ کوشش کیجیے کہ گوشت کے ساتھ وٹامن سی والی غذائیں بھی استعمال کیا کریں۔ اس سے آپ کے جسم کے لیے گوشت وغیرہ سے آئرن جذب کرنا آسان ہو جائے گا۔
دالیں اور لوبیہ
دالیں اور لوبیہ بھی خون کی کمی کا دیسی علاج ہیں۔ ان میں آئرن، پروٹین، اور فائبر پایا جاتا ہے۔ اگر آپ انہیں متوازن مقدار میں باقاعدگی سے استعمال کر لیں گے تو آپ کو خون کی کمی کی شکایت نہیں رہے گی۔
دالوں میں ہر قسم کی دالیں شامل ہیں۔ خشک مٹر، لوبیہ، ٹوفو، اور سفید لوبیہ شامل ہیں۔ آپ انہیں پکا کر یا ابال کر استعمال کر سکتے ہیں۔ چند ہی ہفتوں میں آپ کی خون کی کمی دور ہو جائے گی۔
جانوروں کا جگر
بہت سارے لوگ جانوروں کے اندرونی اعضا استعمال نہیں کرتے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہی اعضا سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔ یہ اعضا آئرن حاصل کرنے کے لیے بہترین آپشن ہوتے ہیں۔
ان اعضا میں سے جگر کو ہم پہلے نمبر پر رکھیں گے۔ کیوں کہ اس میں آئرن اور فولیٹ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اعضا جیسا کہ دل، گردے، اور بھینیس یا بچھڑے کی زبان بھی اس خون کی کمی کا بہترین علاج ہے۔
مچھلی وغیرہ کا استعمال
خون کی کمی کو دور کرنے کے لیے سمندری غذا بھی ایک بہترین آپشن ہے۔ اس غذا میں شیل فش، جھینگے، اور تازہ ٹونا مچھلی سے آئرن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آئرن کو اچھی مقدار میں لینے کے لیے آپ سالمن کو بھی کھا سکتے ہیں۔ آپ کوشش کرنی ہے کہ سمندری غذا کے ساتھ کیلشیم نہ استعمال کی جائے۔ کیوں کہ کیلشیم کا استعمال آپ کے جسم کو ائرن جذب کرنے سے روکتا ہے۔
اس لیے مچھلی سمیت آئرن والی غذائیں استعمال کرتے وقت ان چیزوں کا استعمال ترک کر دیں جن میں کیلشیم پایا جاتا ہے۔ جن چیزوں میں کیلشیم پایا جاتا ہے ان میں دودھ، مکھن، ٹوفو، چیز، اور دہی وغیرہ شامل ہیں۔ دہی ویسے تو فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیکن آپ نے اسے مچھلی وغیرہ کے ساتھ استعمال نہیں کرنا۔
سبز پتوں والی سبزیاں
سبز پتوں والی سبزیوں کے استعمال سے بھی خون کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ان سبزیوں میں پالک سر فہرست ہے۔ پالک ایک سستی سبزی ہے جس کو سارا سال استعمال کرتے رہنے چاپیے۔ اس کے علاوہ آپ میتھی بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ سبزیاں آئرن کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ تاہم خون کی کمی کو ختم کرنے کے لیے آپ نے صرف سبز پتوں والی سبزیاں ہی استعمال نہیں کرنی۔ آپ نے اس کے علاوہ دیگر غذاؤں کی طرف بھی توجہ دینی ہے
کچھ آخری الفاظ
اس بلاگ میں آپ نے خون کی کمی کا علاج جان لیا ہے۔ اب یہ آپ کے لیے ضروری ہو چکا ہے کہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہم نے جو علاج آپ کو بتائے ہیں ان پر عمل کریں۔ چند ہی ہفتوں میں صحت مند زندگی گزارنا شروع کر دیں گے۔
سوالات و جوابات
خون کی کمی کے نقصانات کیا ہیں؟
خون کی کمی کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ کمی آپ کے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کر دیتی ہے۔ بعض اوقات آپ کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ جب کہ کئی خون کی کمی کی وجہ سے تھکاوٹ کا بھی شکار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے آپ کو خون کی کمی سے جلد از جلد نجات پانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
خون کی کمی کیسے دور کریں؟
خون کی کمی کو دور کرنے کے لیے آپ کو اپنی غذا کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ وہ غذائیں استعمال کرنا ہوں گی جن میں آئرن اور فولیٹ پایا جاتا ہے۔
ایک نارمل انسان میں کتنا خون ہوتا ہے؟
خون کی مقدار ہمیشہ ہر انسان میں مختلف ہوتی ہے۔ بہت سارے عوامل جیسا کہ عمر اور جنس خون کی مقدار تعین کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف روچیسٹر کے میڈیکل سنٹر کے مطابق ایک مرد میں ہیموگلوبن کا لیول 12.6 سے 17.5 گرام پر ڈیسی لیٹر ہونا چاہیے۔ جب کہ خواتین میں یہی لیول 12 سے سولہ گرام پر ڈیسی لیٹر ہو گا۔
خون کی کمی Meaning in English
خون کی کمی کا انگلش میں مطلب انیمیا ہوتا ہے۔ جب اگلی دفعہ کوئی آپ سے خون کی کمی کا مطلب پوچھے تو یہ یاد رکھیں کہ آپ نے جواب میں انیمیا کہنا ہے۔
خون کی کمی in English
خون کی کمی کو انگلش میں انیمیا کہتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ انیمیا سے متاثرہ شخص کو خون کی کمی کا شکار مریض کہا جاتا ہے۔