Folic acid is especially beneficial for pregnant women.

Folic Acid Benefits in Urdu and Advice for Pregnant Women

فولک ایسڈ وٹامن بی نائن کی ایک مصنوعی شکل ہے۔ جبکہ قدرتی طور پر پائی جانے والی اسی غذائی جزو کی شکل کو فولیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ پانی میں حل ہونے والا ضروری وٹامن ہے۔ جسے جسم خود تیار نہیں کر سکتا۔ اس لیے اسے غذا یا غذائی سپلیمنٹس کے ذریعے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

فولک ایسڈ جسم میں خلیوں کی نشوونما، تقسیم اور درست کارکردگی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈی این اے کی تیاری اور مرمت، بعض پروٹینز کی تشکیل اور سرخ خون کے خلیوں کی پختگی میں بھی حصہ لیتا ہے۔

خاص طور پر حمل کے دوران فولک ایسڈ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جنین کی تیز رفتار نشوونما کے لیے فولیٹ ضروری ہوتا ہے۔ حمل سے پہلے اور ابتدائی حمل میں مناسب مقدار میں فولک ایسڈ کا استعمال بچے میں اعصابی نالی کی پیدائشی خرابیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Benefits of Folic Acid in Urdu

فولیٹ خلیوں کی افزائش اور تقسیم کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ چونکہ جسم کے بہت سے حصوں میں نئے خلیے مسلسل بنتے رہتے ہیں۔ اس لیے مناسب مقدار میں فولیٹ کا حصول ضروری ہے۔

یہ ڈی این اے بنانے اور اس کی مرمت میں مدد کرتا ہے۔ ڈی این اے جسم کے خلیوں میں موجود وہ بنیادی مادہ ہے۔ جو موروثی معلومات محفوظ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے فولیٹ کی کمی ان جسمانی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ جن میں خلیوں کی تیز رفتار افزائش شامل ہو۔

فولیٹ سرخ خون کے خلیوں کی پختگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی شدید کمی خون کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ جبکہ حمل کے دوران اس غذائی جزو کی مناسب مقدار ماں اور جنین دونوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

1.      Folic Acid in Pregnancy

فولک ایسڈ کے سب سے نمایاں فوائد میں سے ایک حمل کے دوران بچے کو اعصابی نالی کی پیدائشی خرابیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔

اعصابی نالی جنین کی ابتدائی نشوونما کے دوران بنتی ہے۔ بعد میں یہی ڈھانچہ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس مرحلے میں فولک ایسڈ کی مناسب مقدار بچے میں ریڑھ کی ہڈی کے نامکمل بند ہونے اور دماغ کی شدید نشوونما کی خرابی جیسی پیدائشی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔

اسی وجہ سے فولک ایسڈ صرف حمل ٹھہرنے کے بعد شروع کرنا ہی اہم نہیں۔ بلکہ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے حمل سے پہلے ہی مناسب مقدار حاصل کرنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

فراہم کردہ طبی جائزے کے مطابق، عام خطرے والی تولیدی عمر کی خواتین کے لیے حمل سے کم از کم دو سے تین ماہ پہلے فولک ایسڈ شروع کرنے کی سفارشات موجود رہی ہیں۔ جبکہ زیادہ خطرے والی خواتین کے لیے زیادہ مقدار طبی ماہر کی نگرانی میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

2.      Heart Issues Related to Birth

فولک ایسڈ کا استعمال صرف اعصابی نالی کی خرابیوں تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ حمل سے پہلے اور حمل کے ابتدائی عرصے میں اس کی مناسب مقدار بچے میں بعض دیگر پیدائشی ساختی خرابیوں کے خطرے کو کم کرنے میں بھی ممکنہ کردار ادا کر سکتی ہے۔

تحقیقی شواہد میں پیدائشی دل کی خرابیوں اور منہ کے بعض پیدائشی نقائص کے خطرے میں کمی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

تاہم ان فوائد کے پیچھے مکمل حیاتیاتی طریقۂ کار ابھی پوری طرح واضح نہیں۔ ہوموسسٹین کے تحول کو منظم کرنے میں فولیٹ کا کردار اس ممکنہ فائدے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

3.      Anemia Prevention

سرخ خون کے خلیوں کی مناسب تشکیل کے لیے فولیٹ، وٹامن بی بارہ اور آئرن تین اہم غذائی اجزا ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی خون بنانے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

حمل کے دوران جسم میں خون کی مقدار بڑھتی ہے۔ سرخ خون کے خلیوں کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے اس عرصے میں فولیٹ کی مناسب مقدار خاص اہمیت رکھتی ہے۔

