اوویرین سسٹ بیضہ دانی کے اندر یا اس کی سطح پر بننے والی تھیلی نما ساخت کو کہتے ہیں۔ جس میں عموماً سیال یا نیم ٹھوس مواد موجود ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بہت عام ہے اور خاص طور پر ماہواری اور تولیدی عمر کے دوران زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ بہت سی خواتین میں اوویرین سسٹ کسی خاص علامت کے بغیر موجود ہوتا ہے۔ اور معمول کے معائنے یا الٹراساؤنڈ کے دوران اتفاقاً سامنے آتا ہے۔
زیادہ تر اوویرین سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ اور چند ہفتوں یا مہینوں میں خود ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر سسٹ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض سسٹ مسلسل بڑھ سکتے ہیں۔ جبکہ کچھ صورتوں میں سسٹ پھٹنے، خون بہنے یا بیضہ دانی کے مڑنے جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
ماہواری کے معمول کے دوران بیضہ دانی میں کئی فولیکلز بننا شروع ہوتے ہیں۔ عام طور پر ان میں سے ایک غالب فولیکل پختہ ہو کر بیضہ خارج کرتا ہے۔ بیضہ خارج ہونے کے بعد یہی فولیکل ایک ساخت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جسے کارپس لیوٹیم کہا جاتا ہے۔
کبھی فولیکل بیضہ خارج نہیں کر پاتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ جس سے فولیکولر سسٹ بن سکتا ہے۔ اسی طرح بیضہ خارج ہونے کے بعد کارپس لیوٹیم ختم ہونے کے بجائے سیال سے بھر جائے تو کارپس لیوٹیم سسٹ بن سکتا ہے۔
اس لیے اوویرین سسٹ بننے کی ایک بڑی وجہ بیضہ بننے اور خارج ہونے کے دوران ہونے والی قدرتی ہارمونی تبدیلیاں ہیں۔
Types of Ovarian Cyst in Urdu
اوویرین سسٹ کی تیس سے زیادہ مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔ لیکن انہیں بڑی حد تک فعلی اور غیر فعلی اقسام میں سمجھا جا سکتا ہے۔
Functional Ovarian Cyst
فعلی سسٹ ماہواری کے قدرتی عمل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور تولیدی عمر کی خواتین میں سب سے عام قسم ہیں۔ ان میں زیادہ تر علاج کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
Follicular Cyst
ہر ماہ بیضہ ایک چھوٹی تھیلی نما ساخت، یعنی فولیکل، کے اندر پکتا ہے۔ بیضہ خارج ہونے کے وقت فولیکل پھٹ کر بیضہ باہر نکالتا ہے۔ اگر یہ فولیکل پھٹنے میں ناکام رہے اور بڑھتا چلا جائے تو فولیکولر سسٹ بن جاتا ہے۔
یہ سسٹ عموماً ہموار، پتلی دیوار والا اور ایک ہی خانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ بغیر کسی خاص علاج کے ختم ہو جاتا ہے۔
Corpus Luteum Cyst
بیضہ خارج ہونے کے بعد فولیکل کارپس لیوٹیم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جو پروجیسٹرون پیدا کرتا ہے۔ اگر حمل نہ ٹھہرے تو عام طور پر یہ ساخت تقریباً چودہ دن بعد ختم ہو جاتی ہے۔
کبھی کارپس لیوٹیم ختم ہونے کے بجائے سیال یا خون سے بھر جاتا ہے۔ اور سسٹ بن جاتا ہے۔ یہ سسٹ سادہ بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ اور پیچیدہ بھی، جبکہ اس کی دیوار نسبتاً موٹی ہو سکتی ہے۔
حمل کی صورت میں کارپس لیوٹیم کچھ عرصے تک برقرار رہتا ہے۔ اور عموماً حمل کے پہلے تین ماہ کے اختتام تک ختم ہو جاتا ہے۔ فولیکولر اور کارپس لیوٹیم دونوں سسٹ میں خون جمع ہو کر خون والا سسٹ بھی بن سکتا ہے۔
Theca Lutein Cyst
تھی کا لیوٹین سسٹ عموماً انسانی کوریونک گوناڈوٹروپن نامی ہارمون کی بہت زیادہ مقدار سے بیضہ دانی کے زیادہ تحریک پانے کے نتیجے میں بنتا ہے۔
یہ حمل، ایک سے زیادہ بچوں کے حمل، حمل سے متعلق بعض غیر معمولی بیماریوں اور بیضہ دانی کو زیادہ متحرک کرنے والے علاج کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔
Polycystic Ovary Syndrome
پولی سسٹک اووری سنڈروم ایک ہارمونی اور میٹابولک مسئلہ ہے۔ جو تولیدی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اس میں بیضہ دانیاں بڑی ہو سکتی ہیں۔ اور ان میں بہت سے چھوٹے فولیکلز دکھائی دے سکتے ہیں۔
یہ کیفیت بانجھ پن کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی وابستہ ہو سکتی ہے۔ اس میں موجود چھوٹی ساختیں عام اوویرین سسٹ سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے دونوں کو ایک ہی مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔
Cystadenoma
یہ سسٹ بیضہ دانی کی سطح پر بن سکتے ہیں۔ ان میں پتلا پانی جیسا سیال یا نسبتاً گاڑھا بلغم نما مواد موجود ہو سکتا ہے۔ کچھ سسٹ ایڈینوما وقت کے ساتھ بڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی نگرانی ضروری ہو سکتی ہے۔
Dermoid Cyst
ڈرموئڈ سسٹ کو بالغ سسٹک ٹیراٹوما بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں بال، دانت یا جلد جیسے مختلف بافتوں سے ملتی جلتی چیزیں موجود ہو سکتی ہیں۔
یہ عموماً غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ لیکن پیچیدہ شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ بہت کم صورتوں میں ان میں سرطانی تبدیلی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
Endometrioma
اینڈومیٹریوسس کی وجہ سے بیضہ دانی میں بننے والے سسٹ کو اینڈومیٹریوما کہا جاتا ہے۔ ان میں پرانا، گاڑھا خون جمع ہوتا ہے، اسی لیے انہیں عام طور پر چاکلیٹ سسٹ بھی کہا جاتا ہے۔
الٹراساؤنڈ میں یہ پیچیدہ ساخت کے طور پر دکھائی دے سکتے ہیں اور اندرونی حصے میں مخصوص دھندلے یا شیشے جیسے آثار نظر آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سرطانی تبدیلی کا مجموعی خطرہ کم ہوتا ہے۔ تاہم اینڈومیٹریوسس والی خواتین میں اس خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
Causes of Ovarian Cyst
اوویرین سسٹ کی سب سے عام وجہ بیضہ خارج ہونے کا قدرتی عمل ہے۔ لیکن کئی دوسری وجوہات بھی اس کے بننے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
غیر معمولی خلیاتی افزائش ڈرموئڈ سسٹ یا سسٹ ایڈینوما کا باعث بن سکتی ہے۔ اینڈومیٹریوسس اینڈومیٹریوما پیدا کر سکتا ہے۔ جبکہ شدید حوض کی سوزش بیضہ دانی تک پھیل کر سسٹ بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔
کچھ خواتین میں بانجھ پن کے علاج کے دوران بیضہ دانی کو متحرک کرنے والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ جن سے سسٹ بننے یا بیضہ دانی کے زیادہ متحرک ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
حمل کے دوران بھی بعض سسٹ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر حمل کے دوسرے مرحلے میں انسانی کوریونک گوناڈوٹروپن کی سطح بڑھنے سے سسٹ بننے کا امکان موجود ہوتا ہے۔
دیگر خطرے کے عوامل میں تھائیرائڈ کی کم کارکردگی، ٹاموکسیفن کا استعمال، سگریٹ نوشی اور بعض خواتین میں نس بندی کا سابقہ شامل ہو سکتے ہیں۔
