Learn about galactorrhea in Urdu.

Galactorrhea Meaning in Urdu – A Problem in Women

گیلیکٹوریا ایسی کیفیت ہے۔ جس میں حمل یا بریسٹ فیڈنگ نہ کروانے کے باوجود چھاتی سے دودھ یا دودھ جیسا مادہ خارج ہونے لگتا ہے۔ یہ اخراج خود بخود بھی ہو سکتا ہے۔ اور چھاتی یا نپل کو دبانے سے بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ عموماً یہ دونوں چھاتیوں سے ہوتا ہے۔

گیلیکٹوریا اکثر کسی خطرناک بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ اور قابل علاج کیفیت ہے۔ اس کی سب سے عام وجہ جسم میں پرولیکٹن نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جانا ہے۔ یہی ہارمون بچے کی پیدائش کے بعد دودھ بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

عام حالات میں چھاتی سے دودھ بننے کا تعلق حمل اور بچے کو دودھ پلانے سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر دودھ پلانے کا عمل ختم ہونے کے کافی عرصے بعد، یا حمل کے بغیر، چھاتی سے دودھ نکلنے لگے تو اسے گیلیکٹوریا کہا جاتا ہے۔

دودھ پلانا بند کرنے کے ایک سال بعد بھی اگر دودھ جیسا اخراج موجود ہو تو اسے غیر رضاعی دودھ کا اخراج سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ گیلیکٹوریا کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

اس کیفیت میں نکلنے والا مادہ عموماً سفید اور دودھ جیسا ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں اس کا رنگ سبزی مائل بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم خونی اخراج عام گیلیکٹوریا کی خصوصیت نہیں ہے۔ اور اس صورت میں چھاتی کی مزید جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔

Causes of Galactorrhea in Urdu

گیلیکٹوریا کی اہم وجہ پرولیکٹن کی مقدار میں اضافہ ہے۔ پرولیکٹن دماغ کے نچلے حصے میں موجود پچوٹری غدود سے خارج ہونے والا ہارمون ہے۔ یہ چھاتی میں دودھ بنانے اور خارج کرنے کے عمل کو تحریک دیتا ہے۔

پچوٹری غدود میں پرولیکٹن بنانے والا غیر سرطانی رسولی نما ابھار، جسے پرولیکٹینوما کہا جاتا ہے، پرولیکٹن کی مقدار بڑھا سکتا ہے۔ یہی کیفیت گیلیکٹوریا کی ایک اہم وجہ بن سکتی ہے۔

پرولیکٹینوما دو اقسام میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا حجم 1 سینٹی میٹر سے کم ہو تو اسے چھوٹا پرولیکٹینوما کہا جاتا ہے۔ جبکہ 1 سینٹی میٹر سے بڑا رسولی نما ابھار بڑا پرولیکٹینوما کہلاتا ہے۔ رسولی کے حجم اور پرولیکٹن کی مقدار کے درمیان تعلق بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ دوسرے پچوٹری رسولیاں یا پچوٹری غدود کے ڈنٹھل پر دباؤ بھی پرولیکٹن بڑھا سکتا ہے۔ اس صورت میں دماغ سے آنے والے ڈوپامین کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ڈوپامین عام طور پر پرولیکٹن کے اخراج کو روکتا ہے۔ اس لیے اس رکاوٹ کے نتیجے میں پرولیکٹن بڑھ سکتا ہے۔

Weak Thyroid

گیلیکٹوریا صرف پچوٹری غدود کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ مختلف ادویات، ہارمونز اور دوسری طبی حالتیں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔

تھائیرائڈ غدود کی کم فعالیت میں ایک ہارمون بڑھ سکتا ہے۔ جو پرولیکٹن بنانے والے خلیوں کو تحریک دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پرولیکٹن بڑھ سکتا ہے۔ اور چھاتی سے دودھ جیسا اخراج شروع ہو سکتا ہے۔

Medications

کچھ ادویات پرولیکٹن کی مقدار بڑھا سکتی ہیں۔ ان میں بعض مانع حمل گولیاں، فشار خون کی ادویات، بعض ذہنی امراض کی ادویات، قے روکنے والی کچھ ادویات اور درد کی مخصوص ادویات شامل ہیں۔

