Gestational diabetes

Gestational Diabetes Meaning in Urdu and Its Effects on Pregnancy

حمل میں ذیابیطس ایک ایسی حالت ہے جو صرف دورانِ حمل ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں حاملہ خاتون کے خون میں شوگر کی مقدار نارمل حد سے بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ حمل کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں جو انسولین کے کام میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

انسولین ایک ایسا قدرتی ہارمون ہے جو خون میں موجود شکر کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو خون میں گلوکوز جمع ہونے لگتا ہے اور شوگر بڑھ جاتی ہے۔

یہ بیماری عام طور پر حمل کے درمیانی حصے یعنی چوبیس سے اٹھائیس ہفتوں کے دوران سامنے آتی ہے۔ اسی وقت ڈاکٹر عام طور پر اس کا ٹیسٹ بھی کرواتے ہیں۔

حمل کے دوران نال یا پلیسینٹا ایسے ہارمونز بناتی ہے جو بچے کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن یہی ہارمونز بعض اوقات انسولین کے اثر کو کم کر دیتے ہیں۔

اس صورتحال کو انسولین مزاحمت کہا جاتا ہے۔ جب جسم انسولین کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا تو خون میں شوگر بڑھ جاتی ہے۔

کچھ خواتین میں جسم اس تبدیلی کو سنبھال لیتا ہے۔ لیکن کچھ میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور حمل میں ذیابیطس پیدا ہو جاتا ہے۔

Symptoms of Gestational Diabetes in Urdu

حملاتی ذیابیطس کی ایک پریشان کن بات یہ ہے کہ اکثر خواتین میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی لیے معمول کے جانچ ٹیسٹ بہت ضروری ہیں۔ تاہم کچھ خواتین میں درج ذیل علامات دیکھی جا سکتی ہیں۔

  • بہت زیادہ پیاس لگنا
  • بار بار پیشاب آنا
  • بہت تھکاوٹ محسوس ہونا
  • متلی آنا
  • نظر کا دھندلا ہونا
  • بار بار پیشاب کی نالی یا جِلد میں انفیکشن ہونا

اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اپنی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

Women with Higher Risks

کچھ خواتین میں حملاتی ذیابیطس کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں شامل ہیں۔

  • جن کا وزن حمل سے پہلے زیادہ ہو۔
  • جو جسمانی سرگرمی بہت کم کرتی ہوں۔
  • جن کے خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ ہو۔
  • جنہیں پہلے حمل میں بھی یہ مسئلہ ہو چکا ہو۔
  • جن کے پہلے بچے کا وزن پیدائش پر چار کلو سے زیادہ تھا۔
  • جن کو رحم کی تھیلیوں کا مرض ہو۔
  • جن کی عمر پینتیس سال سے زیادہ ہو۔
  • جن کی خون میں شکر پہلے سے قدرے زیادہ ہو۔

ایشیائی، افریقی اور لاطینی نسل کی خواتین میں بھی اس مرض کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا ہے۔

Diagnosis for Gestational Symptoms

حملاتی ذیابیطس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔ تمام حاملہ خواتین کا حمل کے چوبیسویں سے اٹھائیسویں ہفتے کے درمیان ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ تشخیص کے دو طریقے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

  • ایک مرحلے کا طریقہ: اس میں پچھتر گرام شکر والا مشروب پینے کے بعد دو گھنٹے تک خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔
  • دو مرحلوں کا طریقہ: پہلے مرحلے میں پچاس گرام شکر والا مشروب دیا جاتا ہے اور ایک گھنٹے بعد خون کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ اگر نتیجہ غیر معمولی آئے تو دوسرے مرحلے میں سو گرام شکر کے ساتھ تین گھنٹے کا مفصل ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

جن خواتین میں خطرے کے عوامل زیادہ ہوں، انہیں حمل کے شروع میں بھی ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

