ایلوپیشیا ایریاٹا ایک ایسی خودکار مدافعتی بیماری ہے۔ جس میں جسم کا دفاعی نظام غلطی سے بال بنانے والی جڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں بال اچانک جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جلد پر گول یا بیضوی شکل کے خالی دھبے بن جاتے ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر سر کی جلد کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن بعض افراد میں داڑھی، بھنوؤں، پلکوں اور جسم کے دوسرے حصوں کے بال بھی جھڑ سکتے ہیں۔
اس بیماری میں بالوں کی جڑیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ بلکہ صرف ان کی کارکردگی عارضی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے مریضوں میں مناسب دیکھ بھال یا علاج کے بعد دوبارہ بال اگنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ تاہم ہر مریض کی کیفیت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہوتا کہ بال کب اور کس حد تک واپس آئیں گے۔
ایلوپیشیا ایریاٹا بالوں کے جھڑنے کی عام بیماریوں میں شامل ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں طور پر ہو سکتی ہے۔ اور کسی بھی نسل یا علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ بیماری کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن زیادہ تر مریضوں میں اس کی ابتدا نوجوانی یا جوانی کے ابتدائی برسوں میں ہوتی ہے۔ بعض بچوں میں بھی یہ بیماری ظاہر ہو سکتی ہے۔ اور اگر کم عمر بچوں میں اس کا آغاز ہو تو بعض اوقات یہ نسبتاً زیادہ شدید صورت اختیار کر سکتی ہے۔
Causes of Alopecia Areata in Urdu
اس بیماری کی بنیادی وجہ جسم کے دفاعی نظام کی خرابی ہے۔ عام حالات میں دفاعی نظام جراثیم، وائرس، پھپھوندی اور دوسرے نقصان دہ عوامل سے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن ایلوپیشیا ایریاٹا میں یہی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو غیر ملکی حملہ آور سمجھ لیتا ہے اور ان پر حملہ کر دیتا ہے۔
اس حملے کی وجہ سے بال بنانے والی جڑوں میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔ اور بال اچانک جھڑنے لگتے ہیں۔ بعض افراد میں صرف ایک یا دو جگہوں سے بال گرتے ہیں۔ جبکہ کچھ مریضوں میں بالوں کا جھڑنا زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے میں موروثی رجحان بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے کئی جینیاتی عوامل دریافت کیے جا چکے ہیں۔ جو جسم کے دفاعی نظام کے کام سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خاندانوں میں یہ بیماری دوسرے افراد کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
کچھ لوگوں میں شدید ذہنی دباؤ، جسمانی بیماری یا دیگر بیرونی عوامل بیماری کو ظاہر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔
People at Higher Risks
اگرچہ ہر شخص ایلوپیشیا ایریاٹا کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن کچھ افراد میں اس کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ شامل ہیں
- جن کے خاندان میں پہلے کسی فرد کو یہ بیماری رہی ہو۔
- بچے، خصوصاً کم عمر بچے۔
- وہ افراد جنہیں پہلے سے کوئی خودکار مدافعتی بیماری ہو۔
- ایسے لوگ جن کے خاندان میں خودکار مدافعتی بیماریاں موجود ہوں۔
- وہ افراد جو جلد کی الرجی یا بعض دوسری الرجی والی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔
بعض مریضوں میں جلد کی سفید داغ والی بیماری، جلد کی مخصوص سوزشی بیماریاں یا گلٹی نما غدود کی بیماریاں بھی اس کے ساتھ پائی جا سکتی ہیں۔
Types of Alopecia Areata in Urdu
بال جھڑنے کی مقدار اور جگہ کے لحاظ سے اس بیماری کی مختلف اقسام بیان کی جاتی ہیں۔
Patchy Alopecia Areata
یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس میں سر یا جسم کے کسی حصے پر ایک یا ایک سے زیادہ گول دھبوں کی صورت میں بال جھڑ جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دھبے چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ کچھ مریضوں میں ان کا سائز بڑھ سکتا ہے۔
Alopecia Areata Totalis
اس قسم میں سر کے تقریباً تمام یا مکمل بال گر جاتے ہیں۔ یہ بیماری کی نسبتاً شدید صورت سمجھی جاتی ہے اور اس میں علاج کا ردعمل ہر مریض میں مختلف ہو سکتا ہے۔
Alopecia Areata Universalis
یہ بیماری کی نایاب مگر شدید ترین قسم ہے۔ اس میں سر، چہرے، بھنوؤں، پلکوں، داڑھی اور جسم کے تقریباً تمام بال ختم ہو سکتے ہیں۔
Diffuse Alopecia Areata
بعض افراد میں بال واضح دھبوں کی بجائے پورے سر میں یکساں طور پر پتلے ہونے لگتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بیماری کی پہچان بعض اوقات مشکل ہو جاتی ہے۔
Ophiasis Alopecia Areata
کچھ مریضوں میں بال سر کے نچلے پچھلے حصے اور دونوں اطراف ایک پٹی کی شکل میں جھڑتے ہیں۔ یہ بھی بیماری کی ایک مخصوص قسم ہے۔
Symptoms of Alopecia Areata in Urdu
اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت اچانک بالوں کا جھڑنا ہے۔ زیادہ تر مریضوں میں سر پر گول یا بیضوی شکل کے ہموار دھبے بن جاتے ہیں جہاں بال مکمل طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔
یہ دھبے عام طور پر دردناک نہیں ہوتے اور ان پر زخم یا نشانات بھی نہیں بنتے۔ جلد زیادہ تر معمول کے مطابق نظر آتی ہے۔ بال جھڑنے کے علاوہ درج ذیل علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں
- داڑھی کے بال جھڑ جانا۔
- بھنوؤں کے بال کم ہو جانا۔
- پلکوں کے بال گر جانا۔
- جسم کے مختلف حصوں سے بال ختم ہونا۔
بعض مریض بال گرنے سے پہلے متاثرہ جگہ پر ہلکی خارش، جلن یا سنسناہٹ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ علامات ہر مریض میں موجود نہیں ہوتیں۔
Changes in Nails
اگرچہ یہ بیماری بنیادی طور پر بالوں کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن بعض مریضوں میں ناخن بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ناخنوں پر باریک گڑھے بن سکتے ہیں۔ ان کی سطح کھردری محسوس ہو سکتی ہے یا وہ ریت جیسے دانے دار دکھائی دے سکتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر ان افراد میں دیکھی جاتی ہیں جن میں بیماری نسبتاً شدید ہو۔
Appearance of Affected Area
ایلوپیشیا ایریاٹا کے دھبوں پر عام طور پر سوزش، زخم یا مستقل داغ موجود نہیں ہوتے۔ بعض مریضوں میں متاثرہ جگہ پر بہت چھوٹے ٹوٹے ہوئے بال دکھائی دیتے ہیں۔ جو اوپر سے موٹے اور جڑ کے قریب باریک ہوتے ہیں۔ یہ اس بیماری کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح بعض اوقات بالوں کی جڑوں کے سوراخوں میں سیاہ نقطے بھی نظر آ سکتے ہیں۔ جو ٹوٹے ہوئے بالوں کی باقیات ہوتے ہیں۔ بعض مریضوں میں نئے اگنے والے بال ابتدا میں سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ ان کا قدرتی رنگ واپس آ سکتا ہے۔
Diagnosis of Alopecia Areata
ایلوپیشیا ایریاٹا کی تشخیص عام طور پر ماہر ڈاکٹر متاثرہ جگہ کا معائنہ کرکے کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر مریض سے بال جھڑنے کے آغاز، خاندان میں اس بیماری کی موجودگی اور دیگر بیماریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔
متاثرہ حصے کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بال کس انداز میں جھڑ رہے ہیں اور کیا یہ علامات ایلوپیشیا ایریاٹا سے مطابقت رکھتی ہیں۔
کچھ حالات میں مزید جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر جب بیماری کی واضح پہچان نہ ہو۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر درج ذیل طریقے استعمال کر سکتے ہیں
- سر کی جلد کا معائنہ تاکہ کسی انفیکشن یا دوسری جلدی بیماری کا پتہ چل سکے۔
- بالوں کا نمونہ لے کر اس کا تجزیہ کرنا۔
- سر کی جلد کا چھوٹا سا نمونہ لے کر جانچ کرنا۔
- خون کے ٹیسٹ کروانا تاکہ جسم میں موجود دوسری بیماریوں کے امکانات کو دیکھا جا سکے۔
بعض اوقات بالوں کے جھڑنے کی وجہ دوسری بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے درست تشخیص بہت ضروری ہوتی ہے تاکہ مناسب علاج کا انتخاب کیا جا سکے۔
Alopecia Areata Treatment in Urdu
فی الحال ایلوپیشیا ایریاٹا کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، مگر کئی طریقے علامات کو کم کرنے اور بالوں کی دوبارہ نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔
کورٹیکوسٹیرائیڈز سوزش کم کرنے والی ادویات ہیں۔ جو خودکار قوت مدافعت بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ سر کی جلد میں انجیکشن کی صورت میں، منہ کے ذریعے گولی کی شکل میں یا کریم اور مرہم کی صورت میں لگائی جا سکتی ہیں۔ ان کے ممکنہ ضمنی اثرات میں بھوک بڑھنا، وزن میں اضافہ، موڈ میں تبدیلی اور نظر کا دھندلا ہونا شامل ہیں۔
مائنوکسیڈل ایک ایسی دوا ہے۔ جو عام طور پر مردانہ اور زنانہ پیٹرن گنجے پن کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے اثرات ظاہر ہونے میں تقریباً بارہ ہفتے لگتے ہیں۔ اور اس کے ضمنی اثرات میں سر درد، جلد کی جلن اور غیر معمولی بالوں کی نشوونما شامل ہو سکتی ہے۔
فوٹوتھراپی میں مخصوص لیمپ سے حاصل ہونے والی الٹراوائلٹ روشنی استعمال کی جاتی ہے۔ جو بعض اوقات پسورالین نامی دوا کے ساتھ ملا کر دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ جلد اور ناخن کی مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ ایلوپیشیا ایریاٹا میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
پلیٹلیٹ سے بھرپور پلازما تھراپی میں مریض کا اپنا خون نکال کر اسے پراسیس کیا جاتا ہے۔ اور پھر سر کی جلد میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ تاکہ بالوں کی نشوونما کو تحریک ملے۔ اس کے ضمنی اثرات میں جلد کا درد، چکر آنا، متلی اور قے شامل ہو سکتے ہیں۔
ٹاپیکل امیونوتھراپی میں جلد پر ایک خاص مادہ لگایا جاتا ہے۔ جو الرجی جیسا ردعمل پیدا کرتا ہے۔ جس سے بالوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ضمنی اثرات میں جلد کی جلن، لمف نوڈز کا سوجنا، ایگزیما اور جلد کے رنگ میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے۔
Precautions of Alopecia Areata in Urdu
چونکہ اس بیماری کو مکمل طور پر روکنے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں۔ اس لیے احتیاطی تدابیر کا مقصد بالوں اور جلد کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔
Healthy Diet
بالوں کی صحت کے لیے مناسب غذا بہت اہم ہے۔ ایسی غذا استعمال کرنی چاہیے جس میں ضروری غذائی اجزا موجود ہوں۔
پھل، سبزیاں، مناسب مقدار میں پروٹین والی غذائیں اور متوازن خوراک بالوں کی مضبوطی میں مدد دے سکتی ہیں۔
بعض افراد میں غذائی کمی بھی بالوں کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے صحت مند خوراک اختیار کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
Avoid Sun Exposure
بال اور پلکیں جسم کو بیرونی عوامل سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایلوپیشیا ایریاٹا کی وجہ سے بال یا پلکیں کم ہو جائیں تو جلد اور آنکھوں کی حفاظت کے لیے اضافی احتیاط ضروری ہے۔
باہر جاتے وقت سر کو ڈھانپنا اور آنکھوں کو دھوپ سے محفوظ رکھنا مددگار ہو سکتا ہے۔
Don’t Use Chemical Products
ایسی مصنوعات جن میں تیز کیمیائی اجزا شامل ہوں، بالوں کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ بال سیدھے کرنے والی سخت مصنوعات اور ایسے علاج جن سے بالوں پر دباؤ پڑتا ہے، ان سے بچنا بہتر ہے۔
نرم صفائی والی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں تاکہ سر کی جلد محفوظ رہے۔
Stress and Alopecia Areata
اگرچہ ذہنی دباؤ کو بیماری کی واحد وجہ ثابت نہیں کیا گیا۔ لیکن بہت سے افراد میں شدید ذہنی دباؤ کے بعد بال جھڑنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔
بالوں کا اچانک گرنا انسان کی ظاہری شخصیت اور اعتماد پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض افراد کو پریشانی، بے چینی یا اداسی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور ماہرین سے مدد لینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
Self-Care
اس بیماری کے ساتھ بہتر زندگی گزارنے کے لیے چند عملی اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں
- بالوں کے کم ہونے والے حصوں کو چھپانے کے لیے مناسب انداز اختیار کرنا۔
- ضرورت کے مطابق ٹوپی، اسکارف یا مصنوعی بال استعمال کرنا۔
- اگر پلکیں کم ہو جائیں تو آنکھوں کو محفوظ رکھنا۔
- ایسی خوراک لینا جو مجموعی صحت کے لیے بہتر ہو۔
- اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا۔
Conclusion on Alopecia Areata in Urdu
ایلوپیشیا ایریاٹا ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے۔ جس میں جسم کا دفاعی نظام بالوں کی جڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اور بال مختلف حصوں سے جھڑنے لگتے ہیں۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے اور اس کی شدت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔
اگرچہ اس کا مکمل مستقل علاج موجود نہیں۔ لیکن مناسب تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے بالوں کے جھڑنے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اور بہت سے افراد میں دوبارہ بال اگنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ بروقت ڈاکٹر سے مشورہ اور مثبت طرز زندگی اس بیماری کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں مدد دے سکتا ہے۔
FAQs
Can alopecia areata get treated fully?
نہیں، ایلوپیشیا ایریاٹا کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں۔ یہ ایک خودکار قوت مدافعت بیماری ہے جس میں مدافعتی نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ مختلف طبی طریقے جیسے کورٹیکوسٹیرائیڈز، مائنوکسیڈل، فوٹوتھراپی اور ٹاپیکل امیونوتھراپی علامات کو کم کرنے اور بالوں کی دوبارہ نشوونما میں مدد دے سکتے ہیں۔
مگر یہ بیماری کو جڑ سے ختم نہیں کرتے۔ کچھ مریضوں میں بال دوبارہ اگ آتے ہیں اور دوبارہ کبھی نہیں گرتے۔ جبکہ کچھ میں یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اسی لیے علاج کا بنیادی مقصد علامات پر قابو پانا اور بالوں کی نشوونما کو تحریک دینا ہوتا ہے، نہ کہ بیماری کا مکمل خاتمہ۔
Does alopecia areata spread from one to another?
نہیں، ایلوپیشیا ایریاٹا بالکل بھی متعدی بیماری نہیں ہے۔ یہ جلد کے رابطے، ہوا یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ یہ بیماری دراصل جسم کے اپنے مدافعتی نظام کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
جس میں مدافعتی خلیے غلطی سے بالوں کی جڑوں کو غیر ملکی جراثیم سمجھ کر ان پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اس لیے متاثرہ شخص کے ساتھ رہنا، ہاتھ ملانا، کپڑے شیئر کرنا یا کسی بھی قسم کا جسمانی رابطہ رکھنا بالکل محفوظ ہے، اور اس سے بیماری منتقل ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
What are the symptoms of alopecia areata?
اس بیماری کی سب سے نمایاں اور ابتدائی علامت سر، بھنووں، پلکوں یا داڑھی پر گول یا بیضوی شکل کے چھوٹے پیچ میں بالوں کا اچانک گرنا ہے۔ کچھ مریضوں کو بال گرنے سے پہلے متاثرہ جگہ پر ہلکی جھنجھناہٹ، جلن یا خارش محسوس ہوتی ہے۔
پیچ کے کناروں پر چھوٹے ٹوٹے ہوئے بال نظر آ سکتے ہیں۔ جن کی بنیاد پتلی ہوتی ہے۔ کچھ افراد میں ناخنوں پر چھوٹے چھوٹے گڑھے یا دباؤ بھی بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر ان میں جن کا بالوں کا نقصان زیادہ وسیع ہو۔ یہ تمام علامات محسوس ہوتے ہی ماہر جلد سے رجوع کرنا بہتر ہے۔