فلڈل ٹیبلیٹس ایک نسخے پر ملنے والی دوا ہے جو بالغ مردوں میں دو اہم طبی مسائل کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ پہلی حالت مردانہ کمزوری ہے۔ جس میں مناسب تناؤ حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ دوسری حالت پروسٹیٹ غدود کا بڑھ جانا ہے۔ جس کے باعث پیشاب کرنے میں مختلف مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ دوا جسم میں موجود ایک خاص خامرے کی سرگرمی کو کم کرتی ہے۔ جس سے خون کی نالیاں اور بعض پٹھے زیادہ آرام کی حالت میں آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور متعلقہ علامات میں کمی آنے لگتی ہے۔
فلڈل ٹیبلیٹس صرف علامات کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ بیماری کی بنیادی وجہ کا مکمل علاج نہیں ہوتیں۔ اس لیے دوا کا استعمال ہمیشہ معالج کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
Uses of Fildil Tablets in Urdu
فلڈل ٹیبلیٹس کا سب سے معروف استعمال مردانہ کمزوری کے علاج میں ہے۔ اس کیفیت میں مرد کو مناسب تناؤ حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ جس سے ازدواجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ دوا عضو تناسل میں خون کی روانی بہتر بناتی ہے۔ جس کے نتیجے میں جنسی تحریک کے دوران تناؤ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بہت سے مریضوں میں مناسب طبی نگرانی کے تحت اس دوا کے استعمال سے اعتماد میں اضافہ اور ازدواجی زندگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ فلڈل ٹیبلیٹس جنسی خواہش میں اضافہ کرنے والی دوا نہیں ہیں۔ اگر جنسی تحریک موجود نہ ہو تو یہ دوا مطلوبہ اثر نہیں دکھاتی۔ اسی طرح ہر مریض میں اس کے نتائج ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کیونکہ عمر، عمومی صحت اور دیگر بیماریوں کے مطابق اس کی افادیت مختلف ہو سکتی ہے۔
کسی بھی مریض کو اپنی ضرورت کے مطابق خوراک خود مقرر نہیں کرنی چاہیے بلکہ معالج کی تجویز کردہ مقدار پر ہی عمل کرنا چاہیے۔
Benign Prostatic Hyperlasia
فلڈل ٹیبلیٹس پروسٹیٹ غدود کے بڑھ جانے کی علامات میں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ بہت سے مردوں میں پروسٹیٹ کا حجم بڑھ جاتا ہے، جس سے پیشاب کی نالی پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس حالت میں مریض کو بار بار پیشاب آنے، رات کے وقت کئی مرتبہ جاگنے، پیشاب شروع کرنے میں دشواری، پیشاب کا کمزور بہاؤ یا مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہونے جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔
فلڈل ٹیبلیٹس پروسٹیٹ اور مثانے کے پٹھوں کو آرام پہنچاتی ہیں۔ جس سے پیشاب نسبتاً آسانی سے خارج ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کی روزمرہ زندگی بہتر ہو سکتی ہے اور پیشاب سے متعلق تکالیف میں واضح کمی آ سکتی ہے۔
اگرچہ یہ دوا علامات میں بہتری لانے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن پروسٹیٹ کے بڑھنے کی بنیادی وجہ کو ختم نہیں کرتی۔ اسی لیے مریض کو باقاعدگی سے معالج سے معائنہ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ بیماری کی کیفیت پر نظر رکھی جا سکے۔
Working Mechanism of Fildil Tablets
فلڈل ٹیبلیٹس جسم میں ایک ایسے خامرے کی سرگرمی کو روکتی ہیں۔ جو خون کی نالیوں کے سکڑنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس خامرے کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے تو خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور ان میں خون کا بہاؤ بہتر ہو جاتا ہے۔
مردانہ کمزوری کی صورت میں یہ دوا صرف جنسی تحریک کی موجودگی میں عضو تناسل تک خون کی روانی بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ جس سے مناسب تناؤ حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ دوا خود بخود تناؤ پیدا نہیں کرتی بلکہ قدرتی جنسی تحریک کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