ریسپریڈون جیسی بعض ادویات پرولیکٹن کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔ میٹو کلوپرامائڈ اور ڈومپیریڈون بھی اس ہارمون کے اضافے سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ کچھ درد کش ادویات میں شامل اوپیئڈز بھی دماغ میں ڈوپامین کے اخراج کو کم کرکے پرولیکٹن بڑھا سکتے ہیں۔

اس لیے اگر کسی شخص کو گیلیکٹوریا ہو تو استعمال ہونے والی تمام ادویات کے بارے میں معالج کو بتانا بہت ضروری ہے۔

Kidney Issues

گردوں کا کام شدید متاثر ہونے کی صورت میں جسم پرولیکٹن کو مناسب طور پر خارج نہیں کر پاتا۔ اس وجہ سے خون میں پرولیکٹن کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ گردے کی پیوند کاری کے بعد بعض مریضوں میں یہ ہارمون تیزی سے معمول کی سطح پر آ سکتا ہے۔

Breast Problems

نپل کو بار بار چھونا، دبانا یا جنسی تحریک دینا پرولیکٹن کے اخراج کو بڑھا سکتا ہے۔ بہت زیادہ خود معائنہ کرنا یا ایسے کپڑے پہننا جو مسلسل چھاتی سے رگڑ کھاتے ہوں۔ بعض افراد میں اس کیفیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

سینے کی چوٹ، جلنے، جراحی یا ہرپس زوسٹر جیسی حالتیں بھی اعصابی راستوں کے ذریعے پرولیکٹن بڑھنے سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔

Herbal Supplements

میتھی اور سونف کے بیج جیسے بعض جڑی بوٹیوں کے استعمال کو بھی گیلیکٹوریا سے جوڑا گیا ہے۔ اس لیے قدرتی یا جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اشیا کے استعمال کی معلومات بھی معالج کو دینی چاہییں۔

Estrogen and Other Hormones

ایسٹروجن بھی پرولیکٹن بڑھا سکتا ہے۔ حمل کے دوران ایسٹروجن کی زیادہ مقدار دودھ بنانے والے خلیوں میں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے۔ بعض ہارمونل حالات میں بھی پرولیکٹن کے بڑھنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔

کبھی کبھار پرولیکٹن کی زیادتی کی کوئی واضح وجہ نہیں ملتی۔ ایسی کیفیت کو نامعلوم وجہ سے پیدا ہونے والی پرولیکٹن کی زیادتی کہا جا سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ خود کم ہو جاتی ہے، جبکہ بعض میں طویل عرصے تک مستحکم رہ سکتی ہے۔

Symptoms of Galactorrhea in Urdu

گیلیکٹوریا کی بنیادی علامت حمل یا دودھ پلانے کے بغیر چھاتی سے سفید یا دودھ جیسا مادہ نکلنا ہے۔ یہ مادہ ایک یا دونوں چھاتیوں سے نکل سکتا ہے۔

کچھ افراد میں مادہ خود بخود نکلتا ہے۔ جبکہ بعض میں نپل دبانے کے بعد اخراج ہوتا ہے۔

پرولیکٹن بڑھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ دوسری علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مثلاً حیض کا کم ہونا یا بند ہو جانا، بانجھ پن، جنسی خواہش میں کمی، اندام نہانی میں خشکی اور سر درد۔

کچھ خواتین میں سینے یا ٹھوڑی پر غیر معمولی بال بڑھ سکتے ہیں۔ اور مہاسے بھی ہو سکتے ہیں۔

مردوں میں گیلیکٹوریا کے ساتھ چھاتی کے بافتوں کا بڑھ جانا، ٹیسٹوسٹیرون کی کمی، جنسی خواہش میں کمی یا عضو تناسل کی کمزوری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر پچوٹری غدود میں بڑا رسولی نما ابھار موجود ہو تو سر درد یا نظر کے میدان میں خرابی بھی ہو سکتی ہے۔

