شکر قندی ایک ایسی جڑ والی سبزی ہے۔ جو نہ صرف ذائقے میں میٹھی اور لذیذ ہے بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی بہت خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ نارنجی، سفید اور جامنی رنگوں میں پائی جاتی ہے اور ہر رنگ کی اپنی الگ خصوصیات ہیں۔ اس مضمون میں ہم شکر قندی کے صحت پر ہونے والے فوائد کو تفصیل سے جانیں گے۔
پکی ہوئی شکر قندی کا ایک کپ یعنی تقریباً 200 گرام مقدار میں 180 کیلوریز، 41 گرام کاربوہائیڈریٹس، 4 گرام پروٹین اور 6.6 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔ اس میں چکنائی کی مقدار انتہائی کم یعنی صرف 0.3 گرام ہوتی ہے۔
شکر قندی وٹامن اے کی روزانہ ضرورت کا 213 فیصد، وٹامن سی کا 44 فیصد اور منگنیز کا 43 فیصد فراہم کرتی ہے۔ اس میں کاپر، پینٹوتھینک ایسڈ، وٹامن بی6، پوٹاشیم اور نیاسین بھی موجود ہوتے ہیں۔
نارنجی اور جامنی رنگ کی شکر قندی خصوصاً اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے مالا مال ہوتی ہے۔ جو جسم کو نقصان دہ فری ریڈیکلز سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
Sweet Potato Benefits in Urdu
شکر قندی کو سینکڑوں سالوں سے مندرجہ ذیل فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
1. Better Digestion
شکر قندی میں دو طرح کا فائبر پایا جاتا ہے۔ حل پذیر اور ناقابل حل۔ دونوں اقسام کا فائبر جسم میں ہضم نہیں ہوتا بلکہ آنتوں تک پہنچ کر ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
حل پذیر فائبر پانی جذب کر کے فضلے کو نرم بنا دیتا ہے. جبکہ ناقابل حل فائبر فضلے میں حجم شامل کرتا ہے۔ روزانہ 20 سے 33 گرام فائبر پر مشتمل غذا آنتوں کے کینسر کے خطرے میں کمی اور معدے کی باقاعدہ صفائی سے جڑی ہوئی پائی گئی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جامنی شکر قندی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ اجزا آنتوں میں پائے جانے والے مفید جراثیم، جیسے بائیفیڈوبیکٹیریم اور لیکٹوبیسیلس، کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔ ان مفید جراثیم کی زیادہ مقدار معدے کی صحت بہتر بنانے اور آنتوں کی سوزش جیسے مسائل سے بچاؤ سے منسلک ہے۔
2. Cancer Prevention
شکر قندی میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹ اجزا مختلف اقسام کے کینسر سے حفاظت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ جامنی شکر قندی میں موجود اینتھوسیانن نامی اینٹی آکسیڈنٹ نے تجربہ گاہ کے مطالعوں میں مثانے، آنتوں، معدے اور چھاتی کے کینسر خلیوں کی نشوونما کو سست کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔
جانوروں پر کیے گئے مطالعوں میں بھی یہ دیکھا گیا کہ جامنی شکر قندی سے بھرپور غذا کھانے والے چوہوں میں آنتوں کے ابتدائی مرحلے کے کینسر کی شرح کم رہی۔ شکر قندی کے چھلکے کے عرق میں بھی کینسر مخالف خصوصیات پائی گئی ہیں۔
تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ تمام نتائج ابھی تک تجربہ گاہ اور جانوروں کے مطالعوں تک محدود ہیں۔ اور انسانوں پر مکمل تحقیق ہونا باقی ہے۔
3. Eye Health
شکر قندی، خصوصاً نارنجی رنگ کی، بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے۔ جو اسی کے چمکدار نارنجی رنگ کی وجہ بھی بنتا ہے۔ ایک کپ پکی ہوئی نارنجی شکر قندی ایک بالغ انسان کی روزانہ ضرورت سے دگنی مقدار میں بیٹا کیروٹین فراہم کرتی ہے۔
جسم میں بیٹا کیروٹین وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جو آنکھوں کے اندر روشنی محسوس کرنے والے خلیوں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ وٹامن اے کی شدید کمی ترقی پذیر ممالک میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اور بینائی کے ایک خاص عارضے کا سبب بن سکتی ہے۔ نارنجی شکر قندی جیسی غذائیں اس کمی سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
جامنی شکر قندی میں موجود اینتھوسیانن بھی آنکھوں کے خلیوں کو نقصان سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس سے آنکھوں کی مجموعی صحت پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
4. Better for Brain
جامنی شکر قندی کا استعمال دماغی افعال کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ اس میں موجود اینتھوسیانن سوزش کم کر کے اور فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچا کر دماغ کی حفاظت کرتے ہیں۔
ایک اور تحقیق میں دیکھا گیا کہ اینتھوسیانن سے بھرپور شکر قندی کا عرق دینے سے چوہوں میں سوزش کی علامات کم ہوئیں اور یادداشت میں بہتری آئی۔ اسی طرح کیفیوئیل کوئنک ایسڈ سے بھرپور عرق نے عمر رسیدہ چوہوں میں سیکھنے اور یادداشت کی صلاحیت کو بہتر بنایا۔
اگرچہ انسانوں پر براہ راست تحقیق ابھی باقی ہے۔ مگر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پھلوں، سبزیوں اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور غذا کھانے سے ذہنی زوال اور یادداشت کمزور ہونے کا خطرہ تیرہ فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
Sweet Potatoes for Immunity
نارنجی شکر قندی بیٹا کیروٹین کے قدرتی ذرائع میں سے ایک ہے، جو جسم میں وٹامن اے بناتا ہے۔ وٹامن اے صحت مند مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور اس کی کمی مدافعتی قوت کو کمزور کر سکتی ہے۔
یہ وٹامن معدے کی اندرونی جھلی کو بھی صحت مند رکھتا ہے۔ جو جسم کو بیماری پھیلانے والے جراثیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وٹامن اے کی کمی سے آنتوں کی سوزش بڑھ جاتی ہے اور مدافعتی نظام کی مناسب کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
اگرچہ شکر قندی کے مدافعتی نظام پر براہ راست اثرات کے حوالے سے کوئی خصوصی تحقیق موجود نہیں۔ تاہم اسے باقاعدگی سے کھانے سے وٹامن اے کی کمی سے بچاؤ ممکن ہے۔
Beneficial for Liver
جامنی شکر قندی میں موجود اینتھوسیانن جگر کو نقصان دہ مادوں کے اثرات سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اجزا خلیوں میں چربی کے آکسیڈیشن کو روکتے ہیں۔ اور فری ریڈیکلز کو ختم کر کے جگر کی حفاظت کرتے ہیں۔
ایک تحقیق میں صحت مند مردوں کو جن میں جگر کی معمولی سوزش پائی گئی۔ جامنی شکر قندی سے بنا مشروب پلایا گیا۔ نتیجے میں ان کے جگر کے خامروں کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جانوروں پر ہونے والے مطالعوں میں بھی یہ عرق جگر کی چوٹ سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔
5. Effects on Diabetes
جامنی اور نارنجی شکر قندی سے حاصل کیے گئے اینٹی آکسیڈنٹ عناصر موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عناصر چربی کے خلیوں میں جمع ہونے کو روکتے ہیں اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح کو معمول پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔
شکر قندی میں موجود فلیوونائیڈز نے چوہوں میں شریانوں کی سختی کو کم کیا۔ خون کی روانی بہتر بنائی اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کی۔ یہ عناصر ذیابیطس کے مریضوں میں شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار پائے گئے۔
6. Benefits for Intestines
شکر قندی میں ایک خاص مرکب پایا جاتا ہے۔ جو آنتوں کی حفاظتی جھلی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مرکب معدے کی اندرونی سطح پر ایک حفاظتی تہہ بنانے والے مادے کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ جو آنتوں کو نقصان دہ عناصر سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ مرکب آنتوں کے خلیوں کے درمیانی جوڑ کو بھی جزوی طور پر محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ جوڑ آنتوں کی دیوار کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے کمزور ہونے سے معدے سے متعلق مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاکہ شکر قندی کے دیگر اجزا کے معدے کی صحت پر اثرات کو بھی سمجھا جا سکے۔
How to Use Sweet Potatoes?
شکر قندی کو ابالنے، بھاپ میں پکانے، تلنے، مائیکروویو یا تندور میں پکانے سمیت کئی طریقوں سے تیار کیا جا سکتا ہے۔ پکانے کا طریقہ اس میں موجود غذائی اجزا کی مقدار پر اثر ڈالتا ہے۔
مثال کے طور پر بھاپ میں پکانے سے جامنی شکر قندی میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزا کی مقدار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح تندور میں پکانے سے بھی مفید اجزا کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب زیادہ دیر تک پانی میں ابالنے سے کچھ مفید مرکبات ضائع ہو سکتے ہیں۔
پکانے سے بیٹا کیروٹین کی مقدار میں تھوڑی کمی ضرور آتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود شکر قندی اس کا کم از کم 70 فیصد حصہ برقرار رکھتی ہے۔ اس لیے یہ اب بھی وٹامن اے کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ زیتون کا تیل، ناریل کا تیل یا ایوکاڈو کے ساتھ شکر قندی پکانے سے بیٹا کیروٹین کے جذب ہونے کی صلاحیت مزید بہتر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک چکنائی میں حل ہونے والا جزو ہے۔
How to Add it in Your Routine?