اگر پروسٹیٹ غدود بڑھا ہوا ہو تو یہ دوا مثانے اور پروسٹیٹ کے پٹھوں کو ڈھیلا کرتی ہے۔ جس سے پیشاب کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے، بار بار پیشاب آنے کی شکایت کم ہو سکتی ہے اور مثانہ نسبتاً بہتر طریقے سے خالی ہونے لگتا ہے۔
Dose of Fildil Tablets in Urdu
ضرورت کے وقت استعمال کے لیے، عضو تناسل کی کمزوری کے علاج میں شروعاتی خوراک دس ملی گرام تجویز کی جاتی ہے۔ جسے اثر اور برداشت کے مطابق بیس ملی گرام تک بڑھایا یا پانچ ملی گرام تک کم کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ استعمال کے لیے شروعاتی خوراک دو اعشاریہ پانچ ملی گرام ہے، جو روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر لی جاتی ہے، اور اسے پانچ ملی گرام تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ مثانے کے غدود کی سوجن کے لیے روزانہ استعمال کی تجویز کردہ خوراک پانچ ملی گرام ہے۔ خوراک ہمیشہ معالج کی ہدایت کے مطابق ہی لینی چاہیے۔
Side Effects in Urdu
فلڈل کے استعمال سے کچھ عام مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ جن میں سر درد، چہرے پر گرمی یا سرخی، معدے کی خرابی، ناک بند ہونا، پٹھوں، کمر، بازوؤں یا ٹانگوں میں درد، متلی اور چکر آنا شامل ہیں۔ اگر یہ اثرات پریشان کن ہوں تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ کچھ دیگر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
- کمزوری
- چہرے پر سوجن
- تھکاوٹ
- درد
- دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی
- سینے میں درد
- فشار خون میں کمی
- دل کا دورہ
- بے ہوشی
- خشک منہ
- نگلنے میں دشواری
- غذائی نالی کی سوزش
- معدے کی سوزش
- جگر کے افعال میں خرابی
- قے
- جوڑوں کا درد
- گردن میں درد
- بے خوابی
- جسم میں سن پن
- نیند آنا
- مثانے کے افعال میں خرابی
- سانس لینے میں دشواری
- ناک سے خون آنا
- گلے کی سوزش
- خارش
- جلد پر دانے
- پسینہ آنا
- دھندلا نظر آنا
- رنگوں کی پہچان میں تبدیلی
- آنکھوں میں درد
- آنکھوں سے پانی آنا
- پپوٹوں کی سوجن
- کانوں میں گھنٹیاں بجنا
Possible Severe Effects
فلڈل کے کچھ شدید مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔
شدید الرجک ردعمل کی صورت میں سانس لینے میں دشواری، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، بخار، لمف نوڈز کی سوجن، چہرے، ہونٹوں، منہ یا زبان کی سوجن، گلے کا سخت ہونا، جلد پر خارش یا دانے، متلی، چکر آنا اور جوڑوں کا درد شامل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دوا فوراً بند کر کے طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
طویل اور تکلیف دہ عضو کا سخت رہنا بھی ایک سنگین اثر ہے۔ اگر عضو چار گھنٹے سے زیادہ سخت رہے، جنسی جوش کے بغیر ہو یا تکلیف دہ ہو تو یہ ہنگامی طبی امداد طلب کرتا ہے، کیونکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں عضو کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فشار خون میں کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر چکر آئے یا بے ہوشی محسوس ہو تو لیٹ جانا چاہیے۔ اور فوراً معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
بینائی میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے نیلے رنگ کا نظر آنا، رنگوں کی غیر معمولی پہچان، دھندلا پن یا روشنی کے لیے حساسیت۔ اگرچہ نایاب ہے۔ مستقل بینائی کے ضائع ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اچانک بینائی ضائع ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔
سماعت میں کمی یا اچانک بہرا پن بھی ایک ممکنہ اثر ہے۔ جس کے ساتھ کانوں میں گھنٹیاں بجنا اور چکر آنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دوا بند کر کے فوراً معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔
Who Can’t Fildil Pills?
