سروائیکل کینسر خواتین میں پائے جانے والے سب سے عام کینسروں میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری بچہ دانی کے نچلے حصے سے شروع ہوتی ہے جسے “سروکس” کہتے ہیں۔ وہ حصہ جو بچہ دانی کو اندام نہانی سے جوڑتا ہے۔ اگرچہ یہ بیماری خطرناک ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو اس کا کامیاب علاج ممکن ہے۔
جب بچہ دانی کے نچلے حصے کے خلیے غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، تو اسے سروائیکل کینسر کہا جاتا ہے۔ یہ خلیے پہلے غیر معمولی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جنہیں ابتدائی مرحلے کی تبدیلیاں کہا جاتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ کینسر میں بدل جاتے ہیں۔
اس بیماری کی دو بڑی اقسام ہیں۔ پہلی قسم “اسکویمس سیل کارسینوما” ہے جو تقریباً اسی سے نوے فیصد کیسز میں پائی جاتی ہے۔ دوسری قسم “اڈینو کارسینوما” ہے جو دس سے بیس فیصد کیسز میں دیکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات دونوں اقسام ایک ساتھ بھی پائی جا سکتی ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2022 میں، تقریباً 660000 خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ خواتین اس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی تھیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا کا ہر ملک کوشش کر رہا ہے کہ اس جان لیوا بیماری کو جڑ سے ختم کیا جائے۔
Causes of Cervical Cancer
تقریباً تمام سروائیکل کینسر کے کیسز ایک وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں جسے “ہیومن پیپیلوما وائرس” کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس جسمانی تعلق کے ذریعے پھیلتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں میں جسم کا مدافعتی نظام اس وائرس کو خود ہی ختم کر دیتا ہے۔ لیکن جب یہ وائرس جسم میں دیر تک باقی رہے تو یہ خلیوں میں تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے جو آگے چل کر کینسر کا سبب بنتی ہیں۔
عام طور پر یہ عمل پندرہ سے بیس سال میں مکمل ہوتا ہے، لیکن اگر مدافعتی نظام کمزور ہو تو یہ عمل تیزی سے بھی ہو سکتا ہے۔
دیگر اہم عوامل میں شامل ہیں
- کم عمری میں ازدواجی تعلقات
- متعدد شریک حیات
- تمباکو نوشی
- دیگر جنسی بیماریوں کا ہونا
- جسمانی مدافعت کا کمزور ہونا
اہم بات: اس وائرس کی سو سے زیادہ اقسام ہیں۔ جن میں سے تقریباً ایک درجن اقسام کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ عام طور پر ابتدائی خلیاتی تبدیلیوں کو کینسر بننے میں پندرہ سے بیس سال لگتے ہیں۔
Risk Factors
کچھ عوامل اس بیماری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں
- تمباکو نوشی: سگریٹ پینے والی خواتین میں وائرس زیادہ دیر تک باقی رہتا ہے
- مدافعتی نظام کی کمزوری: خاص طور پر ایچ آئی وی میں مبتلا خواتین کو چھ گنا زیادہ خطرہ ہوتا ہے
- کم عمری میں جسمانی تعلق قائم کرنا
- دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں جیسے ہرپس، کلیمائیڈیا، یا سوزاک
- خاندانی تاریخ: جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں
- ایک مخصوص دوا “ڈائتھائل اسٹیل بیسٹرول” — جو حمل کے دوران ماں کو دی گئی ہو
Symptoms of Cervical Cancer in Urdu
سروائیکل کینسر ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی علامت ظاہر نہیں کرتا۔ اسی لیے باقاعدہ جانچ بہت ضروری ہے۔ جب کینسر پھیلنا شروع ہوتا ہے تو درج ذیل علامات سامنے آ سکتی ہیں:
- ماہواری کے درمیان یا جسمانی تعلق کے بعد غیر معمولی خون آنا
- ماہواری کا معمول سے زیادہ بھاری یا لمبا ہونا
- بدبودار یا خون آمیز اندام نہانی کا بہاؤ
- جسمانی تعلق کے دوران درد
- کمر، ٹانگوں یا شرمگاہ میں مسلسل درد
- پیشاب یا پاخانے میں دشواری یا خون
- بلاوجہ وزن کم ہونا، تھکاوٹ اور بھوک نہ لگنا
- ٹانگوں میں سوجن
یاد رکھیں: اگر ان میں سے کوئی بھی علامت نظر آئے تو فوری طور پر کسی معالج سے رجوع کریں۔ ابتدائی مرحلے میں علاج کامیاب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
4 Stages of Cervical Cancer
سروائیکل کینسر کو چار مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے
First Stage
کینسر صرف سروکس تک محدود ہے اور کہیں نہیں پھیلا۔ علاج کی کامیابی کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
Second Stage
کینسر بچہ دانی سے باہر پھیل چکا ہے لیکن ابھی شرمگاہ کی نچلی دیوار تک نہیں پہنچا۔
Third Stage
کینسر اندام نہانی کے نچلے حصے، شرمگاہ کی دیواروں اور قریبی لمف غدودوں تک پھیل گیا ہے۔
Fourth Stage
کینسر مثانے، آنتوں یا جسم کے دیگر اعضاء تک پھیل چکا ہے۔ یہ سب سے سنگین مرحلہ ہے۔
How to Diagnose It?
باقاعدہ اسکریننگ سروائیکل کینسر کی بروقت تشخیص کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ پیپ ٹیسٹ (جسے پیپ سمیئر بھی کہتے ہیں) سروکس کے خلیوں کو خوردبین سے جانچتا ہے۔ اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو کینسر سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے۔
اگر پیپ ٹیسٹ غیر معمولی نتیجہ دے تو معالج “کولپوسکوپی” کرتے ہیں جس میں سروکس کے خلیوں کو بڑا کر کے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی بایوپسی سے بھی نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے۔ اگر کینسر کی تصدیق ہو جائے تو پھر ایکس رے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ کتنا پھیل چکا ہے۔
Treatments for Cervical Cancer in Urdu
سروائیکل کینسر کا علاج کینسر کے مرحلے، مریضہ کی عمر اور صحت کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ علاج کے اہم طریقے یہ ہیں
Surgery
ابتدائی مرحلے میں صرف کینسر زدہ حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ شدید صورتوں میں بچہ دانی بھی نکالی جا سکتی ہے۔
Radiotherapy
طاقتور توانائی کی شعاعوں سے کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ جسم کے اندر یا باہر سے دی جا سکتی ہیں۔
Chemotherapy
دوائیں خون کے ذریعے پورے جسم میں کینسر کے خلیوں کو ختم کرتی ہیں۔ اسے اکثر تابکاری کے ساتھ ملا کر دیا جاتا ہے۔
Specific Medicines
مخصوص دوائیں صرف کینسر کے خلیوں کو نشانہ بناتی ہیں، صحت مند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔
Immunology
دوائیں جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر پہچاننے اور اس سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔
How to Prevent Cervical Cancer?
Vaccination
نو سے چودہ سال کی لڑکیوں کو وائرس کا ٹیکہ لگوانا سب سے موثر بچاؤ ہے۔ یہ ٹیکہ اس وائرس کے خلاف تحفظ دیتا ہے جو ستتر فیصد کینسر کا سبب ہے۔
Screening
تیس سال کی عمر سے ہر پانچ سے دس سال بعد جانچ ضروری ہے۔ اکیس سال کی عمر سے پیپ ٹیسٹ شروع کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
No Smoking
سگریٹ پینا کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تمباکو نوشی ترک کرنا صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے ہم بار بار آپ سے یہ کہتے ہیں سگریٹ نوشی کے نقصانات جانیں اور اس بری عادت کو خیر آباد کہیں۔
Safe Sex
محفوظ جسمانی تعلق کا خیال رکھنا وائرس کی منتقلی کو کم کرتا ہے اور کینسر کا خطرہ گھٹاتا ہے۔
Last Words
سروائیکل کینسر ایک سنجیدہ مگر قابلِ بچاؤ اور قابلِ علاج بیماری ہے۔ اس سے بچنے کے لیے آگاہی، باقاعدہ معائنہ اور احتیاطی تدابیر نہایت ضروری ہیں۔
اگر خواتین اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ اور علامات ظاہر ہونے پر فوری اقدام کریں تو اس بیماری کو نہ صرف روکا جا سکتا ہے۔ بلکہ بروقت علاج کے ذریعے مکمل صحت یابی بھی ممکن ہے۔
اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بروقت قدم ہی زندگی بچا سکتا ہے۔
FAQs
What is the meaning of cervical cancer in Urdu?