Effects of Gestational Diabetes

اگر حملاتی ذیابیطس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

Effects on Children

  • بچے کا وزن غیر معمولی طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔ جو پیدائش میں پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
  • وقت سے پہلے پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
  • پیدائش کے بعد بچے کے خون میں شکر خطرناک حد تک گر سکتی ہے۔
  • بچے کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔
  • بڑے ہو کر بچے میں موٹاپا اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
  • بہت کم صورتوں میں پیٹ میں بچے کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

Effects on Women

  • بلند فشارِ خون اور ایک خطرناک کیفیت جسے قبل از پیدائش زہریلا پن کہتے ہیں، کا خطرہ بڑھتا ہے۔
  • آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
  • آئندہ حمل میں دوبارہ یہ مسئلہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
  • اگلی زندگی میں مستقل ذیابیطس ہونے کا خطرہ سات گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

Treatment of Gestational Diabetes in Urdu

خوشخبری یہ ہے کہ حملاتی ذیابیطس قابلِ علاج ہے اور زیادہ تر خواتین محض طرزِ زندگی میں تبدیلی سے خون کی شکر قابو میں رکھ سکتی ہیں۔

  • غذا میں تبدیلی: غذائی ماہر کی مدد سے ذاتی خوراک کا منصوبہ بنانا بہت ضروری ہے۔ دن میں تین چھوٹے کھانے اور دو سے تین ہلکے ناشتے کھانے چاہئیں۔ سارے اناج، سبزیاں، پھل اور صحت بخش چکنائی کو ترجیح دیں۔ میٹھے مشروبات، پراسیس شدہ خوراک اور زیادہ نشاستے والی چیزوں سے پرہیز کریں۔ ناشتے میں نشاستے کی مقدار خاص طور پر کم رکھیں کیونکہ صبح کے وقت جسم میں شکر برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔
  • ورزش: ہفتے میں کم از کم پانچ دن تیس منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش خون کی شکر کو قابو میں رکھنے میں بہت مددگار ہے۔ کھانے کے بعد چہل قدمی خاص طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ کھانے کے بعد تین گھنٹے تک خون کی شکر کو کنٹرول کرتی ہے۔
  • خون کی شکر کی جانچ: دن میں چار بار خون کی شکر جانچنا ضروری ہے۔ خالی پیٹ شکر پچانوے سے کم اور کھانے کے ایک گھنٹے بعد ایک سو چالیس سے کم ہونی چاہیے۔
  • دوائیں: اگر غذا اور ورزش سے خون کی شکر قابو میں نہ آئے تو انسولین کے ٹیکے لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انسولین نال کو عبور نہیں کرتی اس لیے یہ بچے کے لیے محفوظ ہے اور اسے پہلی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔

Prevention

حملاتی ذیابیطس سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن صحت مند عادات اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

  • حمل سے پہلے وزن کو معمول کی حدود میں رکھیں۔
  • باقاعدہ ورزش کی عادت ڈالیں۔
  • متوازن اور غذائیت بخش خوراک کھائیں۔
  • حمل کے دوران ضرورت سے زیادہ وزن نہ بڑھنے دیں۔
  • اپنے ڈاکٹر سے باقاعدگی سے رابطے میں رہیں۔

Conclusion on Gestation Diabetes in Urdu

حمل میں ذیابیطس ایک قابلِ کنٹرول حالت ہے اگر اسے بروقت پہچان لیا جائے۔ مناسب خوراک، ورزش اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر کے ماں اور بچے دونوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

باقاعدہ چیک اپ اور احتیاطی تدابیر صحت مند حمل کی ضمانت ہیں۔ زیادہ تر خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد شوگر نارمل ہو جاتی ہے۔

لیکن ان خواتین میں مستقبل میں ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جنہیں حمل میں ذیابیطس ہو چکی ہو۔ اس لیے ڈیلیوری کے بعد بھی وقتاً فوقتاً شوگر کا ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔

FAQs

What is the meaning of gestational diabetes in Urdu?