فولیٹ اور وٹامن بی بارہ مل کر ایک اہم حیاتی کیمیائی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ جس کے ذریعے ہوموسسٹین سے میتھیونین کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔ فولیٹ یا وٹامن بی بارہ کی کمی کی صورت میں خون کی کمی پیدا ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

4.      Reduce Pre-Birth Risks

قبل از وقت پیدائش سے مراد حمل کے سینتیس ہفتے مکمل ہونے سے پہلے بچے کی پیدائش ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ نومولود میں قلیل اور طویل مدتی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیقی مشاہدات میں کم خون کے فولیٹ اور حمل کی کم مدت کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح حمل کے دوران فولک ایسڈ استعمال نہ کرنے کو بھی بعض مطالعات میں نسبتاً زیادہ خطرے سے جوڑا گیا۔

ایک بڑے مشاہداتی مطالعے میں حمل ٹھہرنے سے پہلے طویل عرصے تک فولیٹ سپلیمنٹ استعمال کرنے والی خواتین میں اچانک قبل از وقت پیدائش کا خطرہ کم دیکھا گیا۔ اس مطالعے میں یہ بھی اشارہ ملا کہ صرف مقدار ہی نہیں۔ بلکہ فولک ایسڈ استعمال کرنے کا دورانیہ بھی اہم ہو سکتا ہے۔

تاہم قبل از وقت پیدائش کی روک تھام کے حوالے سے مزید مضبوط تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس لیے فولک ایسڈ کو اس مقصد کے لیے یقینی علاج قرار نہیں دینا چاہیے۔

5.      Brain Health

فولیٹ دماغ میں بعض کیمیائی مادوں کی تیاری میں حصہ لیتا ہے۔ جو اعصابی نظام کے معمول کے کام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ خون میں فولیٹ کی کم مقدار کو ذہنی کارکردگی میں خرابی اور بعض ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

کچھ مطالعات میں مناسب فولیٹ کی مقدار کو الزائمر کی بیماری سے ممکنہ تحفظ کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔ ایک مطالعے میں معمولی ذہنی کمزوری رکھنے والے افراد نے روزانہ چار سو مائیکروگرام فولک ایسڈ دو سال تک استعمال کیا تو دماغی کارکردگی کے بعض پیمانوں میں بہتری دیکھی گئی۔

اسی طرح بعض مطالعات میں الزائمر کی دوا کے ساتھ فولک ایسڈ استعمال کرنے والے افراد میں سوچنے کی صلاحیت اور سوزش کے بعض پیمانوں میں بہتری دیکھی گئی۔

تاہم یہ نتائج ہر فرد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ اور ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے فولک ایسڈ کو بنیادی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس شعبے میں مزید مضبوط اور وسیع تحقیق کی ضرورت ہے۔

6.      Folic Acid for Depressed Feelings

فولیٹ دماغ میں اعصابی پیغامات پہنچانے والے کیمیائی مادوں کی تیاری میں شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے فولیٹ کی کم مقدار اور افسردگی سمیت بعض ذہنی بیماریوں کے درمیان تعلق پر تحقیق کی گئی ہے۔

کچھ جائزوں کے مطابق فولک ایسڈ یا فولیٹ سپلیمنٹس بعض افراد میں افسردگی، ولادت کے بعد ہونے والی افسردگی، شیزوفرینیا اور دو قطبی عارضے کی علامات میں بہتری لانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

کچھ شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ افسردگی کی دوا کے ساتھ فولیٹ سپلیمنٹ استعمال کرنے سے بعض افراد میں علامات میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ اسی طرح شیزوفرینیا میں نفسیاتی ادویات کے ساتھ فولیٹ استعمال کرنے کے ممکنہ فوائد بھی زیر تحقیق رہے ہیں۔

تاہم موجودہ شواہد کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بڑے اور زیادہ مضبوط مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے۔ کہ کن افراد کو اس سے حقیقی فائدہ پہنچتا ہے اور مناسب مقدار کیا ہونی چاہیے۔

7.      Heart Health

ہوموسسٹین خون میں پایا جانے والا ایک امینو ایسڈ ہے۔ اس کی مقدار زیادہ ہونے کو دل کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

فولیٹ ہوموسسٹین کے تحول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے جسم میں فولیٹ کی مناسب مقدار ہوموسسٹین کو معمول کی سطح پر رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

فولک ایسڈ سپلیمنٹس ہوموسسٹین کی مقدار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اور ممکنہ طور پر دل کی بیماری کے بعض خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم صرف فولک ایسڈ کو دل کی بیماری سے بچاؤ کا مکمل ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ دل کی صحت کے لیے متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور دیگر خطرات کا مناسب انتظام بھی ضروری ہے۔

8.      Role in Diabetes

کچھ شواہد کے مطابق فولیٹ سپلیمنٹس ذیابیطس کے شکار افراد میں خون میں شکر کے نظم اور انسولین کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنانے میں ممکنہ مدد دے سکتے ہیں۔

میٹفارمن جیسی بعض ادویات جسم میں فولیٹ کی مقدار کم کر سکتی ہیں۔ اس لیے جن افراد میں فولیٹ کی کمی موجود ہو ان کے لیے ڈاکٹر سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔

تاہم ہر ذیابیطس کے مریض کو فولک ایسڈ سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا استعمال خون میں فولیٹ کی سطح، غذا، ادویات اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی مشورے سے ہونا چاہیے۔

9.      Fertility in Women

فولیٹ خواتین کی تولیدی صحت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کچھ تحقیق کے مطابق مناسب فولیٹ انڈوں کے معیار، ان کی نشوونما اور رحم میں ان کے کامیاب استقرار کے لیے معاون ہو سکتا ہے۔

حمل ٹھہرنے کی کوشش کرنے والی خواتین میں مناسب فولیٹ کی مقدار حمل کے امکانات اور حمل کو برقرار رکھنے کے امکانات کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔ معاون تولیدی طریقوں سے حمل حاصل کرنے والی خواتین میں بھی زیادہ غذائی فولیٹ یا سپلیمنٹ کے استعمال اور بہتر نتائج کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

تاہم زرخیزی کے مسائل کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس لیے فولک ایسڈ کو بانجھ پن کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

10.  Folic Acid and Swelling

جسم میں مسلسل یا غیر معمولی سوزش کئی بیماریوں سے تعلق رکھ سکتی ہے۔ فولیٹ کے جسمانی تحول اور خلیوں کے کام میں کردار کی وجہ سے اس کے سوزش پر ممکنہ اثرات بھی زیر تحقیق رہے ہیں۔

کچھ مطالعات میں فولک ایسڈ اور فولیٹ سپلیمنٹس کے استعمال کے بعد سوزش سے متعلق بعض نشانات، مثلاً سی ری ایکٹو پروٹین، میں کمی دیکھی گئی ہے۔

تاہم یہ نتائج اس بات کا ثبوت نہیں کہ فولک ایسڈ ہر قسم کی سوزش کا علاج کرتا ہے۔ اس حوالے سے بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

11.  Beneficial for Kidneys

گردے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گردوں کی دائمی بیماری میں ہوموسسٹین کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

فراہم کردہ تحقیق کے مطابق گردوں کی دائمی بیماری رکھنے والے بہت سے افراد میں ہوموسسٹین کی مقدار زیادہ پائی جا سکتی ہے۔ فولک ایسڈ ہوموسسٹین کی مقدار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اور اس طرح دل کی بیماری سے متعلق خطرات پر ممکنہ مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

تاہم گردوں کے مریضوں کو کسی بھی غذائی سپلیمنٹ کا استعمال خود سے شروع نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان میں ادویات، غذائی ضروریات اور بیماری کی شدت کے مطابق علاج مختلف ہو سکتا ہے۔

Last Word on Folic Acid Benefits in Urdu

فولک ایسڈ وٹامن بی نائن کی مصنوعی شکل ہے۔ جبکہ فولیٹ اسی وٹامن کی قدرتی غذائی شکلوں کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے۔ یہ خلیوں کی نشوونما اور تقسیم، ڈی این اے کی تیاری و مرمت، پروٹین کی تشکیل اور سرخ خون کے خلیوں کی پختگی جیسے اہم جسمانی عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔

حمل کے دوران فولک ایسڈ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حمل سے پہلے اور ابتدائی حمل میں مناسب مقدار بچے میں اعصابی نالی کی پیدائشی خرابیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جبکہ بعض شواہد پیدائشی دل کی خرابیوں، منہ کے بعض پیدائشی نقائص اور قبل از وقت پیدائش کے خطرے میں ممکنہ کمی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

فولک ایسڈ کے ممکنہ فوائد دماغی صحت، افسردگی کی بعض علامات، دل کی صحت، ذیابیطس، زرخیزی، سوزش اور گردوں کی بیماری سے متعلق بعض پہلوؤں تک بھی زیر تحقیق ہیں۔ تاہم ان تمام فوائد کے شواہد یکساں مضبوط نہیں ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ فولک ایسڈ کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے۔ خاص طور پر زیادہ مقدار، حمل، بچوں، وٹامن بی بارہ کی کمی کے خدشے یا دوسری ادویات کے استعمال کی صورت میں طبی ماہر سے مشورہ کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

FAQs

What are the main benefits of folic acid?