Women at Higher Risks

یہ کیفیت خواتین میں زیادہ عام ہے۔ لیکن مردوں اور بچوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر 20 سے 35 سال کی عمر کی خواتین اور وہ خواتین جنہیں پہلے حمل ہو چکا ہو۔ اس کا زیادہ سامنا کر سکتی ہیں۔

پرولیکٹن کی زیادتی تولیدی مسائل رکھنے والی خواتین میں بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ بعض مطالعات میں بیضہ دانی کے ہارمونل مرض میں مبتلا خواتین میں بھی اس کی شرح زیادہ بیان کی گئی ہے۔

نوزائیدہ بچوں میں بھی کبھی کبھار چھاتی سے دودھ جیسا مادہ نکل سکتا ہے۔ یہ عموماً ماں کے ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن، کے بچے کے جسم میں منتقل ہونے سے متعلق ہوتا ہے۔ اور اکثر خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم بچوں کے ماہر معالج کو اس بارے میں ضرور بتایا جانا چاہیے۔

Diagnosis of Galactorrhea

تشخیص کے لیے معالج پہلے علامات، طبی تاریخ اور استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ چھاتی اور نپل کا جسمانی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔

معالج پرولیکٹن کی مقدار جانچنے کے لیے خون کا معائنہ تجویز کر سکتا ہے۔ تھائیرائڈ کے کام کو جانچنے کے لیے بھی خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر حمل کا امکان ہو تو حمل کا معائنہ بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

کچھ حالات میں چھاتی کے اخراج کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ واقعی دودھ ہے یا نہیں۔ بعض طبی طریقوں سے اس میں چکنائی کے قطروں کی موجودگی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر پچوٹری غدود میں رسولی کا شبہ ہو تو مقناطیسی گونج کی تصویربرداری کے ذریعے دماغ کے اس حصے کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر رسولی نظر کے اعصاب کے اہم حصے پر دباؤ ڈال رہی ہو تو نظر کے میدان کی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔

بعض بڑی پچوٹری رسولیوں میں خون کے معائنے کا ایک نایاب مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ جس میں پرولیکٹن بہت زیادہ ہونے کے باوجود ابتدائی معائنے میں مقدار معمولی بلند دکھائی دیتی ہے۔ ایسے حالات میں خون کے نمونے کو مخصوص طریقے سے پتلا کرکے دوبارہ جانچنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Treatment of Galactorrhea in Urdu

علاج کا فیصلہ بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض افراد میں گیلیکٹوریا خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اور کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اگر پرولیکٹن زیادہ ہو یا پچوٹری رسولی موجود ہو تو پرولیکٹن کم کرنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کیبرگولین اور بروموکریپٹین ایسی ادویات ہیں جو ڈوپامین کے اثر کو بڑھا کر پرولیکٹن کے اخراج کو کم کرتی ہیں۔ یہ ادویات پرولیکٹن کو معمول پر لانے اور بعض صورتوں میں رسولی کا حجم کم کرنے میں مؤثر ہو سکتی ہیں۔

ان ادویات سے متلی، قے، کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر کم ہونا، غنودگی اور سر درد جیسے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں کیبرگولین کے استعمال کے ساتھ دل کے والو سے متعلق پیچیدگی بھی بیان کی گئی ہے۔

اگر گیلیکٹوریا کسی دوا کی وجہ سے ہو تو معالج اس دوا کو روکنے یا کسی دوسری دوا سے تبدیل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ ایسی تبدیلی خود سے نہیں کرنی چاہیے۔

اگر تھائیرائڈ غدود کی کم فعالیت وجہ ہو تو اس کے علاج سے پرولیکٹن اور گیلیکٹوریا میں بہتری آ سکتی ہے۔

اگر پچوٹری رسولی کا علاج ضروری ہو تو عموماً پہلے دوا کے ذریعے اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نایاب حالات میں جراحی یا شعاعی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Conclusion on Galactorrhea in Urdu