شکر قندی کو غذا میں شامل کرنا نہایت آسان ہے۔ اسے چھلکے سمیت یا بغیر چھلکے کے، ابال کر، بھون کر، بھاپ میں پکا کر یا تندور میں تیار کیا جا سکتا ہے۔
اسے پتلے قتلوں میں کاٹ کر چپس بنائے جا سکتے ہیں۔ لمبے ٹکڑوں میں کاٹ کر فرائز کے طور پر تیار کیا جا سکتا ہے، یا مکھن جیسی چیزوں کے ساتھ ٹوسٹ کی صورت میں کھایا جا سکتا ہے۔ اسے میش کر کے، پیاز اور دیگر سبزیوں کے ساتھ ہیش بنا کر، یا مٹھائی جات میں پیوری کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
Last Words on Sweet Potatoes in Urdu
شکر قندی ایک ایسی غذا ہے جو غذائیت، ذائقے اور آسانی، تینوں اعتبار سے بہترین انتخاب ہے۔
فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور یہ سبزی نہ صرف نظام ہاضمہ اور دماغی صحت کے لیے مفید ہے۔ بلکہ آنکھوں، جگر اور مدافعتی نظام کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسے اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنا کر آپ اپنی مجموعی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔
FAQs
What are the main benefits of sweet potatoes?
شکر قندی ایک نہایت غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ جو صحت کے کئی پہلوؤں میں فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، منگنیز اور فائبر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے، آنتوں کی حفاظتی جھلی کو مضبوط کرتی ہے، اور مفید جراثیم کی نشوونما میں مدد دیتی ہے۔
اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ اجزا جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتے ہیں اور کینسر جیسے مسائل سے حفاظت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آنکھوں کی بینائی، دماغی افعال، جگر کی صحت اور مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ذیابیطس اور دل کی صحت کے لیے بھی یہ ایک مفید غذا سمجھی جاتی ہے۔
Is sweet potato hot or cold in nature?
روایتی طب کے مطابق شکر قندی کی تاثیر گرم سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے عام طور پر سردیوں کے موسم میں زیادہ کھایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم کو اندرونی گرمی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ تاثیر کے حوالے سے یہ معلومات زیادہ تر روایتی اور مقامی طبی تصورات پر مبنی ہیں۔ اور جدید سائنسی تحقیق میں اس کی براہ راست تصدیق موجود نہیں۔
ہر انسان کا جسم مختلف انداز میں غذاؤں پر ردعمل دیتا ہے۔ اس لیے اگر کسی کو شکر قندی کھانے کے بعد جسمانی گرمی یا کوئی تکلیف محسوس ہو تو اسے اپنی مقدار میں احتیاط برتنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
What happens if I eat sweet potatoes daily?
شکر قندی کا روزانہ استعمال عمومی طور پر صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ فائبر، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹ اجزا کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے باقاعدہ استعمال سے نظام ہاضمہ بہتر رہتا ہے، مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور جسم میں وٹامن اے کی کمی نہیں ہوتی۔ تاہم چونکہ اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بھی خاصی ہوتی ہے۔
اس لیے اسے متوازن مقدار میں اور دیگر غذاؤں کے ساتھ ملا کر کھانا بہتر ہے۔ ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانے سے وزن بڑھنے یا خون میں شکر کی سطح متاثر ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔ خصوصاً ان افراد میں جنہیں پہلے سے ذیابیطس یا شوگر کے مسائل ہوں۔ اعتدال میں استعمال ہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔
Is sweet potato good for insulin resistance?
شکر قندی میں پائے جانے والے فلیوونائیڈز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹ اجزا نے جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں خون میں شکر کی سطح کو بہتر بنانے اور شریانوں کی صحت کو فروغ دینے میں مثبت اثرات دکھائے ہیں۔ یہ اجزا سوزش کم کرنے اور خون کی روانی بہتر بنانے میں معاون پائے گئے۔ جو بالواسطہ طور پر انسولین کی کارکردگی کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے انسانوں پر مکمل اور واضح تحقیق ابھی دستیاب نہیں۔ اس لیے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شکر قندی انسولین کی مزاحمت کا علاج ہے۔ ذیابیطس یا انسولین سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں غذا میں تبدیلی سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
When to eat sweet potatoes?
شکر قندی کو دن کے کسی بھی وقت کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے دوپہر کے کھانے یا شام کے وقت کھانا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں جو دن بھر کی سرگرمیوں میں استعمال ہو جاتی ہے۔
کچھ لوگ اسے ناشتے میں بھی شامل کرتے ہیں تاکہ دن کا آغاز توانائی بخش غذا سے ہو۔ رات کے وقت زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ خصوصاً ان افراد کے لیے جو وزن کم کرنے کی کوشش میں ہوں۔ کیونکہ رات کو جسمانی سرگرمی کم ہونے کی وجہ سے حرارے آسانی سے خرچ نہیں ہو پاتے۔