Mastitis can affect breastfeeding women.

Mastitis Meaning in Urdu – A Guide for Women

ماسٹائٹس سے مراد چھاتی کے بافتوں کی سوزش ہے۔ جو انفیکشن کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔ اور جراثیمی انفیکشن کے ساتھ بھی۔ دودھ پلانے کے دوران ہونے والے ماسٹائٹس کو عموماً دودھ پلانے سے متعلق ماسٹائٹس کہا جاتا ہے۔ جبکہ دودھ نہ پلانے والی خواتین میں مختلف وجوہات کی وجہ سے چھاتی کی سوزش ہو سکتی ہے۔

دودھ کی زیادتی، چھاتی میں دودھ کا جمع ہونا، دودھ کی نالیوں پر اردگرد کے سوجے ہوئے بافتوں کا دباؤ اور نپل کی جلد پر دراڑیں اس مسئلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر سوزش مناسب طریقے سے قابو نہ پائے تو جراثیمی انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں چھاتی میں پیپ کا پھوڑا بھی بن سکتا ہے۔

دنیا بھر میں دودھ پلانے والی خواتین میں ماسٹائٹس کی شرح مختلف مطالعات میں تقریباً ایک سے دس فیصد تک بتائی گئی ہے۔ جبکہ بعض جائزوں میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ یہ مسئلہ بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی چند ہفتوں میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

Symptoms of Mastitis in Urdu

ماسٹائٹس کی علامات اچانک یا بتدریج ظاہر ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر متاثرہ چھاتی میں سوزش اور درد نمایاں ہوتا ہے۔ اہم علامات میں شامل ہیں۔

  • چھاتی میں درد یا جلن
  • چھاتی کا گرم محسوس ہونا
  • چھاتی کی جلد کا سرخ ہونا
  • چھاتی میں سختی یا سوجن
  • چھاتی میں سخت گانٹھ محسوس ہونا
  • چھونے پر حساسیت
  • دودھ کے اخراج میں کمی
  • بغل کے لمف غدود کا بڑھ جانا
  • بخار
  • کپکپی
  • جسم میں درد
  • کمزوری اور طبیعت میں خرابی
  • فلو جیسی کیفیت

بعض خواتین میں بچے کے دودھ پینے کے دوران درد یا جلن زیادہ محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر ماسٹائٹس کے ساتھ جراثیمی انفیکشن پیدا ہو جائے تو بخار اور کپکپی جیسی عمومی علامات زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔

اگر چھاتی میں دردناک گانٹھ کے ساتھ ایک واضح نرم اور ہلنے والی جگہ محسوس ہو تو یہ چھاتی میں پھوڑے کی علامت ہو سکتی ہے۔ جس کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے۔

Causes of Mastitis in Urdu

ماسٹائٹس کی ایک اہم وجہ دودھ کی ضرورت سے زیادہ پیداوار ہے۔ جب چھاتی میں دودھ بہت زیادہ جمع ہو جاتا ہے۔ تو اردگرد کے سوجے ہوئے بافتے دودھ کی نالیوں پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس سے چھاتی میں بھراؤ اور سوجن پیدا ہوتی ہے اور دودھ کا بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے۔

اس کیفیت کو سوزشی ماسٹائٹس کہا جا سکتا ہے۔ یہ سوزش اگر برقرار رہے یا مناسب طریقے سے قابو نہ آئے تو جراثیمی ماسٹائٹس پیدا ہو سکتا ہے۔

دودھ پلانے کے دوران نپل کی جلد پر پڑنے والی دراڑیں بھی جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ بن سکتی ہیں۔ بعض جراثیم بچے کے منہ سے بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔ جب چھاتی کے قدرتی دفاع میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو دودھ میں موجود غذائیت جراثیم کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کر سکتی ہے۔

Mastitis and Germs

جراثیمی ماسٹائٹس اور چھاتی کے پھوڑے کی سب سے عام وجہ جلد پر موجود جراثیم میں سے ایک قسم، اسٹیفیلوکوکس اوریئس، ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اسٹیفیلوکوکس بھی وجہ بن سکتے ہیں۔

کچھ چھاتی کے انفیکشن میں ایک سے زیادہ اقسام کے جراثیم بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ ان میں اسٹریپٹوکوکس، ایسچریشیا کولی، سیوڈوموناس اور بعض دیگر جراثیم شامل ہیں۔ کچھ پھوڑوں میں ایسے جراثیم بھی پائے جا سکتے ہیں۔ جو آکسیجن کے بغیر افزائش کرتے ہیں۔ خاص طور پر بعض دائمی یا بار بار ہونے والے معاملات میں۔

غیر معمولی صورتوں میں تپ دق کے جراثیم، فنگس اور دیگر کم عام جراثیم بھی چھاتی کے انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

Mastitis and Breastfeeding

ماسٹائٹس صرف دودھ پلانے والی خواتین کا مسئلہ نہیں ہے۔ دودھ نہ پلانے والی خواتین میں بھی چھاتی کی سوزش یا پھوڑا بن سکتا ہے۔

دودھ نہ پلانے والی خواتین میں نالیوں کا پھیلاؤ اور ان کے اردگرد سوزش ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔ نپل کے قریب ہونے والے پھوڑے عموماً چھاتی کی نالیوں میں رکاوٹ اور سوزش سے وابستہ ہوتے ہیں۔

سگریٹ نوشی اور ذیابیطس دودھ نہ پلانے والی خواتین میں چھاتی کے بعض انفیکشنز، خصوصاً نپل کے اردگرد ہونے والی سوزش اور پھوڑے، کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

نپل میں سوراخ کروانا، چھاتی میں مصنوعی مواد یا سلیکون کی موجودگی بھی بعض غیر جراثیمی سوزشوں سے وابستہ ہو سکتی ہے۔

Mastitis and Breast Abscess

اگر ماسٹائٹس کا مناسب علاج نہ ہو تو سوزش بڑھ کر چھاتی میں پیپ کا پھوڑا بنا سکتی ہے۔ چھاتی کا پھوڑا پیپ سے بھری ہوئی ایک محدود جگہ ہوتی ہے۔

دودھ پلانے والی خواتین میں پھوڑا عموماً چھاتی کے بیرونی حصے میں بن سکتا ہے۔ جبکہ دودھ نہ پلانے والی خواتین میں یہ اکثر نپل کے اردگرد یا اس کے نیچے بنتا ہے۔

چھاتی کا پھوڑا عام طور پر صرف دوا سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اور اکثر پیپ نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے دردناک گانٹھ، بڑھتی ہوئی سوجن یا علاج کے باوجود برقرار رہنے والی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

Diagnosis of Mastitis

ماسٹائٹس کی تشخیص عموماً علامات اور جسمانی معائنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر چھاتی کی سوجن، سرخی، گرمی، سختی، درد اور گانٹھ کا معائنہ کرتا ہے۔

اگر پھوڑے کا شبہ ہو تو چھاتی کا الٹراساؤنڈ مفید ہوتا ہے۔ الٹراساؤنڈ کے ذریعے چھاتی کے اندر موجود پیپ کے ذخیرے کی جگہ اور نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سوئی کے ذریعے حاصل کیے گئے مواد کو جراثیمی جانچ کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سا جراثیم موجود ہے۔ اور کون سی دوا زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

بار بار ہونے والے، غیر معمولی یا علاج سے بہتر نہ ہونے والے معاملات میں مزید جانچ یا بافتے کا نمونہ لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کا مقصد انفیکشن، سوزش کی دوسری اقسام اور کسی سنگین بیماری کو الگ کرنا ہوتا ہے۔

دودھ نہ پلانے والی خواتین میں بعض صورتوں میں چھاتی کا ایکسرے یا الٹراساؤنڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ چھاتی کی دوسری بیماریوں کو خارج کیا جا سکے۔

Mastitis Treatment in Urdu

ماسٹائٹس کے علاج کا بنیادی مقصد سوزش اور درد کو کم کرنا اور جراثیمی انفیکشن کو قابو کرنا ہے۔ علاج علامات کی شدت، انفیکشن کی موجودگی اور مریض کی مجموعی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

سوزشی ماسٹائٹس میں چھاتی پر ٹھنڈی پٹی یا برف کی تھیلی رکھنے سے سوجن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ برف کو براہ راست جلد پر نہیں لگانا چاہیے۔ بلکہ مناسب کپڑے میں لپیٹ کر استعمال کرنا چاہیے۔

درد اور سوزش کے لیے بعض عام درد کم کرنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ لیکن دوا کا انتخاب ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر کے مشورے سے ہونا چاہیے۔ خصوصاً دودھ پلانے والی خواتین کے لیے۔

چھاتی پر بہت زیادہ دباؤ ڈالنے یا سخت مالش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سوجن کی صورت میں ہلکے ہاتھ سے لمف کے بہاؤ کی مدد کی جا سکتی ہے۔ لیکن زور دار مالش یا کسی برقی مالشی آلے کا استعمال مناسب نہیں۔

نپل اور اس کے اردگرد سوجن زیادہ ہو تو ہلکے دباؤ کی مخصوص تکنیک سے بچے کے لیے دودھ پینا آسان بنایا جا سکتا ہے۔

آرام دہ اور سہارا دینے والی ایسی چولی پہننی چاہیے۔ جو بہت تنگ نہ ہو اور چھاتی پر اضافی دباؤ نہ ڈالے۔

Mastitis and Medicines

اگر علامات شدید ہوں۔ طویل عرصے تک برقرار رہیں۔ یا جراثیمی انفیکشن کا شبہ ہو تو ڈاکٹر اینٹی بایوٹک تجویز کر سکتا ہے۔

اینٹی بایوٹک کا انتخاب مقامی جراثیمی صورتحال، مریض کی الرجی، جراثیم کی شناخت اور بیماری کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں جراثیمی جانچ کے نتائج کے مطابق دوا تبدیل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

عام درد کم کرنے والی ادویات درد اور سوزش کو کم کر سکتی ہیں۔ لیکن جراثیمی انفیکشن کا علاج نہیں کرتیں۔

اگر اینٹی بایوٹک شروع کرنے کے بعد تقریباً دو دن میں بہتری نہ آئے۔ یا بخار اور سوجن بڑھنے لگے۔ تو دوبارہ طبی معائنہ ضروری ہے۔

Mastitis Prevention

ماسٹائٹس سے بچاؤ کے لیے دودھ کی پیداوار اور بچے کی ضرورت کے درمیان مناسب توازن اہم ہے۔ صرف چھاتی کو مکمل خالی کرنے کے مقصد سے بار بار دودھ نکالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بچے کو صحیح طریقے سے چھاتی لگوانے کا طریقہ سیکھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ دودھ پلانے کی ماہر سے مشورہ لے کر بچے کے صحیح انداز میں دودھ پینے اور نپل کو درست طریقے سے پکڑنے کی تکنیک سیکھی جا سکتی ہے۔

بہت تنگ چولی نہیں پہننی چاہیے۔ اور چھاتی پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے والے آلات سے گریز کرنا چاہیے۔

اگر نپل پر زخم یا دراڑیں ہوں تو ان کی مناسب دیکھ بھال ضروری ہے۔ بار بار ماسٹائٹس ہونے کی صورت میں ماں اور بچے میں ایسے جراثیم کی موجودگی کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے جو انفیکشن کو بار بار پیدا کر رہے ہوں۔

Mastitis and Breastfeeding

زیادہ تر صورتوں میں ماسٹائٹس کے دوران بچے کو دودھ پلانا جاری رکھا جا سکتا ہے۔ ماسٹائٹس کی وجہ سے دودھ پلانا اچانک بند کر دینا مناسب نہیں۔ کیونکہ دودھ کے جمع ہونے سے مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

متاثرہ چھاتی سے دودھ پلانا عموماً بچے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اسٹیفیلوکوکس اوریئس کی وجہ سے ہونے والے ماسٹائٹس میں بھی۔ ماں کا دودھ بچے کو جراثیمی بیماریوں سے بچانے میں مدد دینے والی خصوصیات رکھتا ہے۔

اگر کسی جراحی زخم کی وجہ سے متاثرہ چھاتی سے دودھ پلانا ممکن نہ ہو تو دودھ کو مناسب طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ معلومات کے مطابق چھاتی کو بار بار غیر ضروری طور پر مکمل خالی کرنے کی کوشش دودھ کی پیداوار بڑھا کر سوزش کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ اس لیے دودھ نکالنے کا طریقہ اور مقدار طبی مشورے کے مطابق رکھنا بہتر ہے۔

Complications of Mastitis

مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں ماسٹائٹس چھاتی کے پھوڑے کا سبب بن سکتا ہے۔ شدید انفیکشن خون میں جراثیم پھیلنے اور سیپسس جیسی خطرناک کیفیت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ان افراد میں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔

بار بار یا دیر سے علاج ہونے والے انفیکشن سے چھاتی پر داغ، مستقل سوزش اور ساخت میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض شدید صورتوں میں بافتوں کو اتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کہ متاثرہ چھاتی مؤثر طریقے سے دودھ پیدا کرنے کے قابل نہ رہے۔

اگر پھوڑا پھٹ جائے تو پیپ خارج ہونے والی نالی بن سکتی ہے۔ جسے چھاتی کا ناسور کہا جاتا ہے۔ ایسے دائمی مسائل میں بعض اوقات جراحی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Mastitis and Breast Cancer

ماسٹائٹس خود چھاتی کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھاتا۔ لیکن اس کی کچھ علامات سوزشی چھاتی کے سرطان سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ سوزشی چھاتی کا سرطان ایک نایاب مگر تیزی سے بڑھنے والی بیماری ہے۔

اگر چھاتی کی سرخی، سوجن، جلد میں تبدیلی یا کوئی نئی گانٹھ غیر معمولی طور پر برقرار رہے۔ تو اسے صرف ماسٹائٹس سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ طبی معائنہ ضروری ہے۔

چالیس سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں، خاص طور پر علامات ختم ہونے کے بعد، چھاتی کی مناسب تصویری جانچ کی جا سکتی ہے تاکہ کسی پوشیدہ بیماری کو خارج کیا جا سکے۔

Conclusion on Mastitis in Urdu

ماسٹائٹس چھاتی کی ایک عام اور تکلیف دہ سوزش ہے۔ جو خاص طور پر دودھ پلانے والی خواتین میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ دودھ کی زیادتی، سوزش، دودھ کے بہاؤ میں رکاوٹ اور نپل کی جلد کو پہنچنے والا نقصان اس کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں سوزش جراثیمی انفیکشن اور پھر چھاتی کے پھوڑے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ابتدائی علامات کو پہچان کر مناسب طبی مشورہ لینا پیچیدگیوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سوزش کی صورت میں ٹھنڈک، مناسب درد کش تدابیر، غیر ضروری زور دار مالش سے پرہیز اور مناسب دودھ پلانے کی حکمت عملی مددگار ہو سکتی ہے۔ جراثیمی انفیکشن کی صورت میں ڈاکٹر کی تجویز کردہ اینٹی بایوٹک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جبکہ چھاتی کے پھوڑے میں پیپ نکالنے کا عمل ضروری ہو سکتا ہے۔

ماسٹائٹس کے دوران عموماً دودھ پلانا جاری رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہر شدید، بار بار ہونے والے یا علاج سے بہتر نہ ہونے والے معاملے میں طبی معائنہ ضروری ہے۔ بروقت تشخیص اور درست علاج سے زیادہ تر مریض پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

FAQs

What is Mastitis in Urdu?

ماسٹائٹس چھاتی کے بافتوں میں ہونے والی سوزش ہے۔ جو انفیکشن کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر دودھ پلانے والی خواتین میں زیادہ عام ہے۔ لیکن دودھ نہ پلانے والی خواتین اور مردوں میں بھی بعض صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ ماسٹائٹس میں چھاتی سرخ، گرم، سخت، سوجی ہوئی اور چھونے پر حساس ہو سکتی ہے۔

بعض افراد کو چھاتی میں درد، جلن، سخت گانٹھ، دودھ کے اخراج میں کمی، بخار، کپکپی اور فلو جیسی علامات بھی محسوس ہوتی ہیں۔ اگر سوزش کے ساتھ جراثیمی انفیکشن پیدا ہو جائے۔ تو چھاتی میں پیپ کا پھوڑا بن سکتا ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے عام طور پر ماسٹائٹس بہتر ہو جاتا ہے۔ اور سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

What are the symptoms of Mastitis?

ماسٹائٹس کی عام علامات میں چھاتی میں درد، سوجن، سختی، گرمی اور سرخی شامل ہیں۔ متاثرہ چھاتی چھونے پر زیادہ حساس محسوس ہو سکتی ہے۔ اور بعض اوقات اس میں سخت گانٹھ بھی محسوس ہوتی ہے۔ دودھ پلانے والی خواتین میں بچے کے دودھ پینے کے دوران درد یا جلن بڑھ سکتی ہے۔ اور دودھ کے اخراج میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔

جراثیمی انفیکشن کی صورت میں بخار، کپکپی، جسم میں درد، کمزوری اور فلو جیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ بغل کے لمف غدود بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اگر چھاتی میں دردناک اور واضح نرم گانٹھ بن جائے تو یہ پھوڑے کی علامت ہو سکتی ہے۔ علامات تیزی سے بڑھ رہی ہوں یا علاج کے باوجود بہتر نہ ہوں۔ تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

What causes Mastitis?

ماسٹائٹس کی ایک اہم وجہ دودھ کی ضرورت سے زیادہ پیداوار ہے۔ جب چھاتی میں دودھ زیادہ جمع ہوتا ہے۔ تو اردگرد کے سوجے ہوئے بافتے دودھ کی نالیوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ جس سے دودھ کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔ دودھ پلانے کے دوران نپل کی جلد پر دراڑیں یا زخم بھی جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ بن سکتے ہیں۔

بعض جراثیم بچے کے منہ سے بھی چھاتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ سوزش برقرار رہنے کی صورت میں جراثیمی انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ دودھ نہ پلانے والی خواتین میں نالیوں کی سوزش، تمباکو نوشی، ذیابیطس اور بعض دوسری وجوہات ماسٹائٹس یا چھاتی کے پھوڑے سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ ہر مریض میں اصل وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔

Is Mastitis common during breastfeeding?

جی ہاں، ماسٹائٹس دودھ پلانے والی خواتین میں نسبتاً عام مسئلہ ہے۔ اور بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی ہفتوں اور پہلے تین ماہ میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ دودھ کی زیادتی، چھاتی میں دودھ کا جمع ہونا، نپل کی جلد کو پہنچنے والا نقصان اور دودھ کے بہاؤ میں تبدیلی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مختلف مطالعات میں دودھ پلانے والی خواتین میں ماسٹائٹس کی شرح مختلف بتائی گئی ہے۔ اس لیے اس کی ایک ہی شرح مقرر نہیں کی جا سکتی۔

بعض خواتین میں یہ صرف سوزش کی صورت میں رہتا ہے۔ جبکہ بعض میں جراثیمی انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر علامات شدید ہوں، برقرار رہیں یا تیزی سے بڑھیں تو بروقت طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔ تاکہ پھوڑے اور دوسری پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

Can I continue breastfeeding with Mastitis?

زیادہ تر صورتوں میں ماسٹائٹس کے دوران بچے کو دودھ پلانا جاری رکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ چھاتی سے دودھ پلانے سے بچے کو عام طور پر ماسٹائٹس منتقل نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ بعض جراثیمی انفیکشنز میں بھی دودھ پلانا جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس دودھ پلانا اچانک بند کرنے سے چھاتی میں دودھ کے جمع ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اور پھوڑے بننے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

تاہم دودھ نکالنے یا چھاتی خالی کرنے کی مقدار مناسب رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ضرورت سے زیادہ دودھ نکالنے سے دودھ کی پیداوار بڑھ سکتی ہے اور سوزش مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اگر علاج، دوا یا کسی جراحی زخم کی وجہ سے دودھ پلانے میں مشکل ہو تو ڈاکٹر یا دودھ پلانے کی ماہر سے مناسب رہنمائی حاصل کریں۔

How is Mastitis diagnosed?

ماسٹائٹس کی تشخیص عموماً مریض کی علامات اور چھاتی کے جسمانی معائنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر چھاتی میں سرخی، سوجن، گرمی، درد، سختی، گانٹھ اور دیگر تبدیلیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر چھاتی میں پھوڑے کا شبہ ہو تو الٹراساؤنڈ اہم تشخیصی طریقہ ہے۔ اس سے چھاتی کے اندر موجود پیپ کے ذخیرے کی جگہ اور نوعیت معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بعض حالات میں سوئی کے ذریعے مواد نکال کر اس کی جراثیمی جانچ کی جاتی ہے۔ تاکہ موجود جراثیم اور مؤثر دوا کا تعین کیا جا سکے۔ بار بار ہونے والے، غیر معمولی یا علاج سے بہتر نہ ہونے والے معاملات میں بافتے کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ دودھ نہ پلانے والی خواتین میں بعض اوقات دوسری بیماریوں کو خارج کرنے کے لیے مزید تصویری جانچ ضروری ہوتی ہے۔

What is the treatment for Mastitis?

ماسٹائٹس کا علاج اس بات پر منحصر ہوتا ہے۔ کہ مسئلہ صرف سوزش تک محدود ہے یا جراثیمی انفیکشن بھی موجود ہے۔ سوزشی ماسٹائٹس میں سوجن اور درد کم کرنے کے لیے ٹھنڈی پٹی، مناسب درد کم کرنے والی تدابیر اور آرام مددگار ہو سکتے ہیں۔ چھاتی پر زور دار مالش، مالشی آلات اور غیر ضروری گرمائش سے گریز کرنا چاہیے۔

اگر جراثیمی انفیکشن کا شبہ ہو تو ڈاکٹر اینٹی بایوٹک تجویز کر سکتا ہے۔ دوا کا انتخاب مریض کی حالت، جراثیم کی نوعیت اور دیگر عوامل کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر چھاتی میں پھوڑا بن جائے تو صرف اینٹی بایوٹک کافی نہیں ہوتی۔ اور پیپ نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ علاج کے باوجود علامات بہتر نہ ہوں یا بگڑ جائیں تو دوبارہ طبی معائنہ ضروری ہے۔

Can Mastitis turn into a breast abscess?

جی ہاں۔ اگر ماسٹائٹس کی سوزش مناسب طریقے سے قابو نہ پائے تو بعض صورتوں میں چھاتی میں پیپ کا پھوڑا بن سکتا ہے۔ پھوڑا دراصل چھاتی کے اندر پیپ جمع ہونے کی ایک محدود جگہ ہوتی ہے۔ اس میں درد، سوجن، سرخی اور گانٹھ زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے۔ بعض پھوڑے چھونے پر نرم اور ہلنے والے محسوس ہوتے ہیں۔ جبکہ گہرائی میں موجود پھوڑا ہمیشہ ہاتھ سے واضح طور پر محسوس نہیں ہوتا۔

ایسے معاملات میں الٹراساؤنڈ تشخیص میں مدد دیتا ہے۔ چھاتی کے پھوڑے عموماً صرف اینٹی بایوٹک سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے اور پیپ نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جلد تشخیص اور مناسب علاج سے بڑے پھوڑے، جراحی پیچیدگیوں، داغ اور چھاتی کی ساخت کو ہونے والے نقصان کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Should I massage my breast if I have Mastitis?

ماسٹائٹس میں چھاتی کی زور دار مالش کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ زیادہ دباؤ سوزش اور بافتوں کی تکلیف کو بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر سختی سے دبانا، کسی مالشی آلے کا استعمال کرنا یا چھاتی کو زور سے رگڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ معلومات کے مطابق سوزش کو کم کرنا زیادہ اہم ہے۔ نہ کہ چھاتی میں موجود دودھ کو زور لگا کر نکالنے کی کوشش کرنا۔

سوجن کی صورت میں بہت ہلکے ہاتھ سے لمف کے بہاؤ کی مدد کی جا سکتی ہے۔ جس میں چھاتی سے بغل یا ہنسلی کے قریب لمف غدود کی سمت نرم حرکت شامل ہوتی ہے۔ اگر نپل اور اس کے اردگرد سوجن ہو تو مخصوص ہلکی تکنیک سے بچے کے لیے چھاتی پکڑنا آسان بنایا جا سکتا ہے۔ مناسب طریقے کے لیے ماہر سے رہنمائی بہتر ہے۔

How can Mastitis be prevented?

ماسٹائٹس سے بچاؤ کے لیے دودھ پلانے کے دوران چھاتی پر غیر ضروری دباؤ اور دودھ کی ضرورت سے زیادہ پیداوار سے بچنا اہم ہے۔ بچے کی ضرورت کے مطابق دودھ پلانا اور صرف چھاتی کو مکمل خالی کرنے کے مقصد سے بار بار دودھ نکالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ بچے کو درست طریقے سے چھاتی لگوانے کی تکنیک سیکھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

نپل پر زخم یا دراڑیں ہوں تو ان کی مناسب دیکھ بھال ضروری ہے۔ بہت تنگ چولی پہننے سے گریز کریں اور ایسے آلات استعمال نہ کریں۔ جو چھاتی پر غیر ضروری دباؤ ڈالیں۔ بار بار ماسٹائٹس ہونے کی صورت میں ماں اور بچے میں بعض جراثیم کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ دودھ پلانے کی ماہر سے مشورہ بھی آئندہ مسائل کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts