ایسڈیٹی یا معدے کی تیزابیت ایک عام مسئلہ ہے۔ جس میں معدے کے غدود ضرورت سے زیادہ تیزاب پیدا کر سکتے ہیں۔ یا معدے کا تیزاب واپس غذائی نالی کی طرف آ سکتا ہے۔ جب معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس پہنچتا ہے۔ تو گلے یا سینے میں جلن، منہ میں کھٹا یا کڑوا ذائقہ اور معدے میں بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔
بعض افراد میں تیزابیت کبھی کبھار ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کو بار بار اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ کھانا، چکنائی والی یا مصالحے دار غذائیں، کھانے کے فوراً بعد لیٹنا، ذہنی دباؤ، سگریٹ نوشی اور بعض غذائیں اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہیں۔
اگر تیزابیت بار بار ہو رہی ہو یا علامات شدید ہوں تو صرف گھریلو تدابیر پر انحصار کرنے کے بجائے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ مسلسل تیزاب کا غذائی نالی میں واپس آنا بعض اوقات ایک باقاعدہ طبی مسئلے کی علامت ہو سکتا ہے۔
ایسڈیٹی کی سب سے عام علامت سینے میں جلن ہے۔ یہ جلن بعض اوقات اوپری پیٹ سے شروع ہو کر سینے تک محسوس ہو سکتی ہے۔ معدے کے مواد کے واپس حلق یا منہ تک آنے کی وجہ سے کھانا یا معدے کے تیزاب کا ذائقہ بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
دیگر علامات میں متلی، پیٹ پھولنا، نگلنے میں دشواری یا نگلتے وقت درد، سینے میں درد، گلے میں خراش، مسلسل کھانسی اور آواز کا بیٹھنا شامل ہو سکتے ہیں۔
اگر معدے کا تیزاب طویل عرصے تک غذائی نالی میں واپس آتا رہے۔ تو اس سے زیادہ سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بار بار ہونے والی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Acidity Ka Ilaj in Urdu for Patients
ہلکی اور کبھی کبھار ہونے والی تیزابیت میں خوراک اور طرز زندگی میں تبدیلیاں علامات کو قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ہر شخص میں محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے جسم کے ردعمل کو سمجھنا اہم ہے۔
1. Ginger Use
ادرک روایتی طور پر معدے کی گیس اور ہاضمے کی خرابی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس میں موجود قدرتی مرکبات معدے کے لیے سکون بخش اثر رکھتے ہیں۔ ہاضمے میں مدد کر سکتے ہیں۔
ادرک کو گرم پانی میں چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں شامل کرکے پیا جا سکتا ہے۔ یا ادرک کی چائے استعمال کی جا سکتی ہے۔ بعض افراد کھانے کے بعد ادرک کی چائے استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ ہاضمہ بہتر رہے اور معدے کی بے آرامی کم ہو۔
تاہم اگر کسی شخص میں ادرک سے تیزابیت بڑھتی محسوس ہو تو اسے استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے۔
2. Holy Basil
تلسی کے پتے روایتی طور پر معدے کی مختلف شکایات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں یوجینول سمیت ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ جنہیں سوزش اور ہاضمے سے متعلق فوائد سے جوڑا جاتا ہے۔
تلسی ہاضمے میں مدد دے سکتی ہے۔ اور پیٹ میں ضرورت سے زیادہ گیس بننے سے متعلق بے آرامی کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ تاہم اسے تیزابیت کا باقاعدہ طبی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
3. Aloe vera Juice
ایلوویرا کو نظام ہاضمہ کے لیے سکون بخش سمجھا جاتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس میں ایسے مرکبات موجود ہیں۔ جو معدے اور غذائی نالی میں ہونے والی جلن کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بعض گھریلو طریقوں میں کھانے سے پہلے تقریباً ایک چوتھائی کپ ایلوویرا کا رس استعمال کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تاہم ایلوویرا کی مصنوعات مختلف اجزا اور مقدار رکھ سکتی ہیں۔ اس لیے باقاعدہ یا زیادہ مقدار میں استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ بہتر ہے۔
4. Bananas
کیلا ایک ایسی غذا ہے جو بعض افراد میں تیزابیت کے دوران معدے کے لیے نسبتاً نرم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔ اور اسے معدے کی تیزابیت کو متوازن کرنے والی غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
پکا ہوا کیلا اکیلا یا کھانے کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر شخص کا جسم مختلف انداز میں ردعمل دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر کسی فرد کو کیلا کھانے کے بعد علامات بڑھیں تو اسے اپنی غذا سے نکال دینا چاہیے۔
5. Cold Milk
کچھ افراد کو سینے کی جلن کے دوران دودھ سے وقتی سکون محسوس ہوتا ہے۔ دودھ معدے کے تیزاب پر عارضی اثر ڈال سکتا ہے۔ لیکن اس کا اثر ہر شخص میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔
جن افراد کو دودھ میں موجود شکر ہضم کرنے میں دشواری ہو یا دودھ کی چکنائی سے تیزابیت بڑھتی ہو۔ ان میں دودھ الٹا علامات کو زیادہ کر سکتا ہے۔ اس لیے دودھ کو ہر شخص کے لیے تیزابیت کا یقینی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
6. Apple Cider Vinegar
سیب کا سرکہ بعض روایتی طریقوں میں ہاضمے اور معدے کی تیزابیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں اسے پانی میں ملا کر کھانے سے پہلے استعمال کرنے کا ذکر موجود ہے۔
اگر اسے استعمال کیا جائے تو اسے براہ راست پینے کے بجائے پانی میں اچھی طرح ملانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ تیزابیت والی چیز براہ راست گلے یا معدے کی جھلی میں جلن پیدا کر سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کو اس کے استعمال سے جلن بڑھ جائے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
7. Fennel Seeds
سونف ہاضمے کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والی غذا ہے۔ اس میں موجود اینیتھول نامی قدرتی مرکب ہاضمے سے متعلق فوائد رکھتا ہے۔
کھانے کے بعد تھوڑی مقدار میں سونف چبائی جا سکتی ہے۔ یا سونف کی چائے تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ پیٹ پھولنے اور گیس سے متعلق بے آرامی کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
8. Chamomile Tea
کیمومائل میں ایسے قدرتی مرکبات موجود ہیں جنہیں سوزش کم کرنے اور جسم کو سکون پہنچانے سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کی چائے بعض افراد میں معدے اور غذائی نالی کی بے آرامی کے دوران سکون فراہم کر سکتی ہے۔
چونکہ ذہنی دباؤ بھی بعض افراد میں تیزابیت کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے آرام دہ مشروب کے طور پر کیمومائل کی چائے ذہنی سکون میں مدد دے سکتی ہے۔
9. Jaggery Use
گڑ روایتی طور پر ہاضمے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں میگنیشیم، پوٹاشیم اور آئرن جیسے معدنی اجزا موجود ہوتے ہیں۔
بعض روایتی طریقوں میں کھانے کے بعد تھوڑی مقدار میں گڑ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم گڑ میں شکر اور کیلوریز کافی مقدار میں ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
10. Liquorice for Acidity
مُلَیٹھی معدے کی اندرونی تہہ کو تحفظ دینے کے لیے روایتی طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر ایسی مُلَیٹھی جس سے گلائسیریزین نامی جزو نکال دیا گیا ہو، معدے کی حفاظتی بلغم کی تہہ کو سہارا دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اسے باقاعدہ علاج کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے، خصوصاً اگر پہلے سے کوئی طبی مسئلہ موجود ہو۔
11. Butter Milk
سادہ چھاچھ بعض افراد کے لیے ہاضمے کے دوران ہلکی اور آرام دہ غذا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزا پیچیدہ غذاؤں کے ہاضمے میں مدد دے سکتے ہیں۔
چھاچھ کو سادہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یا ذائقے کے لیے تھوڑی مقدار میں نمک، کالی مرچ یا دھنیا شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر دودھ سے بنی اشیا کسی شخص میں تیزابیت بڑھاتی ہوں تو اسے احتیاط کرنی چاہیے۔
12. Coconut Water
ناریل پانی جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اور اس میں پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے معدنی اجزا پائے جاتے ہیں۔
کچھ افراد اسے تیزابیت کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ تازہ ناریل پانی ایک مناسب مشروب ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے بھی تیزابیت کا یقینی طبی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
13. Carom Seeds
اجوائن روایتی طور پر بدہضمی، گیس اور معدے کی بے آرامی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں تھائمول نامی قدرتی مرکب موجود ہوتا ہے۔
کچھ گھریلو طریقوں میں ایک چائے کا چمچ اجوائن تھوڑے نمک کے ساتھ استعمال کرنے یا ہلکی بھنی ہوئی اجوائن کو نیم گرم پانی میں شامل کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اگر اجوائن استعمال کرنے سے جلن یا تیزابیت بڑھ جائے تو اسے ترک کرنا چاہیے۔
14. Baking Soda
بیکنگ سوڈا یعنی سوڈیم بائی کاربونیٹ تیزاب کو غیر مؤثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات اسے وقتی طور پر تیزابیت کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فراہم کردہ معلومات میں تقریباً آدھے سے ایک چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا کو ایک گلاس پانی میں گھول کر آہستہ پینے کا ذکر ہے۔ تاہم اس میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اسے بار بار یا طویل مدت تک استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بیکنگ سوڈا نہیں دینا چاہیے۔ حمل میں خواتین اور ایسے افراد جنہیں پہلے سے کوئی طبی مسئلہ ہو، استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ کریں۔
