ایکسٹور ٹیبلیٹس بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی مرکب دوا ہے۔ اس میں 2 اہم اجزا ایملوڈیپین اور والسارٹن شامل ہوتے ہیں۔ دونوں اجزا مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا مجموعی اثر بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ایکسٹور ان بالغ افراد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ جن کا بلڈ پریشر صرف ایملوڈیپین یا والسارٹن استعمال کرنے سے مناسب طور پر قابو میں نہ آ رہا ہو۔ یہ دوا مختلف طاقتوں میں دستیاب ہے۔ اس لیے ہر مریض کے لیے مناسب مقدار کا انتخاب اس کی طبی حالت اور پہلے سے استعمال ہونے والی دوا کے مطابق کیا جاتا ہے۔
Uses of Extor in Urdu
ایکسٹور کا بنیادی استعمال ضروری بلند فشارِ خون کے علاج کے لیے ہے۔ یہ دوا خاص طور پر ان بالغ مریضوں میں دی جا سکتی ہے۔ جن کا بلڈ پریشر ایملوڈیپین یا والسارٹن اکیلے استعمال کرنے کے باوجود مطلوبہ حد تک کم نہ ہو۔
اگر کوئی مریض پہلے سے ایملوڈیپین اور والسارٹن الگ الگ گولیوں یا کیپسول کی صورت میں لے رہا ہو تو ڈاکٹر مناسب صورت میں اسے دونوں اجزا کی مساوی مقدار رکھنے والی ایکسٹور ٹیبلیٹس پر منتقل کر سکتا ہے۔
اس طرح مریض کو 2 الگ ادویات کے بجائے ایک مرکب گولی استعمال کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔
Ingredients in Extor Tablets
ایکسٹور میں ایملوڈیپین بیسیلیٹ اور والسارٹن شامل ہوتے ہیں۔ اس دوا کی 3 اہم طاقتیں فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ہیں۔
- ایملوڈیپین 5 ملی گرام + والسارٹن 80 ملی گرام
- ایملوڈیپین 5 ملی گرام + والسارٹن 160 ملی گرام
- ایملوڈیپین 10 ملی گرام + والسارٹن 160 ملی گرام
ایملوڈیپین کیلشیم چینل کو روکنے والی دوا ہے۔ جبکہ والسارٹن انجیوٹینسن دوم کے اثرات کو روکنے والی دوا ہے۔ دونوں اجزا کا مشترکہ استعمال بعض مریضوں میں صرف ایک دوا کے مقابلے میں بلڈ پریشر پر زیادہ مؤثر اثر پیدا کرتا ہے۔
How Does Extor Work?
ایکسٹور میں موجود ایملوڈیپین خون کی نالیوں کے عضلات میں کیلشیم آئنز کے داخل ہونے کو روکتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں خون کی نالیاں ڈھیلی اور کشادہ ہوتی ہیں۔ جب خون کی نالیوں میں مزاحمت کم ہوتی ہے۔ تو بلڈ پریشر بھی کم ہونے لگتا ہے۔
والسارٹن ایک مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔ یہ انجیوٹینسن دوم کے اے ٹی ون گیرندوں کو منتخب طور پر روکتی ہے۔ انجیوٹینسن دوم خون کی نالیوں کو سکڑنے اور بلڈ پریشر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والسارٹن اس کے اثر کو روک کر خون کی نالیوں کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔
دونوں اجزا کا مشترکہ اثر بلڈ پریشر میں اضافی کمی پیدا کرتا ہے۔ ایک خوراک کے بعد اس مرکب کا بلڈ پریشر کم کرنے والا اثر تقریباً 24 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
Dose of Extor Tablets in Urdu
ایکسٹور کی عام تجویز کردہ خوراک روزانہ 1 گولی ہے۔ تاہم مریض کو اپنی مرضی سے خوراک شروع نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مناسب طاقت کا انتخاب بلڈ پریشر اور مریض کی مجموعی طبی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ایکسٹور 5 ملی گرام ایملوڈیپین اور 160 ملی گرام والسارٹن ان مریضوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ جن کا بلڈ پریشر ایملوڈیپین 5 ملی گرام یا والسارٹن 160 ملی گرام اکیلے استعمال کرنے سے مناسب طور پر قابو میں نہ آیا ہو۔
مرکب دوا شروع کرنے سے پہلے عموماً دونوں اجزا کی خوراک الگ الگ طے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ تاہم طبی طور پر مناسب صورت میں ڈاکٹر کسی مریض کو براہِ راست ایک دوا سے مقررہ طاقت والی مرکب دوا پر منتقل کر سکتا ہے۔
Dose on Empty Stomach
ایکسٹور ٹیبلیٹس کھانے کے ساتھ یا کھانے کے بغیر استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسے منہ کے ذریعے مناسب مقدار میں پانی کے ساتھ نگلنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
دوا روزانہ مقررہ وقت پر استعمال کرنا معمول برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ خوراک بھولنے، دوگنی خوراک لینے یا دوا بند کرنے کا فیصلہ خود سے نہیں کرنا چاہیے۔
Extor for Kidney Patients
ہلکی سے درمیانی گردوں کی خرابی میں عام طور پر ایکسٹور کی خوراک میں تبدیلی ضروری نہیں ہوتی۔ تاہم درمیانی درجے کی گردوں کی خرابی میں خون میں پوٹاشیم اور کریاٹینین کی نگرانی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
شدید گردوں کی خرابی والے مریضوں میں ایکسٹور کے استعمال کے بارے میں مناسب طبی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
اگر گردوں کی شریان میں تنگی ہو، خواہ ایک گردے کی شریان متاثر ہو یا دونوں گردوں کی۔ تو یہ دوا احتیاط سے استعمال کی جانی چاہیے۔ کیونکہ خون میں یوریا اور کریاٹینین کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
حالیہ گردہ منتقل کروانے والے مریضوں میں بھی ایکسٹور کے محفوظ استعمال کا تجربہ موجود نہیں ہے۔
Liver Patients
شدید جگر کی خرابی، صفراوی جگر کے تنگی یا صفرا کے رکنے کی صورت میں ایکسٹور استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔
ہلکی سے درمیانی جگر کی خرابی میں اس دوا کو خاص احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے مریضوں میں والسارٹن کی زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ مقداراسی ملی گرام ہے۔
جگر کی خرابی میں ایملوڈیپین جسم سے نسبتاً آہستہ خارج ہو سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں جسم میں اس کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں میں کم ترین دستیاب ایملوڈیپین خوراک استعمال کرنے پر غور کیا جاتا ہے۔
Older People
پینسٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ایکسٹور کی خوراک بڑھاتے وقت خاص احتیاط ضروری ہے۔
بزرگ مریضوں میں ایملوڈیپین کے جسم سے اخراج کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ جبکہ والسارٹن کی جسم میں مجموعی مقدار بھی کم عمر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں کو ایکسٹور یا اس کے ایملوڈیپین جز کی کم ترین مناسب خوراک سے شروع کرنے پر غور کیا جاتا ہے۔
Extor for Children
18 سال سے کم عمر بچوں میں ایکسٹور کی حفاظت اور مؤثریت ثابت نہیں ہوئی۔ اس عمر کے مریضوں کے لیے اس مرکب دوا کے استعمال سے متعلق مناسب طبی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
اس لیے بچوں کو ایکسٹور صرف طبی ماہر کی واضح ہدایت کے بغیر نہیں دینی چاہیے۔
Who Can’t Take Extor Dose?
کچھ حالات میں ایکسٹور کا استعمال ممنوع ہے۔ ان میں درج ذیل شامل ہیں۔
- ایملوڈیپین، والسارٹن یا دوا کے کسی جز سے شدید حساسیت
- شدید جگر کی خرابی
- صفراوی جگر کا مرض یا صفرا کا رکنا
- شدید کم بلڈ پریشر
- قلبی صدمہ
- بائیں دل کے اخراجی راستے میں رکاوٹ
- شدید درجے کی شہ رگ کی والو کی تنگی
- دل کے دورے کے بعد غیر مستحکم شدید قلبی کمزوری
- حمل کے دوسرے اور تیسرے تین ماہ
- ذیابیطس یا گردوں کی خرابی میں الیسکرین والی ادویات کا بیک وقت استعمال
Dose in Pregnancy
حمل کے دوران ایکسٹور استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ خصوصاً اس میں موجود والسارٹن کی وجہ سے۔
انجیوٹینسن دوم کے اثرات کو روکنے والی ادویات حمل کے دوران جنین کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ اگر حمل کی تشخیص ہو جائے تو ایسی دوا کو فوری طور پر بند کرنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ متبادل علاج شروع کرنے کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
حمل کے دوسرے اور تیسرے تین ماہ میں والسارٹن جنین کے گردوں کی کارکردگی میں کمی، رحم میں موجود پانی کی مقدار کم ہونے، کھوپڑی کی ہڈیوں کی تشکیل میں تاخیر اور دیگر سنگین نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔
نوزائیدہ بچے میں گردوں کی خرابی، کم بلڈ پریشر اور خون میں پوٹاشیم کی زیادتی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
جو خواتین حمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہوں۔ انہیں بھی ایکسٹور استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ تاکہ مناسب متبادل دوا کا انتخاب کیا جا سکے۔
Dose in Breastfeeding
ایملوڈیپین انسانی دودھ میں خارج ہوتی ہے۔ تاہم دودھ پلانے کے دوران ایملوڈیپین اور والسارٹن کے مرکب کے استعمال کے بارے میں مناسب معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اسی وجہ سے دودھ پلانے کے دوران ایکسٹور کی سفارش نہیں کی جاتی۔ ایسی متبادل ادویات کو ترجیح دی جاتی ہے جن کی دودھ پلانے کے دوران حفاظت زیادہ واضح طور پر ثابت ہو، خصوصاً نومولود یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کو دودھ پلانے کی صورت میں۔
Extor Overdose
ایکسٹور کی ضرورت سے زیادہ مقدار لینے سے بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے۔ والسارٹن کی زائد مقدار سے شدید کم بلڈ پریشر اور چکر آ سکتے ہیں۔ جبکہ ایملوڈیپین کی زائد مقدار خون کی نالیوں کو بہت زیادہ پھیلا سکتی ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔
شدید صورت میں طویل عرصے تک رہنے والا کم بلڈ پریشر، صدمہ اور جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
زائد خوراک کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہسپتال میں دل اور سانس کی نگرانی، جسم میں سیال کی مقدار اور پیشاب کی مقدار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ حالیہ استعمال کی صورت میں طبی ماہر مناسب حالات میں معدے سے دوا کے جذب کو کم کرنے کے اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
والسارٹن اور ایملوڈیپین کو خون سے نکالنے کے لیے خون صاف کرنے کا طریقہ مؤثر ہونے کا امکان کم ہے۔
Side Effects of Extor in Urdu
ہر مریض میں مضر اثرات ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ طبی مطالعات میں ایکسٹور کے استعمال کے دوران درج ذیل اثرات رپورٹ ہوئے ہیں۔
- سر درد
- چکر آنا
- تھکن
- کمزوری
- چہرے پر گرمی یا سرخی
- جسم یا چہرے پر سوجن
- ٹخنوں میں سوجن
- بلڈ پریشر کا کم ہونا
- کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر گرنا
- متلی
- پیٹ میں تکلیف
- قبض
- اسہال
- کھانسی
- ناک اور حلق کی سوزش
- فلو جیسی علامات
- دل کی دھڑکن محسوس ہونا
- نیند میں خرابی
ایملوڈیپین کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں، خصوصاً ٹخنوں میں سوجن ہو سکتی ہے۔ فراہم کردہ طبی معلومات کے مطابق ایملوڈیپین اور والسارٹن کے مرکب میں یہ سوجن صرف ایملوڈیپین کے مقابلے میں عمومی طور پر کم دیکھی گئی۔
Severe Side Effects
کچھ نایاب لیکن اہم مضر اثرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں شدید حساسیت، انجیوایڈیما، جگر کے افعال میں تبدیلی، یرقان، لبلبے کی سوزش، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، دل کا دورہ، خون کے خلیوں میں تبدیلی اور گردوں کی خرابی شامل ہیں۔
انجیوایڈیما ایک اہم اور ہنگامی کیفیت ہے۔ اس میں چہرے، ہونٹوں، زبان، حلق یا گلے میں اچانک سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں سانس کی نالی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر ایسی علامات پیدا ہوں تو ایکسٹور فوری طور پر بند کرکے ہنگامی طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ انجیوایڈیما کے بعد اس دوا کو دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
Interactions with Medicines
ایکسٹور کئی دوسری ادویات کے اثرات کو متاثر کر سکتی ہے۔ یا دوسری ادویات اس کے اثرات کو تبدیل کر سکتی ہیں۔
دیگر بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات ایکسٹور کے ساتھ استعمال ہونے پر بلڈ پریشر کو ضرورت سے زیادہ کم کر سکتی ہیں۔
چکوترے یا چکوترے کے رس کے ساتھ ایملوڈیپین استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔ کیونکہ بعض افراد میں ایملوڈیپین کی جسم میں مقدار بڑھ سکتی ہے۔
کچھ فنگس کش ادویات، مخصوص جراثیم کش ادویات، ویراپامل اور ڈلٹیزیم ایملوڈیپین کی جسم میں مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ بعض مرگی کی ادویات اور رِفیمپیسن ایملوڈیپین کے اثر کو تبدیل کر سکتی ہیں۔
ایملوڈیپین کے ساتھ سمواسٹیٹن استعمال کرنے کی صورت میں سمواسٹیٹن کی روزانہ مقدار 20 ملی گرام تک محدود رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
والسارٹن کے ساتھ لیتھیم استعمال کرنے سے خون میں لیتھیم کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ اور زہریلے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے خون میں لیتھیم کی نگرانی ضروری ہے۔
درد اور سوزش کے لیے استعمال ہونے والی غیر سٹیرائڈیل ادویات بھی والسارٹن کے اثر کو کم کر سکتی ہیں۔ اور گردوں کے افعال کو متاثر کرنے یا خون میں پوٹاشیم بڑھانے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
Final Thoughts on Extor in Urdu
ایکسٹور ٹیبلیٹس بلند فشارِ خون کے ایسے بالغ مریضوں کے لیے اہم علاج ہو سکتی ہیں۔ جن کا بلڈ پریشر ایک دوا سے مناسب طور پر قابو میں نہ آ رہا ہو۔ اس میں موجود ایملوڈیپین اور والسارٹن مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں۔ اور مشترکہ طور پر بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تاہم یہ دوا ہر مریض کے لیے موزوں نہیں۔ گردوں یا جگر کی بیماری، شدید کم بلڈ پریشر، قلبی کمزوری، پوٹاشیم کی زیادتی اور دوسری ادویات کے استعمال کی صورت میں خاص احتیاط ضروری ہے۔
حمل کی صورت میں خصوصاً والسارٹن کے باعث جنین کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے حمل کی تشخیص ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
ایکسٹور کی خوراک خود سے تبدیل، کم یا زیادہ نہیں کرنی چاہیے۔ بلڈ پریشر بہتر ہونے کی صورت میں بھی دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بند نہیں کرنی چاہیے۔ محفوظ اور مؤثر علاج کے لیے مریض کی مکمل طبی حالت، دوسری ادویات اور باقاعدہ بلڈ پریشر کی نگرانی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
FAQs
What are Extor Tablets used for?
ایکسٹور ٹیبلیٹس بنیادی طور پر بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس میں ایملوڈیپین اور والسارٹن نامی دو اجزا شامل ہوتے ہیں۔ جو مختلف طریقوں سے بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ دوا خاص طور پر ان بالغ مریضوں کے لیے تجویز کی جا سکتی ہے۔ جن کا بلڈ پریشر صرف ایملوڈیپین یا والسارٹن استعمال کرنے سے مناسب طور پر قابو میں نہ آ رہا ہو۔
ایملوڈیپین خون کی نالیوں کو پھیلانے میں مدد دیتی ہے۔ جبکہ والسارٹن انجیوٹینسن دوم کے اثرات کو روکتی ہے۔ دونوں اجزا کا مشترکہ اثر بلڈ پریشر کو ایک دوا کے مقابلے میں زیادہ کم کر سکتا ہے۔ ایکسٹور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرنی چاہیے اور خوراک خود سے تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔
What are the strengths of Extor Tablets?
ایکسٹور ٹیبلیٹس مختلف طاقتوں میں دستیاب ہیں۔ تاکہ مریض کی ضرورت کے مطابق مناسب خوراک منتخب کی جا سکے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس کی 3 طاقتیں موجود ہیں۔ پہلی میں ایملوڈیپین 5 ملی گرام اور والسارٹن 80 ملی گرام شامل ہیں۔ دوسری میں ایملوڈیپین 5 ملی گرام اور والسارٹن 160 ملی گرام شامل ہیں۔ جبکہ تیسری میں ایملوڈیپین 10 ملی گرام اور والسارٹن 160 ملی گرام شامل ہوتے ہیں۔
مناسب طاقت کا انتخاب مریض کے بلڈ پریشر، پہلے سے استعمال ہونے والی دوا اور مجموعی طبی حالت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روزانہ 1 گولی تجویز کی جاتی ہے۔ لیکن مریض کو اپنی مرضی سے طاقت یا خوراک تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
How should Extor Tablets be taken?
ایکسٹور ٹیبلیٹس عموماً روزانہ 1 مرتبہ استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے منہ کے ذریعے کچھ پانی کے ساتھ نگلنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ دوا کھانے کے ساتھ یا کھانے کے بغیر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اسے خالی پیٹ لینے کی کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔ مریض کو کوشش کرنی چاہیے کہ دوا ہر روز تقریباً ایک ہی وقت پر استعمال کرے۔ تاکہ خوراک کا معمول برقرار رہے۔
ایکسٹور کی مقدار مریض کے بلڈ پریشر اور طبی حالت کے مطابق ڈاکٹر طے کرتا ہے۔ اگر مریض پہلے سے ایملوڈیپین اور والسارٹن الگ الگ ادویات کی صورت میں لے رہا ہو۔ تو ڈاکٹر مناسب مقدار کے مطابق اسے ایکسٹور پر منتقل کر سکتا ہے۔ دوا کو خود سے بند یا اس کی خوراک تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
Can Extor Tablets be taken during pregnancy?
حمل کے دوران ایکسٹور کا استعمال خاص طور پر والسارٹن کی موجودگی کی وجہ سے اہم احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ انجیوٹینسن دوم کے اثرات کو روکنے والی ادویات حمل میں جنین کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ حمل کی تشخیص ہونے پر ایسی دوا کو فوری طور پر بند کرنے اور ضرورت کے مطابق محفوظ متبادل علاج شروع کرنے کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
حمل کے دوسرے اور تیسرے تین ماہ میں والسارٹن جنین کے گردوں کی کارکردگی میں کمی، رحم میں پانی کی مقدار کم ہونے، کھوپڑی کی ہڈیوں کی تشکیل میں تاخیر اور دیگر سنگین نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔ نوزائیدہ میں گردوں کی خرابی، کم بلڈ پریشر اور خون میں پوٹاشیم کی زیادتی بھی ہو سکتی ہے۔ حمل کی منصوبہ بندی میں بھی پہلے طبی مشورہ ضروری ہے۔
What are the common side effects of Extor Tablets?
ایکسٹور ٹیبلیٹس کے استعمال سے ہر مریض میں مضر اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔ تاہم کچھ افراد میں مختلف علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر سر درد، چکر آنا، تھکن، کمزوری، چہرے پر گرمی یا سرخی، جسم یا چہرے پر سوجن، ٹخنوں کی سوجن، متلی، پیٹ کی تکلیف، قبض، اسہال، کھانسی اور ناک یا حلق کی سوزش رپورٹ کی گئی ہے۔
بعض مریضوں کو دل کی دھڑکن محسوس ہونے، کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر کم ہونے یا عمومی بے آرامی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ ایملوڈیپین کی وجہ سے ٹخنوں میں سوجن معروف مضر اثر ہے۔ تاہم مرکب دوا میں یہ مسئلہ صرف ایملوڈیپین کے مقابلے میں کم دیکھا گیا۔ شدید یا غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
Can Extor Tablets cause low blood pressure?
جی ہاں، ایکسٹور ٹیبلیٹس بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس لیے بعض افراد میں بلڈ پریشر ضرورت سے زیادہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ان مریضوں میں یہ خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جن کے جسم میں پانی یا نمک کی کمی ہو یا جو زیادہ مقدار میں پیشاب آور ادویات استعمال کر رہے ہوں۔ بہت کم بلڈ پریشر کی صورت میں چکر، کمزوری، بے ہوشی یا کھڑے ہونے پر طبیعت خراب ہونے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
فراہم شدہ معلومات کے مطابق پیچیدگی سے پاک ہائی بلڈ پریشر والے مریضوں میں شدید کم بلڈ پریشر کی ایک مخصوص شرح بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ اگر شدید کم بلڈ پریشر پیدا ہو تو فوری طبی جائزہ ضروری ہے۔ اور علاج کا فیصلہ ڈاکٹر مریض کی حالت دیکھ کر کرتا ہے۔
Can people with kidney problems take Extor Tablets?
ہلکی سے درمیانی گردوں کی خرابی والے مریض عموماً ایکسٹور استعمال کر سکتے ہیں۔ فراہم شدہ معلومات کے مطابق ان حالات میں عام طور پر خوراک میں تبدیلی ضروری نہیں ہوتی۔ تاہم درمیانی درجے کی گردوں کی خرابی میں خون میں پوٹاشیم اور کریاٹینین کی نگرانی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گردوں کی شریان میں تنگی، خواہ ایک گردے کی ہو یا دونوں کی، موجود ہو تو خاص احتیاط ضروری ہے۔ کیونکہ خون میں یوریا اور کریاٹینین بڑھ سکتے ہیں۔
شدید گردوں کی خرابی والے مریضوں میں اس مرکب دوا کے استعمال سے متعلق مناسب طبی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ حالیہ گردہ منتقلی والے مریضوں میں بھی محفوظ استعمال کا تجربہ محدود ہے۔ گردوں کے مریض دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر کو اپنی مکمل حالت ضرور بتائیں۔
Can Extor Tablets be used with other medicines?
ایکسٹور کئی دوسری ادویات کے ساتھ تداخل کر سکتی ہے۔ اس لیے ڈاکٹر کو استعمال ہونے والی تمام ادویات کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔ دوسری بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات اس کے ساتھ لینے سے بلڈ پریشر بہت زیادہ کم ہو سکتا ہے۔ چکوترے یا اس کے رس کے ساتھ ایملوڈیپین استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔ کیونکہ بعض افراد میں دوا کی جسم میں مقدار بڑھ سکتی ہے۔
بعض فنگس کش ادویات، مخصوص جراثیم کش ادویات، ویراپامل اور ڈلٹیزیم ایملوڈیپین کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ والسارٹن کے ساتھ لیتھیم، پوٹاشیم کی گولیاں یا پوٹاشیم محفوظ رکھنے والی پیشاب آور ادویات بھی احتیاط چاہتی ہیں۔ غیر سٹیرائڈیل درد کش ادویات گردوں کے افعال اور پوٹاشیم کو متاثر کر سکتی ہیں۔
Is Extor safe while breastfeeding?
دودھ پلانے کے دوران ایکسٹور کے استعمال کی سفارش نہیں کی جاتی۔ کیونکہ اس مرکب دوا کے بارے میں مناسب معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایملوڈیپین انسانی دودھ میں خارج ہوتی ہے۔ جبکہ دودھ پیتے بچے پر اس کے اثرات مکمل طور پر معلوم نہیں ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق دودھ پلانے کے دوران ایسی متبادل ادویات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جن کی حفاظت بہتر طور پر ثابت ہو۔
یہ احتیاط خاص طور پر اس وقت زیادہ اہم ہے۔ جب ماں نومولود یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔ اگر کوئی خاتون ایکسٹور استعمال کر رہی ہو اور دودھ پلانے کا ارادہ رکھتی ہو تو اسے خود سے دوا بند یا جاری نہیں رکھنی چاہیے۔ بلکہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ بلڈ پریشر کے لیے مناسب اور محفوظ علاج کا انتخاب کیا جا سکے۔
What happens if too much Extor is taken?
ایکسٹور کی ضرورت سے زیادہ مقدار لینے سے بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے۔ والسارٹن کی زائد مقدار سے نمایاں کم بلڈ پریشر اور چکر آ سکتے ہیں۔ جبکہ ایملوڈیپین کی زائد مقدار خون کی نالیوں کو ضرورت سے زیادہ پھیلا سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔ شدید صورت میں بلڈ پریشر بہت کم ہو کر صدمے کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
اگر ایکسٹور کی زائد مقدار استعمال ہو جائے۔ تو انتظار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ طبی مرکز میں دل اور سانس کی نگرانی، خون کی گردش، پیشاب کی مقدار اور جسم میں سیال کی حالت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ والسارٹن اور ایملوڈیپین کو خون صاف کرنے کے ذریعے مؤثر طور پر نکالنا ممکن نہیں سمجھا جاتا۔