Lemon grass can improve your digestion.

Lemon Grass Benefits in Urdu and Period Pain

کئی لوگ لیمن گراس کا قہوہ جسم کو ہلکا رکھنے اور وزن کم کرنے کے مقصد سے استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ خیال عام ہے۔ لیکن اس حوالے سے مضبوط انسانی تحقیق ابھی محدود ہے۔

البتہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لیمن گراس میں پیشاب آور خصوصیات موجود ہیں. جس کی وجہ سے جسم میں جمع اضافی پانی خارج ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے وقتی طور پر وزن میں معمولی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ لیکن اسے جسم کی چربی میں کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اگر لیمن گراس کے قہوے کو میٹھے مشروبات کی جگہ متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ صحت مند طرز زندگی کا ایک حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم صرف اسی پر انحصار کرنا درست نہیں۔

Benefits of Lemon Grass in Urdu

لیمن گراس کے استعمال سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

1.      Reduces Menstrual Pain

روایتی طب میں لیمن گراس کو ماہواری کے دوران ہونے والے درد، پیٹ کے مروڑ، اپھارے اور بے آرامی کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ماہواری کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور رحم کے پٹھوں کے تناؤ میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔ جس سے درد میں کسی حد تک آرام مل سکتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض مطالعات میں دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ بننے کے عمل میں بھی اس کے ممکنہ کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس بارے میں مزید انسانی تحقیق کی ضرورت ہے۔

2.      Cancer Prevention

لیمن گراس میں موجود قدرتی مرکب سٹرال پر متعدد تحقیقی مطالعات کی گئی ہیں۔

تحقیقی تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ یہ مرکب بعض کینسر زدہ خلیوں کی بڑھوتری روکنے یا انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کچھ مطالعات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ لیمن گراس جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کر کے سرطان کے خلاف مدد فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم یہ تمام نتائج زیادہ تر تجربہ گاہ یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقات پر مبنی ہیں۔

اگر کوئی شخص سرطان کا علاج کروا رہا ہو تو لیمن گراس یا اس کا قہوہ صرف اپنے معالج کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔ اسے علاج کا متبادل ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے۔

3.      May Regulate Blood Sugar

جانوروں پر ہونے والی مختلف تحقیقات سے ایک بات معلوم ہوئی ہے۔ لیمن گراس کے عرق نے روزے کی حالت میں خون میں شکر کی مقدار کم کرنے میں مدد دی۔

اس کے ساتھ ساتھ بعض مطالعات میں خون میں موجود نقصان دہ چکنائی میں کمی اور مفید چکنائی میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں۔ لیکن ذیابیطس کے مریض اپنی دوائیں چھوڑ کر صرف لیمن گراس پر انحصار نہ کریں۔ کیونکہ اس مقصد کے لیے مزید انسانی تحقیق درکار ہے۔

4.      Better Sleep

روایتی استعمال میں لیمن گراس کو ذہنی سکون اور بہتر نیند کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے خوشبودار تیل نے سکون آور اثرات پیدا کیے، نیند کے دورانیے میں اضافہ کیا اور بے چینی کی شدت کم کی۔

اسی وجہ سے بہت سے لوگ شام کے وقت لیمن گراس کا قہوہ پینا پسند کرتے ہیں۔ تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو اور جسم کو سکون ملے۔

تاہم انسانوں میں ان اثرات کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت موجود ہے۔

5.      Reduce Pain

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لیمن گراس میں درد کم کرنے والی قدرتی خصوصیات بھی موجود ہیں۔

مطالعات کے مطابق یہ جسم کے بیرونی حصوں کے ساتھ ساتھ اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جس سے درد کی شدت میں کمی آنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

اسی لیے روایتی طب میں اسے سر درد، پٹھوں کے درد، جوڑوں کی تکلیف اور جسمانی کھچاؤ میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