Ovarian Cyst Symptoms in Urdu
چھوٹے اوویرین سسٹ اکثر کوئی علامت پیدا نہیں کرتے۔ بعض خواتین کو اس وقت تک سسٹ کا علم نہیں ہوتا۔ جب تک معمول کے معائنے یا الٹراساؤنڈ میں اس کا پتا نہ چل جائے۔
جب سسٹ بڑا ہو یا علامات پیدا کرے تو پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ درد ایک طرف زیادہ ہو سکتا ہے۔ اور کبھی مسلسل جبکہ کبھی وقفے وقفے سے ہوتا ہے۔
دیگر علامات میں پیٹ کے نچلے حصے میں بھرا پن، پیٹ پھولنا، دردناک ماہواری، بے قاعدہ ماہواری اور ازدواجی تعلق کے دوران درد شامل ہو سکتے ہیں۔
کچھ خواتین کو قبض، رفع حاجت میں مشکل یا بار بار پیشاب آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ درد کبھی تیز اور کبھی ہلکی مستقل کسک جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔
اگر سسٹ پھٹ جائے یا بیضہ دانی مڑ جائے تو اچانک شدید درد شروع ہو سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ متلی اور قے بھی ہو سکتی ہے۔
Diagnosis of Ovarian Cyst in Urdu
تشخیص کے لیے ڈاکٹر سب سے پہلے مریضہ کی عمر، ماہواری، حمل کے امکان، سابقہ سسٹ، علامات اور دیگر طبی حالات کے بارے میں معلومات لیتے ہیں۔
تولیدی عمر کی خاتون میں حمل کو خارج کرنا ایک اہم ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس مقصد کے لیے پیشاب یا خون کا حمل کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
حمل کے بعد الٹراساؤنڈ اوویرین سسٹ کی جانچ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اندام نہانی کے راستے کیا جانے والا الٹراساؤنڈ بیضہ دانی کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ واضح معلومات فراہم کرتا ہے۔
الٹراساؤنڈ سے سسٹ کا حجم، مقام، ایک یا دونوں بیضہ دانیوں سے تعلق، اندر موجود مواد، دیوار کی موٹائی، اندرونی پردے، ٹھوس حصے، خون کی روانی اور پیٹ میں اضافی سیال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
سادہ اور عموماً غیر سرطانی سسٹ میں دیوار پتلی اور ہموار ہوتی ہے۔ اندرونی پردے یا ٹھوس حصے نہیں ہوتے۔ اور رنگین ڈوپلر میں اندرونی خون کی روانی نہیں دیکھی جاتی۔
خون کے ٹیسٹ بھی ضرورت کے مطابق کیے جا سکتے ہیں۔ مکمل خون کی جانچ خون کی کمی کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔ جبکہ پیشاب کی جانچ پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا گردے کی پتھری جیسی دوسری وجوہات کو جانچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
بعض صورتوں میں سی اے 125 نامی خون کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر سن یاس کے بعد کی خواتین میں۔ تاہم صرف اس ٹیسٹ کی بنیاد پر سرطان کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ اسے الٹراساؤنڈ اور مریضہ کی مجموعی حالت کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔
Treatment of Ovarian Cyst in Urdu
علاج کا فیصلہ ہر مریضہ میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ سسٹ کی قسم، حجم، علامات، عمر، سن یاس کی کیفیت اور سرطان کے خطرے کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
Continuous Care
بہت سے فعلی سسٹ خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر سسٹ کی شکل اطمینان بخش ہو اور مریضہ کو کوئی خاص علامت نہ ہو تو فوری علاج کے بجائے کچھ عرصے بعد دوبارہ الٹراساؤنڈ کر کے نگرانی کی جا سکتی ہے۔