حملاتی ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو صرف حمل کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ اردو میں اسے حمل کی شکر یا حمل کی ذیابیطس بھی کہتے ہیں۔ جب حاملہ عورت کے خون میں شکر کی مقدار معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اس کیفیت کو حملاتی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ یہ مرض اس لیے ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران نال سے نکلنے والے ہارمون انسولین کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

انسولین وہ چیز ہے جو خون میں شکر کو قابو میں رکھتی ہے۔ جب یہ صحیح کام نہیں کرتی تو خون میں شکر بڑھ جاتی ہے۔ یہ مرض پہلے سے موجود ذیابیطس سے مختلف ہے کیونکہ یہ صرف حمل کی وجہ سے ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد اکثر خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔

What is baby sugar in pregnancy?

جب ماں کے خون میں شکر زیادہ ہوتی ہے تو یہ شکر نال کے ذریعے بچے تک بھی پہنچتی ہے۔ اس کیفیت کو عام زبان میں بچے کی شکر کہا جاتا ہے۔ جب بچے کے خون میں زیادہ شکر پہنچتی ہے تو بچے کا لبلبہ زیادہ انسولین بنانے لگتا ہے۔

اس کی وجہ سے بچے کا جسم تیزی سے بڑھتا ہے اور اس کا وزن غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتا ہے۔ پیدائش کے فوری بعد ماں کی شکر بند ہو جاتی ہے۔ لیکن بچے کی انسولین کچھ دیر تک بنتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچے کے خون میں شکر خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس کیفیت پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

What are the symptoms of gestational diabetes?

حملاتی ذیابیطس کی سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اکثر خواتین میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی لیے معمول کے ٹیسٹ بہت ضروری ہیں۔ تاہم کچھ خواتین میں درج ذیل علامات دیکھی جا سکتی ہیں۔ بہت زیادہ پیاس لگنا اور بار بار پیشاب آنا سب سے عام علامات ہیں۔

اس کے علاوہ غیر معمولی تھکاوٹ، متلی، اور نظر کا دھندلا ہونا بھی ممکن ہے۔ بار بار پیشاب کی نالی، جِلد یا اندام نہانی میں انفیکشن ہونا بھی اس مرض کی علامت ہو سکتی ہے۔ پیشاب میں شکر کی موجودگی بھی اس کیفیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

What are the causes of gestational diabetes?

حملاتی ذیابیطس کی سب سے بڑی وجہ حمل کے دوران ہارمونی تبدیلیاں ہیں۔ نال سے نکلنے والے ہارمون، خاص طور پر انسانی نالی لیکٹوجن، انسولین کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ صحت مند خواتین میں جسم زیادہ انسولین بنا کر اس کمی کو پورا کر لیتا ہے۔ لیکن جن خواتین کا لبلبہ یہ اضافی بوجھ نہ اٹھا سکے۔ ان میں خون کی شکر بڑھ جاتی ہے۔

زیادہ وزن اور موٹاپا بھی انسولین کے خلاف مزاحمت بڑھاتے ہیں۔ خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ، جسمانی سرگرمی کا فقدان، اور پہلے حمل میں بھی یہ مسئلہ ہونا اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ کچھ جینیاتی عوامل بھی اس مرض میں کردار ادا کرتے ہیں۔

What is the best treatment for gestational diabetes?

حملاتی ذیابیطس کا علاج کئی مراحل میں ہوتا ہے اور زیادہ تر خواتین محض طرزِ زندگی میں تبدیلی سے صحت یاب ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے غذائی ماہر کی مدد سے متوازن خوراک کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ جس میں میٹھی اور پراسیس شدہ چیزوں سے پرہیز شامل ہے۔

روزانہ تیس منٹ کی ہلکی ورزش، خاص طور پر کھانے کے بعد چہل قدمی، خون کی شکر کو قابو میں رکھتی ہے۔ دن میں چار بار خون کی شکر جانچنا ضروری ہے۔ اگر غذا اور ورزش سے شکر قابو میں نہ آئے تو انسولین کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جو بچے کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور اسے پہلی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts