یہ تصویر دکھا رہی ہے کہ کیموتھراپی کیا ہے۔

کیموتھراپی کیا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں

بہت سارے لوگوں کی طرح کیا آپ کے ذہن میں بھی یہی سوال ہے کہ کیموتھراپی کیا ہے؟ کیمو تھراپی مثانے، معدے، بریسٹ، اور بلڈ کینسر کا ایک عام علاج ہے۔ اسے قریبا کینسر کی ہر قسم کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 لیکن کیموتھراپی کا فیصلہ آپ کے کینسر کی سٹیج کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ ایک آنکالوجسٹ ہی آپ کے لیے کیموتھراپی کو تجویز کر سکتا ہے۔ کیموتھراپی کو سب سے زیادہ استعمال بھی کینسر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ کینسر کے سیلز بہت تیزی سے جسم میں پھیلتے ہیں۔

کیموتھراپی میں کینسر کے سیلز کو ختم کرنے کے لیے ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان ادویات میں نہایت طاقت ور کیمیکلز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کیموتھراپی کو دوسرے علاج جیسا کہ ریڈی ایشن تھراپی کے ساتھ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔ تا کہ کینسر کو مختصرا وقت میں ہی ختم کیا جا سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کیموتھراپی منہ کے کینسر کا بہترین علاج ہوتی ہے۔ لیکن اس کے مضر صحت اثرات بھی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثرات نہایت سخت اور شدید ہوتے ہیں۔

کیموتھراپی کیا ہے اور کیوں کی جاتی ہے؟

یہ تو آپ نے جان لیا ہے کہ کیموتھراپی کیا ہے۔ اب ہم تفصیل سے یہ جان لیتے ہیں کہ کیموتھراپی کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی مریض کو کیوں دی جاتی ہے۔

کینسر کا علاج

کیموتھراپی کو سب سے زیادہ کینسر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ کیموتھراپی اکیلی ہی کافی ہوتی ہے۔ جب کہ کئی مرتبہ اسے دوسری تھراپیز یعنی ریڈی ایشن تھراپی یا امیونو تھراپی کے ساتھ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔ کمیوتھراپی کا دوسرے طریقہ علاج کے ساتھ کمبی نیشن مؤثر طریقے سے کینسر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کینسر کے خفیہ سیلز کا خاتمہ

کئی بار سرجری کے بعد بھی جسم میں کینسر کے کچھ سیلز موجود رہ سکتے ہیں۔ اس صورت میں پھر کیموتھراپی کو استعمال کیا جاتا ہے تا کہ کینسر کے ان بچ جانے والے سیلز کو ختم کیا جا سکے۔ طبی ماہرین اس تھراپی کو ایڈجوَنٹ تھراپی کا نام دیتے ہیں۔

دوسرے علاج کیطرف پہلا قدم

بعض اوقات کیموتھراپی کینسر کے علاج کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے۔ یعنی اس کو ٹیومر کو سکیڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹیومر کا سکڑنا نہایت ضروری ہوتا ہے کیوں کہ اس بغیر ریڈی ایشن سرجری ممکن نہیں ہوتی۔ اس لیے ٹیومر کو سکیڑ کر ریڈی ایشن سرجری کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

علامات کی شدت میں کمی

کیمو کو کینسر کی علامات کی شدت میں کمی لانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ علامات کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیموتھراپی کی مدد سے کینسر کے کچھ سیلز کو ختم کیا جاتا ہے۔

کینسر کے علاوہ کیموتھراپی کچھ دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

بون میرو کی بیماریوں کا علاج

جن لوگوں کو بون میرو کے مسائل لاحق ہوتے ہیں۔ ان میں عام طور پر بون میرو ٹرانسپلانٹ ضروری ہو جاتا ہے۔ کیموتھراپی کی مدد سے ایسے لوگوں کے جسم کی مدد کی جاتی ہے تا کہ وہ بون میرو کو قبول کر سکے۔

امیون سسٹم کے مسائل

کیموتھراپی کی ہلکی ڈوز سے اووَر ایکٹو امیون سسٹم کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کئی بیماریوں جیسا کہ لیوپس اور آرتھرائٹس میں آپ کا امیون سسٹم اوور ایکٹو ہو جاتا ہے۔

کیموتھراپی کام کیسے کرتی ہے؟

عام طور پر آپ کے جسم میں سیلز بنتے ہیں اور پھر قدرتی طور پر بڑھتے رہتے ہیں۔ ہر سیل اپنے ڈی این اے کی کاپی بناتا ہے اور پھر دو نئے سیلز میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس عمل کو سیل سائیکل کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک خاص وقت میں ہی سیلز ملٹی پلائے یعنی بڑھتے ہیں اور عمر پوری ہونے پر ختم ہو جاتے ہیں۔

بعض اوقات سیلز کے بننے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سیلز نہایت تیزی کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پھر آپ کو کینسر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

کیموتھراپی پھر انہی سیلز کو ٹارگٹ کرتی ہے۔ کیمو سے آپ کے سیلز کے بڑھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ سرجری کے برعکس کیموتھراپی آپ کے پورے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے اور کینسر کے سیلز کو کنٹرول کرتی ہے۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ کیمو کینسر کے سیلز کو ختم کرتی ہے۔ لیکن یہ صحت مند سیلز کو بھی ختم کر سکتی ہے۔ جس سے آپ کو مضر صحت اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کیا کمیو تھراپی تکلیف دہ ہے؟

کمیوتھراپی عام طور پر تکلیف دہ نہیں ہوتی۔ خاص طور پر جب آپ اسے گولیوں کی صورت میں لیتے ہیں۔ جِلد کے کینسر کے علاج میں کریمز کا استعمال بھی تکلیف دہ نہیں ہوتا۔

جب اسے آپ انجیکشن سے لیتے ہیں تو پھر آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سوئی چبھنے کی وجہ سے معمولی سی جلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ احساس جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔

کیموتھراپی کو زیادہ تر ہسپتالوں اور کلینکس میں دیا جاتا ہے۔ اور یہ وریدوں میں دی جاتی ہے۔ کیموتھراپی کا سیشن آدھے گھنٹے سے لے کر کئی گھنٹوں تک چل سکتا ہے۔

کیموتھراپی کے اثرات

کیمو تھراپی کی وجہ سے آپ کو کچھ معمولی اور شدید اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان اثرات میں خون کی کمی، خون بہنا یعنی بلیڈنگ، قبض، اور اسہال شامل ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کو تھکاوٹ، بالچر، انفیکشن، بھوک کی کمی، متلی، اور قے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیموتھراپی کے دوران آپ اپنے ڈاکٹر سے رابطے میں رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان اثرات کو آسانی کے ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کیمو تھراپی کے مضر صحت اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسے عشروں سے کینسر کے علاج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور کیموتھراپی کینسر کا مفید علاج بھی ہے۔ یہ آپ میں کینسر کی علامات کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کیموتھراپی دوسرے طریقہ علاج کو بھی مؤثر بنا دیتی ہے۔

کیموتھراپی کا فیصلہ

آپ کے کینسر کے علاج کے لیے کیموتھراپی کا فیصلہ ہمیشہ آپ کا آنکالوجسٹ کرے گا۔ کیوں کہ یہ ایک جان لیوا بیماری ہے اس لیے ہر قدم پر طبی ماہرین کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔

ایک آنکالوجسٹ سب سے پہلے آپ کے کینسر کی قسم کو دیکھتا ہے۔ پھر کینسر کی سٹیج کو مد نظر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ آنکالوجسٹ آپ کی مجموعی صحت کو بھی دیکھتا ہے۔ اسے یہ بات بھی دیکھنا ہوتی ہے کہ آپ نے ماضی میں کینسر کا کوئی علاج لیا ہے یا نہیں۔ پھر ہی وہ کیموتھراپی کا فیصلہ کرتا ہے۔

کچھ آخری الفاط

کیموتھراپی کیا ہے؟ اور یہ کب تجویز کی جاتی ہے۔ ان سمیت بہت سارے سوالات کے جوابات اس بلاگ میں دیے گئے ہیں۔ کیموتھراپی اس میں کوئی شک نہیں کہ کینسر کا ایک بہترین علاج سمجھی جاتی ہے۔ اس کی مدد سے بریسٹ کینسر کا بھی علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن کوشش کیجیے کہ ایک تجربہ کار آنکالوجسٹ اور بہترین ہسپتال سے ہی کیموتھراپی لی جائے۔

سوالات و جوابات

کیمو کیا ہے؟

کیمو ایک طریقہ علاج ہے جس کی مدد سے کینسر کے سیلز کی افزائش کو روکا یا مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے۔ تاہم کیمو کی وجہ سے آپ کو کچھ مضر صحت اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کیموتھراپی کا فیصلہ کون کرتا ہے؟

کیموتھراپی کا فیصلہ ہمیشہ ایک آنکالوجسٹ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ ایک آنکالوجسٹ سب سے پہلے آپ میں کینسر کی قسم اور سٹیج کو دیکھتا ہے۔ پھر آپ کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیموتھراپی تجویز کرتا ہے۔

کیا کیموتھراپی تکلیف دہ ہے؟

عام طور پر کیموتھراپی تکلیف دہ نہیں ہوتی۔ تاہم اس کی وجہ سے آپ کو کچھ مضر صحت اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان اثرات کو پھر آنکالوجسٹ کی مدد سے پھر کنٹرول کر لیا جاتا ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts