Cyst in kidney can be a serious condition.

Cyst in Kidney Meaning in Urdu and Its Five Stages

گردے کا سسٹ ایک ایسی تھیلی ہوتی ہے۔ جو گردے کی سطح یا اس کے اندر موجود ساختوں میں بن سکتی ہے۔ اس تھیلی کی دیوار عموماً پتلی ہوتی ہے، اور اس کے اندر پانی جیسا سیال موجود ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ گردے میں سسٹ بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر سسٹ بے ضرر ہوتے ہیں۔ اور گردے کے کام کو متاثر نہیں کرتے۔

تاہم ہر گردے کا سسٹ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ سسٹ سادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ پیچیدہ ساخت رکھتے ہیں۔ اور ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سسٹ کی نوعیت، اس کا حجم، دیوار کی موٹائی اور تصویری معائنے میں نظر آنے والی دوسری خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے۔

گردے انسانی جسم کا اہم فلٹری نظام ہیں۔ گردوں کے اندر موجود نیفرون خون کو صاف کرنے، اضافی پانی اور فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ فاضل مادے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکلتے ہیں۔

گردے کا سسٹ اس وقت بنتا ہے۔ جب نیفرون کی نالی کا کوئی حصہ پھولنا شروع ہو جائے۔ اور اس میں سیال جمع ہونے لگے۔ وقت کے ساتھ یہ ابھار ایک تھیلی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں نیفرون سے الگ بھی ہو جاتا ہے۔
گردے کے سسٹ کا حجم مختلف ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر سسٹ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض وقت کے ساتھ بڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک شخص کے ایک یا دونوں گردوں میں ایک یا کئی سسٹ موجود ہو سکتے ہیں۔

Types of Kidney Cyst

گردے کے سسٹ بنیادی طور پر سادہ اور پیچیدہ سسٹ میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر گردے کے سسٹ سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے کسی بڑے مسئلے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

Simple Kidney Cyst

سادہ سسٹ عام طور پر گول، سیال سے بھرا ہوا اور پتلی دیوار والا ہوتا ہے۔ یہ تقریباً ہمیشہ غیر سرطانی اور بے ضرر ہوتا ہے۔ اکثر ایسے سسٹ کسی علامت کا سبب نہیں بنتے۔ اور انسان کو ان کی موجودگی کا علم بھی نہیں ہوتا۔

بوسنیاک درجہ بندی میں سادہ سسٹ کو پہلے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ اس درجے کے سسٹ میں سرطان کا خطرہ صفر بتایا گیا ہے۔ اور عام طور پر اس کی مسلسل نگرانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

Complex Kidney Cyst

پیچیدہ سسٹ سادہ سسٹ سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس کی دیوار موٹی یا بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔ اس کے اندر جھلی نما حصے موجود ہو سکتے ہیں۔ یا اس میں ٹھوس اجزا نظر آ سکتے ہیں۔ ایسے سسٹ میں سرطان کا امکان سادہ سسٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے پیچیدہ سسٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر اس کی تصویری خصوصیات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے کہ صرف نگرانی کافی ہے یا مزید جانچ اور علاج کی ضرورت ہے۔

Stages of Kidney Cyst in Urdu

بوسنیاک درجہ بندی ایک تصویری نظام ہے۔ جس کے ذریعے گردے کے پیچیدہ سسٹ میں سرطان کے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کے لیے عموماً تضادی مادے کے ساتھ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی استعمال کیے جاتے ہیں۔ عام الٹراساؤنڈ سے بوسنیاک درجہ بندی کرنا قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا۔

اس درجہ بندی میں پانچ درجے ہیں۔

Bosniak I

اس میں بہت پتلی دیوار، پانی جیسی کثافت، جھلیوں یا کیلشیم کے ذخائر کی عدم موجودگی اور تضادی مادے کے بعد نمایاں ہونے والی تبدیلی نہ ہونا شامل ہے۔ اسے سادہ اور بے ضرر سسٹ سمجھا جاتا ہے اور سرطان کا خطرہ تقریباً صفر ہے۔

Bosniak II

اس میں چند بہت پتلی جھلیاں یا ہلکی کیلشیم کی تہیں ہو سکتی ہیں۔ بعض سسٹوں میں پروٹین یا خون کی وجہ سے کثافت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس درجے میں سرطان کا خطرہ تقریباً 0 سے 6 فیصد بتایا گیا ہے۔ اور عام طور پر باقاعدہ نگرانی ضروری نہیں ہوتی۔

Bosniak IIF

یہاں حرف ایف نگرانی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس قسم کے سسٹ میں بوسنیاک دوم کے مقابلے میں زیادہ پیچیدگی پائی جا سکتی ہے۔ سرطان کا خطرہ تقریباً 5 سے 26 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ اس لیے مقررہ وقفوں سے تصویری معائنہ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر 6 یا 12 ماہ بعد اور پھر سالانہ نگرانی پانچ سال تک کی جا سکتی ہے۔

Bosniak III

اس میں سسٹ کی دیوار یا جھلیاں موٹی اور بعض اوقات بے قاعدہ ہوتی ہیں۔ تضادی مادے کے بعد ان میں نمایاں ہونے والی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس درجے میں سرطان کا خطرہ تقریباً 55 سے 72 فیصد بتایا گیا ہے۔ علاج کے لیے گردے کے متاثرہ حصے کو محفوظ رکھتے ہوئے آپریشن یا بعض حالات میں ریڈیو فریکوئنسی کے ذریعے علاج پر غور کیا جا سکتا ہے۔

Bosniak IV

بوسنیاک کی اس قسم میں سوم جیسی خصوصیات کے ساتھ دیوار یا جھلی کے قریب تضادی مادے سے نمایاں ہونے والا ٹھوس بافتی حصہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس درجے میں سرطان کا خطرہ تقریباً 91 سے 100 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ عموماً گردے کے متاثرہ حصے یا بعض حالات میں پورے گردے کو نکالنے کے لیے آپریشن کی سفارش کی جاتی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ بوسنیاک درجہ بندی ہر قسم کے گردے کے سسٹ پر لاگو نہیں ہوتی۔ ٹھوس گردے کی رسولیوں، بعض خون بھرے یا مردہ بافت والے سسٹوں اور پہلے سے مخصوص زیادہ خطرے والی بیماریوں میں اس درجہ بندی کا استعمال مناسب نہیں ہوتا۔

Causes of Kidney Cyst

سادہ گردے کے سسٹ بننے کی مکمل وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق گردے کی نالیوں میں معمولی رکاوٹ یا کسی سابقہ نقصان کے نتیجے میں نالی کا حصہ پھول سکتا ہے۔ اور وہاں سیال جمع ہو کر سسٹ بنا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سسٹ بننے میں گردے کی نالی کے خلیوں کی افزائش، خون کی کمی سے ہونے والے نقصانات اور نالی میں رکاوٹ جیسے عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بعض موروثی تبدیلیاں بھی متعدد گردے کے سسٹ بننے کا سبب بن سکتی ہیں۔

Risk Factors

عمر گردے کے سسٹ کے اہم خطرے کے عوامل میں سے ایک ہے۔ 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں سادہ گردے کے سسٹ زیادہ عام پائے جاتے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق 70 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 22.1 فیصد افراد میں کم از کم ایک گردے کا سسٹ موجود ہو سکتا ہے۔

مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ طبی بیماریاں بھی متعدد سسٹ بننے سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ ان میں پولی سسٹک گردوں کی بیماری، دائمی گردوں کی بیماری، وون ہپل لنڈاؤ بیماری اور ٹیوبیرس اسکلروسیس کمپلیکس شامل ہیں۔

اگر دونوں گردوں میں بہت سے سسٹ موجود ہوں تو موروثی پولی سسٹک گردوں کی بیماری بھی زیر غور آ سکتی ہے۔ اس بیماری کی ایک اہم شکل پی کے ڈی 1 یا پی کے ڈی 2 جینی تبدیلیوں سے وابستہ ہے۔ پی کے ڈی 1 سے متعلق بیماری عموماً زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ جبکہ پی کے ڈی 2 سے متعلق بیماری اکثر بعد کی عمر میں ظاہر ہوتی اور نسبتاً آہستہ بڑھتی ہے۔

Symptoms of Kidney Cyst in Urdu

زیادہ تر سادہ سسٹ کوئی علامت پیدا نہیں کرتے۔ اکثر انہیں کسی دوسرے مسئلے کی جانچ کے دوران الٹراساؤنڈ یا دوسرے تصویری معائنے میں اتفاقاً دریافت کیا جاتا ہے۔

اگر سسٹ بہت بڑا ہو جائے، پھٹ جائے، اس میں خون بہنے لگے۔ یا وہ متاثر ہو جائے تو علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ممکنہ علامات میں پسلیوں اور کولہے کے درمیان پہلو میں درد، پیٹ یا کمر میں درد، بخار، بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں خون یا پیشاب کا رنگ گہرا ہونا شامل ہیں۔

بعض حالات میں سسٹ اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ وہ گردے یا اردگرد کے بافتوں پر دباؤ ڈالنے لگے۔ اس سے گردے کے کام میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

Complications

زیادہ تر سادہ سسٹ طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن کچھ صورتوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

  • انفیکشن: اگر سسٹ میں جراثیمی انفیکشن ہو جائے تو درد، بخار اور دوسری علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
  • پیشاب کی رکاوٹ: بہت بڑا سسٹ پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ اس سے گردے کو نقصان اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
  • سسٹ کا پھٹ جانا: سسٹ پھٹنے کی صورت میں درد اور پیشاب میں خون آ سکتا ہے۔
  • سسٹ کے اندر خون بہنا: سسٹ کے اندر خون جمع ہو سکتا ہے۔ اور بعض اوقات خون گردے کے اردگرد بھی پھیل سکتا ہے۔

Diagnosis of Cysts in Kidneys

گردے کا سسٹ اکثر کسی دوسرے مسئلے کے لیے کیے گئے تصویری معائنے کے دوران سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر مزید جانچ کے ذریعے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ سسٹ سادہ ہے یا پیچیدہ۔

الٹراساؤنڈ گردے کے سادہ سسٹ کی شناخت کے لیے عام اور مفید طریقہ ہے۔ یہ متعدد سسٹ والی موروثی گردے کی بیماری کی تشخیص اور پہلے سے معلوم سسٹ کی نگرانی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سی ٹی اسکین گردے کی تفصیلی تصویری جانچ میں مدد دیتا ہے۔ جبکہ ایم آر آئی سیال سے بھرے سسٹ اور ٹھوس بافت کے درمیان فرق سمجھنے میں مفید ہو سکتی ہے۔ پیچیدہ سسٹ کی ابتدائی تفصیلی جانچ کے لیے تضادی مادے کے ساتھ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بھی کروا سکتا ہے۔ تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ گردے مناسب طریقے سے کام کر رہے ہیں یا نہیں اور سسٹ نے گردے کے کام کو متاثر تو نہیں کیا۔

Treatment of Kidney Cyst in Urdu

سادہ اور چھوٹے سسٹ میں عام طور پر کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر سسٹ علامات پیدا نہ کر رہا ہو۔ اور گردے کے کام کو متاثر نہ کر رہا ہو تو ڈاکٹر صرف اس کی صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔

اگر سسٹ بہت بڑا ہو، درد پیدا کرے۔ گردے کے کام میں رکاوٹ ڈالے۔ بار بار انفیکشن کا باعث بنے۔ یا سرطان کا شبہ ہو تو علاج ضروری ہو سکتا ہے۔

ایک طریقے میں سوئی کے ذریعے سسٹ کے اندر موجود سیال نکالا جاتا ہے۔ بعض حالات میں ایسا مادہ بھی داخل کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد سسٹ کے دوبارہ بھرنے کے امکان کو کم کرنا ہوتا ہے۔

دوسرا طریقہ جراحی علاج ہے۔ سسٹ کو نکالنے کے لیے اکثر چھوٹے سوراخوں کے ذریعے دوربین نما آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس دوران سسٹ کا سیال نکالنے کے بعد اس کی بیرونی بافت کو کاٹا یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

علامتی سادہ سسٹ کے علاج کے بارے میں دستیاب مطالعات محدود ہیں۔ لیکن ایک تجزیے میں دوربین کے ذریعے سسٹ کی بیرونی دیوار ہٹانے کے بعد علامات میں بہتری اور دوبارہ سسٹ بننے کی شرح سوئی کے ذریعے سیال نکالنے اور مخصوص مادہ استعمال کرنے کے مقابلے میں بہتر دیکھی گئی۔ تاہم علاج کا انتخاب مریض کی حالت، دستیاب سہولت، ماہر کی مہارت اور مریض کی ترجیح کے مطابق کیا جاتا ہے۔

Last Word on Kidney Cyst in Urdu

گردے کا سسٹ ایک عام مسئلہ ہے۔ اور خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے سامنے آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر سسٹ سادہ، غیر سرطانی اور بے ضرر ہوتے ہیں۔ ایسے سسٹ اکثر کوئی علامت پیدا نہیں کرتے اور ان کے لیے علاج بھی ضروری نہیں ہوتا۔

اس کے باوجود پیچیدہ سسٹ کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ بوسنیاک درجہ بندی تصویری خصوصیات کی بنیاد پر پیچیدہ سسٹ میں سرطان کے خطرے کا اندازہ لگانے اور نگرانی یا علاج کے فیصلے میں مدد دیتی ہے۔

اگر سسٹ درد، انفیکشن، خون بہنے، پیشاب کی رکاوٹ یا گردے کے کام میں خرابی کا سبب بن رہا ہو تو علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پیچیدہ یا مشتبہ سسٹ میں ماہر ڈاکٹر کی نگرانی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اس لیے گردے میں سسٹ کی تشخیص ہونے کے بعد سب سے اہم قدم اس کی صحیح نوعیت اور درجہ بندی معلوم کرنا ہے، نہ کہ ہر سسٹ کو سرطان سمجھنا۔

FAQs

What is a kidney cyst?

گردے کا سسٹ ایک تھیلی نما ساخت ہوتی ہے۔ جس کی دیوار عموماً پتلی ہوتی ہے۔ اور اس کے اندر پانی جیسا سیال موجود ہوتا ہے۔ یہ گردے کی سطح پر یا گردے کے اندر موجود نیفرون کی ساختوں میں بن سکتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ گردے میں سسٹ بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر سسٹ سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اور گردے کے کام کو متاثر نہیں کرتے۔

بہت سے افراد میں یہ کسی دوسری بیماری کی جانچ کے دوران اتفاقاً سامنے آتے ہیں۔ اور کوئی علامت پیدا نہیں کرتے۔ تاہم ہر سسٹ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ پیچیدہ سسٹ میں سرطان کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سسٹ کی قسم، ساخت، حجم اور تصویری خصوصیات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف نگرانی کافی ہے یا مزید جانچ اور علاج کی ضرورت ہے۔

Are kidney cysts dangerous?

زیادہ تر گردے کے سسٹ خطرناک نہیں ہوتے۔ خاص طور پر سادہ سسٹ تقریباً ہمیشہ غیر سرطانی اور بے ضرر ہوتے ہیں۔ یہ اکثر کوئی علامت پیدا نہیں کرتے۔ اور ان کے لیے علاج کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ مسئلہ اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ جب سسٹ پیچیدہ نوعیت کا ہو۔ اس کی دیوار موٹی یا بے قاعدہ ہو، اس میں جھلیاں یا ٹھوس اجزا موجود ہوں یا تضادی مادے کے بعد اس کا کوئی حصہ نمایاں ہو۔

ایسی خصوصیات سرطان کے ممکنہ خطرے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ بعض بڑے سسٹ درد، انفیکشن، خون بہنے یا پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے گردے میں سسٹ کی تشخیص ہونے پر اس کی نوعیت معلوم کرنا ضروری ہے۔ صرف سسٹ کی موجودگی کا مطلب سرطان نہیں ہوتا۔

What are the symptoms of a kidney cyst?

زیادہ تر سادہ گردے کے سسٹ کوئی علامات پیدا نہیں کرتے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کو ان کی موجودگی کا علم ہی نہیں ہوتا۔ اگر سسٹ بہت بڑا ہو جائے۔ پھٹ جائے۔ اس میں خون بہنے لگے یا وہ متاثر ہو جائے تو علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ممکنہ علامات میں پسلیوں اور کولہے کے درمیان پہلو میں درد، پیٹ یا کمر میں درد، بخار، بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں خون شامل ہیں۔ بعض افراد میں پیشاب کا رنگ بھی گہرا ہو سکتا ہے۔

اگر سسٹ گردے کے کام کو متاثر کرے یا پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرے۔ تو مزید مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بلڈ پریشر بھی بڑھ سکتا ہے۔ درد، بخار، پیشاب میں خون یا پیشاب کی عادت میں واضح تبدیلی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اور ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

What causes kidney cysts?

سادہ گردے کے سسٹ بننے کی مکمل وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق نیفرون کی نالی میں معمولی رکاوٹ یا کسی قسم کا باریک نقصان اس کے ایک حصے کو پھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے بعد وہاں سیال جمع ہونے لگتا ہے اور وقت کے ساتھ سسٹ بن سکتا ہے۔ سسٹ کی تشکیل میں گردے کی نالی کے خلیوں کی افزائش، خون کی کمی سے ہونے والے نقصانات اور نالی میں رکاوٹ جیسے عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بعض جینی تبدیلیاں متعدد گردے کے سسٹ کا سبب بننے والی موروثی بیماریوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر پولی سسٹک گردوں کی بیماری مخصوص جینی تبدیلیوں سے منسلک ہو سکتی ہے۔ تاہم عام سادہ گردے کے سسٹ کو عموماً موروثی بیماری کا نتیجہ نہیں سمجھا جاتا۔

Who is more likely to develop kidney cysts?

گردے کے سسٹ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عام ہوتے جاتے ہیں۔ خاص طور پر 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں سادہ گردے کے سسٹ نسبتاً زیادہ پائے جاتے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق 70 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 22.1 فیصد افراد میں کم از کم ایک گردے کا سسٹ موجود ہو سکتا ہے۔ مردوں میں گردے کے سسٹ خواتین کے مقابلے میں زیادہ عام پائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض مخصوص طبی بیماریاں بھی گردے میں متعدد سسٹ پیدا کر سکتی ہیں۔ ان میں پولی سسٹک گردوں کی بیماری، دائمی گردوں کی بیماری، وون ہپل لنڈاؤ بیماری اور ٹیوبیرس اسکلروسیس کمپلیکس شامل ہیں۔ اگر دونوں گردوں میں متعدد سسٹ موجود ہوں۔ تو موروثی بیماری کا جائزہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر مزید تصویری یا جینیاتی جانچ کی سفارش کر سکتا ہے۔

How are kidney cysts diagnosed?

گردے کا سسٹ اکثر کسی دوسری بیماری یا مسئلے کی جانچ کے دوران اتفاقاً دریافت ہوتا ہے۔ سسٹ کی شناخت کے لیے الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسے تصویری معائنے استعمال کیے جاتے ہیں۔ الٹراساؤنڈ سادہ گردے کے سسٹ کی شناخت کے لیے ایک عام اور مفید طریقہ ہے۔ یہ متعدد سسٹ والی بعض بیماریوں کی تشخیص اور پہلے سے معلوم سسٹ کی نگرانی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پیچیدہ سسٹ کی تفصیلی جانچ کے لیے تضادی مادے کے ساتھ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی زیادہ اہم ہیں۔ ایم آر آئی سیال سے بھرے سسٹ اور ٹھوس بافت کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ سے گردے کے کام کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ پیچیدہ سسٹ کے سرطان کے خطرے کا اندازہ بوسنیاک درجہ بندی سے کیا جاتا ہے۔

What is the Bosniak classification of kidney cysts?

بوسنیاک درجہ بندی ایک تصویری نظام ہے۔ جس کے ذریعے گردے کے پیچیدہ سسٹ میں سرطان کے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس میں سسٹ کی دیوار کی موٹائی، جھلیوں کی تعداد اور موٹائی، کیلشیم کے ذخائر، اندر موجود مادے کی کثافت اور تضادی مادے کے بعد نمایاں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھا جاتا ہے۔

اس نظام میں سسٹ کو اول، دوم، دوم ایف، سوم اور چہارم درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اول اور دوم درجے عموماً بے ضرر سمجھے جاتے ہیں۔ دوم ایف میں باقاعدہ نگرانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ سوم درجے میں سرطان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ چہارم درجے میں خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور عموماً جراحی علاج پر غور کیا جاتا ہے۔ بوسنیاک درجہ بندی بنیادی طور پر تضادی مادے کے ساتھ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی پر مبنی ہوتی ہے۔

Does a simple kidney cyst need treatment?

زیادہ تر سادہ گردے کے سسٹ کے لیے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر سسٹ چھوٹا ہو۔ علامات پیدا نہ کر رہا ہو۔ اور گردے کے کام کو متاثر نہ کر رہا ہو تو ڈاکٹر عموماً صرف اس کی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ بہت سے سادہ سسٹ زندگی بھر کسی بڑے مسئلے کا سبب نہیں بنتے۔

علاج اس وقت ضروری ہو سکتا ہے۔ جب سسٹ بہت بڑا ہو جائے۔ کسی دوسرے عضو یا گردے پر دباؤ ڈالے۔ درد پیدا کرے، بار بار انفیکشن کا سبب بنے یا پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرے۔ اگر سسٹ کی ساخت پیچیدہ ہو اور سرطان کا شبہ ہو تو بھی مزید علاج یا جراحی مداخلت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لیے علاج کا فیصلہ صرف سسٹ کے موجود ہونے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی نوعیت، علامات اور گردے کے کام کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

Can a kidney cyst become cancerous?

سادہ گردے کے سسٹ تقریباً ہمیشہ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ جبکہ پیچیدہ سسٹ میں سرطان کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ بوسنیاک درجہ بندی اسی خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بوسنیاک اول سسٹ میں سرطان کا خطرہ تقریباً صفر ہے۔ جبکہ دوم درجے میں یہ خطرہ تقریباً 0 سے 6 فیصد تک بتایا گیا ہے۔

دوم ایف درجے میں خطرہ تقریباً 5 سے 26 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ اور اس لیے نگرانی کی جاتی ہے۔ سوم درجے کے سسٹ میں خطرہ تقریباً 55 سے 72 فیصد اور چہارم درجے میں تقریباً 91 سے 100 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ سسٹ کی موٹی یا بے قاعدہ دیوار، زیادہ جھلیاں، کیلشیم کے ذخائر اور تضادی مادے کے بعد نمایاں ہونے والے حصے تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ تصویری معائنے اور ماہر ڈاکٹر کی تشخیص پر ہوتا ہے۔

When should I see a doctor for a kidney cyst?

اگر گردے میں سسٹ موجود ہونے کے ساتھ پہلو، پیٹ یا کمر کے نچلے حصے میں درد ہو تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ پیشاب میں خون، بخار، پیشاب زیادہ یا کم آنے جیسی تبدیلیاں بھی طبی معائنے کی وجہ بن سکتی ہیں۔ اچانک یا شدید علامات خاص طور پر اس وقت اہم ہوتی ہیں جب سسٹ کے پھٹنے، خون بہنے، انفیکشن یا پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ کا امکان ہو۔

اگر تصویری معائنے میں سسٹ پیچیدہ نظر آئے۔ تو اس کی مزید جانچ اور مناسب نگرانی ضروری ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر سے یہ بھی پوچھنا مفید ہے کہ سسٹ کس قسم کا ہے۔ کیا اس کے بڑھنے کا امکان ہے۔ گردے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں اور علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اپنی طرف سے تشخیص یا علاج کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا بہتر ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts