ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک عام مگر خطرناک بیماری ہے جس میں جسم خون میں موجود شکر کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس بیماری میں لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کرتا۔ نتیجتاً خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جو وقت کے ساتھ دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ماضی میں یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھی جاتی تھی۔ لیکن اب کم عمری میں بھی اس کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ ناقص خوراک، موٹاپا اور جسمانی سرگرمی کی کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
Symptoms of Type 2 Diabetes in Urdu
اس بیماری کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ برسوں تک اس سے لاعلم رہتے ہیں۔ عام علامات میں شامل ہیں۔
- بار بار پیاس لگنا
- زیادہ پیشاب آنا
- معمول سے زیادہ بھوک لگنا
- مسلسل تھکن محسوس ہونا
- دھندلا دکھائی دینا
- زخموں کا دیر سے بھرنا
- ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
- جلد پر سیاہ دھبے پڑنا
- بغیر وجہ وزن کم ہونا
- بار بار انفیکشن ہونا
خواتین میں پیشاب کی نالی یا خمیر والے انفیکشن بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ علامات مسلسل محسوس ہوں تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Causes of Type 2 Diabetes
ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بنیادی وجہ انسولین مزاحمت ہے۔ اس حالت میں جسم کے خلیے انسولین کے اثر کو قبول نہیں کرتے۔ پھر لبلبہ زیادہ انسولین بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب خلیوں کی مزاحمت حد سے بڑھ جائے اور لبلبہ اتنی انسولین نہ بنا سکے تو ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہو جاتی ہے۔
اس انسولین مزاحمت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
- وراثت: محققین نے ڈی این اے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ تبدیلیاں دریافت کی ہیں جو اس مرض کے خطرے سے جڑی ہیں۔ اگر ماں یا باپ میں سے ایک کو یہ مرض ہو تو زندگی میں اس کے لگنے کا خطرہ چالیس فیصد ہے، اور اگر دونوں کو ہو تو یہ خطرہ ستر فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
- موٹاپا: خصوصاً پیٹ اور اعضا کے گرد چربی جمع ہونا اس مرض کا بڑا سبب ہے۔
- جسمانی سرگرمی کا فقدان: جو لوگ ہفتے میں تین بار سے بھی کم جسمانی ورزش کرتے ہیں، ان میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
- غذا: بہت زیادہ پروسیس شدہ کھانے، میٹھے مشروبات اور سنترپت چکنائی والی غذائیں انسولین مزاحمت بڑھاتی ہیں۔
- دائمی تناؤ اور نیند کی کمی: یہ بھی انسولین مزاحمت کا سبب بنتے ہیں۔
- بعض ادویات اور ہارمونل خرابیاں: جیسے لمبے عرصے تک کورٹیکوسٹیرائیڈز استعمال کرنا یا تھائیرائیڈ کا کمزور ہونا۔
People at Great Risk
کچھ لوگوں میں اس مرض کے لگنے کا امکان دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ افراد زیادہ محتاط رہیں۔
- جن کے خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ ہو
- پینتالیس سال سے زیادہ عمر کے افراد
- زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار لوگ
- جو خواتین حمل کے دوران ذیابیطس کا شکار ہوئی ہوں
- ہائی بلڈ پریشر یا ہائی کولیسٹرول والے افراد
- پری ذیابیطس کے مریض
یہ یاد رکھیں کہ یہ مرض صرف بڑوں کو نہیں، بچوں اور نوجوانوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے باقاعدگی سے خون کا معائنہ کرانا ضروری ہے۔
Diagnosis of Type 2 Diabetes
ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔ تین اہم ٹیسٹ یہ ہیں
- فاسٹنگ خون کا ٹیسٹ: آٹھ گھنٹے کے روزے کے بعد کیا جاتا ہے۔ نتیجہ ایک سو چھبیس یا زیادہ ہو تو ذیابیطس تصور کیا جاتا ہے۔
- کسی بھی وقت کا ٹیسٹ: بھوکے پیٹ کی شرط کے بغیر کیا جاتا ہے۔ نتیجہ دو سو یا زیادہ ہو تو ذیابیطس ہے۔
- ہیموگلوبن اے ون سی ٹیسٹ: یہ پچھلے دو تین مہینوں کی اوسط شکر ظاہر کرتا ہے۔ ساڑھے چھ فیصد یا زیادہ کا نتیجہ ذیابیطس کی علامت ہے
Effects of Type 2 Diabetes in Urdu
اگر اس بیماری کو قابو میں نہ رکھا جائے تو جسم کے کئی اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔
- دل کی بیماریاں: ذیابیطس دل کے دورے، فالج اور بلند فشار خون کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
- گردوں کو نقصان: زیادہ شکر گردوں کی کارکردگی کمزور کر دیتی ہے، جس سے گردے ناکارہ بھی ہو سکتے ہیں۔
- آنکھوں کی کمزوری: یہ بیماری آنکھوں کی باریک رگوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے بینائی کمزور یا مکمل ختم ہو سکتی ہے۔
- اعصابی نقصان: ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا، جلن یا درد اعصاب کے متاثر ہونے کی علامات ہیں۔
- جلدی مسائل: جلد خشک ہونا، خارش اور انفیکشن ذیابیطس کے مریضوں میں عام ہیں۔
- پاؤں کے مسائل: زخم دیر سے بھرنے کی وجہ سے شدید انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں عضو کاٹنا بھی پڑ سکتا ہے۔
Treatment for Type 2 Diabetes
اس بیماری کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، لیکن مناسب احتیاط اور علاج سے اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
Healthy Diet
صحت مند غذا ذیابیطس کے علاج میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مریض کو چاہیے کہ
- سبزیاں زیادہ کھائے
- پھل مناسب مقدار میں استعمال کرے
- ثابت اناج کو ترجیح دے
- میٹھی اور چکنائی والی اشیاء کم کھائے
- بازاری مشروبات سے پرہیز کرے
کھانے کے اوقات بھی منظم ہونے چاہییں تاکہ خون میں شکر اچانک نہ بڑھے۔
Exercise
روزانہ چہل قدمی، سائیکل چلانا یا تیراکی جسم کو متحرک رکھتی ہے اور خون میں شکر کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ جسمانی سرگرمی کا مشورہ دیتے ہیں۔
Reduce Weight
اگر مریض وزن کم کر لے تو انسولین بہتر انداز میں کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنا ذیابیطس کے علاج میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
Medicines
بعض مریضوں کو خون میں شکر قابو میں رکھنے کے لیے ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ مریضوں کو انسولین بھی استعمال کرنا پڑ سکتی ہے۔
ادویات ہمیشہ معالج کے مشورے سے استعمال کرنی چاہییں کیونکہ غلط استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
Conclusion on Type 2 Diabetes in Urdu
ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک خطرناک بیماری ہے۔ لیکن احتیاط، متوازن غذا، ورزش اور بروقت علاج کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگر علامات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ بیماری دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت مند طرز زندگی اپنانا نہ صرف ذیابیطس سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اگر آپ کو بار بار پیاس، زیادہ پیشاب یا مسلسل تھکن جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر معالج سے مشورہ کریں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
FAQs
What is the meaning of type 2 diabetes in Urdu?
ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم خون میں موجود شکر کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس بیماری میں جسم یا تو مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا پھر جسم کے خلیے انسولین پر درست ردعمل نہیں دیتے۔ نتیجتاً خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر موٹاپے، غیر صحت مند خوراک، ورزش کی کمی اور خاندانی تاریخ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور بعض اوقات مریض کو کئی سال تک اس کا علم نہیں ہوتا۔ بروقت تشخیص اور احتیاط کے ذریعے اس بیماری کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
What are the symptoms of type 2 diabetes?
ٹائپ ٹو ذیابیطس کی علامات عموماً آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ عام علامات میں بار بار پیاس لگنا، زیادہ پیشاب آنا، مسلسل بھوک محسوس ہونا اور جسمانی تھکن شامل ہیں۔ بعض مریضوں کو دھندلا دکھائی دیتا ہے یا ان کے زخم دیر سے بھرتے ہیں۔ ہ
اتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ بھی اس بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد کا وزن بغیر وجہ کم ہونے لگتا ہے۔ جلد پر سیاہ دھبے پڑنا اور بار بار انفیکشن ہونا بھی ذیابیطس کی نشانی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ علامات مسلسل محسوس ہوں تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
What is the treatment for type 2 diabetes?
ٹائپ ٹو ذیابیطس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ لیکن مناسب علاج اور احتیاط سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ علاج میں سب سے اہم کردار متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور وزن کم کرنے کا ہوتا ہے۔ مریض کو میٹھی اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
روزانہ چہل قدمی یا ورزش خون میں شکر کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بعض مریضوں کو ادویات کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ خون میں شکر قابو میں رہے۔ اگر بیماری زیادہ بڑھ جائے تو انسولین بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ خون میں شکر کی باقاعدہ جانچ اور معالج کی ہدایات پر عمل کرنا علاج کا اہم حصہ ہے۔
How is type 2 diabetes different from type 1 diabetes?
ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس دونوں میں خون میں شکر بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ان کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسولین تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں دیکھی جاتی ہے۔
دوسری طرف ٹائپ ٹو ذیابیطس میں جسم انسولین کو صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ یہ بیماری عموماً موٹاپے، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کی کمی سے جڑی ہوتی ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس زیادہ تر بالغ افراد میں پائی جاتی ہے، لیکن اب نوجوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
Is type 2 diabetes curable?
ٹائپ ٹو ذیابیطس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسے مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگر مریض صحت مند طرز زندگی اپنائے، متوازن غذا کھائے، باقاعدگی سے ورزش کرے اور وزن کم رکھے تو خون میں شکر کو معمول کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔
بعض افراد میں احتیاط اور وزن کم ہونے سے بیماری کی علامات کافی حد تک کم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر دوبارہ لاپرواہی کی جائے تو خون میں شکر پھر بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس کو زندگی بھر سنبھالنے والی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ معالج کی ہدایات، ادویات اور باقاعدہ معائنہ اس بیماری کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