اگر سسٹ کئی ماہواری چکروں کے بعد بھی برقرار رہے۔ تو یہ فعلی سسٹ ہونے کا امکان کم کر دیتا ہے۔ اور مزید جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Hormonal Medicines
بعض مریضات میں ہارمونی ادویات دی جا سکتی ہیں جو بیضہ خارج ہونے کے عمل کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس سے کچھ نئے فعلی سسٹ بننے یا پہلے سے موجود سسٹ کے دوبارہ آنے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
Surgery
اگر سسٹ مسلسل بڑھ رہا ہو، علامات پیدا کر رہا ہو، بہت بڑا ہو، برقرار رہتا ہو، کینسر کا شبہ ہو یا بیضہ دانی کے مڑنے کا خطرہ موجود ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سرجری میں صرف سسٹ نکالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاکہ خاص طور پر تولیدی عمر کی خواتین میں بیضہ دانی کے صحت مند حصے کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔
چھوٹے سوراخوں کے ذریعے کی جانے والی سرجری کو لیپروسکوپی کہا جاتا ہے۔ بہت بڑے سسٹ یا مخصوص تشویش کی صورت میں پیٹ کو نسبتاً بڑا چیرا دے کر لیپروٹومی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Complications of Ovarian in Urdu
اوویرین سسٹ کی تین اہم پیچیدگیاں پھٹنا، خون بہنا اور بیضہ دانی کا مڑنا ہیں۔
Ovarian Cyst Rupture
بعض سسٹ پھٹ سکتے ہیں اور اچانک درد پیدا کر سکتے ہیں۔ کئی مرتبہ پھٹنے کے بعد مسئلہ معمولی رہتا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں اندرونی خون بہنے کی وجہ سے شدید کمزوری، چکر اور بلڈ پریشر میں خطرناک کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
Hemorrhage
سسٹ کے اندر یا اس کے پھٹنے کے بعد خون جمع ہو سکتا ہے۔ اگر خون زیادہ مقدار میں ضائع ہو جائے تو ہسپتال میں داخلہ، خون کی منتقلی اور فوری سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ہیموریجک سسٹ کے متعلق بھی پڑھیں۔
Ovarian Torsion
بڑا سسٹ بیضہ دانی کا وزن بڑھا سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بیضہ دانی اپنے محور پر جزوی یا مکمل طور پر مڑ سکتی ہے۔ اس سے خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بیضہ دانی کے بافتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس حالت میں اچانک شدید پیٹ کے نچلے حصے کا درد، متلی اور قے اہم علامات ہیں۔ یہ ایک طبی ہنگامی حالت ہے اور فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ڈوپلر الٹراساؤنڈ میں خون کی روانی نظر آنا بیضہ دانی کے مڑنے کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ بیضہ دانی کو خون کی دوہری فراہمی اور وقفے وقفے سے مڑنے کی وجہ سے بعض مریضات میں خون کی روانی برقرار رہ سکتی ہے۔
When to Contact a Doctor?
زیادہ تر اوویرین سسٹ بے ضرر ہوتے ہیں۔ اور مناسب نگرانی کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ تقریباً ستر سے اسی فیصد فولیکولر سسٹ خود بخود ختم ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
تاہم ہر سسٹ کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ جو سسٹ بڑھتے رہیں، علامات پیدا کریں یا الٹراساؤنڈ میں غیر معمولی خصوصیات رکھتے ہوں۔ ان کی باقاعدہ نگرانی اور مناسب علاج ضروری ہے۔
تولیدی عمر کی خواتین میں علاج کے دوران بیضہ دانی اور مستقبل کی زرخیزی کو محفوظ رکھنا اہم ترجیح ہوتی ہے۔ دوسری طرف سن یاس کے بعد سسٹ کی موجودگی میں سرطان کے امکان کو زیادہ سنجیدگی سے جانچا جاتا ہے۔
اوویرین سسٹ کی درست تشخیص اور علاج کے لیے ماہر امراض نسواں، تشخیصی ماہرین، سرطان کے ماہرین اور ضرورت پڑنے پر دیگر طبی ماہرین کے درمیان تعاون اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Closing Thoughts on Ovarian Cyst in Urdu
اوویرین سسٹ بیضہ دانی میں بننے والی عام تھیلی نما ساخت ہے۔ جو اکثر سیال سے بھری ہوتی ہے۔ زیادہ تر سسٹ فعلی اور غیر سرطانی ہوتے ہیں اور چند ماہ کے اندر خود ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
فولیکولر سسٹ، کارپس لیوٹیم سسٹ، تھی کا لیوٹین سسٹ، ڈرموئڈ سسٹ، سسٹ ایڈینوما اور اینڈومیٹریوما اس کی مختلف اقسام میں شامل ہیں۔ علامات میں پیٹ کے نچلے حصے کا درد، بھرا پن، ماہواری میں بے قاعدگی، دردناک ماہواری اور ازدواجی تعلق کے دوران درد شامل ہو سکتے ہیں۔
الٹراساؤنڈ تشخیص کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جبکہ بعض حالات میں خون کے ٹیسٹ اور مزید تصویری جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
زیادہ تر سسٹ میں صرف نگرانی کافی ہوتی ہے۔ لیکن بڑے، مسلسل بڑھنے والے، علامتی یا سرطان کے مشتبہ سسٹ میں سرجری ضروری ہو سکتی ہے۔ اچانک شدید درد، متلی، قے، چکر، بے ہوشی یا شدید کمزوری کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ یہ سسٹ کے پھٹنے، شدید خون بہنے یا بیضہ دانی کے مڑنے کی علامت ہو سکتی ہے۔
FAQs
What is an ovarian cyst?
اوویرین سسٹ بیضہ دانی کے اندر یا اس کی سطح پر بننے والی تھیلی نما ساخت ہے۔ جس میں عموماً سیال یا نیم ٹھوس مواد موجود ہوتا ہے۔ یہ بہت عام مسئلہ ہے اور خاص طور پر تولیدی عمر کی خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر اوویرین سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔ اور کئی ہفتوں یا مہینوں میں خود ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
بعض سسٹ ماہواری کے قدرتی عمل کے دوران بنتے ہیں۔ جیسے فولیکولر سسٹ اور کارپس لیوٹیم سسٹ۔ بہت سے سسٹ کوئی علامت پیدا نہیں کرتے۔ اور معمول کے معائنے یا الٹراساؤنڈ میں اتفاقاً معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ بڑے یا پیچیدہ سسٹ پیٹ کے نچلے حصے میں درد، بھرا پن، ماہواری کی بے قاعدگی یا ازدواجی تعلق کے دوران درد پیدا کر سکتے ہیں۔
What are the symptoms of an ovarian cyst?
اوویرین سسٹ کی علامات اس کے حجم، قسم اور پیچیدگی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ چھوٹے سسٹ اکثر بالکل خاموش رہتے ہیں۔ اور مریضہ کو ان کی موجودگی کا علم نہیں ہوتا۔ بڑے سسٹ کی صورت میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد، ایک طرف دباؤ یا بھرا پن، پیٹ پھولنا، دردناک یا بے قاعدہ ماہواری اور ازدواجی تعلق کے دوران درد ہو سکتا ہے۔
بعض خواتین کو قبض، رفع حاجت میں دشواری یا بار بار پیشاب آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر سسٹ پھٹ جائے یا بیضہ دانی مڑ جائے۔ تو اچانک شدید پیٹ کا درد، متلی اور قے ہو سکتی ہے۔ شدید درد کے ساتھ چکر، کمزوری، بے ہوشی یا ٹھنڈا پسینہ خطرناک پیچیدگی کی علامت ہو سکتے ہیں۔
What causes ovarian cysts?