Remedies for Acidity Ka Ilaj in Urdu
گھریلو چیزوں کے علاوہ روزمرہ عادات تبدیل کرنا بھی تیزابیت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
Eat Less
ایک وقت میں بہت زیادہ کھانے سے معدہ زیادہ بھر جاتا ہے۔ معدے کے مواد کے غذائی نالی میں واپس آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے بڑے کھانوں کے بجائے کم مقدار میں اور نسبتاً زیادہ مرتبہ کھانا بعض افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
Avoid Certain Foods
ہر شخص میں محرک غذائیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ لیکن چکنائی والی، تلی ہوئی اور مصالحے دار غذائیں بعض افراد میں علامات بڑھا سکتی ہیں۔
پودینہ، ٹماٹر، پیاز، لہسن، کافی، چائے، چاکلیٹ اور شراب بھی بعض افراد میں تیزابیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی علامات کا مشاہدہ کرکے معلوم کیا جائے کہ کون سی غذا مسئلہ پیدا کرتی ہے۔
Avoid Gastric Drinks
کاربونیٹڈ مشروبات ڈکار پیدا کر سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آ سکتا ہے۔ اس لیے تیزابیت کی شکایت رکھنے والے افراد سادہ پانی کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
Don’t Lie After Eating
کھانے کے بعد کم از کم 3 گھنٹے تک سیدھا رہنا تیزاب کے واپس آنے کے امکانات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ رات کا کھانا سونے سے کافی پہلے کھانا بہتر ہے۔ اور کھانے کے فوراً بعد قیلولہ یا لیٹنے سے گریز کرنا چاہیے۔
Don’t Exercise After Eating
کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن سخت ورزش، خاص طور پر بار بار جھکنے والی ورزش، بعض افراد میں معدے کے تیزاب کو غذائی نالی کی طرف واپس لا سکتی ہے۔
Use Pillow While Sleeping
رات کو تیزابیت ہونے والے افراد بستر کے سرہانے کو تقریباً 6 سے 8 انچ اونچا کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بستر کے سر والے حصے کے نیچے مناسب اونچائی کے سہارے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
صرف تکیوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھنے سے جسم کو یکساں سہارا نہیں ملتا۔ اس لیے جسم کے اوپری حصے کو مناسب انداز میں اونچا رکھنا زیادہ موزوں ہے۔
Manager healthy Weight
اضافی جسمانی وزن معدے کے گرد دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ غذائی نالی کے نچلے حصے میں موجود پٹھے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر وزن زیادہ ہو تو متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے ذریعے وزن کم کرنا تیزابیت کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
Avoid Smoking
نکوٹین غذائی نالی کے نچلے حصے کے پٹھے کو ڈھیلا کر سکتی ہے۔ جس سے معدے کا تیزاب واپس اوپر آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے سگریٹ نوشی چھوڑنا تیزابیت پر قابو پانے کے ساتھ مجموعی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔
Check Your Medicines
کچھ ادویات تیزابیت کی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ بعض ہارمونل ادویات، کچھ مخصوص ذہنی دباؤ کی ادویات اور سوزش یا درد کے لیے استعمال ہونے والی کچھ ادویات غذائی نالی کے نچلے حصے کے پٹھے کو ڈھیلا کر سکتی ہیں۔
ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات غذائی نالی میں جلن بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر کسی دوا کے استعمال کے بعد تیزابیت شروع ہوئی ہو۔ تو دوا خود سے بند کرنے کے بجائے معالج سے بات کرنی چاہیے۔
Reduce Stress
ذہنی دباؤ بعض افراد میں تیزابیت کی علامات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ گہری سانس لینے کی مشقیں، مراقبہ، ذہنی یکسوئی، ہلکی ورزش اور جسم کے مختلف پٹھوں کو باری باری ڈھیلا کرنے کی مشق ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
خاص طور پر گہری اور پیٹ سے سانس لینے کی مشق جسم اور ذہن کو سکون دینے میں معاون ہو سکتی ہے۔ باقاعدگی سے آرام اور مناسب نیند بھی ہاضمے کے لیے مفید عادات میں شامل ہیں۔
Conclusion on Acidity Ka Ilaj in Urdu
اگر ایسڈیٹی بار بار ہوتی ہے۔ علامات مسلسل رہتی ہیں۔ یا گھریلو تدابیر سے بہتری نہیں آتی۔ تو معالج سے مشورہ ضروری ہے۔ بار بار معدے کا تیزاب غذائی نالی میں آنے کی وجہ معلوم کرنا اہم ہے۔
نگلنے میں دشواری، نگلتے وقت درد، مسلسل کھانسی، آواز کا مسلسل بیٹھنا، بار بار خوراک یا معدے کے مواد کا منہ تک آنا اور سینے میں درد جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں کہ گھریلو تدابیر ہلکی اور کبھی کبھار ہونے والی علامات میں مدد دے سکتی ہیں۔ لیکن مستقل یا شدید تیزابیت کی صورت میں درست تشخیص اور مناسب علاج کے لیے طبی مشورہ ضروری ہے۔
FAQs
What is acidity and what causes it?
ایسڈیٹی اس کیفیت کو کہا جاتا ہے۔ جس میں معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آ جاتا ہے۔ اور سینے یا گلے میں جلن پیدا کر سکتا ہے۔ زیادہ کھانا، چکنائی والی یا مصالحے دار غذائیں، تلی ہوئی اشیا، ذہنی دباؤ اور کھانے کے فوراً بعد لیٹنا اس مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔
بعض افراد میں کافی، چائے، چاکلیٹ، ٹماٹر، پیاز، لہسن، پودینہ اور گیس والے مشروبات بھی علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ایسڈیٹی کی عام علامات میں سینے کی جلن، منہ میں کھٹا یا کڑوا ذائقہ، معدے کے مواد کا واپس منہ تک آنا، متلی، پیٹ پھولنا اور نگلنے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر یہ علامات بار بار یا شدید ہوں تو درست تشخیص کے لیے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
What are the best home remedies for acidity?
ہلکی اور کبھی کبھار ہونے والی ایسڈیٹی میں بعض گھریلو تدابیر علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ادرک، سونف، کیمومائل کی چائے، کیلا، ناریل پانی اور بعض افراد کے لیے سادہ چھاچھ استعمال کی جا سکتی ہے۔ کھانے کی مقدار کم رکھنا اور آہستہ کھانا بھی مفید عادت ہے۔ کھانے کے بعد فوراً لیٹنے کے بجائے سیدھا رہنا، رات کا کھانا سونے سے تقریباً 3 گھنٹے پہلے کھانا اور گیس والے مشروبات سے پرہیز کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
تاہم ہر گھریلو طریقہ ہر شخص کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوتا۔ اگر کسی غذا یا مشروب سے جلن بڑھتی محسوس ہو تو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مسلسل علامات میں طبی مشورہ ضروری ہے۔
Is milk good for acidity and acid reflux?
کچھ افراد کو دودھ پینے سے ایسڈیٹی یا سینے کی جلن میں وقتی سکون محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا اثر ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ دودھ معدے کی تیزابیت پر عارضی اثر ڈال سکتا ہے۔ مگر بعض افراد میں دودھ کی چکنائی یا اسے ہضم کرنے میں دشواری کی وجہ سے علامات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
خاص طور پر اگر دودھ پینے کے بعد پیٹ پھولنے، گیس یا جلن میں اضافہ محسوس ہو تو اسے تیزابیت کے علاج کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے دودھ کو ہر شخص کے لیے یقینی علاج سمجھنا درست نہیں۔ اگر تیزابیت بار بار ہوتی ہے تو صرف دودھ یا کسی دوسرے گھریلو طریقے پر انحصار کرنے کے بجائے معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
Can ginger help relieve acidity?
ادرک روایتی طور پر معدے کی گیس، بدہضمی اور معدے کی بے آرامی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ جو ہاضمے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور بعض افراد میں معدے کی جلن یا بے آرامی کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ادرک کو گرم پانی میں چھوٹے ٹکڑوں کے ساتھ شامل کرکے پیا جا سکتا ہے یا ادرک کی چائے تیار کی جا سکتی ہے۔
بعض افراد اسے کھانے کے بعد استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ادرک ہر شخص میں ایک جیسا اثر نہیں دکھاتی۔ اگر ادرک استعمال کرنے سے جلن، سینے کی تیزابیت یا معدے کی بے آرامی بڑھ جائے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مسلسل یا شدید ایسڈیٹی میں طبی تشخیص زیادہ اہم ہے۔
What foods should be avoided during acidity?
ایسڈیٹی کے دوران ہر شخص کے لیے ایک جیسی غذاؤں سے پرہیز ضروری نہیں ہوتا۔ کیونکہ مختلف افراد میں مختلف غذائیں علامات کو متحرک کر سکتی ہیں۔ تاہم چکنائی والی، تلی ہوئی، مصالحے دار اور بہت زیادہ مقدار میں کھائی جانے والی غذائیں بعض افراد میں تیزابیت بڑھا سکتی ہیں۔ پودینہ، ٹماٹر، پیاز، لہسن، کافی، چائے، چاکلیٹ اور شراب بھی بعض افراد کے لیے محرک ثابت ہو سکتے ہیں۔
گیس والے مشروبات بھی معدے سے تیزاب کو غذائی نالی کی طرف واپس آنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی غذا اور علامات کا مشاہدہ کیا جائے۔ اور ان غذاؤں کی نشاندہی کی جائے جو بار بار مسئلہ پیدا کرتی ہیں۔ انہیں کچھ عرصے کے لیے چھوڑ کر بعد میں ایک ایک کرکے آزمایا جا سکتا ہے۔
How can I prevent acidity at night?
رات کے وقت ایسڈیٹی سے بچنے کے لیے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا اہم ہے۔ کوشش کریں کہ سونے سے تقریباً 3 گھنٹے پہلے کھانا ختم کر دیں۔ اور کھانے کے فوراً بعد نہ لیٹیں۔ رات کا کھانا بہت زیادہ مقدار میں کھانے کے بجائے ہلکا رکھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
سوتے وقت بستر کے سر والے حصے کو تقریباً 6 سے 8 انچ اونچا کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آنے سے کم ہو۔ صرف کئی تکیے ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کے بجائے مناسب سہارا استعمال کرنا بہتر ہے۔ بعض افراد میں بائیں کروٹ سونے سے بھی علامات کم ہو سکتی ہیں۔ جبکہ دائیں کروٹ سونے سے علامات بڑھنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
Does losing weight help with acidity?
کسی شخص کا وزن زیادہ ہو تو وزن کم کرنا ایسڈیٹی کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اضافی وزن معدے کے گرد دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اور غذائی نالی کے نچلے حصے میں موجود پٹھے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں معدے کا تیزاب اوپر آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
وزن متوازن رکھنے کے لیے مناسب مقدار میں غذا کھانا، متوازن خوراک اختیار کرنا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کرنا مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم وزن کم کرنے کا طریقہ ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کھانے کے فوراً بعد سخت ورزش یا بار بار جھکنے والی ورزش بعض افراد میں تیزابیت بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی زیادہ مناسب ہو سکتی ہے۔
Can stress make acidity worse?
ذہنی دباؤ بعض افراد میں ایسڈیٹی اور معدے کی علامات کو زیادہ نمایاں کر سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو دباؤ کے دوران سینے کی جلن یا معدے کی بے آرامی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ تو روزمرہ زندگی میں ذہنی سکون کے لیے مناسب وقت نکالنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ گہری سانس لینے کی مشق، مراقبہ، ذہنی یکسوئی، ہلکی ورزش اور جسم کے مختلف پٹھوں کو باری باری کھینچنے اور ڈھیلا کرنے کی مشق ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مناسب نیند اور کھانے کے اوقات میں باقاعدگی بھی مفید عادات ہیں۔ تاہم ذہنی دباؤ کو ایسڈیٹی کی واحد وجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر علامات مستقل رہیں تو ان کی دوسری ممکنہ وجوہات جاننے کے لیے معالج سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
When should I see a doctor for acidity?
اگر ایسڈیٹی بار بار ہو، طویل عرصے تک برقرار رہے یا گھریلو تدابیر سے بہتر نہ ہو تو معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بار بار معدے کا تیزاب غذائی نالی میں آنے کی صورت میں مناسب تشخیص ضروری ہو سکتی ہے۔ نگلنے میں دشواری، نگلتے وقت درد، مسلسل کھانسی، آواز کا مسلسل بیٹھنا، خوراک یا معدے کے مواد کا بار بار منہ تک آنا اور سینے میں درد جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بعض افراد میں مسلسل تیزابیت غذائی نالی اور اس سے متعلق دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف گھریلو علاج جاری رکھنے کے بجائے طبی مدد لینا زیادہ مناسب ہے۔ اگر علامات شدید ہوں تو فوری طبی توجہ حاصل کرنا ضروری ہے۔