جن افراد کو فلڈل یا اس کے اجزا سے الرجی ہو۔ انہیں یہ دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ نیز جو افراد دل کے مسائل، دل کا دورہ، فالج یا حالیہ چھ ماہ میں دل کی سرجری کروا چکے ہوں، فشار خون کم ہو، یا فشار خون دوائیوں کے باوجود قابو میں نہ آ رہا ہو، انہیں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔
پیرونی بیماری، چار گھنٹے سے زیادہ عضو کا سخت رہنے کی تاریخ، خون کے امراض جیسے سکل سیل انیمیا یا لیوکیمیا، آنکھوں کی موروثی بیماری، بینائی کا ضائع ہونا، سماعت کے مسائل، خون بہنے کے مسائل، معدے کے السر، جگر کے مسائل، شدید گردوں کے مسائل یا ڈائیلاسز اور پھیپھڑوں کی نالیوں کی رکاوٹ جیسے حالات میں بھی معالج کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔
Precautions
جنسی سرگرمی دل پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے لیے جنہیں حالیہ دل کا دورہ پڑا ہو۔ اس لیے معالج سے یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ دل جنسی سرگرمی کے لیے مضبوط ہے یا نہیں۔ جنسی عمل کے دوران سینے میں درد، چکر یا متلی محسوس ہو تو فوراً رکنا اور معالج سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ فلڈل جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
مائع شکل میں دوا استعمال کرتے وقت بوتل کو تیس سیکنڈ تک اچھی طرح ہلانا چاہیے اور خوراک ناپنے کے لیے درست پیمانہ استعمال کرنا چاہیے۔ عام چمچہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے خوراک میں غلطی ہو سکتی ہے۔
Last Words on Fildil in Urdu
فلڈل ٹیبلیٹس مردانہ کمزوری، پھیپھڑوں کے بلند فشار خون اور مثانے کے غدود کی سوجن جیسے مسائل کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اسے صرف معالج کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔
خود سے خوراک تبدیل کرنا یا کسی اور کو دوا دینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔
FAQs
What are the uses of Fildil tablets in Urdu?
فلڈل ٹیبلیٹس تین اہم طبی مسائل کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ مردانہ کمزوری یعنی عضو تناسل کی کمزوری کے علاج میں تجویز کی جاتی ہے۔ جس میں جنسی ملاپ کے دوران عضو کو سخت رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرا اہم استعمال پھیپھڑوں کی شریانوں میں بلند فشار خون کے علاج کے لیے ہے۔ جہاں دل سے پھیپھڑوں تک خون لے جانے والی نالیوں میں دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اور یہ دوا اس دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تیسرا استعمال مثانے کے غدود یعنی پروسٹیٹ کے بڑھ جانے کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ جس سے پیشاب کرنے میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ اس دوا کو معالج کی ہدایت کے مطابق دیگر طبی حالات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی اسے استعمال کریں۔
What are the side effects of Fildil pills?
فلڈل گولیوں کے استعمال سے کچھ عام مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان میں سر درد، چہرے پر گرمی یا سرخی، معدے کی خرابی، ناک بند ہونا، متلی اور چکر آنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پٹھوں، کمر، بازوؤں یا ٹانگوں میں درد بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ کچھ افراد کو کمزوری، تھکاوٹ، خشک منہ، نیند میں خلل اور جسم میں سن پن جیسی علامات کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔
اگر یہ اثرات پریشان کن ہوں یا زیادہ دیر تک رہیں تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ نایاب صورتوں میں شدید الرجک ردعمل، طویل اور تکلیف دہ عضو کا سخت رہنا، فشار خون میں کمی، بینائی یا سماعت میں تبدیلی جیسے سنگین اثرات بھی ہو سکتے ہیں جن پر فوری طبی توجہ ضروری ہے۔
How many hours does fildil work?
فراہم کردہ ذرائع میں اس کی مدت کے بارے میں واضح طور پر نہیں بتایا گیا۔ تاہم فلڈل کا بنیادی جزو ٹاڈالافل ہے، اور عمومی طبی معلومات کے مطابق اس کا اثر جسم میں تقریباً چھتیس گھنٹے تک قائم رہ سکتا ہے۔ یہ دورانیہ دیگر ملتی جلتی ادویات کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ جن کا اثر عام طور پر چار سے چھ گھنٹے تک ہی رہتا ہے۔ اسی لمبے دورانیے کی وجہ سے اسے بعض اوقات “ویک اینڈ پل” بھی کہا جاتا ہے۔
اس حوالے سے چند اہم باتیں ذہن نشین رہیں۔
یہ چھتیس گھنٹے کا دورانیہ زیادہ تر ضرورت کے وقت استعمال ہونے والی دس یا بیس ملی گرام کی خوراک پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عضو مسلسل چھتیس گھنٹے تک سخت رہتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا اتنے عرصے تک جسم میں فعال رہتی ہے اور جنسی جوش کے دوران ردعمل دینے میں مدد دیتی ہے۔