گیلیکٹوریا حمل یا دودھ پلانے کے بغیر چھاتی سے دودھ یا دودھ جیسا مادہ خارج ہونے کی کیفیت ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ پرولیکٹن کی زیادتی ہے۔ لیکن پچوٹری غدود کی رسولی، تھائیرائڈ کی خرابی، گردوں کی بیماری، بعض ادویات، چھاتی کی تحریک اور کچھ جڑی بوٹیاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔

تشخیص میں طبی معائنہ، پرولیکٹن اور تھائیرائڈ کے خون کے معائنے، حمل کے معائنے اور ضرورت کے مطابق چھاتی یا پچوٹری غدود کی تصویربرداری شامل ہو سکتی ہے۔ علاج ہمیشہ بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔

اکثر صورتوں میں یہ کیفیت قابل علاج ہوتی ہے۔ تاہم مسلسل یا غیر معمولی چھاتی کے اخراج کو نظر انداز کرنے کے بجائے مناسب طبی جانچ کرانا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

FAQs

What is galactorrhea?

گیلیکٹوریا ایسی کیفیت ہے۔ جس میں حمل یا بچے کو دودھ پلانے کے بغیر چھاتی سے دودھ یا دودھ جیسا مادہ خارج ہونے لگتا ہے۔ یہ اخراج خود بخود بھی ہو سکتا ہے۔ اور نپل کو دبانے یا چھونے سے بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ عموماً یہ دونوں چھاتیوں سے سفید یا دودھ جیسا مادہ خارج ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس کی ایک اہم وجہ خون میں پرولیکٹن ہارمون کی مقدار بڑھ جانا ہے۔ پرولیکٹن وہ ہارمون ہے۔ جو چھاتی میں دودھ بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پچوٹری غدود کی بعض رسولیاں، تھائیرائڈ کی کم فعالیت، گردوں کی خرابی، کچھ ادویات اور نپل کی بار بار تحریک بھی گیلیکٹوریا کا سبب بن سکتی ہیں۔

What causes galactorrhea?

گیلیکٹوریا کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس کی اہم وجہ پرولیکٹن ہارمون کی زیادتی ہے۔ جو پچوٹری غدود کی رسولی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ تھائیرائڈ غدود کی کم فعالیت میں بھی ایسے ہارمونز بڑھ سکتے ہیں۔ جو پرولیکٹن کے اخراج کو تحریک دیتے ہیں۔ بعض ادویات، جن میں کچھ ذہنی امراض، قے، فشار خون اور درد کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ پرولیکٹن بڑھا سکتی ہیں۔

گردوں کی خرابی، سینے یا چھاتی کی چوٹ، جراحی، بار بار نپل کو تحریک دینا اور بعض جڑی بوٹیاں بھی اس کیفیت سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں پرولیکٹن بڑھنے کی کوئی واضح وجہ نہیں ملتی۔ جسے نامعلوم وجہ والی کیفیت کہا جاتا ہے۔

What are the symptoms of galactorrhea?

گیلیکٹوریا کی بنیادی علامت حمل یا دودھ پلانے کے بغیر چھاتی سے سفید یا دودھ جیسا مادہ خارج ہونا ہے۔ یہ مادہ ایک یا دونوں چھاتیوں سے نکل سکتا ہے۔ بعض افراد میں اخراج خود بخود ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں میں نپل کو دبانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔

اگر پرولیکٹن کی مقدار زیادہ ہو تو حیض کا کم ہونا یا بند ہو جانا، بانجھ پن، جنسی خواہش میں کمی، اندام نہانی میں خشکی اور سر درد جیسی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ خواتین میں سینے یا ٹھوڑی پر غیر معمولی بال اور مہاسے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ مردوں میں چھاتی کے بافتوں کا بڑھنا، ٹیسٹوسٹیرون کی کمی، جنسی خواہش میں کمی اور عضو تناسل کی کمزوری بھی ساتھ ہو سکتی ہے۔

Is galactorrhea dangerous?

گیلیکٹوریا عام طور پر جان لیوا کیفیت نہیں ہے۔ اور اکثر قابل علاج ہوتا ہے۔ بہت سے معاملات میں اس کی وجہ ایسی حالت ہوتی ہے۔ جسے مناسب علاج یا نگرانی کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کی وجہ پچوٹری غدود کی رسولی ہو تو یہ رسولی اکثر غیر سرطانی ہوتی ہے۔

تاہم چھاتی سے غیر معمولی اخراج کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر اخراج کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر اخراج مسلسل جاری رہے، یا چھاتی میں گلٹی محسوس ہو، یا مادہ خونی یا گہرے پیلے رنگ کا ہو تو مزید طبی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔ سر درد، نظر کی خرابی یا حیض میں نمایاں بے قاعدگی بھی معالج سے مشورہ کرنے کی اہم وجوہات ہیں۔

How is galactorrhea diagnosed?

گیلیکٹوریا کی تشخیص کے لیے معالج پہلے مریض کی علامات، طبی تاریخ اور استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ چھاتی اور نپل کا جسمانی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ خون کے ذریعے پرولیکٹن کی مقدار جانچی جا سکتی ہے۔ جبکہ تھائیرائڈ کے کام کا جائزہ لینے کے لیے بھی خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

اگر حمل کا امکان موجود ہو تو حمل کا معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں چھاتی سے نکلنے والے مادے کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اگر پچوٹری غدود میں رسولی کا شبہ ہو تو مقناطیسی گونج کی تصویربرداری کی جا سکتی ہے۔ اگر رسولی نظر کے اہم اعصابی حصے سے متصل ہو تو نظر کے میدان کی جانچ بھی ضروری ہو سکتی ہے۔

How is galactorrhea treated?

گیلیکٹوریا کا علاج اس کی بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ کچھ افراد میں یہ کیفیت خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر پرولیکٹن زیادہ ہو یا پچوٹری غدود کی رسولی موجود ہو تو پرولیکٹن کم کرنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کیبرگولین اور بروموکریپٹین ایسی ادویات ہیں۔ جو پرولیکٹن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اگر کسی دوا کی وجہ سے پرولیکٹن بڑھا ہو تو معالج اسے تبدیل یا بند کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ تھائیرائڈ کی کم فعالیت کی صورت میں اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ نپل کی غیر ضروری تحریک سے بچنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ نایاب صورتوں میں رسولی کے لیے جراحی یا شعاعی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Can galactorrhea occur without high prolactin levels?

جی ہاں، بعض افراد میں چھاتی سے دودھ جیسا مادہ خارج ہوتا ہے۔ لیکن خون میں پرولیکٹن کی مقدار معمول کے مطابق ہوتی ہے۔ اسے معمول کے پرولیکٹن کے ساتھ گیلیکٹوریا کہا جاتا ہے۔ اگر اخراج معمولی ہو اور مریض کو زیادہ پریشانی نہ ہو تو بعض صورتوں میں صرف نگرانی کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر دودھ جیسا اخراج مسلسل یا بہت زیادہ ہو، یا حیض کے معمول میں خرابی پیدا ہو رہی ہو۔ تو معالج مزید جائزہ لے سکتا ہے۔

علامات زیادہ پریشان کن ہونے کی صورت میں مخصوص ادویات سے علامات میں کمی لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ علاج کی ضرورت اور مدت ہر فرد کی علامات اور طبی صورتحال کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے دوا خود سے استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

When should I see a doctor for galactorrhea?

اگر حمل یا دودھ پلانے کے بغیر ایک یا دونوں چھاتیوں سے دودھ جیسا مادہ خارج ہونے لگے۔ تو معالج سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔ بعض اوقات نپل کی بار بار تحریک اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ اور تحریک ختم کرنے سے اخراج کم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر چھاتی کو نہ چھونے کے باوجود اخراج برقرار رہے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔

خونی یا گہرے پیلے رنگ کا اخراج خاص توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی طرح چھاتی میں گلٹی، مسلسل سر درد، نظر میں تبدیلی، حیض کا رک جانا، بانجھ پن یا مردوں میں جنسی کمزوری جیسی علامات موجود ہوں تو بھی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ مناسب تشخیص سے بنیادی وجہ معلوم کرکے بروقت علاج کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts