دل کی دھڑکن کا تیز محسوس ہونا ایک عام کیفیت ہے۔ جس میں انسان کو لگتا ہے کہ دل معمول سے زیادہ تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ زور سے دھڑک رہا ہے۔ پھڑپھڑا رہا ہے۔ یا دھڑکن کے درمیان وقفہ آ رہا ہے۔ بعض اوقات یہ احساس چند لمحوں کے لیے ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں میں کئی منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔ یہ کیفیت سینے کے علاوہ گلے یا گردن میں بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
دل کی تیز دھڑکن اکثر بے ضرر ہوتی ہے۔ اور ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، ورزش، بعض ادویات یا کیفین کے استعمال جیسے عوامل کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں یہ دل کی بے قاعدہ دھڑکن یا کسی دوسری بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے بار بار ہونے والی یا دوسری تشویش ناک علامات کے ساتھ ظاہر ہونے والی دھڑکن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
دل کی تیز دھڑکن ہر شخص میں ایک جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ کسی کو لگتا ہے کہ دل بہت تیزی سے دوڑ رہا ہے۔ کسی کو زور زور سے دھڑکنے کا احساس ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ افراد دھڑکن کے پھڑپھڑانے یا ایک دھڑکن چھوٹ جانے کی شکایت کرتے ہیں۔
بعض اوقات دل کی دھڑکن اچانک تیز ہوتی ہے۔ اور پھر اچانک معمول پر آ جاتی ہے۔ دوسری صورتوں میں رفتار آہستہ آہستہ بڑھتی اور کم ہوتی ہے۔ دھڑکن چند سیکنڈ، کئی منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے۔
اگر دھڑکن کبھی کبھار ہو اور صرف چند سیکنڈ تک رہے تو عموماً یہ خطرناک نہیں ہوتی۔ لیکن دل کے پہلے سے کسی مرض میں مبتلا افراد میں بار بار یا بڑھتی ہوئی دھڑکن کی طبی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔
Symptoms of Palpitation in Urdu
اس کیفیت میں درج ذیل احساسات پیدا ہو سکتے ہیں
- دل کا بہت تیزی سے دھڑکنا
- دل کا زور زور سے دھڑکنا
- سینے میں پھڑپھڑاہٹ محسوس ہونا
- دھڑکن کے چھوٹ جانے کا احساس
- دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ محسوس ہونا
- سینے، گلے یا گردن میں دھڑکن محسوس ہونا
کچھ افراد میں اس کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، کمزوری، چکر، بے ہوشی یا سینے میں درد بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی علامات خاص طور پر اہم ہیں۔ کیونکہ ان کی موجودگی میں صرف معمولی گھبراہٹ سمجھ کر مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Causes of Palpitation in Urdu
دل کی تیز دھڑکن کی وجہ ہمیشہ معلوم نہیں ہو پاتی۔ تاہم کئی عام عوامل اس کیفیت کو پیدا یا زیادہ نمایاں کر سکتے ہیں۔
1. Anxiety
ذہنی دباؤ، پریشانی، خوف اور گھبراہٹ کے دورے دل کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ اس دوران جسم میں ایسے ہارمونی اثرات پیدا ہوتے ہیں جو دل کو تیزی سے دھڑکنے پر مجبور کرتے ہیں۔
گھبراہٹ کی صورت میں انسان اپنی جسمانی کیفیت پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے۔ جس کی وجہ سے معمول کی دھڑکن بھی بہت نمایاں محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف گھبراہٹ کو وجہ قرار دینے سے پہلے دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے امکان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
2. Exercise
ورزش یا سخت جسمانی کام کے دوران دل کا تیز دھڑکنا جسم کا قدرتی ردعمل ہے۔ جسم کو زیادہ خون اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے دل زیادہ تیزی سے خون پمپ کرتا ہے۔
لیکن اگر دھڑکن معمولی سرگرمی کے دوران غیر معمولی طور پر تیز ہو، بار بار ہو یا ورزش کے ساتھ سینے میں درد، چکر یا بے ہوشی بھی ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
