صدمے کے بعد ذہنی دباؤ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے۔ جو کسی انتہائی خوفناک، تکلیف دہ یا جان کو خطرے میں ڈالنے والے واقعے کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔ جنگ، حادثات، قدرتی آفات، جنسی تشدد، جسمانی حملے، شدید چوٹ یا کسی قریبی شخص کے ساتھ پیش آنے والا سنگین واقعہ انسان کے ذہن پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
ایسے واقعے کے بعد خوف، بے چینی، اداسی یا ذہنی پریشانی محسوس کرنا عام بات ہے۔ زیادہ تر لوگ وقت گزرنے کے ساتھ قدرتی طور پر بہتر ہو جاتے ہیں۔ لیکن بعض افراد میں علامات برقرار رہتی ہیں۔ اور روزمرہ زندگی، کام، تعلیم، خاندانی تعلقات اور سماجی سرگرمیوں کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 80 فیصد افراد زندگی میں کسی نہ کسی ممکنہ صدمہ انگیز واقعے کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف ایک اقلیت میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اندازاً دنیا کی 4 فیصد آبادی نے زندگی کے کسی مرحلے پر صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔
اس کیفیت کے اثرات صرف جذبات تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ سوچ، مزاج، جسمانی احساسات اور رویے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ علامات طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔ اور ساتھ ہی افسردگی، بے چینی یا نشہ آور اشیا کے استعمال جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ شدید صورتوں میں خودکشی کے خیالات اور رویے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی تکلیف دہ واقعے کے بعد پریشان ہونا لازماً صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی علامت نہیں۔ تشخیص کے لیے علامات کی نوعیت، شدت، مدت اور روزمرہ زندگی پر ان کے اثرات کو دیکھا جاتا ہے۔
Symptoms of PTSD in Urdu
اس کیفیت کی علامات ہر فرد میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ تاہم انہیں چند اہم حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔
1. Intrusion Symptoms
متاثرہ شخص کو تکلیف دہ واقعے کی غیر ارادی اور بار بار آنے والی یادیں پریشان کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے وہ واقعہ دوبارہ اسی وقت پیش آ رہا ہو۔
ڈراؤنے خواب، اچانک آنے والی یادیں اور شدید ذہنی پریشانی بھی ہو سکتی ہے۔ بعض شدید صورتوں میں انسان کو جھلکیاں محسوس ہوتی ہیں۔ جن میں وہ وقتی طور پر خود کو دوبارہ اسی واقعے میں موجود سمجھ سکتا ہے۔
کسی ایسی چیز کو دیکھنے، سننے یا محسوس کرنے سے بھی جسمانی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔ جو اسے ماضی کے واقعے کی یاد دلائے۔ دل کی دھڑکن تیز ہونا یا بلڈ پریشر بڑھ جانا بھی ممکن ہے۔
2. Avoidance Symptoms
متاثرہ شخص ان لوگوں، جگہوں، سرگرمیوں، بات چیت یا حالات سے بچنے لگتا ہے جو اسے تکلیف دہ واقعے کی یاد دلاتے ہوں۔
وہ اپنے خاندان یا معالج سے بھی اس واقعے کے بارے میں بات کرنے سے گریز کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ طریقہ وقتی طور پر ذہنی تکلیف کم کرتا ہے۔ لیکن مسلسل گریز بعض حالات میں دوبارہ آنے والی یادوں اور خوف کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
3. Hyperarousal Symptoms
اس کیفیت میں انسان کو ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ محفوظ نہیں۔ چاہے حقیقت میں کوئی خطرہ موجود نہ ہو۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو مسلسل جانچتا رہ سکتا ہے۔ اور معمولی آواز یا اچانک حرکت پر بھی غیر معمولی طور پر چونک سکتا ہے۔
چڑچڑاپن، غصہ، بے احتیاط رویہ، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور نیند کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
4. Negative Alterations in Mood and Cognition
صدمے کے بعد بعض افراد اپنے بارے میں یا دنیا کے بارے میں مستقل منفی خیالات پیدا کر لیتے ہیں۔ انہیں لگ سکتا ہے کہ وہ برے ہیں یا دنیا مکمل طور پر خطرناک جگہ ہے۔
کچھ لوگ واقعے کا ذمہ دار خود کو سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ بعض میں خوف، جرم، غصے یا شرمندگی کے جذبات مستقل رہ سکتے ہیں۔ پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔ اور دوسروں سے دوری یا اجنبیت کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
کبھی انسان خوشی، اطمینان یا محبت جیسے مثبت جذبات محسوس کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتا ہے۔
5. PTSD in Children
بچوں میں اس کیفیت کی علامات بالغ افراد سے مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ چھوٹے بچے اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے کھیل یا تصویروں کے ذریعے صدمہ انگیز واقعے کو دوبارہ ظاہر کر سکتے ہیں۔
بعض بچے جو کچھ ہوا اس کا غلطی سے خود کو ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔ ان میں خوف، چڑچڑاپن، نیند کی خرابی، توجہ میں کمی یا رویے میں نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
بچوں کی عمر، ماحول اور ثقافتی پس منظر کو سمجھنا تشخیص کے دوران بہت اہم ہے۔
PTSD After a Trauma
اس کیفیت کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ سماجی، نفسیاتی اور حیاتیاتی عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس کے خطرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
جس شخص کو پہلے بھی صدمہ پہنچ چکا ہو، اس میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خواتین میں یہ کیفیت مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ کم عمر، کم تعلیمی سطح، کم معاشی وسائل، بچپن کی مشکلات اور ذہنی بیماریوں کی خاندانی تاریخ بھی خطرے کو متاثر کر سکتی ہے۔
صدمے کے بعد سماجی مدد بھی بہت اہم ہے۔ خاندان، دوستوں یا دوسرے قابل اعتماد لوگوں کی طرف سے تعاون حاصل ہونے سے اس کیفیت کے پیدا ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس تنہائی اور کمزور سماجی تعلقات خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
Effects on Body and Brain
صدمے کے فوراً بعد جسم کا قدرتی خطرے سے نمٹنے والا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ اس دوران ایڈرینالین میں اضافہ، دل کی دھڑکن تیز ہونا، بلڈ پریشر بڑھنا اور دیگر جسمانی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگر صدمہ بہت شدید، طویل یا بار بار ہو تو خوف کا سیکھا ہوا ردعمل برقرار رہ سکتا ہے۔ دماغ کا ایک حصہ، جسے خطرے اور خوف کی شناخت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔
مسلسل ذہنی تناؤ کے ساتھ جسمانی تناؤ، نیند کی خرابی، پٹھوں میں کھچاؤ اور دل کی دھڑکن میں اضافہ جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
Diagnosis of PTSD
تشخیص کے لیے ماہر صحت فرد کی علامات، سابقہ تاریخ، روزمرہ زندگی پر اثرات اور ذہنی کیفیت کا جامع جائزہ لیتا ہے۔ بعض حالات میں علامات جانچنے کے لیے باقاعدہ سوالنامے اور تشخیصی پیمانے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی تشخیص میں علامات کا کم از کم ایک ماہ تک برقرار رہنا اہم ہے۔ ان علامات کی وجہ سے نمایاں ذہنی پریشانی یا سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں رکاوٹ بھی موجود ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ علامات کسی دوا، نشہ آور مادے یا دوسری طبی بیماری کی وجہ سے تو نہیں۔
ہر مریض کو صدمے کی مکمل تفصیلات بیان کرنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔ تشخیص کے ابتدائی مرحلے میں علامات کے بارے میں عمومی اور حساس انداز میں سوال کرنا زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ فرد کی حدود، رضامندی اور ذہنی کیفیت کا احترام ضروری ہے۔
Treatment of PTSD in Urdu
اچھی خبر یہ ہے کہ صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا مؤثر علاج موجود ہے۔ نفسیاتی علاج کو مؤثر اور بنیادی علاج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور اسے فرد یا گروہ کی صورت میں بالمشافہ یا بعض حالات میں دور سے بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
صدمے پر مرکوز ادراکی اور رویاتی علاج، خوف سے متعلق علاج اور آنکھوں کی حرکات کے ذریعے صدمہ انگیز یادوں کی شدت کم کرنے والا علاج مؤثر طریقوں میں شامل ہیں۔
ادراکی اور رویاتی علاج میں انسان کو اپنے منفی اور غیر مفید خیالات کو سمجھنے، ان پر کام کرنے، بہتر انداز سے نمٹنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور مشکل حالات سے نمٹنے کی مہارتیں سکھائی جا سکتی ہیں۔
بعض افراد کے لیے دوائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ کچھ مخصوص ادویات صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ جبکہ نیند کی خرابی یا ڈراؤنے خوابوں کے لیے بعض دوسری ادویات بھی طبی نگرانی میں استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم دوا کا انتخاب، مقدار اور مدت ہمیشہ ماہر معالج کی ہدایت کے مطابق ہونی چاہیے۔
کچھ افراد میں علاج کے لیے نفسیاتی طریقوں اور ادویات دونوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ شدید علامات یا ساتھ موجود دوسری بیماریوں کی صورت میں پہلے دوا کے ذریعے حالت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے اور بعد میں نفسیاتی علاج شامل کیا جا سکتا ہے۔
Self-Care
علاج کے ساتھ روزمرہ زندگی کی چند صحت مند عادات علامات سے نمٹنے اور عمومی صحت بہتر رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
- جہاں تک ممکن ہو معمول کی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔
- قابل اعتماد افراد سے بات کریں، لیکن صرف اس وقت جب آپ خود کو اس کے لیے تیار محسوس کریں۔
- شراب اور غیر قانونی نشہ آور اشیا سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ علامات کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
- باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کریں، خواہ مختصر چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔
- صحت مند نیند کی عادات برقرار رکھیں۔
- ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے سانس کی مناسب مشقیں اور بتدریج پٹھوں کو ڈھیلا کرنے کی مشق سیکھی جا سکتی ہے۔
یہ اقدامات طبی علاج کا متبادل نہیں بلکہ علاج کے ساتھ معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Is Complete Treatment Possible?
ہر فرد میں صحت یابی کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ بعض افراد علاج کے بغیر بھی وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں میں علامات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
تحقیقی معلومات کے مطابق تقریباً 20 فیصد متاثرہ افراد ایک سال کے اندر صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ علاج حاصل کرنے والے افراد میں عموماً ان لوگوں کے مقابلے میں بہتر نتائج دیکھے جاتے ہیں جو علاج حاصل نہیں کرتے۔
کچھ افراد میں علامات بہتر ہونے کے باوجود دوسری ذہنی بیماریاں برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس لیے وقت کے ساتھ دوبارہ جائزہ ضروری ہو سکتا ہے۔
Prevention Tips
ہر صدمہ انگیز واقعے کو روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن صدمے کے بعد مناسب مدد اور بروقت مداخلت اس کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
خاندان اور دوستوں کی حمایت، محفوظ ماحول، مثبت انداز سے مسائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور صحت مند سماجی تعلقات اہم حفاظتی عوامل ہیں۔ جن افراد کو پہلے صدمہ پہنچ چکا ہو یا جو مسلسل زیادہ دباؤ والے پیشوں سے وابستہ ہوں، ان کی علامات پر خصوصی توجہ دینا مفید ہے۔
بروقت شناخت اور علاج علامات کو شدید ہونے سے روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ طبی اور سماجی اداروں میں صدمے سے متاثرہ افراد کے ساتھ حساس اور بااحترام رویہ بھی بہت اہم ہے۔
Conclusion on PTSD Meaning in Urdu
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کسی شخص کی کمزوری نہیں۔ بلکہ شدید صدمہ انگیز تجربے کے بعد پیدا ہونے والی ایک حقیقی ذہنی بیماری ہے۔ ہر شخص جو کسی تکلیف دہ واقعے سے گزرتا ہے اس کیفیت کا شکار نہیں ہوتا۔ اور سماجی حمایت اس کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بار بار تکلیف دہ یادیں، ڈراؤنے خواب، واقعے سے متعلق چیزوں سے گریز، مسلسل خوف، چڑچڑاپن، نیند کی خرابی، منفی خیالات یا روزمرہ زندگی میں نمایاں رکاوٹ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کیفیت کا مؤثر علاج موجود ہے۔ مناسب تشخیص، فرد کی رضامندی، صدمے پر مرکوز نفسیاتی علاج، ضرورت کے مطابق ادویات اور خاندان یا قابل اعتماد افراد کی حمایت کے ذریعے بہت سے متاثرہ افراد اپنی زندگی میں دوبارہ بہتری لا سکتے ہیں۔ ایسے مزید بلاگز پڑھنے کے لیے ایور ہیلدی سے جڑے رہیں۔
FAQs
What is PTSD and how does it develop after trauma?
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ ایک ذہنی بیماری ہے۔ جو کسی شدید یا خوفناک واقعے کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔ جنگ، حادثات، قدرتی آفات، جنسی تشدد، جسمانی چوٹ یا کسی قریبی شخص کے ساتھ سنگین واقعہ اس کا سبب بن سکتا ہے۔ ہر شخص جو صدمے سے گزرتا ہے۔ اس کیفیت کا شکار نہیں ہوتا۔ زیادہ تر افراد وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ میں علامات طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔
اس کیفیت میں انسان کو تکلیف دہ واقعے کی بار بار یادیں، ڈراؤنے خواب، شدید خوف، واقعے سے متعلق چیزوں سے گریز، نیند میں خرابی اور ہر وقت خطرے کا احساس ہو سکتا ہے۔علامات اگر ایک ماہ سے زیادہ برقرار رہیں۔ اور روزمرہ زندگی متاثر ہو تو ماہر ذہنی صحت سے تشخیص کروانا ضروری ہے۔
What are the main symptoms of PTSD?
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی اہم علامات مختلف افراد میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ عام علامات میں تکلیف دہ واقعے کی بار بار اور غیر ارادی یادیں، ڈراؤنے خواب اور کبھی کبھار ایسی جھلکیاں شامل ہیں۔ جن میں انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ واقعہ دوبارہ پیش آ رہا ہے۔
متاثرہ شخص ان لوگوں، جگہوں، سرگرمیوں یا باتوں سے بھی بچنے لگتا ہے۔ جو اسے صدمے کی یاد دلاتی ہیں۔ ہر وقت خطرے کا احساس، معمولی آواز پر چونک جانا، چڑچڑاپن، غصہ، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور نیند کی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔ بعض افراد میں خوف، جرم، شرمندگی یا منفی خیالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ دوسروں سے دوری محسوس کرنے لگتے ہیں۔
How long does PTSD last after a traumatic event?
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی مدت ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد میں علامات صدمہ انگیز واقعے کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہیں۔ جبکہ بعض میں وقت گزرنے کے بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ ابتدائی ذہنی پریشانی عام ہو سکتی ہے۔ لیکن صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی تشخیص کے لیے متعلقہ علامات کا ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رہنا اہم ہے۔
بعض افراد ایک سال کے اندر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ میں علامات کئی سال تک رہ سکتی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریباً 20 فیصد متاثرہ افراد ایک سال کے اندر صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ علاج حاصل کرنے والے افراد میں عموماً بہتر نتائج دیکھے جاتے ہیں، اس لیے مسلسل علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Can PTSD be treated successfully?
جی ہاں، صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا مؤثر علاج موجود ہے۔ اور بہت سے افراد مناسب علاج کے ذریعے اپنی علامات میں نمایاں بہتری محسوس کر سکتے ہیں۔ صدمے پر مرکوز نفسیاتی علاج کو اہم اور ترجیحی علاج سمجھا جاتا ہے۔ ادراکی اور رویاتی علاج، خوف سے متعلق مخصوص علاج اور آنکھوں کی حرکات کے ذریعے صدمہ انگیز یادوں کی شدت کم کرنے والا طریقہ مؤثر علاج میں شامل ہیں۔
بعض افراد میں ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔۔ خصوصاً جب علامات شدید ہوں یا ساتھ کوئی دوسری ذہنی بیماری موجود ہو۔ علاج کا انتخاب فرد کی علامات، ترجیحات، طبی حالت اور ماہر معالج کی رائے کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض مریضوں کو نفسیاتی علاج اور ادویات دونوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Can social support reduce the risk of PTSD?
جی ہاں، صدمے کے بعد خاندان، دوستوں اور قابل اعتماد لوگوں کی طرف سے ملنے والی سماجی حمایت صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ کسی تکلیف دہ واقعے کے بعد انسان خود کو تنہا، غیر محفوظ یا بے سہارا محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے محفوظ اور قابل اعتماد لوگوں کی موجودگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بات چیت، جذباتی تعاون اور ضرورت کے وقت عملی مدد متاثرہ شخص کو مشکل تجربے سے نمٹنے میں سہارا دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس تنہائی اور کمزور سماجی تعلقات خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم سماجی حمایت طبی علاج کا متبادل نہیں ہے۔ اگر علامات برقرار رہیں، شدید ہوں یا روزمرہ زندگی متاثر ہو تو ماہر ذہنی صحت سے مناسب تشخیص اور علاج حاصل کرنا ضروری ہے۔
Is PTSD more common in women than men?
فراہم کردہ معلومات کے مطابق خواتین میں صدمے کے بعد ذہنی دباؤ مردوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے، اگرچہ دونوں ہی اس کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس فرق کا تعلق صدمے کی نوعیت سمیت مختلف عوامل سے ہو سکتا ہے۔ جنسی تشدد اور بعض دیگر شدید صدمہ انگیز تجربات کے بعد اس کیفیت کا خطرہ خاص طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بچپن کی مشکلات، پہلے سے موجود صدمہ، کم تعلیمی سطح، کم معاشی وسائل، ذہنی بیماریوں کی خاندانی تاریخ اور صدمے کے بعد ابتدائی شدید ردعمل بھی خطرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم صرف جنس کی بنیاد پر کسی فرد کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شخص کے حالات، تجربات اور علامات کا الگ سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
What factors increase the risk of developing PTSD?
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا خطرہ کئی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے۔ پہلے کسی صدمے کا تجربہ، بار بار یا طویل عرصے تک صدمے کا سامنا، صدمے کے دوران شدید جسمانی چوٹ اور کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچتے دیکھنا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ بچپن کی مشکلات، کم تعلیمی سطح، کم معاشی وسائل، کمزور سماجی حمایت اور ذہنی بیماریوں کی خاندانی تاریخ بھی اہم عوامل ہیں۔
خواتین میں یہ کیفیت مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ صدمے کے فوراً بعد شدید ذہنی ردعمل بھی خطرے سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ان عوامل کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص لازماً صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہوگا، کیونکہ زیادہ تر متاثرہ افراد اس بیماری کو پیدا نہیں کرتے۔
What self-care measures can help with PTSD symptoms?
خود کی دیکھ بھال صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کے علاج میں معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو روزمرہ معمول برقرار رکھنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ کیونکہ معمول کی سرگرمیاں زندگی میں استحکام پیدا کرتی ہیں۔ قابل اعتماد افراد سے بات کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ لیکن متاثرہ شخص کو صرف اسی وقت اپنے تجربے کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ جب وہ خود کو تیار محسوس کرے۔
شراب اور غیر قانونی نشہ آور اشیا سے پرہیز ضروری ہے۔ کیونکہ یہ علامات کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، حتیٰ کہ مختصر چہل قدمی، مفید ہو سکتی ہے۔ صحت مند نیند کی عادات برقرار رکھنا اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے سانس کی مشقیں یا پٹھوں کو بتدریج ڈھیلا کرنے کی مشق بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
Can children develop PTSD after a traumatic event?
جی ہاں، بچوں میں بھی صدمے کے بعد ذہنی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کی علامات بالغ افراد سے مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ چھوٹے بچے اپنے احساسات کو واضح الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے کھیل، رویے یا تصویروں کے ذریعے صدمہ انگیز واقعے کو دوبارہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ بعض بچے جو کچھ ہوا اس کے لیے خود کو بلاوجہ ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔
خوف، نیند میں خرابی، چڑچڑاپن، توجہ میں دشواری اور رویے میں تبدیلی بھی سامنے آ سکتی ہے۔ بچوں میں علامات کو سمجھتے وقت ان کی عمر اور ثقافتی پس منظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر بچے کے رویے یا جذبات میں صدمے کے بعد نمایاں اور مسلسل تبدیلی آئے تو والدین یا سرپرست کو ماہر صحت سے مناسب جائزہ اور مدد حاصل کرنی چاہیے۔
What is the difference between PTSD and acute stress disorder?
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ اور شدید وقتی ذہنی ردعمل میں علامات کافی حد تک ایک جیسی ہو سکتی ہیں۔ لیکن دونوں میں علامات کی مدت اہم فرق پیدا کرتی ہے۔ شدید وقتی ذہنی ردعمل میں صدمہ انگیز واقعے کے بعد پیدا ہونے والی علامات ایک ماہ سے کم عرصے تک موجود رہتی ہیں۔ اس کے برعکس صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کی تشخیص کے لیے متعلقہ علامات کا ایک ماہ سے زیادہ برقرار رہنا ضروری ہے۔
دونوں کی علامات میں تکلیف دہ یادیں، خوف، گریز اور ذہنی بے چینی شامل ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے صرف علامات دیکھ کر خود تشخیص کرنا مناسب نہیں۔ ماہر صحت علامات کے آغاز، مدت، شدت اور روزمرہ زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لے کر مناسب تشخیص کرتا ہے اور پھر علاج کا طریقہ طے کرتا ہے۔