اوویرین سسٹ کی سب سے عام وجہ بیضہ خارج ہونے کا قدرتی عمل ہے۔ ماہواری کے دوران بیضہ ایک فولیکل میں پکتا ہے۔ اگر فولیکل بیضہ خارج نہ کرے اور بڑھتا رہے۔ تو فولیکولر سسٹ بن سکتا ہے۔ بیضہ خارج ہونے کے بعد بننے والی کارپس لیوٹیم ساخت میں سیال یا خون جمع ہونے سے بھی سسٹ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اینڈومیٹریوسس، غیر معمولی خلیاتی افزائش، حوض کی شدید سوزش اور بعض ہارمونی مسائل بھی سسٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔ بانجھ پن کے علاج میں استعمال ہونے والی بیضہ دانی کو متحرک کرنے والی ادویات، حمل، ٹاموکسیفن، تھائیرائڈ کی کم کارکردگی اور بعض دیگر عوامل بھی سسٹ بننے کے خطرے سے وابستہ ہیں۔ تاہم ہر سسٹ کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔
Are ovarian cysts dangerous?
زیادہ تر اوویرین سسٹ خطرناک نہیں ہوتے۔ اور بغیر علاج کے خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر فعلی سسٹ ماہواری کے قدرتی عمل سے بنتے ہیں۔ اور عموماً چند ماہ میں ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض سسٹ بڑے ہو سکتے ہیں۔ یا ایسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ جن میں فوری طبی علاج ضروری ہوتا ہے۔ سسٹ پھٹنے سے اچانک درد اور بعض صورتوں میں اندرونی خون بہنا ہو سکتا ہے۔
بڑا سسٹ بیضہ دانی کو اپنے محور پر موڑ سکتا ہے۔ جس سے خون کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ کچھ پیچیدہ سسٹ میں سرطان کا خطرہ بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر سن یاس کے بعد بننے والے سسٹ کی مناسب جانچ ضروری ہے۔ اس لیے سسٹ کی قسم اور ساخت کے مطابق ڈاکٹر کی نگرانی اہم ہے۔
How is an ovarian cyst diagnosed?
اوویرین سسٹ کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریضہ کی علامات، عمر، ماہواری، حمل کے امکان اور سابقہ طبی معلومات کا جائزہ لیتے ہیں۔ تولیدی عمر کی خاتون میں ابتدائی طور پر حمل کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ حمل کو علامات کی وجہ کے طور پر خارج کیا جا سکے۔ اس کے بعد الٹراساؤنڈ تشخیص کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اندام نہانی کے راستے کیا جانے والا الٹراساؤنڈ بیضہ دانی کو زیادہ واضح طور پر دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
سسٹ کا حجم، مقام، اندرونی ساخت، دیوار، ٹھوس حصے، خون کی روانی اور پیٹ میں اضافی سیال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مکمل خون کی جانچ، پیشاب کی جانچ یا سی اے 125 جیسے خون کے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ مزید جانچ کا فیصلہ علامات اور الٹراساؤنڈ کے نتائج کے مطابق ہوتا ہے۔
Can ovarian cysts go away on their own?
جی ہاں، بہت سے اوویرین سسٹ خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ سسٹ جو ماہواری کے قدرتی عمل سے وابستہ ہوں۔ فولیکولر اور کارپس لیوٹیم سسٹ اکثر چند ہفتوں یا چند ماہ کے اندر بغیر کسی خاص علاج کے ختم ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر سسٹ چھوٹا ہو، اس کی ساخت سادہ ہو اور مریضہ کو شدید علامات نہ ہوں تو ڈاکٹر فوری سرجری کے بجائے نگرانی کا مشورہ دے سکتے ہیں۔
بعض اوقات چند ہفتوں یا مہینوں بعد دوبارہ الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ تاکہ دیکھا جا سکے کہ سسٹ کا حجم کم ہوا ہے یا نہیں۔ اگر سسٹ کئی ماہواری چکروں کے بعد بھی برقرار رہے۔ بڑھتا جائے۔ یا پیچیدہ شکل اختیار کرے تو مزید جانچ اور مناسب علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
When does an ovarian cyst need surgery?
اوویرین سسٹ میں سرجری ہر مریضہ کے لیے ضروری نہیں ہوتی۔ اگر سسٹ چھوٹا، سادہ اور علامات کے بغیر ہو تو عموماً نگرانی کافی رہتی ہے۔ سرجری پر اس وقت غور کیا جا سکتا ہے۔ جب سسٹ مسلسل برقرار رہے، اس کا حجم بڑھتا جائے، شدید یا مسلسل درد پیدا کرے، بہت بڑا ہو یا الٹراساؤنڈ میں سرطان کا شبہ پیدا کرنے والی خصوصیات موجود ہوں۔
دس سینٹی میٹر سے زیادہ حجم، بے قاعدہ ساخت، موٹی اندرونی دیواریں، ٹھوس حصے، پیپیلری ابھار، زیادہ خون کی روانی یا پیٹ میں اضافی سیال مزید تشخیص کی ضرورت پیدا کر سکتے ہیں۔ بیضہ دانی کے مڑنے کا شبہ بھی فوری جراحی علاج کا تقاضا کر سکتا ہے۔ تولیدی عمر کی خواتین میں ممکنہ حد تک بیضہ دانی کے صحت مند حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
What happens if an ovarian cyst ruptures?
اوویرین سسٹ پھٹنے کی صورت میں اس کے اندر موجود سیال یا خون پیٹ کے اندر خارج ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین میں اس کے نتیجے میں صرف ہلکا یا درمیانے درجے کا درد ہوتا ہے۔ اور اگر عمومی حالت مستحکم ہو تو نگرانی کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں سسٹ پھٹنے سے نمایاں اندرونی خون بہ سکتا ہے۔
ایسی حالت میں اچانک شدید پیٹ کا درد، چکر، شدید کمزوری، بے ہوشی جیسا احساس، تیز سانس یا ٹھنڈا اور پسینے سے تر جسم ظاہر ہو سکتا ہے۔ شدید خون بہنے کی صورت میں ہسپتال میں داخلہ، خون کی منتقلی یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لیے اچانک شدید درد کو معمولی سمجھ کر گھر پر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اور فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
What is ovarian torsion?
اوویرین ٹورشن اس حالت کو کہتے ہیں۔ جب بیضہ دانی اپنے محور پر جزوی یا مکمل طور پر مڑ جائے اور اس کی خون کی فراہمی متاثر ہونے لگے۔ بڑا اوویرین سسٹ بیضہ دانی کا وزن بڑھا کر اس کے مڑنے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ایک طبی ہنگامی حالت ہے۔ کیونکہ خون کی فراہمی میں رکاوٹ سے بیضہ دانی کے بافتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے پر بیضہ دانی ضائع بھی ہو سکتی ہے۔
اس کی عام علامات میں اچانک شدید نچلے پیٹ کا درد، متلی اور قے شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈوپلر الٹراساؤنڈ میں خون کی روانی نظر آنے کے باوجود ٹورشن مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ شبہ ہونے پر فوری طبی اور جراحی جائزہ ضروری ہے۔
Can ovarian cysts affect fertility?
اوویرین سسٹ کا زرخیزی پر اثر اس کی قسم، حجم اور بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ زیادہ تر فعلی اوویرین سسٹ عارضی ہوتے ہیں۔ عام طور پر مستقبل میں حمل ٹھہرنے کی صلاحیت کو مستقل طور پر متاثر نہیں کرتے۔ تاہم اینڈومیٹریوسس سے وابستہ اینڈومیٹریوما یا بعض دوسرے بڑے اور پیچیدہ سسٹ زرخیزی کے مسائل سے منسلک ہو سکتے ہیں۔
اگر سرجری ضروری ہو تو تولیدی عمر کی خواتین میں ڈاکٹر عموماً زیادہ سے زیادہ صحت مند بیضہ دانی کے بافتوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اوویرین ٹورشن کی صورت میں خون کی فراہمی متاثر ہونے سے بیضہ دانی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے سسٹ کی موجودگی میں خود سے نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے ماہر امراض نسواں سے معائنہ اور مناسب تشخیص کروانا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