6.      Better Digestion

لیمن گراس چائے کو معدے کی خرابی، درد اور دیگر ہاضمے کے مسائل کے لیے ایک قدرتی علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ لیمن گراس کا تیل معدے کے السر کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ اسپرین اور الکحل کے استعمال سے ہونے والے معدے کی جھلی کے نقصان سے بھی بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ چونکہ اسپرین کا زیادہ استعمال معدے کے السر کی ایک عام وجہ ہے۔ اس لیے لیمن گراس اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسہال کے دوران بھی لیمن گراس کا استعمال آنتوں کی حرکت کو معتدل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

7.      Lemon Grass for Hypertension

ایک تحقیق میں 72 مرد رضاکاروں کو یا تو لیمن گراس چائے دی گئی۔ یا گرین ٹی۔ جن افراد نے لیمن گراس چائے پی۔ ان کے سسٹولک بلڈ پریشر میں معتدل کمی دیکھی گئی۔ جبکہ ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ ہوا۔ ان کی دل کی دھڑکن کی رفتار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لیمن گراس کے عرق اور تیل نے جانوروں اور انسانوں دونوں میں بلڈ پریشر کم کرنے کی خصوصیات ظاہر کیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دل کے مریض مردوں کو اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ تاکہ دل کی دھڑکن یا ڈائسٹولک پریشر میں خطرناک حد تک کمی یا اضافہ نہ ہو۔

8.      Weight Reduction

لیمن گراس چائے کو ایک ڈیٹوکس چائے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو میٹابولزم کو تیز کر کے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے زیادہ تر شواہد مشاہداتی ہیں، سائنسی نہیں۔ چونکہ لیمن گراس میں پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اس کا زیادہ استعمال وزن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

عام طور پر میٹھے اور نقصان دہ مشروبات کی بجائے لیمن گراس جیسی جڑی بوٹیوں والی چائے پینا وزن کم کرنے کے اہداف حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم صرف لیمن گراس چائے پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے ضمنی اثرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ اسے پانی یا دیگر بغیر میٹھے مشروبات کے ساتھ باری باری استعمال کیا جائے۔

9.      May Help Against Malaria

لیمن گراس کے تیل پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی۔ کہ اس کا استعمال ملیریا پھیلانے والے جرثومے پلازموڈیم کی افزائش کو نمایاں حد تک روک سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق لیمن گراس کے تیل نے اس جرثومے کی نشوونما میں تقریباً چھیاسی فیصد تک کمی ظاہر کی۔ جو کہ ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی معروف دوا کلوروکوئن کے اثر سے موازنہ کیا گیا۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ لیمن گراس میں قدرتی اینٹی ملیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تاہم یہ تحقیق لیبارٹری کی سطح پر کی گئی تھی۔ اس لیے انسانوں میں اس کے مؤثر اور محفوظ استعمال کی تصدیق کے لیے مزید کلینیکل تحقیق درکار ہے۔ فی الحال اسے ملیریا کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

10.  Intestinal Worms

لیمن گراس کے تازہ پتوں سے حاصل کیے گئے تیل میں کیڑوں اور ان کے انڈوں کو ختم کرنے کی صلاحیت پائی گئی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ یہ تیل لاروا کش یعنی کیڑوں کے انڈوں اور بچوں کی نشوونما کو روکنے میں مؤثر ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آنتوں کے کیڑوں کے خلاف بھی اثر رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لیمن گراس کا تیل قدرتی کیڑے مار ادویات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اسپرے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ زرعی میدان میں بھی اسے فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے ایک محفوظ متبادل کے طور پر آزمایا جا رہا ہے۔ البتہ یہ تمام نتائج جانوروں یا لیبارٹری کی تحقیق سے حاصل ہوئے ہیں، اس لیے انسانی صحت پر اس کے براہ راست اثرات جاننے کے لیے مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔

11.  Antioxidant Effects

لیمن گراس میں طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ جو جسم میں موجود نقصان دہ آزاد ذرات یعنی فری ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق لیمن گراس کے مختلف عرق، جیسے کہ اس کا محلول اور جوشاندہ، ان آزاد ذرات کے خاتمے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور جسم کے خلیوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرتے ہیں۔

یہ اثرات خاص طور پر خون کے سرخ خلیوں میں چربی کی خرابی کو روکنے میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ چونکہ آزاد ذرات کا زیادہ اخراج کئی دائمی بیماریوں جیسے دل کی بیماری اور کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے لیمن گراس کی یہ خصوصیت اسے ایک قیمتی قدرتی محافظ بناتی ہے۔ تاہم انسانوں میں اس کے واضح فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

12.  Can Kill Mosquitos

لیمن گراس کو اس کی تیز اور خوشبودار مہک کی وجہ سے قدرتی مچھر اور کیڑے بھگانے والے جزو کے طور پر صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اسے سیٹرونیلا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو مچھر بھگانے والی موم بتیوں اور اسپرے میں ایک اہم جزو کے طور پر شامل ہوتا ہے۔ لیمن گراس کا تیل جِلد پر لگانے سے مچھروں اور بعض دیگر کیڑوں کو دور رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

جس سے ڈینگی اور ملیریا جیسی مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہ خاصیت اسے کیمیائی مچھر بھگانے والی مصنوعات کا ایک محفوظ اور قدرتی متبادل بناتی ہے۔ تاہم جِلد پر براہ راست استعمال سے پہلے اسے پانی یا کسی اور تیل میں ملانا ضروری ہے تاکہ جِلد کی جلن سے بچا جا سکے۔

How to Use Lemon Grass?

لیمن گراس چائے کی کسی مخصوص بیماری کے لیے معیاری مقدار کے تعین کے لیے ابھی تک کافی تحقیق موجود نہیں ہے۔ اس لیے مقدار کے تعین کے لیے کسی ڈاکٹر یا ماہر معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

ضمنی اثرات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے، ابتدا میں دن میں صرف ایک کپ چائے پینا مناسب ہے۔ اگر جسم اسے اچھی طرح برداشت کرے۔ تو مقدار میں بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی قسم کے ضمنی اثرات محسوس ہوں۔ تو فوراً استعمال بند کر دینا چاہیے یا مقدار کم کر دینی چاہیے۔

جو افراد چائے کی صورت میں لیمن گراس پینا پسند نہیں کرتے۔ وہ اسے کھانوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ لیمن گراس کا ایک یا دو تنا سوپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر یہ چکن کے سوپ کے ساتھ بہترین ذائقہ دیتا ہے۔

اسے مرغی یا مچھلی کو بیک کرنے سے پہلے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ لیمن گراس کو خام حالت میں بھی کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ اس کے تنے میں ریشے ہوتے ہیں۔ اس لیے اسے اچھی طرح باریک کاٹ لینا ضروری ہے۔

Conclusion on Lemon Grass in Urdu

لیمن گراس ایک ایسا قدرتی پودا ہے جو نہ صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھاتا ہے۔ بلکہ صحت کے کئی پہلوؤں میں بھی مفید کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ، جراثیم کش اور سوزش کش خصوصیات اسے روایتی طب میں ایک اہم مقام دلاتی ہیں۔ ہاضمے کی بہتری سے لے کر بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے توازن تک، لیمن گراس کے فوائد کی فہرست کافی وسیع ہے۔

تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ لیمن گراس پر ہونے والی زیادہ تر تحقیق جانوروں یا لیبارٹری کی سطح پر ہوئی ہے۔ اور انسانوں پر اس کے اثرات کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اسی لیے کسی بھی سنگین بیماری کے علاج کے لیے لیمن گراس کو دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ اسے معالج کے مشورے کے ساتھ ایک معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

خاص طور پر حمل میں خواتین، دل کے مریضوں اور پہلے سے کسی دوا کا استعمال کرنے والے افراد کو لیمن گراس چائے شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ مناسب مقدار میں اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے تو لیمن گراس ایک محفوظ اور فائدہ مند قدرتی مشروب ثابت ہو سکتا ہے۔ جو روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات کا حصہ بن سکتا ہے۔

FAQs

Can we use lemon grass daily?

جی ہاں، لیمن گراس چائے کو روزانہ محدود مقدار میں پیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسے شروع کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ابتدا میں دن میں صرف ایک کپ چائے پینا مناسب ہے۔ تاکہ جسم اس کے اثرات کو برداشت کر سکے۔ اگر کسی قسم کے ضمنی اثرات جیسے چکر آنا، متلی یا معدے کی خرابی محسوس نہ ہو، تو مقدار میں بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

چونکہ لیمن گراس میں پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لیے اسے مسلسل زیادہ مقدار میں پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ اسے پانی یا دیگر مشروبات کے ساتھ باری باری استعمال کیا جائے۔ کسی بھی دائمی بیماری کی صورت میں چائے شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

Can lemon grass keep mosquitos away?

لیمن گراس اپنی تیز خوشبو کی وجہ سے مچھروں اور بعض دیگر کیڑوں کو دور رکھنے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اسی خاصیت کی وجہ سے اسے سیٹرونیلا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جو مچھر بھگانے والی موم بتیوں، اسپرے اور لوشن میں ایک اہم جزو کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ لیمن گراس کا تیل جِلد پر لگانے سے مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔

جس سے ڈینگی اور ملیریا جیسی مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ یہ کیمیائی مچھر بھگانے والی مصنوعات کا ایک محفوظ اور قدرتی متبادل تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم جِلد پر براہ راست استعمال سے پہلے اسے کسی اور تیل یا پانی میں ملانا ضروری ہے تاکہ جِلد کی جلن یا الرجی سے بچا جا سکے۔

Is lemon grass safe for hypertension patients?

تحقیق کے مطابق لیمن گراس چائے کا استعمال بلند سسٹولک بلڈ پریشر میں معتدل کمی لا سکتا ہے۔ اور دل کی دھڑکن کی رفتار کو بھی کم کر سکتا ہے۔ یہ خاصیت ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ جو بلند بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا استعمال ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے دل کے مریضوں کو اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔

خاص طور پر ایسے افراد جو پہلے سے بلڈ پریشر کی دوا لے رہے ہوں۔ انہیں لیمن گراس چائے شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ تاکہ دل کی دھڑکن یا بلڈ پریشر میں غیر متوقع تبدیلی سے بچا جا سکے۔

Is lemon grass effective in weight loss?

لیمن گراس چائے کو اکثر ڈیٹوکس چائے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جو میٹابولزم کو تیز کرنے اور وزن کم کرنے میں مددگار سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود پیشاب آور خصوصیات جسم سے اضافی پانی خارج کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جس سے وزن میں عارضی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔

تاہم اس حوالے سے زیادہ تر شواہد مشاہداتی نوعیت کے ہیں۔ سائنسی تحقیق ابھی محدود ہے۔ میٹھے اور نقصان دہ مشروبات کی جگہ لیمن گراس چائے کا استعمال وزن کم کرنے کے مجموعی اہداف میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم صرف اسی چائے پر انحصار کرنے کی بجائے متوازن غذا اور ورزش کو بھی معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

Who need to use lemon grass carefully?

حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، دل کے مریض اور پہلے سے کوئی دوا استعمال کرنے والے افراد کو لیمن گراس چائے شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ چونکہ لیمن گراس بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے دل کے مریضوں کو اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔

اسی طرح یہ ماہواری کے بہاؤ کو متحرک کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ حاملہ خواتین کو اس سے احتیاط برتنی چاہیے۔ ذیابیطس یا کولیسٹرول کی دوا لینے والے افراد کو بھی چائے کی مقدار کے تعین میں ماہر معالج کی رہنمائی لینی چاہیے۔ تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچا جا سکے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts