دمہ ایک دائمی سانس کی بیماری ہے۔ جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ سال 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 36 کروڑ 30 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں اور ہر سال 4 لاکھ 42 ہزار سے زائد اموات اس بیماری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ بیماری بچوں اور بڑوں دونوں کو یکساں متاثر کرتی ہے اور بچوں میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دائمی بیماری ہے۔
دمہ کیا ہے؟
دمہ ایک ایسی حالت ہے جس میں سانس کی نالیوں میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔ جس سے یہ نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ سانس کی نالیوں میں سوجن، بلغم کا جمع ہونا اور پٹھوں کا سکڑنا مل کر سانس کے راستے کو بند کر دیتے ہیں۔ یہ بیماری وقفے وقفے سے ابھرتی ہے اور بعض اوقات شدید حملوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
Causes of Asthma in Urdu
دمہ کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل مل کر کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ بیماری موروثی ہوتی ہے۔ جبکہ بعض افراد میں ماحول اور طرزِ زندگی اس کے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
اگر والدین یا بہن بھائیوں میں دمہ موجود ہو تو اس بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جن افراد کو جلد کی الرجی یا ناک کی الرجی ہو، ان میں بھی دمہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں، کم پیدائشی وزن والے بچوں، بچپن میں بار بار سانس کے انفیکشن ہونے والوں اور حمل کے دوران تمباکو کے دھوئیں کے سامنے آنے والے بچوں میں بھی دمہ کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا ہے۔
فضائی آلودگی، صنعتی دھواں، گھر کے اندر موجود گرد، پھپھوندی، کیمیکل، زہریلی گیسیں اور بعض پیشہ ورانہ ماحول بھی اس بیماری کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ موٹاپا بھی دمہ پیدا ہونے کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
Types of Asthma in Urdu
دمہ ہر مریض میں ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ اس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔
Allergic Asthma
اس قسم میں گرد، پولن، جانوروں کے بال یا دیگر الرجی پیدا کرنے والی چیزیں علامات کو بڑھا دیتی ہیں۔
Cough-variant Asthma
بعض مریضوں میں سانس پھولنے یا سیٹی کی آواز کے بجائے صرف مسلسل کھانسی ہی دمہ کی علامت ہوتی ہے، خاص طور پر رات کے وقت۔
Exercise-Induced Asthma
کچھ افراد کو دوڑنے، کھیلنے یا سخت ورزش کے دوران سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔
Occupational Asthma
بعض کاموں کے دوران آٹے کی گرد، لکڑی کا برادہ، کیمیکل، دھواں یا دیگر مادے سانس کے ذریعے جسم میں جا کر دمہ کا باعث بنتے ہیں یا پہلے سے موجود بیماری کو بڑھا دیتے ہیں۔
Asthma Risk Factors
دمہ کی ٹھیک ٹھیک وجہ ابھی تک مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئی، تاہم جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل مل کر اس بیماری کو جنم دیتے ہیں۔
Genetic Factors
اگر والدین یا قریبی رشتہ داروں کو دمہ یا الرجی ہو تو بیماری لاحق ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق نے بچپن کے دمہ کو کروموزوم 17 پر موجود مخصوص جینز سے جوڑا ہے۔
Factors Before Birth
قبل از وقت پیدائش یعنی 36 ہفتوں سے پہلے پیدا ہونا، دمہ کا ایک اہم خطرہ ہے۔ حمل کے دوران ماں کا سگریٹ نوشی کرنا نوزائیدہ بچے کے پھیپھڑوں کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور بچپن میں دمہ ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
ماں کی خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی بھی ابتدائی زندگی میں سانس کی تکلیف اور دمہ کا سبب بن سکتی ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جن ماؤں کی خوراک میں اومیگا 3 والی چکنائی زیادہ ہو، ان کے بچوں میں دمہ ہونے کا خطرہ اومیگا 6 والی خوراک کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
Factors in Children
وائرل انفیکشن، خاص طور پر سانس کے وائرس، چھوٹے بچوں میں بعد میں دمہ ہونے کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ فضائی آلودگی، موٹاپا اور جلد بلوغت بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
Factors in Adults
بڑوں میں سگریٹ نوشی، کام کی جگہ پر نقصاندہ مادوں سے سامنا اور ناک کی الرجی سب سے اہم خطرے کے عوامل ہیں۔ موٹاپا بھی دمہ کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
Symptoms of Asthma in Urdu
دمہ کی علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں علامات کبھی کبھار ظاہر ہوتی ہیں جبکہ بعض افراد تقریباً روزانہ ان کا سامنا کرتے ہیں۔ عام علامات میں شامل ہیں۔
- سانس پھولنا
- سانس لیتے یا چھوڑتے وقت سیٹی جیسی آواز آنا
- سینے میں جکڑن یا دباؤ محسوس ہونا
- مسلسل کھانسی، خاص طور پر رات کے وقت
- جسمانی سرگرمی کے دوران سانس لینے میں دشواری
- رات کو نیند سے بار بار جاگ جانا
اکثر مریضوں میں علامات رات کے وقت، سرد موسم، ورزش یا سانس کے انفیکشن کے دوران زیادہ شدید ہو جاتی ہیں۔
Diagnosis of Asthma Symptoms
دمہ کی تشخیص صرف علامات کی بنیاد پر نہیں کی جاتی۔ بلکہ ڈاکٹر مریض کی مکمل طبی تاریخ، خاندانی پس منظر، جسمانی معائنہ اور سانس کے مختلف معائنے بھی کرتے ہیں۔
سب سے اہم معائنہ سانس کی صلاحیت جانچنے والا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ پھیپھڑوں سے ہوا کس رفتار سے خارج ہو رہی ہے۔ اور دوا لینے کے بعد اس میں کتنی بہتری آتی ہے۔
ضرورت پڑنے پر درج ذیل معائنے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
- الرجی کے ٹیسٹ
- خون کے معائنے
- سینے کا ایکسرے
- تفصیلی تصویری معائنہ
- سانس کی رفتار جانچنے والا گھریلو آلہ
ان تمام معائنوں کا مقصد دمہ کی تصدیق کرنا اور دوسری بیماریوں کو خارج کرنا ہوتا ہے۔
Treatment of Asthma in Urdu
دمہ کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا، تاہم مناسب علاج سے علامات کو بہت حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
Inhaler
علاج کی بنیاد انہیلر ہے جو دوا براہ راست پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے۔ انہیلر کی تین اقسام ہیں:
پہلی قسم سانس کی نالیوں کو کھولتی ہے اور فوری آرام دیتی ہے جیسے سالبوٹامول۔ دوسری قسم میں سٹیرائیڈ ہوتا ہے جو سوزش کم کرتا ہے۔ تیسری قسم مشترکہ انہیلر ہے جس میں دونوں قسم کی دوائیں ایک ساتھ موجود ہوتی ہیں۔
Nebulizer
چھوٹے بچوں یا شدید حملے کی صورت میں نیبولائزر کے ذریعے دوا دھند کی شکل میں دی جاتی ہے۔
Steroid Tablets
شدید ابھار کے دوران مختصر مدت کے لیے زبانی سٹیرائیڈ گولیاں تجویز کی جاتی ہیں۔
Additional Medicines
لیوکوٹرین کو روکنے والی دوائیں روزانہ لی جاتی ہیں۔ الرجی کی صورت میں الرجی دور کرنے والی دوائیں بھی فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ شدید دمے میں مونوکلونل اینٹی باڈیز جیسی جدید دوائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
Last Words on Asthma in Urdu
دمہ ایک عام مگر قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اگر اس کی علامات کو بروقت پہچان لیا جائے، محرکات سے بچاؤ کیا جائے، تجویز کردہ دوا باقاعدگی سے استعمال کی جائے اور معالج سے مسلسل رابطہ رکھا جائے تو زیادہ تر مریض ایک معمول، صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
اس کے برعکس علامات کو نظر انداز کرنا، دوا میں خود سے تبدیلی کرنا یا علاج چھوڑ دینا شدید حملوں اور جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے دمہ کے ہر مریض کو اپنی بیماری کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کرنا چاہیے۔
FAQs
What is the meaning of asthma in Urdu?
دمہ ایک عربی لفظ ہے جو اردو میں بھی اسی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سانس کا پھولنا یا سانس لینے میں شدید تکلیف ہونا۔ طب کی زبان میں دمہ سانس کی نالیوں کی ایک دائمی سوزش کی بیماری ہے۔ جس میں یہ نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور ہوا کا گزر مشکل ہو جاتا ہے۔
عام بول چال میں اسے سانس کی بیماری یا دم کا مرض بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری وقفے وقفے سے ابھرتی ہے اور بعض اوقات اس کے حملے اچانک اور شدت سے آتے ہیں۔ دمہ بچوں اور بڑوں دونوں کو ہو سکتا ہے۔ اور یہ دنیا کی سب سے عام دائمی بیماریوں میں شمار ہوتا ہے۔
What are the symptoms of asthma?
دمہ کی علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ سب سے عام علامت سانس کا پھولنا ہے جو آرام کی حالت میں بھی ہو سکتا ہے۔ سانس لیتے یا چھوڑتے وقت سیٹی جیسی آواز آنا بھی دمہ کی پہچان ہے۔ سینے میں جکڑن، بھاری پن یا درد بھی محسوس ہوتا ہے۔
کھانسی خاص طور پر رات کے وقت یا صبح سویرے زیادہ ہوتی ہے۔ ورزش یا ٹھنڈی ہوا میں علامات اچانک بڑھ جاتی ہیں۔ شدید حملے میں بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور مریض سیدھا لیٹ نہیں سکتا۔ یہ علامات کچھ وقت کے بعد خود بخود یا دوا سے بہتر ہو جاتی ہیں۔ لیکن علاج نہ ہو تو حالت سنگین ہو سکتی ہے۔
What is the meaning bronchial asthma?
برونکیل دمہ دراصل دمہ کا ہی دوسرا نام ہے جو طب میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ برونکیل کا مطلب ہے سانس کی چھوٹی نالیاں جنہیں برونکائی کہتے ہیں۔ جب ان نالیوں میں سوزش آتی ہے۔ یہ پھول جاتی ہیں۔ ان میں بلغم بھر جاتا ہے اور ان کے گرد پٹھے سکڑ جاتے ہیں تو سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہی کیفیت برونکیل دمہ کہلاتی ہے۔ عام دمہ اور برونکیل دمہ میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک ہی بیماری کے دو نام ہیں۔ یہ اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ بیماری خاص طور پر سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے۔ نہ کہ پھیپھڑوں کے کسی اور حصے کو۔
How do doctors define asthma attack?
ڈاکٹروں کے مطابق دمہ کا حملہ ایک ایسی کیفیت ہے۔ جس میں سانس کی نالیاں اچانک تنگ ہو جاتی ہیں، سوج جاتی ہیں اور بلغم سے بھر جاتی ہیں۔ اس دوران مریض کو شدید سانس کی تکلیف ہوتی ہے۔ کھانسی بڑھ جاتی ہے اور سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے۔
حملے کی شدت کا اندازہ پیک فلو میٹر سے لگایا جاتا ہے۔ اگر پیک فلو معمول کا 50 فیصد سے کم ہو تو حملہ شدید سمجھا جاتا ہے۔ شدید حملے میں مریض کی سانس بہت تیز ہوتی ہے۔ نبض تیز چلتی ہے اور پورے جملے بولنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسے میں فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔ کیونکہ بروقت علاج نہ ملے تو یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔
Is there any desi ilaj available for asthma?
دمہ ایک طبی طور پر ثابت شدہ بیماری ہے۔ جس کا علاج ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جانا ضروری ہے۔ کسی بھی گھریلو یا دیسی نسخے کو ڈاکٹری علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم کچھ احتیاطی عادات علامات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں جیسے محرکات سے دور رہنا، گھر کو صاف رکھنا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھنا۔
اگر آپ کو دمہ کی علامات محسوس ہوں تو سب سے پہلا قدم کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہے۔ اپنی مرضی سے علاج بند کرنا یا دیسی نسخوں پر انحصار کرنا بیماری کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے ہمیشہ طبی مشورہ لیں۔