فولک ایسڈ جسم کے لیے ایک اہم غذائی جزو ہے۔ یہ خلیوں کی نشوونما اور تقسیم میں مدد کرتا ہے۔ یہ ڈی این اے کی تیاری اور مرمت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فولک ایسڈ سرخ خون کے خلیوں کی پختگی کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کی مناسب مقدار خون کی کمی سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہے۔

حمل کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حمل سے پہلے اور ابتدائی حمل میں فولک ایسڈ استعمال کرنے سے بچے میں اعصابی نالی کی پیدائشی خرابیوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ کچھ تحقیق میں دل کی صحت، ذہنی کارکردگی، زرخیزی اور قبل از وقت پیدائش کے حوالے سے بھی ممکنہ فوائد سامنے آئے ہیں۔ تاہم ہر فائدے کے شواہد یکساں مضبوط نہیں ہیں۔

Why is folic acid important during pregnancy?

حمل کے دوران فولک ایسڈ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ جنین کی تیز رفتار نشوونما ہے۔ فولک ایسڈ خلیوں کی تقسیم اور ڈی این اے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حمل کے ابتدائی مرحلے میں یہ بچے کی اعصابی نالی کی مناسب تشکیل کے لیے خاص طور پر ضروری ہے۔

مناسب مقدار میں فولک ایسڈ استعمال کرنے سے ریڑھ کی ہڈی کے نامکمل بند ہونے اور دماغ کی بعض شدید پیدائشی خرابیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کو حمل سے پہلے ہی فولک ایسڈ کے بارے میں طبی مشورہ لینا چاہیے۔ زیادہ خطرے والی خواتین کو زیادہ مقدار درکار ہو سکتی ہے۔ ایسی مقدار صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر لینی چاہیے۔

What is the difference between folate and folic acid?

فولیٹ اور فولک ایسڈ دونوں وٹامن بی نائن سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ فولیٹ وٹامن بی نائن کی قدرتی شکلوں کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے۔ یہ پالک، بروکولی، دالوں، انڈے کی زردی، کلیجی اور ترش پھلوں میں پایا جاتا ہے۔ فولک ایسڈ اسی وٹامن کی مصنوعی شکل ہے۔ اسے غذائی سپلیمنٹس میں شامل کیا جاتا ہے۔

بعض غذاؤں میں بھی اسے مصنوعی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ جسم میں استعمال ہونے سے پہلے دونوں کو مختلف حیاتی کیمیائی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ خون میں گردش کرنے والی اہم فعال شکل ایل میتھائل فولیٹ ہے۔ اس لیے فولیٹ اور فولک ایسڈ کے نام ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔

Can folic acid help prevent anemia?

فولک ایسڈ خون کے سرخ خلیوں کی مناسب تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس عمل کے لیے فولیٹ کے ساتھ وٹامن بی بارہ اور آئرن بھی ضروری ہیں۔ فولیٹ کی کمی خون کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ حمل کے دوران خون کی مقدار میں قدرتی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔

اس وجہ سے بعض غذائی اجزا کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ مناسب فولیٹ خون بنانے کے عمل کو معاونت فراہم کرتا ہے۔ تاہم ہر قسم کی خون کی کمی فولک ایسڈ کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ آئرن یا وٹامن بی بارہ کی کمی بھی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس لیے خون کی کمی کی صورت میں خود سے فولک ایسڈ شروع کرنے کے بجائے اس کی وجہ معلوم کرنا بہتر ہے۔

Can folic acid improve fertility?

فولیٹ خواتین کی تولیدی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کچھ تحقیق کے مطابق مناسب فولیٹ انڈوں کے معیار اور ان کی نشوونما میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ رحم میں بارآور بیضے کے کامیاب استقرار کے لیے بھی معاون ہو سکتا ہے۔ حمل ٹھہرنے کی کوشش کرنے والی خواتین میں مناسب فولیٹ کی مقدار کو بہتر تولیدی نتائج کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

معاون تولیدی طریقوں کے ذریعے حمل حاصل کرنے والی خواتین میں بھی زیادہ فولیٹ لینے کے ممکنہ فوائد کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ تاہم فولک ایسڈ بانجھ پن کا علاج نہیں ہے۔ زرخیزی کے مسائل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ہارمونی مسائل اور تولیدی اعضاء سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ اس لیے ایسی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔

Can folic acid support brain health?

فولیٹ دماغ اور اعصابی نظام کے معمول کے کام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دماغ میں بعض اعصابی کیمیائی مادوں کی تیاری میں شامل ہوتا ہے۔ خون میں فولیٹ کی کم مقدار کو ذہنی کارکردگی میں کمی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ بعض تحقیق میں کم فولیٹ اور بڑھاپے میں ذہنی کمزوری کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا ہے۔ ایک مطالعے میں معمولی ذہنی کمزوری رکھنے والے افراد نے روزانہ چار سو مائیکروگرام فولک ایسڈ استعمال کیا۔

دو سال بعد دماغی کارکردگی کے بعض پیمانوں میں بہتری دیکھی گئی۔ کچھ شواہد الزائمر کی بیماری کے حوالے سے بھی ممکنہ فائدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم ان نتائج کی مزید مضبوط تحقیق سے تصدیق ضروری ہے۔ فولک ایسڈ کو ذہنی بیماری کا مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

Can folic acid reduce the risk of heart disease?

فولک ایسڈ دل کی صحت کے حوالے سے ممکنہ فوائد رکھتا ہے۔ فولیٹ جسم میں ہوموسسٹین کے تحول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خون میں ہوموسسٹین کی زیادہ مقدار کو دل کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔ فولک ایسڈ سپلیمنٹس ہوموسسٹین کی مقدار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس وجہ سے دل کی بیماری کے بعض خطرات میں ممکنہ کمی کا تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم صرف فولک ایسڈ کو دل کی بیماری سے بچاؤ کا مکمل ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور دیگر خطرات کا کنٹرول بھی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو دل کی بیماری یا ہوموسسٹین کی زیادتی کا مسئلہ ہو تو سپلیمنٹ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

What are the risks of taking too much folic acid?

فولک ایسڈ کی ضرورت سے زیادہ مقدار لینا مناسب نہیں۔ خاص طور پر سپلیمنٹس سے زیادہ مقدار حاصل کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔ زیادہ فولک ایسڈ خون میں ایسی مقدار جمع کر سکتا ہے جسے جسم نے ابھی مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا۔ اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں تمام خطرات ابھی واضح نہیں ہیں۔

زیادہ مقدار وٹامن بی بارہ کی کمی کو بھی چھپا سکتی ہے۔ اس صورت میں خون کی بعض علامات بہتر نظر آ سکتی ہیں۔ لیکن اعصابی نقصان کا مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ اسی لیے زیادہ مقدار خود سے نہیں لینی چاہیے۔ بالغ افراد کے لیے سپلیمنٹس اور مصنوعی طور پر شامل فولیٹ کی قابل برداشت زیادہ سے زیادہ روزانہ مقدار ایک ہزار مائیکروگرام بیان کی گئی ہے۔

Who may need folic acid supplements?

ہر شخص کو فولک ایسڈ سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ متوازن غذا لینے والے بہت سے افراد اپنی ضرورت کا فولیٹ خوراک سے حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم فولیٹ کی کمی والے افراد کو سپلیمنٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے بھی فولک ایسڈ اہم ہے۔ حمل کے دوران اس کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

بعض بیماریوں کی وجہ سے فولیٹ کا جذب متاثر ہو سکتا ہے۔ کچھ ادویات بھی فولیٹ کے جذب یا استعمال پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ میتھوٹریکسیٹ اور سلفاسالازین اس کی مثالیں ہیں۔ خون کی کمی، حمل یا کسی مخصوص بیماری کی صورت میں سپلیمنٹ کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے مناسب مقدار کا تعین طبی ماہر کی ہدایت کے مطابق کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

How should folic acid supplements be taken safely?

فولک ایسڈ مختلف غذائی سپلیمنٹس میں دستیاب ہوتا ہے۔ اسے کھانے کے ساتھ یا بغیر لیا جا سکتا ہے۔ تاہم مقدار کا انتخاب عمر، صحت اور ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کو استعمال شروع کرنے سے پہلے طبی مشورہ لینا چاہیے۔ زیادہ خطرے والی خواتین کو عام مقدار سے زیادہ فولک ایسڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ایسی زیادہ مقدار ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی استعمال کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص دوسری ادویات لے رہا ہو تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کرے۔ بعض ادویات فولیٹ کے جذب یا جسم میں اس کے استعمال کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سپلیمنٹ کو ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے۔ اسے نمی والی جگہ، خصوصاً غسل خانے، سے دور رکھنا بہتر ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts