پیٹ میں گیس اور اپھارہ آج کے دور کا ایک عام مسئلہ ہے۔ تقریباً ہر شخص اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس تکلیف سے گزرتا ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ افراد روزانہ اس اذیت کا سامنا کرتے ہیں۔ پیٹ میں بھاری پن، درد، سینے تک دباؤ، بار بار ڈکاریں یا بدہضمی — یہ سب گیس کی علامات ہیں۔ یہ علامتیں روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ جلد از جلد معدہ کی گیس کا علاج جاننا چاہتے ہیں۔
اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جانیں گے
پیٹ میں گیس کیوں بنتی ہے
اپھارہ اور گیس میں فرق
فوری آرام کے گھریلو نسخے
جدید میڈیکل رائے
مستقل حل اور احتیاطی تدابیر
پیٹ میں گیس کیا ہوتی ہے؟
پیٹ میں گیس دراصل ہوا یا گیسوں کا جمع ہونا ہے جو نظامِ ہاضمہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ گیس دو بنیادی طریقوں سے بنتی ہے
ہوا نگلنے سے
جب ہم تیزی سے کھاتے ہیں۔ باتیں کرتے ہوئے کھاتے ہیں۔ چیونگم چباتے ہیں یا اسٹرا سے مشروبات پیتے ہیں تو غیر ضروری ہوا معدے میں چلی جاتی ہے۔
خوراک کے ہضم ہونے کے دوران
بڑی آنت میں موجود بیکٹیریا کچھ غذاؤں کو توڑتے ہیں جس کے نتیجے میں گیس بنتی ہے۔ خاص طور پر فائبر والی غذائیں۔
اپھارہ کیا ہے؟
اپھارہ اس کیفیت کو کہتے ہیں جب پیٹ پھولا ہوا، سخت یا بھاری محسوس ہو۔ اکثر لوگ گیس اور اپھارہ کو ایک ہی سمجھتے ہیں، مگر
گیس = ہوا یا گیس کا جمع ہونا
اپھارہ = پیٹ کا پھول جانا (اکثر گیس، قبض یا بدہضمی کی وجہ سے)
معدہ میں گیس اور اپھارہ کی عام وجوہات
غلط کھانے کی عادات
بہت تیزی سے کھانا۔ جو لوگ تیزی کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں ان میں گیس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ معدہ میں گیس کے علاج پع پیسے خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ کھانا چبا کر کھایا جائے۔
زیادہ مقدار میں کھانا۔ اگر آپ کو ایک روٹی کی بھوک ہے اور آپ دو کھا لیتے ہیں تو پھر بھی گیس کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس لیے اتنا ہی کھائیں جتنی کہ بھوک لگی ہو۔
چکنائی والی غذا۔ سموسے پکوڑے اور ان جیسی دوسری چیزیں بھی گیس کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ اس لیے چکنائی والی غذاؤں کو زیادہ استعمال مت کریں۔
کاربونیٹڈ مشروبات (سوڈا، کولڈ ڈرنکس)۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پیٹ کی گیس آپ سے کوسوں دور رہے تو کاربونیٹڈ ڈرنکس کو خیر آباد کہہ دیں۔
کچھ مخصوص غذائیں
یہ غذائیں صحت مند ضرور ہیں مگر گیس زیادہ بناتی ہیں:
دالیں اور لوبیا
بند گوبھی، پھول گوبھی، بروکلی
پیاز
دودھ
مصنوعی شکر
قبض
جب آنتوں میں فضلہ زیادہ دیر تک رکا رہتا ہے تو گیس باہر نہیں نکل پاتی۔ اسی لیے آپ کو ہمارا مشورہ یہی ہے کہ جلد از جلد قبض کے علاج کی طرف متوجہ ہوا کریں۔
ذہنی دباؤ اور اسٹریس
اسٹریس نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے۔ جس سے گیس اور اپھارہ بڑھتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ذہنی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد معدے کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ بھی پیٹ کی گیس سے بچنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر ذہنی دباؤ سے نجات پا لیں۔ وگرنہ آپ بھی معدہ کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اب ہم معدہ میں گیس کے علاج کی طرف آتے ہیں۔ لیکن علاج سے پہلے گیس کی علامات کو جان لینا بہتر رہے گا۔ تا کہ آپ گیس اور اپھارہ میں آسانی سے فرق کر سکیں۔
معدہ میں گیس کی علامات
پیٹ میں درد
پیٹ کا پھول جانا
بار بار ڈکاریں
بدہضمی
سینے میں دباؤ
بعض اوقات متلی
ان علامات کے ظاہر ہونے کی صورت میں نیچے بتائے گئے علاج پر عمل کریں۔ اگر یہ علاج فائدہ مند ثابت نہ ہوں تو کسی طبی معالج سے رجوع کریں۔
معدہ کی گیس کا فوری علاج
ہلکی چہل قدمی
کھانے کے بعد 10–15 منٹ واک کرنے سے آنتوں کی حرکت بہتر ہوتی ہے اور گیس خارج ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کو اپنا معمول بنا لیں۔ اس سے آپ کبھی بھی گیس جیسے مسائل کا شکار نہیں ہوں گے۔
نیم گرم پانی
نیم گرم پانی آنتوں کو آرام دیتا ہے اور گیس کو حرکت میں لاتا ہے۔ تاہم نیم گرم پانی کو زیادہ مقدار میں استعمال کریں۔ پانی اسی وقت پئیں جب آپ کو پیاس لگی ہو۔
پودینہ کی چائے
یہ پٹھوں کو ریلیکس کرتا ہے اور گیس کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔ پودینہ کے چند پتوں کو لے کر ابال لیں۔ آپ اس میں ادرک اور دار چینی وغیرہ بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اگر پودینے کی چائے کا ذائقہ آپ کو پسند نہ ہو تو اس میں شہد شامل کر لیں۔
ادرک
یہ نظامِ ہاضمہ کو تیز کرتی ہے۔ ادرک کی چائے یا تھوڑا سا ادرک چبانا مفید ہے۔ ویسے بھی آپ کو معلوم ہو گا کہ ادرک قوت مدافعت بڑھانے والی غذا ہے۔ ادرک کو استعمال کرنے سے آپ بہت سی بیماریوں سے بھی بچ جاتے ہیں۔
پیٹ کی مالش
پیٹ کو گھڑی کی سوئیوں کی سمت آہستہ آہستہ دبانے سے گیس نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہ مائیں اکثر اپنے بچوں کے پیٹ پر مالش کرتی ہیں۔ کیا آپ کو اس کا سبب معلوم ہے؟ اس پیچھے یہی وجہ ہوتی ہے کہ بچے کے پیٹ میں گیس نہ جمع ہو۔
سونف
کھانے کے بعد سونف چبانے سے گیس نہیں بنتی۔ اگر آپ کو قدرتی سونف کا ذائقہ پسند نہیں ہے تو آپ میٹھی سونف لے لیں۔ سونف بھی آپ کی مجموعی صحت میں بہتری لا سکتی ہے۔ خاص طور پر اس کو سردیوں میں استعمال کرنا چاہیئے۔
دہی
دہی میں موجود پروبائیوٹکس آنتوں کے بیکٹیریا کو متوازن رکھتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ ہر روز دہی کو استعمال کیا جائے۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہو گا کہ میں دہی کو کیوں استعمال کروں؟ لیجیے پھر دہی کے فوائد پڑھیے۔ امید ہے کہ ان کو پڑھنے کے بعد دہی آپ کی غذا کا لازمی حصہ بن جائے گا۔
سوالات و جوابات
معدہ کی گیس کی کون سی علامات میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
وزن تیزی سے کم ہونا
خون آنا
مسلسل قے
شدید پیٹ درد
کئی دن تک گیس یا قبض
یہ کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتی ہیں۔
معدہ میں گیس سے بچاؤ 5 طریقے کون سے ہیں؟
آہستہ کھائیں: ہر نوالہ اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
پانی مناسب مقدار میں پئیں: پانی ہاضمہ درست رکھتا ہے۔
فائبر آہستہ آہستہ بڑھائیں: اچانک زیادہ فائبر گیس بڑھا سکتا ہے۔
روزانہ ورزش: ہلکی پھلکی ورزش نظامِ ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔
اسٹریس کم کریں: نماز، واک، گہری سانسیں یا مراقبہ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کچھ آخری الفاظ
معدہ کی گیس کا علاج آپ نے جان لیا ہے۔ اپھارہ اور گیس کے فرق کو بھی اس بلاگ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ ایسے مزید بلاگز پڑھنا چاہتے ہیں تو ایور ہیلدی سے جڑے رہیں۔