کینڈی ڈیاسس ایک فنگس سے ہونے والا انفیکشن ہے۔ جو کینڈیڈا نامی خمیر کی زیادتی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ عام حالات میں یہ خمیر جلد، منہ، آنتوں اور خواتین کی شرمگاہ میں تھوڑی مقدار میں موجود رہتا ہے۔ اور کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔ جسم میں موجود مفید جراثیم اور مدافعتی نظام اس کی تعداد کو قابو میں رکھتے ہیں۔
جب کسی وجہ سے یہ توازن بگڑ جائے تو کینڈیڈا تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ اور انفیکشن پیدا کر دیتا ہے۔ یہی کیفیت کینڈی ڈیاسس کہلاتی ہے۔ یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ جن میں جلد، منہ، گلا، ناخن، غذائی نالی، خواتین کی شرمگاہ اور بعض صورتوں میں خون اور اندرونی اعضا بھی شامل ہیں۔
کینڈیڈا کی 200 سے زیادہ اقسام دریافت ہو چکی ہیں۔ جن میں سے تقریباً 20 اقسام انسانوں میں بیماری پیدا کرتی ہیں۔ ان میں سب سے عام اور خطرناک قسم کینڈیڈا البیکنز ہے۔ اس کے علاوہ کینڈیڈا گلابراٹا، کینڈیڈا ٹراپیکلس، اور کینڈیڈا آریس بھی انسانی صحت کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
Types of Candidiasis in Urdu
کینڈی ڈیاسس کی کئی اقسام ہیں اور ہر قسم کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔
Cutaneous Candidiasis
جلد کی تہوں میں جہاں نمی اور گرمی زیادہ ہو، جیسے بغل، چھاتی کے نیچے، کمر اور سرین کے درمیان، وہاں یہ انفیکشن ہو سکتی ہے۔ جلد پر سرخی، خارش اور جلن ہوتی ہے اور چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوتے ہیں۔ بچوں میں ڈائپر کی وجہ سے ہونے والا دانہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
اگر بروقت علاج نہ ہو تو جلدی کینڈی ڈیاسس بیکٹیریا کے انفیکشن میں بدل کر جلد کی سوزش تک پہنچ سکتی ہے۔
Oral Candidiasis
یہ قسم منہ، گلے اور زبان کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں زبان، تالو اور گالوں کے اندر سفید دھبے بن جاتے ہیں۔ منہ میں درد، ذائقے کا احساس ختم ہونا اور نگلنے میں تکلیف اس کی عام علامات ہیں۔
نوزائیدہ بچے، بوڑھے افراد، ذیابیطس کے مریض، اور وہ لوگ جو قوت مدافعت کم کرنے والی دوائیں استعمال کرتے ہیں، انہیں یہ انفیکشن زیادہ ہوتی ہے۔ دمے کے مریض جو سانس کے ذریعے اسٹیرائڈ استعمال کرتے ہیں، انہیں استعمال کے فوراً بعد پانی سے کلی کرنی چاہیے۔
Esophageal Candidiasis
یہ قسم غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے اور عام طور پر ایڈز یا قوت مدافعت کی کمزوری والے افراد میں ہوتی ہے۔ اس میں کھانا نگلنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے اور سینے کے پیچھے درد محسوس ہوتا ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو غذائی نالی میں زخم، سوراخ اور سختی جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں
Vulvovaginal Candidiasis
یہ خواتین میں سب سے عام قسم ہے۔ 75 فیصد خواتین کو زندگی میں کم از کم ایک بار یہ انفیکشن ہوتی ہے۔ اس میں اندام نہانی میں شدید خارش، جلن، سرخی اور سفید گاڑھا مادہ خارج ہوتا ہے۔ پیشاب اور ہم بستری کے دوران بھی تکلیف ہو سکتی ہے۔
حمل، ذیابیطس، اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال اور ہارمونی تبدیلیاں اس انفیکشن کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
Candidal Balanitis
یہ مردوں میں عضو تناسل کے اگلے حصے کو متاثر کرتی ہے۔ اور خاص طور پر غیر ختنہ شدہ مردوں اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں جلن، خارش، سرخی اور سفید مادہ نظر آتا ہے۔
Invasive Candidiasis
یہ سب سے خطرناک قسم ہے جس میں کینڈیڈا خون میں داخل ہو کر دل، گردے، جگر، آنکھیں، دماغ اور ہڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کی شرح اموات 35 سے 70 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
Causes of Candidiasis in Urdu
کینڈی ڈیاسس اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں فائدہ مند جراثیم اور کینڈیڈا خمیر کا توازن بگڑ جائے۔ اس توازن کو بگاڑنے والے عوامل میں شامل ہیں۔
- اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال: یہ ادویات فائدہ مند جراثیم کو بھی ختم کر دیتی ہیں جس سے کینڈیڈا بے قابو ہو جاتا ہے۔
- کمزور قوت مدافعت: ایڈز، کینسر یا اعضاء کی پیوندکاری کے بعد قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔
- ذیابیطس: خون میں شکر کی زیادتی کینڈیڈا کی افزائش کو تیز کرتی ہے۔
- حمل اور ہارمونی تبدیلیاں: ہارمونز میں تبدیلی کینڈیڈا کے پھیلاؤ کا موقع دیتی ہے۔
- اسٹیرائڈ اور دیگر ادویات: یہ ادویات جسم کی قدرتی مدافعت کو کمزور کرتی ہیں۔
- مرکزی رگ میں نلکی کا استعمال: خون کی نالیوں میں نلکیاں کینڈیڈا کو براہ راست خون میں داخل ہونے کا راستہ دیتی ہیں۔
- آئی سی یو میں داخلہ: انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل مریض زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
- زیادہ چینی اور نشاستے دار غذا: ایسی غذا کینڈیڈا کی افزائش میں مددگار ہو سکتی ہے۔
Symptoms
علامات انفیکشن کی جگہ کے مطابق مختلف ہوتی ہیں، تاہم عام علامات میں درج ذیل شامل ہیں۔
- خارش
- جلن
- درد یا سوزش
- جلد پر سرخ دانے یا دھبے
- منہ میں سفید تہہ یا سفید زخم
- ذائقے میں تبدیلی یا کمی
- نگلنے میں دشواری
- غیر معمولی اندام نہانی رطوبت
- بخار اور کپکپی، خصوصاً شدید انفیکشن میں
اگر انفیکشن خون میں پھیل جائے تو بخار، شدید کمزوری اور مختلف اعضا کے متاثر ہونے کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
Diagnosis
جلد اور منہ کی کینڈی ڈیاسس اکثر ظاہری معائنے سے پہچانی جا سکتی ہے۔ تاہم تصدیق کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:
منہ یا جلد سے نمونہ لے کر خوردبین سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ جس میں خمیر کے خلیے اور تار نما ساخت نظر آتی ہے۔ اندام نہانی کے مادے میں تیزابیت کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔ جو کینڈیڈا میں عام (4 سے 4.5) رہتی ہے۔
خون میں کینڈیڈا کا پتہ لگانے کے لیے خون کا کلچر کیا جاتا ہے، تاہم 30 سے 50 فیصد کیسوں میں یہ منفی بھی آ سکتا ہے۔ اس لیے جدید طریقے جیسے بیٹا-ڈی-گلوکان ٹیسٹ اور مالیکیولر ٹیسٹ بھی استعمال ہوتے ہیں۔
Treatment of Candidiasis in Urdu
کینڈی ڈیاسس کا بنیادی علاج پھپھوندی مخالف ادویات سے کیا جاتا ہے۔ علاج انفیکشن کی جگہ اور شدت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
- ہلکی انفیکشن کے لیے: جلد، منہ اور اندام نہانی کی ہلکی انفیکشن کے لیے نسٹاٹن، کلوٹریمازول اور مائیکونازول جیسی اوپری ادویات (کریم، لوشن یا لوزنج) کافی ہوتی ہیں۔
- درمیانی اور شدید انفیکشن کے لیے: منہ سے کھائی جانے والی فلوکونازول سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے۔ غذائی نالی کی انفیکشن میں یہ 14 سے 21 دن تک دی جاتی ہے۔
- حملہ آور کینڈی ڈیاسس کے لیے: ایکینوکینڈن ادویات پہلی ترجیح ہیں۔ لیپوسومل ایمفوٹیریسن بھی استعمال کی جاتی ہے۔
- حمل کے دوران: منہ سے کھائی جانے والی ادویات نقصاندہ ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف اوپری ادویات محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
علاج مکمل کرنا ضروری ہے، چاہے علامات پہلے ختم ہو جائیں۔ ادھورا علاج دوبارہ انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
Candidiasis Prevention
کینڈی ڈیاسس سے مکمل بچاؤ ہمیشہ ممکن نہیں، لیکن چند احتیاطی تدابیر خطرہ کم کر سکتی ہیں۔
- جسم اور منہ کی صفائی کا خیال رکھیں۔
- ذیابیطس کو قابو میں رکھیں۔
- غیر ضروری جراثیم کش ادویات استعمال نہ کریں۔
- پسینے والے کپڑے جلد تبدیل کریں۔
- روئی کے زیر جامے استعمال کریں۔
- شرمگاہ میں خوشبو دار مصنوعات کے استعمال سے گریز کریں۔
- مصنوعی دانتوں کی مناسب صفائی کریں۔
- دمہ کی سانس والی دوا استعمال کرنے کے بعد منہ پانی سے صاف کریں۔
- سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔
- مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنے کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔
Final Thoughts on Candidiasis in Urdu
کینڈی ڈیاسس ایک عام لیکن اہم فنگس انفیکشن ہے۔ جو جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہلکی صورتوں میں یہ خارش، جلن اور تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ شدید صورت میں خون اور اندرونی اعضا تک پھیل کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
بروقت تشخیص، مناسب فنگس کش علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے زیادہ تر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اگر خارش، سفید دھبے، غیر معمولی رطوبت، جلن یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو جلد از جلد معالج سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
FAQs
What is the meaning of candidiasis in Urdu?
کینڈی ڈیاسس ایک فنگس انفیکشن ہے جو کینڈیڈا نامی خمیر کی غیر معمولی افزائش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اردو میں اسے خمیری انفیکشن کہا جا سکتا ہے۔ عام حالات میں کینڈیڈا جلد، منہ، آنتوں اور خواتین کی شرمگاہ میں محدود مقدار میں موجود رہتا ہے اور نقصان نہیں پہنچاتا۔ جب جسم میں موجود مفید جراثیم اور خمیر کے درمیان توازن بگڑ جائے تو یہ تیزی سے بڑھ کر انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔
اس بیماری کی شدت انفیکشن کی جگہ اور مریض کی صحت پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض افراد میں یہ صرف جلد یا منہ تک محدود رہتا ہے جبکہ کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں خون اور اندرونی اعضا تک بھی پھیل سکتا ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے زیادہ تر مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
What are the types of candidiasis?
کینڈی ڈیاسس کی کئی اقسام ہیں جو جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں۔ جلد کا کینڈی ڈیاسس جلد کی تہوں میں خارش، سرخی اور دانوں کا سبب بنتا ہے۔ منہ اور گلے کا کینڈی ڈیاسس، جسے تھرش کہا جاتا ہے۔ زبان اور منہ میں سفید دھبے پیدا کرتا ہے۔ غذائی نالی کا کینڈی ڈیاسس نگلنے میں درد اور دشواری کا باعث بن سکتا ہے۔
خواتین کی شرمگاہ کا کینڈی ڈیاسس خارش، جلن اور سفید رطوبت پیدا کرتا ہے۔ ناخنوں کا کینڈی ڈیاسس ناخنوں کے اردگرد سوجن اور درد کا سبب بنتا ہے۔ ایک خطرناک قسم پھیلنے والا کینڈی ڈیاسس ہے۔ جس میں فنگس خون میں داخل ہو کر دل، گردوں، جگر اور دیگر اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ حالت فوری طبی توجہ کی متقاضی ہوتی ہے۔
Who are at higher risk of candidiasis?
کینڈی ڈیاسس کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کر سکتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ نوزائیدہ بچے اور بزرگ افراد زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض، خاص طور پر وہ جن کا خون میں شکر کی سطح قابو میں نہ ہو، زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
حاملہ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی کے باعث خمیری انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ طویل عرصے تک جراثیم کش ادویات استعمال کرنے والے افراد میں بھی یہ بیماری زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ اسپتال میں داخل مریض، رگ میں نلکی لگوانے والے افراد، سرطان یا ایچ آئی وی کے مریض اور مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کرنے والے لوگ بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
What is the treatment for candidiasis?
کینڈی ڈیاسس کا علاج پھپھوندی مخالف ادویات سے کیا جاتا ہے۔ ہلکی انفیکشن کے لیے نسٹاٹن، کلوٹریمازول اور مائیکونازول جیسی اوپری ادویات کافی ہوتی ہیں۔ درمیانی اور شدید انفیکشن میں منہ سے کھائی جانے والی فلوکونازول تجویز کی جاتی ہے۔ غذائی نالی کی انفیکشن میں یہ دوا 14 سے 21 دن تک دی جاتی ہے۔
حملہ آور کینڈی ڈیاسس میں ایکینوکینڈن ادویات رگ کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ حمل کے دوران صرف اوپری ادویات محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ علاج مکمل کرنا ضروری ہے چاہے علامات پہلے ختم ہو جائیں، ورنہ انفیکشن دوبارہ ہو سکتی ہے۔ معالج کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں۔
What is the reason of candidiasis in women?
خواتین میں کینڈی ڈیاسس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ حمل کے دوران ہارمونز میں تبدیلی اندام نہانی کی قدرتی تیزابیت کو متاثر کرتی ہے۔ جس سے کینڈیڈا بڑھنے لگتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات فائدہ مند جراثیم کو ختم کر دیتی ہیں۔ ذیابیطس میں شکر کی زیادتی بھی کینڈیڈا کی افزائش میں مددگار ہوتی ہے۔
مانع حمل گولیاں اور ماہواری کے دوران ہارمونی اتار چڑھاؤ بھی خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ تنگ اور مصنوعی کپڑے، خوشبودار صابن اور اندام نہانی کو دھونے کی غلط عادتیں بھی انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔ کمزور قوت مدافعت اور ذہنی تناؤ بھی اس انفیکشن کو دعوت دیتے ہیں۔