3. Caffeine
چائے، کافی، توانائی بخش مشروبات اور کیفین والی دوسری چیزیں بعض افراد میں دل کی دھڑکن کو نمایاں کر سکتی ہیں۔ اسی طرح سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیا اور بعض محرک مادے بھی دل کی رفتار اور تال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اگر کسی مخصوص چیز کے استعمال کے بعد بار بار دھڑکن محسوس ہو تو اس کا تعلق سمجھنے کے لیے علامات کا ریکارڈ رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔
4. Hormonal Changes
حمل، ماہواری اور سن یاس کے دوران ہارمونی تبدیلیاں دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی طرح تھائرائڈ ہارمون کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہونے سے بھی دل کی رفتار میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
خاص طور پر تھائرائڈ کی زیادتی میں دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ گرمی زیادہ لگنا، پسینہ آنا، ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور وزن کم ہونا جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
5. Fever and Anemia
بخار کے دوران جسم کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔ اور دل زیادہ تیزی سے خون گردش کر سکتا ہے۔ خون کی کمی میں بھی جسم کے مختلف حصوں تک مناسب آکسیجن پہنچانے کے لیے دل کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔
اسی لیے بار بار ہونے والی دھڑکن کی صورت میں بعض مریضوں میں خون کی جانچ اور تھائرائڈ کی جانچ طبی صورت حال کے مطابق تجویز کی جا سکتی ہے۔
Irregular Heartbeat and Palpitation
دل کی تیز دھڑکن ہمیشہ دل کی بیماری کی علامت نہیں ہوتی۔ لیکن بعض اوقات اس کے پیچھے دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی موجود ہوتی ہے۔ دل کی بے قاعدہ دھڑکن میں رفتار بہت تیز، بہت سست یا معمول کی تال سے مختلف ہو سکتی ہے۔
مثلاً کچھ افراد میں اضافی دھڑکن کی وجہ سے اچانک ایک دھڑکن چھوٹنے کا احساس ہوتا ہے۔ کچھ صورتوں میں دھڑکن اچانک شروع اور ختم ہوتی ہے۔ جبکہ بعض بے قاعدہ دھڑکنوں میں رفتار اور تال دونوں غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
صرف مریض کے بیان سے دھڑکن کی اصل وجہ کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔ علامات کے دوران دل کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کرنا تشخیص کے لیے زیادہ قابل اعتماد طریقہ ہے۔
Duration of Palpitation
دل کی دھڑکن کتنی دیر رہتی ہے۔ کتنی بار ہوتی ہے۔ اور اچانک شروع ہوتی ہے یا آہستہ آہستہ، یہ تمام معلومات ڈاکٹر کے لیے اہم ہوتی ہیں۔
چند سیکنڈ تک رہنے والی دھڑکن بعض اوقات اضافی یا قبل از وقت دھڑکنوں سے متعلق ہو سکتی ہے۔ جبکہ کئی منٹ تک رہنے والی دھڑکن بعض تیز دھڑکن کی کیفیات سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ اچانک شروع اور ختم ہونے والی دھڑکن کچھ مخصوص بے قاعدگیوں کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ جبکہ ذہنی دباؤ یا معمول کی تیز دھڑکن میں رفتار عموماً بتدریج بڑھتی اور کم ہوتی ہے۔
اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دھڑکن باقاعدہ ہے یا بے قاعدہ۔ تیز اور باقاعدہ دھڑکن کی وجوہات تیز اور بے قاعدہ دھڑکن سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
People with Higher Risks
اگر کسی شخص کو پہلے سے دل کا مرض ہو تو دل کی دھڑکن کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ دل کے پٹھوں کی بیماری، دل کے والو کا مرض، دل کی شریانوں کا مرض یا دل کی ساخت میں تبدیلیاں دھڑکن کی اہم وجوہات بن سکتی ہیں۔
خاندانی تاریخ بھی اہم ہے۔ اگر خاندان میں اچانک موت، دل کی بے قاعدہ دھڑکن یا دل کے پٹھوں کی بیماری رہی ہو تو ڈاکٹر کو اس بارے میں ضرور بتایا جانا چاہیے۔ بعض موروثی دل کی بیماریاں کئی نسلوں تک منتقل ہو سکتی ہیں۔
Symptoms with Immediate Attention
دل کی دھڑکن کے ساتھ اگر سینے میں درد یا دباؤ، شدید سانس کی کمی، شدید چکر یا بے ہوشی ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ ایسی علامات دل یا دوران خون کے کسی سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔
اگر دھڑکن بار بار ہو، دیر تک جاری رہے۔ وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہو یا روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو تو بھی ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔ خاص طور پر دل کے مریضوں کو بار بار ہونے والی دھڑکن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Diagnosis of Palpitation
تشخیص کے لیے سب سے پہلے مریض کی مکمل کیفیت معلوم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر دھڑکن کے شروع ہونے کا وقت، دورانیہ، رفتار، باقاعدگی، محرکات اور ساتھ ظاہر ہونے والی علامات کے بارے میں پوچھ سکتا ہے۔
مریض سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ دھڑکن آرام کے دوران ہوتی ہے یا ورزش کے وقت، کھڑے ہونے سے بڑھتی ہے یا لیٹنے سے، اور کیا اس کے ساتھ چکر، سانس کی کمی یا بے ہوشی بھی ہوتی ہے۔
اس کے بعد جسمانی معائنہ اور دل کی برقی سرگرمی کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ دل کی برقی جانچ چند منٹ میں دل کی رفتار اور تال کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم چونکہ بہت سے مریض معائنے کے وقت دھڑکن محسوس نہیں کر رہے ہوتے۔ اس لیے اس وقت کی جانچ معمول کے مطابق بھی آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں زیادہ دیر تک دل کی نگرانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Treatment of Palpitation in Urdu
دل کی تیز دھڑکن کا علاج اس کی اصل وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر وجہ ذہنی دباؤ، کیفین، تمباکو نوشی یا کسی خاص محرک چیز کا استعمال ہو تو اس عامل سے بچنے سے علامات کم ہو سکتی ہیں۔
اگر دھڑکن کسی بنیادی دل کی بیماری یا دل کی بے قاعدہ تال کی وجہ سے ہو تو ڈاکٹر اسی بیماری کے مطابق علاج تجویز کرتا ہے۔ بعض مریضوں میں دل کی رفتار اور تال کو قابو میں رکھنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
اس لیے خود سے دل کی دوا شروع کرنا یا پہلے سے استعمال ہونے والی دوا اچانک بند کرنا مناسب نہیں۔ بعض ادویات کی اچانک بندش بھی دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے دوا میں تبدیلی طبی مشورے سے ہونی چاہیے۔
Care at Home
اگر طبی معائنے کے بعد کوئی خطرناک وجہ سامنے نہ آئے تو محرک عوامل سے بچنا علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کیفین والی اشیا کم کرنا، تمباکو اور نشہ آور اشیا سے پرہیز کرنا اور ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھنا مفید اقدامات ہیں۔
اپنی علامات کا روزنامچہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ لکھیں کہ دھڑکن کب ہوئی، کتنی دیر رہی، اس وقت کیا کھایا یا پیا تھا، کوئی جسمانی سرگرمی کی تھی یا نہیں اور ذہنی کیفیت کیسی تھی۔ اس سے ممکنہ محرکات کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
Medical Care for Palpitation
اگر دھڑکن روزانہ یا تقریباً روزانہ ہوتی ہو تو محدود مدت کی مسلسل نگرانی مفید ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر دھڑکن ہفتے یا مہینے میں کبھی کبھار ہوتی ہے۔ تو زیادہ طویل عرصے تک نگرانی کرنے والا آلہ زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کی نگرانی کے مقابلے میں ایک سے چار ہفتے تک جاری رہنے والی بیرونی نگرانی بعض مریضوں میں زیادہ معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ بہت کم اور وقفے وقفے سے ہونے والی علامات میں جسم کے اندر نصب کی جانے والی طویل مدتی نگرانی بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ زیادہ دیر تک نگرانی کرنے سے علامات کے دوران دل کی تال ریکارڈ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اگر دل کی ساختی بیماری کا شبہ ہو تو دل کا صوتی معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر دھڑکن ورزش کے دوران ہوتی ہو یا ساتھ سینے میں درد ہو تو بعض مریضوں میں ورزش سے متعلق مزید جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Conclusion on Palpitation in Urdu
دل کی تیز دھڑکن ایک عام شکایت ہے۔ جو کبھی معمولی اور عارضی عوامل، جیسے ذہنی دباؤ، ورزش، کیفین، ہارمونی تبدیلیوں یا بعض ادویات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ صرف اپنی معمول کی دھڑکن کے زیادہ محسوس ہونے کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم بار بار ہونے والی، طویل عرصے تک رہنے والی یا اچانک شروع ہونے والی دھڑکن، خاص طور پر دل کے مرض کی سابقہ تاریخ رکھنے والے افراد میں، طبی توجہ کی مستحق ہے۔ سینے میں درد، شدید سانس کی کمی، شدید چکر یا بے ہوشی کے ساتھ دھڑکن کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
صحیح تشخیص کے لیے مریض کی مکمل تاریخ، جسمانی معائنہ اور دل کی برقی جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر علامات وقفے وقفے سے آتی ہوں تو طویل مدت تک دل کی نگرانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یوں دل کی تیز دھڑکن کا مناسب جائزہ اس بات میں مدد دیتا ہے کہ بے ضرر کیفیت اور ایسی بیماری میں فرق کیا جا سکے۔ جس کے لیے باقاعدہ علاج ضروری ہو۔
FAQs
What are heart palpitations?
دل کی تیز دھڑکن سے مراد دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر تیز، زور دار، پھڑپھڑاتی یا بے قاعدہ محسوس ہونا ہے۔ بعض افراد کو یوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے دل دوڑ رہا ہو۔ دھڑکن چھوٹ رہی ہو۔ یا سینے میں دل اچانک زور سے دھڑکنے لگا ہو۔ یہ احساس صرف سینے تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ گلے یا گردن میں بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
دل کی دھڑکن چند سیکنڈ، کئی منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے۔ اکثر صورتوں میں یہ کیفیت بے ضرر ہوتی ہے اور ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، ورزش، کیفین یا بعض ادویات سے متعلق ہو سکتی ہے۔ تاہم کبھی کبھار دل کی بے قاعدہ دھڑکن بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس لیے بار بار ہونے والی علامات کا طبی جائزہ ضروری ہے۔
What causes heart palpitations?
دل کی تیز دھڑکن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اور ہر شخص میں وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، خوف، جسمانی مشقت، بخار اور تھکن عام عوامل میں شامل ہیں۔ چائے، کافی اور دیگر کیفین والی اشیا بھی بعض افراد میں دھڑکن نمایاں کر سکتی ہیں۔ تمباکو نوشی، شراب اور بعض نشہ آور اشیا بھی دل کی رفتار یا تال کو متاثر کر سکتی ہیں۔
حمل، ماہواری اور سن یاس کے دوران ہارمونی تبدیلیاں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تھائرائڈ ہارمون کی زیادتی، خون کی کمی اور بعض ادویات بھی دل کی دھڑکن کا سبب بن سکتی ہیں۔ کبھی کبھار دل کی بے قاعدہ تال، دل کے والو کی بیماری یا دل کی ساخت میں تبدیلی بھی اس کیفیت کے پیچھے موجود ہو سکتی ہے۔
Are heart palpitations dangerous?
دل کی تیز دھڑکن اکثر خطرناک نہیں ہوتی۔ اور بہت سے افراد میں کسی سنگین بیماری کے بغیر بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ دھڑکن کی اصل وجہ کیا ہے۔ اور مریض کی مجموعی صحت کیسی ہے۔ اگر کسی شخص کو پہلے سے دل کی بیماری ہو، دھڑکن بار بار ہوتی ہو یا اس کی شدت بڑھ رہی ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
بعض بے قاعدہ دھڑکنیں سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ جن میں بے ہوشی، دل کی پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بعض حالات میں فالج کا خطرہ شامل ہو سکتا ہے۔ اگر دھڑکن کے ساتھ سینے میں درد، شدید سانس کی کمی، شدید چکر یا بے ہوشی ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
When should I see a doctor for heart palpitations?
اگر دل کی دھڑکن بار بار ہونے لگے۔ زیادہ دیر تک جاری رہے۔ پہلے کے مقابلے میں بڑھ جائے۔ یا روزمرہ زندگی کو متاثر کرے تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔ دل کی بیماری کی سابقہ تاریخ رکھنے والے افراد میں بھی بار بار ہونے والی دھڑکن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر دھڑکن کے دورانیے، شروع ہونے کے طریقے، رفتار، باقاعدگی اور ممکنہ محرکات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
اگر دھڑکن کے ساتھ سینے میں درد یا دباؤ، شدید سانس کی کمی، شدید چکر، بے ہوشی یا ہوش کھونے کی کیفیت پیدا ہو تو فوری طبی مدد ضروری ہے۔ ایسی علامات بعض سنگین دل کی بیماریوں یا خطرناک بے قاعدہ دھڑکنوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں، اس لیے تاخیر مناسب نہیں۔
How are heart palpitations diagnosed?
دل کی تیز دھڑکن کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی مکمل طبی تاریخ معلوم کرتا ہے۔ اس میں یہ جاننا شامل ہوتا ہے کہ دھڑکن کب شروع ہوتی ہے۔ کتنی دیر رہتی ہے۔ کتنی بار ہوتی ہے۔ باقاعدہ ہے یا بے قاعدہ۔ اور کیا ورزش، ذہنی دباؤ، کھانے پینے کی اشیا یا کسی دوا سے اس کا تعلق ہے۔
اس کے بعد جسمانی معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دل کی برقی سرگرمی کی جانچ کی جاتی ہے۔ ۔ معائنے کے وقت دھڑکن موجود نہ ہو تو معمول کی جانچ بھی نارمل آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں زیادہ دیر تک دل کی نگرانی کرنے والا آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں خون کی کمی، نمکیات یا تھائرائڈ کی جانچ بھی طبی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے۔
Can anxiety cause heart palpitations?
جی ہاں، ذہنی دباؤ، پریشانی اور گھبراہٹ دل کی دھڑکن کو تیز یا زیادہ نمایاں محسوس کرا سکتے ہیں۔ گھبراہٹ کے دوران جسم میں ایسے ہارمونی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ جو دل کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پریشان شخص اپنی جسمانی علامات پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے۔ جس سے معمول کی دھڑکن بھی غیر معمولی طور پر نمایاں محسوس ہو سکتی ہے۔
گھبراہٹ سے متعلق دھڑکن عموماً بتدریج شروع اور ختم ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ تیز سانس لینا، بے چینی، چہرے یا جسم میں جھنجھناہٹ اور سینے میں غیر معمولی احساس جیسی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم ہر دھڑکن کو صرف گھبراہٹ کی وجہ قرار دینا درست نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات دل کی بے قاعدہ تال بھی ایسی علامات پیدا کر سکتی ہے۔
Can caffeine cause heart palpitations?
کیفین بعض افراد میں دل کی تیز یا زور دار دھڑکن کا سبب بن سکتی ہے۔ چائے، کافی اور توانائی بخش مشروبات اس کے عام ذرائع ہیں۔ ہر شخص میں کیفین کا اثر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ افراد کو تھوڑی مقدار کے بعد بھی دھڑکن محسوس ہو سکتی ہے۔ جبکہ دوسرے افراد میں ایسا نہیں ہوتا۔
اگر آپ نے محسوس کیا ہے کہ چائے یا کافی پینے کے بعد دل کی دھڑکن بار بار تیز ہوتی ہے۔ تو اس تعلق کو سمجھنے کے لیے علامات کا روزنامچہ رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔ اس میں مشروب کی مقدار، استعمال کا وقت اور دھڑکن کے آغاز کا وقت درج کیا جا سکتا ہے۔ علامات واضح طور پر وابستہ ہوں تو کیفین کم کرنے کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
What tests are used for heart palpitations?
دل کی تیز دھڑکن کی جانچ میں سب سے اہم ابتدائی معائنوں میں دل کی برقی سرگرمی کی بارہ حصوں والی جانچ شامل ہے۔ اگر دھڑکن اس وقت موجود نہ ہو تو اس جانچ کا نتیجہ معمول کے مطابق آ سکتا ہے۔ اس لیے بعض مریضوں کو زیادہ دیر تک دل کی نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے۔
روزانہ یا تقریباً روزانہ علامات کی صورت میں چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔ کم وقفے سے ہونے والی علامات کے لیے زیادہ طویل نگرانی والا آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طبی صورت حال کے مطابق خون کی کمی، نمکیات اور تھائرائڈ کی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر دل کی ساختی بیماری کا شبہ ہو تو دل کا صوتی معائنہ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔
How can I reduce heart palpitations?
اگر طبی معائنے سے کسی سنگین بیماری کی نشاندہی نہ ہو تو ان عوامل سے بچنا مددگار ہو سکتا ہے۔ جو دھڑکن کو متحرک کرتے ہیں۔ کیفین والی اشیا کم کرنا، تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا اور نشہ آور اشیا استعمال نہ کرنا مفید اقدامات ہیں۔ شراب کا استعمال بھی بعض افراد میں دھڑکن کو بڑھا سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کو قابو میں رکھنا بھی علامات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ معلوم کرنے کے لیے کہ دھڑکن کس وجہ سے بڑھتی ہے۔ علامات کا روزنامچہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں دھڑکن کا وقت، دورانیہ، اس وقت کی سرگرمی اور استعمال کی گئی اشیا درج کریں۔ اگر دھڑکن بار بار ہو یا دوسری تشویش ناک علامات کے ساتھ آئے تو گھریلو تدابیر پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
Can heart palpitations cause fainting or stroke?
دل کی تیز دھڑکن خود ہر صورت میں بے ہوشی یا فالج کا سبب نہیں بنتی۔ لیکن بعض سنگین بے قاعدہ دھڑکنوں کے ساتھ یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر دل بہت تیزی سے دھڑکے تو بعض حالات میں بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔ اور انسان بے ہوش ہو سکتا ہے۔
کچھ بے قاعدہ دھڑکنوں، خصوصاً ایسی حالت میں جس میں دل کے اوپری خانے مناسب طریقے سے سکڑنے کے بجائے کانپنے لگیں۔ خون جمع ہو کر لوتھڑا بن سکتا ہے۔ اگر یہ لوتھڑا دماغ کی شریان کو روک دے تو فالج ہو سکتا ہے۔ اس لیے دھڑکن کے ساتھ بے ہوشی، شدید چکر یا سینے کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد لینا ضروری ہے۔ اصل خطرہ بنیادی بیماری اور دل کی تال پر منحصر ہوتا ہے۔