سروائیکل کینسر کو اردو میں “بچہ دانی کے منہ کا کینسر” کہتے ہیں۔ بچہ دانی کا نچلا حصہ جو اندام نہانی سے جڑا ہوتا ہے۔ اسے “سروکس” کہتے ہیں۔ جب اس حصے کے خلیے غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو اسے سروائیکل کینسر کہا جاتا ہے۔
یہ خواتین میں پائے جانے والا چوتھا سب سے عام کینسر ہے۔ دنیا بھر میں سال دو ہزار بائیس میں چھ لاکھ ساٹھ ہزار نئے کیسز سامنے آئے۔ بروقت تشخیص سے اس کا کامیاب علاج ممکن ہے۔
Why cervical cancer happens?
سروائیکل کینسر کی سب سے بڑی وجہ “ہیومن پیپیلوما وائرس” ہے جو جسمانی تعلق کے ذریعے پھیلتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں میں جسم کا مدافعتی نظام اسے خود ختم کر دیتا ہے۔ لیکن جب یہ وائرس جسم میں دیر تک رہے تو خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں آتی ہیں۔
تمباکو نوشی، کمزور مدافعتی نظام، دیگر جنسی بیماریاں اور ایچ آئی وی اس کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ ابتدائی خلیاتی تبدیلیوں کو مکمل کینسر بننے میں پندرہ سے بیس سال لگتے ہیں۔
What are the symptoms of cervical cancer in Urdu?
ابتدائی مرحلے میں سروائیکل کینسر اکثر کوئی علامت ظاہر نہیں کرتا۔ جب کینسر بڑھنے لگے تو یہ علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ ماہواری کے درمیان یا جسمانی تعلق کے بعد خون آنا، بدبودار یا خون آمیز اندام نہانی کا بہاؤ، جسمانی تعلق کے دوران درد، کمر اور ٹانگوں میں مسلسل درد، پیشاب میں دشواری یا خون، بلاوجہ وزن کم ہونا اور تھکاوٹ۔
ان میں سے کوئی بھی علامت محسوس ہو تو فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔
What is HPV in Urdu?
ایچ پی وی یعنی “ہیومن پیپیلوما وائرس” ایک عام وائرس ہے جو جسمانی تعلق کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ جلد، جنسی اعضاء، مقعد اور گلے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی سو سے زیادہ اقسام ہیں جن میں سے تقریباً ایک درجن اقسام کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔
زیادہ تر لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ انہیں یہ وائرس ہوا کیونکہ کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ ایچ پی وی کی اقسام سولہ اور اٹھارہ مل کر سروائیکل کینسر کے تقریباً ستتر فیصد کیسز کا سبب بنتی ہیں۔
What is the vaccine of cervical cancer?
سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ٹیکہ نو سے چودہ سال کی لڑکیوں کو لگانا سب سے زیادہ موثر ہے کیونکہ اس عمر میں انہوں نے جسمانی تعلق قائم نہیں کیا ہوتا۔ دنیا میں اس وقت آٹھ منظور شدہ ٹیکے موجود ہیں۔
یہ ٹیکہ کینسر کے ستتر فیصد کیسز کا سبب بننے والے وائرس کے خلاف تحفظ دیتا ہے۔ کمزور مدافعتی نظام والی خواتین کو دو یا تین خوراکیں دی جاتی ہیں۔ ٹیکہ لگوانے کے بعد بھی باقاعدہ اسکریننگ ضروری ہے۔