پروسٹیٹ کینسر دنیا بھر میں مردوں میں پایا جانے والا ایک انتہائی عام اور سنگین مرض ہے۔ ہر آٹھ مردوں میں سے ایک کسی نہ کسی مرحلے پر اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بیماری خطرناک ہے۔ لیکن بروقت تشخیص اور صحیح علاج سے اکثر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
پروسٹیٹ ایک چھوٹا سا غدود ہے جو مردوں کے مثانے کے بالکل نیچے اور پیشاب کی نالی کے گرد موجود ہوتا ہے۔ یہ غدود اس مادے کو بناتا ہے جو منی کا مائع حصہ بنتا ہے۔ اور بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب اس غدود کے خلیے بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں تو یہ کینسر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
زیادہ تر مریضوں میں پروسٹیٹ کینسر ایک خاص قسم کا ہوتا ہے۔ جسے غدودی خلیات سے بننے والا کینسر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ خلیات ہوتے ہیں جو مائع پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کم عام اقسام بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ بہت کم دیکھی جاتی ہیں۔ عام طور پر مریضوں کو اسی عام قسم کا سامنا ہوتا ہے جو نسبتاً آہستہ بڑھتی ہے۔
Symptoms of Prostate Cancer
پروسٹیٹ کینسر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد کو اس بیماری کا علم دیر سے ہوتا ہے۔ تاہم جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، مختلف علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
ابتدائی یا درمیانی مرحلے میں علامات میں بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کے وقت، پیشاب کا کمزور بہاؤ، پیشاب کرتے وقت جلن یا درد، اور پیشاب یا منی میں خون شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد کو پیشاب روکنے میں دشواری بھی پیش آ سکتی ہے۔
اگر بیماری زیادہ بڑھ جائے تو علامات بھی شدید ہو جاتی ہیں۔ اس مرحلے پر مریض کو کمر، کولہوں یا ہڈیوں میں درد، غیر معمولی کمزوری، وزن میں کمی، اور جنسی کمزوری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Causes of Prostate Cancer in Urdu
ابھی تک پروسٹیٹ کینسر کی مکمل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پروسٹیٹ کے خلیات میں جینیاتی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں خلیات کو غیر معمولی طور پر تیزی سے بڑھنے کا سبب بنتی ہیں۔
عام خلیات ایک مخصوص وقت کے بعد ختم ہو جاتے ہیں، لیکن کینسر کے خلیات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں اور ایک رسولی بنا لیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ خلیات جسم کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل سکتے ہیں، جسے بیماری کا پھیلاؤ کہا جاتا ہے۔
People with Higher Risks
کچھ عوامل پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
- عمر: پچاس سال سے زائد عمر کے مرد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ تقریباً ساٹھ فیصد کیسز پینسٹھ سال سے زیادہ عمر میں سامنے آتے ہیں۔
- نسل: سیاہ فام مردوں میں یہ کینسر زیادہ عام ہے اور کم عمری میں بھی ہو سکتا ہے۔
- خاندانی پس منظر: اگر خاندان میں کسی قریبی رشتہ دار کو یہ بیماری رہی ہو تو خطرہ دو سے تین گنا بڑھ جاتا ہے۔
- موروثی تبدیلیاں: بی آر سی اے ون اور بی آر سی اے ٹو جیسی موروثی تبدیلیاں اس کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
- موٹاپا: زائد وزن نہ صرف اس بیماری کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ علاج کے بعد بیماری کے واپس آنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔
- سگریٹ نوشی: تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کینسر کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کو جاننا آپ کے لیے ضروری ہے۔
- نقصاندہ کیمیائی مادے: ایجنٹ اورنج اور سیسے جیسے زہریلے مادوں کے سامنے آنے سے بھی خطرہ بڑھتا ہے۔
Diagnosis and Stages of Prostate Cancer
معالج مختلف طریقوں سے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کرتے ہیں۔
- جسمانی معائنہ: معالج دستانہ پہن کر ملاشی کے ذریعے پروسٹیٹ کو محسوس کرتا ہے۔ کوئی سختی یا غیر معمولی ابھار کینسر کی علامت ہو سکتی ہے۔
- خون کا ٹیسٹ: پروسٹیٹ غدود ایک خاص قسم کی لحمیہ بناتا ہے۔ خون میں اس کی مقدار زیادہ ہو تو کینسر کا شبہ ہوتا ہے، تاہم یہ دیگر وجوہات سے بھی بڑھ سکتی ہے۔
- تصویری ٹیسٹ: ایم آر آئی یا بالاصوت تصویر کشی سے غدود کی تفصیلی تصویر ملتی ہے۔
- بایوپسی: یہ سب سے یقینی طریقہ ہے۔ ایک باریک سوئی سے غدود کا ٹکڑا نکال کر جانچا جاتا ہے۔ اسی سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کینسر کتنا خطرناک ہے۔
Stages
پروسٹیٹ کینسر کے مختلف مراحل ہوتے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیماری کتنی پھیل چکی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کینسر صرف پروسٹیٹ تک محدود ہوتا ہے۔ درمیانی مرحلے میں یہ قریبی حصوں تک پھیل سکتا ہے، جبکہ آخری مرحلے میں یہ جسم کے دوسرے اعضا جیسے ہڈیوں یا پھیپھڑوں تک پہنچ سکتا ہے۔
مراحل کی بنیاد پر ہی ڈاکٹر علاج کا منصوبہ بناتے ہیں، اس لیے درست تشخیص بہت ضروری ہوتی ہے۔
Treatment and Prevention of Prostate Cancer
پروسٹیٹ کینسر کا علاج کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ علاج کا انتخاب مریض کی عمر، صحت، کینسر کے مرحلے اور اس کے پھیلاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔
- نگرانی: اگر کینسر آہستہ بڑھ رہا ہو اور کوئی علامت نہ ہو تو فوری علاج کی بجائے باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔ ہر ایک سے تین سال میں ٹیسٹ اور بایوپسی کی جاتی ہے۔
- آپریشن: پروسٹیٹ غدود کو نکالنے کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ آج کل روبوٹ کی مدد سے بہت چھوٹے کٹاؤ سے یہ آپریشن ممکن ہے جس سے صحت یابی جلدی ہوتی ہے۔
- شعاعی علاج: دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک میں غدود کے اندر تابکار بیج رکھے جاتے ہیں اور دوسرے میں باہر سے مشین کے ذریعے شعاعیں دی جاتی ہیں۔
- ہارمون علاج: مردانہ ہارمون کینسر کو بڑھاتا ہے۔ دوائیں دے کر یا آپریشن سے اس ہارمون کی مقدار کم کی جاتی ہے۔
- کیموتھراپی: تیز رفتار یا پھیلے ہوئے کینسر میں دوائیں دی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کو ختم کرتی ہیں۔
- قوت مدافعت کا علاج: یہ طریقہ جسم کے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ خود کینسر کے خلیوں سے لڑ سکے۔
- موروثی ہدف علاج: بی آر سی اے جیسی موروثی تبدیلیوں والے مریضوں کے لیے خاص دوائیں موجود ہیں جو صرف کینسر کے خلیوں کو تباہ کرتی ہیں۔
Prevention
اگرچہ اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ صحت مند غذا کا استعمال بہت اہم ہے۔ پھل، سبزیاں اور اناج کا استعمال جسم کو مضبوط بناتا ہے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
باقاعدہ ورزش بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ وزن کو متوازن رکھتی ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ کینسر سمیت کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
وزن کو قابو میں رکھنا اور متوازن طرزِ زندگی اپنانا بھی اس بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو زیادہ خطرہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائے۔
Our Note on Prostate Cancer in Urdu
پروسٹیٹ کینسر ایک عام لیکن قابلِ علاج بیماری ہے۔ خاص طور پر اگر اسے ابتدائی مرحلے میں تشخیص کر لیا جائے۔ جدید طبی سہولیات اور بروقت علاج کی بدولت زیادہ تر مریض صحت یاب ہو سکتے ہیں اور معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
آگاہی، احتیاط اور بروقت تشخیص اس بیماری سے نمٹنے کے بنیادی اصول ہیں۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو انہیں نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے آپ نہ صرف اس بیماری بلکہ دیگر کئی بیماریوں سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
FAQs
What is the meaning of prostate cancer in Urdu?
پروسٹیٹ کینسر ایک ایسی بیماری ہے۔ جس میں مردوں کے جسم میں موجود پروسٹیٹ غدود کے خلیات غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور رسولی بنا لیتے ہیں۔ پروسٹیٹ ایک چھوٹا سا غدود ہے جو مثانے کے نیچے ہوتا ہے اور منی کے لیے مائع تیار کرتا ہے۔
جب اس غدود کے خلیات بے قابو ہو جائیں تو کینسر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماری عموماً آہستہ بڑھتی ہے اور اکثر ابتدائی مرحلے میں پکڑی جا سکتی ہے، جس سے علاج کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ جسم کے دیگر حصوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔
What are the symptoms of prostate cancer?
پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی حالت میں اکثر کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن وقت کے ساتھ کچھ نشانیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ ان میں بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کے وقت، پیشاب کا کمزور بہاؤ، پیشاب کرتے وقت جلن یا درد شامل ہیں۔ بعض اوقات پیشاب یا منی میں خون بھی نظر آ سکتا ہے۔
اگر بیماری بڑھ جائے تو کمر، کولہے یا ہڈیوں میں درد، غیر معمولی تھکن، وزن میں کمی اور جنسی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایسی علامات محسوس ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
What are the treatment options for prostate cancer?
پروسٹیٹ کینسر کا علاج اس کے مرحلے اور مریض کی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں ہو تو ڈاکٹر صرف نگرانی کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ سرجری کے ذریعے پروسٹیٹ غدود کو نکالنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ شعاعی علاج بھی کیا جاتا ہے جس میں کینسر کے خلیات کو ختم کیا جاتا ہے۔
ہارمون علاج کے ذریعے ایسے ہارمونز کو کم کیا جاتا ہے جو کینسر کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔ اگر کینسر پھیل جائے تو ادویاتی علاج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر مریض کے لیے علاج کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
How to prevent prostate cancer?
پروسٹیٹ کینسر سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن کچھ احتیاطی تدابیر سے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ صحت مند غذا کا استعمال بہت اہم ہے، جیسے تازہ پھل، سبزیاں اور اناج۔ چکنائی والی غذا کم کھانی چاہیے۔ باقاعدہ ورزش کرنا بھی فائدہ مند ہے کیونکہ یہ جسم کو مضبوط بناتا ہے اور وزن کو متوازن رکھتا ہے
تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ وزن کو قابو میں رکھنا اور متوازن طرزِ زندگی اپنانا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو زیادہ خطرہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے طبی معائنہ کرواتا رہے تاکہ بیماری کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