یہ تصویر حجامہ کی ہے جسے فوائد کے لیے کروانا چاہیے۔

حجامہ کے فوائد – ابھی صحت کو بہتر بنانے لیے اقدامات اٹھائیں

حجامہ کے فوائد کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اسے صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ حجامہ بیماریوں کے علاج میں مفید ہے بلکہ اس کی مدد سے بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس کا ذکر ہمیں تقریباً ہر تہذیب میں ملتا ہے۔ ایبرس پیپرس کو طب کے شعبے میں ایک قدیم کتاب مانا جاتا ہے۔ یہ کتاب 1550 قبل مسیح میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں بھی حجامہ کا ذکر ہے۔

یہ کتاب کہتی ہے کہ اس دور میں مصری حجامہ کو بخار، درد، متلی، ماہواری کے مسائل، اور کئی دوسری بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مصریوں سے حجامہ کا فن پھر یونانیوں نے سیکھا۔ یونانیوں کو یہ طریقہ علاج بہت مفید لگا۔ اور انہوں نے اسے تقریباً ہر بیماری کے علاج کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اسلامی تاریخ میں بھی حجامہ کی کافی اہمیت ہے۔ بلکہ کئی علماء تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حجامہ سنت ہے۔ کیوں کہ پیغمبرِ اسلام نے نہ صرف خود پچھنے لگوائے یعنی حجامہ کروایا بلکہ اپنی ساتھیوں کو بھی اس کا مشورہ دیا۔

حجامہ آپ کسی بھی سنٹر سے کروا سکتے ہیں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ حجامہ کے لیے آپ کو ایک سنٹر کا انتحاب کیسے کرنا چاہیے۔ کیوں کہ کچھ سنٹرز میں صحت مندانہ اور محفوظ ماحول میں حجامہ نہیں کیا جاتا۔

اس سے پہلے کہ ہم حجامہ کے فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالیں اور آپ کو یہ بتائیں کہ حجامہ کون سی بیماریوں کے خطرے کو کم کر دیتا ہے، یہ بہتر رہے گا کہ ہم حجامہ کی اقسام پر بات کر لیں۔

حجامہ کی اقسام

قدیم دور میں حجامہ قدرے مختلف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس حجامہ میں جسم کے مختلف حصوں پر استرے کی مدد سے چھوٹے چھوٹے ٹک لگا دیے جاتے تھے۔ یہ ٹک سر کے بال ایسے باریک ہوتے تھے۔ اس عمل کو پچھنے لگوانا بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم اب حجامہ مختلف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ اب اس میں کپ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کپ شیشے، بانس، سیلیکون، یا پلاسٹک وغیرہ سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ کپ حجامہ کی دونوں اقسام میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہم یہاں دونوں اقسام کو آپ کی معلومات کے لیے بیان کرتے ہیں۔

ڈرائے کپنگ

ڈرائے کپنگ حجامہ کی ایک مؤثر قسم ہے۔ لیکن اس میں آپ کے جسم یعنی جِلد سے خون نہیں نکالا جاتا۔ ڈرائے کپنگ میں ایک حجامہ سپیشلسٹ آپ کی جِلد پر کپس رکھتا ہے اور انہیں کمپریس کر دیتا ہے۔

یہ کپس آپ کی جِلد پر پر پانچ سے دس منٹوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی جِلد پر کپ رکھنے سے پہلے حجامہ سپیشلسٹ لوشن بھی استعمال کر لے۔

ڈرائے کپنگ میں آپ کو مساج بھی دیا جا سکتا ہے۔ ایک حجامہ سپیشلسٹ آپ کی جِلد پر لوشن لگاتا ہے اور پھر سیلیکون کے کپس کو آگے اور پیچھے حرکت دیتا ہے۔ یہ حرکت دائرہ نما بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ حرکت دائیں اور بائیں سمت میں بھی دی جا سکتی ہے۔

ڈرائے کپنگ میں مساج کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے خاص خصے میں خون کی روانی کو بہتا بنایا جائے۔ اس سے نہ صرف خون کی گردش میں بہتری آتی ہے بلکہ جسم سے ٹاکسنز بھی خارج ہوتے ہیں۔ ٹاکسنز ایک زہریلا مادہ ہوتے ہیں جو بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

ویٹ کپنگ

جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں آپ کی جِلد سے خون نکالا جاتا ہے۔ حجامہ کی اس قسم میں آپ کی جِلد پر پہلے تین منٹ کے لیے کپ رکھے جاتے ہیں۔ پھر ایک سپیشلسٹ ان کپس کو ہٹاتا ہے اور استرے یا کسی اور تیز دھار آلے کی مدد سے سے کپس والی جگہ پر چھوٹے چھوٹے کٹ لگاتا ہے۔

ان کٹس کے اوپر دوبارہ کپس کو رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ کپ دوسری بار دس سے پندرہ منٹس کے لیے لگائے جا سکتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کی جِلد سے خون نکالا جائے۔

کپنگ تھراپی کی مدد سے خون میں سوزش کی وجہ بننے والے سیلز کو نکال لیا جاتا ہے۔ اس سے آپ کے جسم میں وہ کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو آپ کے موڈ کو بہتر بناتے ہیں۔ اس سے آپ کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور آپ کو انفیکشنز سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

کپنگ تھراپی میں آپ کو کتنے کپس لگانے چاہئیں؟ اس بات کا فیصلہ یا تو آپ کریں گے یا پھر آپ کا حجامہ سپیشلسٹ۔ اگر آپ پہلی دفعہ حجامہ کروا رہے ہیں تو صرف ایک کپ بھی لگوا سکتے ہیں۔

ویٹ کپنگ کے بعد آپ کو ایک اینٹی بائیوٹک آئنمنٹ بھی دی جاتی ہے تا کہ پچھنوں کی وجہ سے آپ کو بیکٹیریا متاثر نہ کریں۔ حجامہ کے بعد تقریباً دس دنوں میں آپ کی جِلد نارمل ہو جاتی ہے۔ ویب ایم ڈی کے مطابق آپ ہر چار سے آٹھ ہفتوں کے بعد حجامہ کروا سکتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ آپ کی جِلد پر پچھنے لگانے سے پہلے کپ لگائے جاتے ہیں۔ تاہم ہر ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ اور ہر سپیشلسٹ یہ اپروچ فالو نہیں کرتا۔ کئی اسپیشلسٹ آپ کی جِلد پر پچھنے لگاتے ہیں اور پھر ان کے اوپر کپ رکھتے ہیں۔

حجامہ کے فوائد

حجامہ کی اقسام کو تو ہم نے کافی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اب ہم حجامہ سے علاج کو ڈسکس کر لیتے ہیں۔ یعنی آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ ہیں حجامہ کے فوائد کیا ہیں۔

کمر درد کا خاتمہ

حجامہ کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی مدد سے کمر درد کا مؤثر علاج کیا جا سکتا ہے۔ حجامہ کیسے کمر درد کو کم کر سکتا ہے۔ یہ تعلق آپ کے لیے کافی دلچسپی کا باعث ہو گا۔

طبی ماہرین یہ خیال کرتے ہیں کہ حجامہ سے ان اعصاب میں بہتری آتی ہے جو دماغ کو تکلیف کے سگنلز بھیجتے ہیں۔ یعنی حجامہ کروانے سے اعصاب یہ سگنلز بھیجنا بند کر دیتے ہیں جس سے آپ کا درد کم ہونے لگتا ہے۔

کمر کے درد کے علاوہ حجامہ آپ کو جسم کے دائمی درد پر بھی قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ گھٹنوں کے درد کو کم کرنے میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ درد کم کرنے کے لیے صرف حجامہ پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس کے ساتھ ادویات بھی استعمال کرنی چاہئیں۔

ٹاکسنز کے لیول میں کمی

کیا آپ جانتے ہیں کہ حجامہ سے ٹاکسنز کا لیول بھی کم ہو سکتا ہے؟ ٹاکسنز ایک طرح کا زہریلا مادہ ہوتے ہیں جو آپ کو بیمار کر سکتے ہیں۔ حجامہ آپ کے مدافعتی قوت میں اضافہ کر کے ٹاکسنز کے لیول کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حجامہ کی مدد سے آپ یورک ایسڈ کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یورک ایسڈ کو آپ ایک طرح کا نقصان دہ فضلہ بھی کہہ سکتے ہیں جو جسم میں کچھ غذائیں ہضم ہونے کی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ اگر جسم سے خارج نہ ہو تو خون اور پیشاب میں جلن کی وجہ بن سکتا ہے۔

حجامہ آپ کے لمف سسٹم پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ لمف سسٹم کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ آپ کے جسم سے فضلات کو خارج کرنے میں کردار ادا کرے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ حجامہ سنٹر سے کپنگ تھراپی کروانے سے ٹاکسنز کے لیول میں کمی آتی ہے۔ تاہم کچھ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی اس ضمن میں لیبارٹریز کو چاہیے کہ وہ مزید ریسرچز کریں۔ تا کہ حجامہ اور ٹاکسنز کے باہمی تعلق کو مزید اچھے طریقے سے سمجھا جا سکے۔

ایکنی سے نجات

جن لوگوں کو جِلد کے ایکنی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان کے لیے بھی حجامہ ایک بہترین دوا کا کام کر سکتا ہے۔ یہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ حجامہ سے جسم میں سوزش کی وجہ بننے والے فضلات کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم میں وقوع پذیر ہونے والے اینٹی آکسیڈنٹ پراسس میں بھی بہتری آتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حجامہ سے ایکنی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ طبی تحقیقات میں بھی کسی حد تک یہ بات آ چکی ہے کہ حجامہ ایکنی کا علاج ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران میں ہونے والے ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کی جن لوگوں نے ادویات کے ساتھ ویٹ کپنگ کروائی تھی ان میں ایکنی تیزی سے ختم ہونے لگ گئی تھی۔ کیا آپ حجامہ کے فوائد مزید جاننا چاہتے ہیں؟ تو چلیے پھر ذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

حجامہ کے فوائد سے ہائی بلڈ پریشر کا علاج

یہ بات بھی آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ حجامہ کے فوائد کے متعلق اب بہت ساری ریسرچز کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس کے زیادہ تر فوائد نسل در نسل منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضرورت ہے کہ ہر فائدے کو لے کر ایک ریسرچ کی جائے۔

حجامہ کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی مدد سے ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹروک کیا جا سکتا ہے۔ شاید اس لیے کہ حجامہ میں جِلد سے غیر مفید خون نکال لیا جاتا ہے۔

بہرحال اگر آپ یہ محسوس کریں کہ حجامہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں بہتری آئی ہے تو اسے باقاعدگی کے ساتھ کروانا شروع کر دیں۔ امید ہے کہ آپ کو مفید نتائج ملیں گے۔

حجامہ سنٹر کا انتحاب

آپ کو یاد ہو گا کہ اوپر ہم نے بتایا تھا کہ حجامہ سنٹر کا انتحاب آپ کو سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ کیوں کہ پاکستان میں وہ لوگ بھی حجامہ کر رہے ہیں جن کہ پاس کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک نہایت خطرناک بات ہے۔

اس کے علاوہ بعض حجامہ سنٹرز میں ماحول بھی صحت مند نہیں ہوتا۔ کچھ تو کمینگی کی حد تک گر جاتے ہیں اور کپس وغیرہ کو کوئی مریضوں پر استعمال کر دیتے ہیں۔ اسی لیے آپ کو اس ضمن میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

آپ جب بھی حجامہ کروانے جائیں تو سپیشلسٹ سے اس کی تعلیم اور سرٹیفیکیٹ کے متعلق ضرور پوچھیں۔ اس کے علاوہ حجامہ میں استعمال ہونے والے آلات کے متعلق بھی یہ یقین دہانی لے لیں کہ وہ جراثیموں سے پاک ہیں۔ ایسے حجامہ سنٹر سے پھر حجامہ کروانا آپ کے لیے مفید ہو گا۔

اختتام

حجامہ کے فوائد کو جس قدر تفصیل سے آج کے اس بلاگ میں بیان کیا گیا ہے، کہیں اور آپ کو ایسی تفصیل نہیں ملے گی۔ ہم نے آپ کو حجامہ کی اقسام بھی بتا دی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا ہے کہ حجامہ سنٹر کا انتحاب کیسے کرنا چاہیے۔ ہماری کوشش یہی تھی کہ کوئی بھی پوائنٹ مِس نہ ہو۔ حجامہ کے متعلق مزید انفارمیشن کے لیے آپ ہمیں اپنے سوالات بھیج سکتے ہیں۔

سوالات و جوابات

کیا حجامہ سنت ہے؟

کچھ علماء کی یہی رائے ہے کہ حجامہ سنت ہے۔ جب کئی علماء اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ تاہم ان دونوں نقطہ ہائے نظر سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو حجامہ ایک صحت مندانہ عمل ہے۔ یہ نہ صرف آپ کی امیونٹی کو بہتر بناتا ہے۔ بلکہ بیماریوں سے لڑنے میں بھی مدد دینا ہے۔ اس لیے حجامہ کو اپنی روٹین میں شامل کر لیں۔

کیا ہر ہفتے حجامہ کروایا جا سکتا ہے؟

ہر ہفتے حجامہ کروانے سے گریز کریں۔ ویب ایم ڈی کے مطابق اگر حجامہ آپ کے لیے مفید ثابت ہو تو آپ کو چار سے آٹھ ہفتے بعد کروا سکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ ویٹ کپنگ کروائی جائے جس میں آپ کی جِلد سے خون نکلے۔ اور حجامہ کروائیں بھی کسی اچھے سنٹر سے۔ تبھی آپ کو حجامہ کے فوائد ملیں گے۔

حجامہ کی اجرت کیا ہے؟

حجامہ کی اجرت یعنی قیمت مختلف ہوتی ہے۔ ہر سپیشلسٹ اور حجامہ سنٹر حجامہ کے لیے مختلف طریقے سے چارج کرتا ہے۔ بعض اوقات حجامہ میں استعمال ہونے والے کپس کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سے اجرت لی جاتی ہے۔ تاہم اس کی قیمت پانچ سو سے پانچ ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life.

View all posts