السر معدے یا چھوٹی آنت کی اندرونی جھلی پر بننے والا ایک ایسا زخم ہے۔ جو وقت کے ساتھ گہرا ہو جاتا ہے۔ جب معدے کا تیزاب حفاظتی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اندرونی بافت متاثر ہونے لگتی ہے۔ جس کے نتیجے میں السر بنتا ہے۔
یہ بیماری عام ضرور ہے، لیکن اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو خون بہنے، سوراخ ہونے اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
بہت سے افراد السر کو صرف معدے کی عام تکلیف سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ بعض اوقات یہی معمولی درد ایک خطرناک بیماری کی علامت ہوتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ زیادہ تر مریض مناسب علاج سے چند ہفتوں میں صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
امریکا میں ہر سال تقریباً چالیس لاکھ افراد میں معدے کے السر کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس لیے عام ہے کیوں کہ اس کی بنیادی وجوہات بھی معاشرے میں بہت عام ہیں۔ جیسے کہ درد کش ادویات کا زیادہ استعمال اور ایک بیکٹیریا جسے ایچ پائلوری کہا جاتا ہے۔
Types of Ulcer in Urdu
السر کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں۔
Stomach Ulcer
یہ معدے کی اندرونی دیوار پر بنتا ہے۔ بعض افراد میں اس کا درد کھانا کھانے کے بعد زیادہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ خوراک کے ساتھ معدے میں تیزاب بنتا ہے جو زخم کو مزید چبھنے لگتا ہے۔
Duodenal Ulcer
یہ چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے میں بنتا ہے۔ اس قسم کے السر میں درد اکثر خالی پیٹ، کھانے کے درمیان یا رات کے وقت زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں کو کھانا کھانے سے وقتی آرام بھی محسوس ہوتا ہے۔
دونوں اقسام کی علامات ایک جیسی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر فرق کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ درست تشخیص کے لیے معائنہ اور ضروری جانچ کی ضرورت پڑتی ہے۔
Causes of Ulcer in Urdu
معدے کے السر کی دو سب سے بڑی وجوہات ایچ پائلوری بیکٹیریا اور درد کش ادویات کا زیادہ استعمال ہیں۔ یہ دونوں وجوہات مل کر تقریباً ننانوے فیصد السر کیسز کا سبب بنتی ہیں۔
H Pylori
ایچ پائلوری ایک انتہائی عام بیکٹیریل انفیکشن ہے۔ جو دنیا بھر میں تقریباً نصف آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ یہ زیادہ تر معدے میں رہتا ہے اور کئی افراد میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔ لیکن بعض اوقات یہ بڑھنے لگتا ہے اور معدے کی تہہ کو نقصان پہنچا کر مسلسل سوزش پیدا کرتا ہے۔ جس سے السر بنتا ہے۔ یہ انفیکشن قریبی رابطے، جیسے بوسہ لینے، یا آلودہ کھانے اور پانی کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
NSAID Use
آئیبوپروفین، نیپروکسن اور اسپرین جیسی عام درد کش ادویات کو این ایس اے آئی ڈیز کہا جاتا ہے۔ یہ ادویات معدے کی تہہ کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہیں اور ساتھ ہی ان کیمیائی مادوں کو بھی روکتی ہیں جو معدے کی حفاظت اور مرمت کرتے ہیں۔
معدے کی تہہ عام طور پر خود کو ٹھیک کر لیتی ہے، لیکن اگر درد کش ادویات کا استعمال زیادہ اور مسلسل ہو تو معدہ مرمت کا کام جاری نہیں رکھ پاتا اور زخم گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پیراسیٹامول اس زمرے میں شامل نہیں۔
Risk Factors
اگرچہ ہر شخص میں السر نہیں بنتا، لیکن بعض حالات اس بیماری کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں۔
- ساٹھ سال سے زیادہ عمر ہونا۔
- پہلے بھی السر رہ چکا ہو۔
- درد کم کرنے والی دواؤں کی زیادہ مقدار استعمال کرنا۔
- ایک سے زیادہ ایسی دوائیں ایک ساتھ لینا۔
- خون پتلا کرنے والی یا بعض دیگر ادویات کا ساتھ میں استعمال۔
- ہڈیوں کی کمزوری کے علاج کی بعض ادویات کا استعمال۔
ان عوامل کی موجودگی میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Symptoms of Ulcer in Urdu
بعض مریضوں میں السر کسی واضح علامت کے بغیر بھی موجود رہ سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر افراد میں مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
سب سے نمایاں علامت معدے کے اوپری حصے میں درد یا جلن ہے۔ یہ درد سینے کی ہڈی اور ناف کے درمیان محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات بائیں جانب زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
کچھ افراد اس درد کو یوں بیان کرتے ہیں جیسے معدے میں آگ جل رہی ہو یا کوئی چیز اندر سے کاٹ رہی ہو۔
بعض مریضوں میں درد کھانے کے بعد بڑھ جاتا ہے جبکہ کچھ لوگوں میں خالی پیٹ یا رات کے وقت زیادہ ہوتا ہے۔
Additional Symptoms
السر کے ساتھ درج ذیل علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
- معدے میں جلن محسوس ہونا۔
- کھانا کھانے کے فوراً بعد پیٹ بھر جانے کا احساس۔
- دیر تک بھرا بھرا محسوس ہونا۔
- پیٹ پھول جانا۔
- ڈکاریں آنا۔
- سینے میں جلن۔
- متلی یا قے۔
- معدے میں گیس کی شکایت۔
یہ تمام علامات ہر مریض میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض افراد میں صرف ایک یا دو علامات موجود ہوتی ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں کئی علامات ایک ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں۔
Silent Ulcer
کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں السر ہونے کے باوجود کوئی خاص تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اس حالت کو خاموش السر کہا جاتا ہے۔
ایسے افراد کو بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب السر خون بہانا شروع کر دے یا معدے میں سوراخ جیسی سنگین پیچیدگی پیدا ہو جائے۔
اسی وجہ سے اگر کسی شخص کو خطرے کے عوامل موجود ہوں یا وہ مسلسل درد کم کرنے والی دوائیں استعمال کرتا ہو تو معمولی علامات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
Diagnosis of Ulcer
ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی علامات اور طبی تاریخ کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ آیا مریض درد کش ادویات زیادہ استعمال کرتا ہے یا پہلے ایچ پائلوری انفیکشن ہو چکا ہے۔
سب سے مؤثر طریقہ اینڈوسکوپی ہے۔ جسے ای جی ڈی ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک باریک نلی کے ذریعے کیمرہ معدے کے اندر بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ مریض بےہوشی کی حالت میں ہوتا ہے۔ اسی نلی کے ذریعے بایوپسی کا نمونہ لے کر ایچ پائلوری کی جانچ کی جاتی ہے۔ اور اگر خون بہہ رہا ہو تو اسی دوران علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اپر جی آئی ایکسرے سیریز سے بھی السر کی تشخیص ممکن ہے۔ ایچ پائلوری کے لیے سانس کا ٹیسٹ، خون کا ٹیسٹ یا پاخانے کا ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔
Treatment of Ulcer in Urdu
اگر السر کی وجہ درد کش ادویات کا استعمال ہو اور مریض ان کا استعمال بند کر دے۔ تو زخم خود بخود بھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایچ پائلوری انفیکشن موجود ہو تو اینٹی بائیوٹکس ادویات ضروری ہوتی ہیں۔
Antibiotics
ایچ پائلوری کے علاج کے لیے عام طور پر یہ اینٹی بائیوٹکس تجویز کی جاتی ہیں۔
- ٹیٹراسائیکلین
- میٹرونیڈازول
- کلیریتھرومائسن
- اموکسیسیلن
Protective Medicines
یہ ادویات معدے کی تہہ پر ایک حفاظتی تہہ بناتی ہیں۔
- سکرالفیٹ
- مسوپروسٹول
- بسمتھ سبسیلیسیلیٹ
Histamine Blockers
یہ ادویات وہ کیمیائی سگنل روکتی ہیں جو تیزاب بنانے کا حکم دیتا ہے۔
- فیموٹیڈین
- سیمیٹیڈین
- نیزاٹیڈین
Proton Pump Inhibitors
یہ ادویات تیزاب کم کرنے کے ساتھ ساتھ معدے کی تہہ کو تحفظ بھی دیتی ہیں۔
- ایسومیپرازول
- ڈیکسلانسوپرازول
- لانسوپرازول
- اومیپرازول
- پینٹوپرازول
- ریبیپرازول
Surgery
اگر السر پیچیدہ ہو جائے تو اینڈوسکوپی کے دوران ہی خون بہنے کو داغ کر یا دوا لگا کر روکا جا سکتا ہے۔ اگر سوراخ ہو جائے تو سرجن کو ٹانکے لگانے پڑ سکتے ہیں۔
کچھ مریضوں میں السر بار بار لوٹتا ہے یا علاج کا اثر نہیں لیتا۔ ایسے میں داغ دار بافت کو ہٹانے یا معدے کے راستے کو کھولنے کے لیے سرجری، یا تیزاب پیدا کرنے والے اعصاب کو کاٹنے کی سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Last Words on Ulcer in Urdu
السر ایک عام مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ بشرطیکہ اسے وقت پر پہچانا اور اس کا علاج کیا جائے۔ اگر آپ کو بار بار پیٹ میں جلن، بدہضمی یا غیر معمولی درد محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ کیوں کہ بروقت تشخیص پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے۔
ایچ پائلوری انفیکشن کی جانچ کروانا اور درد کش ادویات کا استعمال احتیاط سے کرنا، السر سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ صحت مند طرز زندگی اپنا کر اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کر کے، اس بیماری کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
FAQs
What is the meaning of ulcer?
السر دراصل جسم کے کسی حصے کی اندرونی تہہ پر بننے والا ایک کھلا زخم ہوتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ زخم اس وقت بنتا ہے جب کسی عضو کی حفاظتی تہہ کمزور پڑ جائے اور تیزاب، بیکٹیریا یا دیگر عوامل اسے نقصان پہنچانا شروع کر دیں۔
السر جسم کے مختلف حصوں میں بن سکتا ہے۔ جیسے معدہ، چھوٹی آنت یا منہ کے اندر۔ عام طور پر السر کی وجہ سے درد، جلن یا سوزش محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ زخم مزید بڑھ سکتا ہے اور خون بہنے یا سوراخ ہونے جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی قسم کے السر کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔
What is the difference between duodenal and stomach ulcer?
اسٹمک السر یعنی معدے کا السر، معدے کی اندرونی تہہ پر بنتا ہے۔ جبکہ ڈیوڈینل السر چھوٹی آنت کے اوپری حصے میں بنتا ہے، جسے ڈیوڈینم کہا جاتا ہے۔ دونوں کی بنیادی وجوہات ملتی جلتی ہیں۔ جن میں ایچ پائلوری بیکٹیریا اور درد کش ادویات کا زیادہ استعمال شامل ہے۔
تاہم درد کے وقت میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسٹمک السر میں درد اکثر کھانے کے فوراً بعد بڑھتا ہے۔ جبکہ ڈیوڈینل السر میں درد خالی پیٹ یا رات کے وقت زیادہ محسوس ہوتا ہے اور کھانا کھانے سے وقتی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ دونوں اقسام کا علاج تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ مگر درست تشخیص کے لیے اینڈوسکوپی سب سے بہتر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
What is the meaning of mouth ulcer?
منہ کا السر، جسے عام زبان میں منہ کے چھالے بھی کہا جاتا ہے۔ منہ کی اندرونی جھلی پر بننے والا ایک چھوٹا مگر تکلیف دہ زخم ہوتا ہے۔ یہ زخم عام طور پر گالوں کے اندر، ہونٹوں کے اندرونی حصے، مسوڑھوں یا زبان پر ظاہر ہوتا ہے۔
اس کی وجوہات میں غذائی کمی، خاص طور پر وٹامن بی اور آئرن کی کمی، ذہنی دباؤ، منہ میں چوٹ لگنا، یا مدافعتی نظام کی کمزوری شامل ہو سکتی ہے۔ منہ کا السر عام طور پر خود ہی چند دنوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ بار بار بنے یا دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔
What are the symptoms of ulcer?
السر کی سب سے عام علامت پیٹ یا متعلقہ حصے میں جلن یا درد ہے، جو کھانے سے پہلے یا بعد میں بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ پیٹ پھولنا، ڈکاریں آنا، متلی اور بھوک میں کمی جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ بعض مریضوں کو سینے کی جلن اور ترشی کا بھی سامنا رہتا ہے۔
اگر السر شدید ہو جائے تو قے میں خون آنا، پاخانے کا سیاہ رنگ اختیار کرنا، چکر آنا اور غیر معمولی کمزوری جیسی سنگین علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ کچھ افراد میں السر خاموشی سے موجود رہتا ہے۔ اور کوئی واضح علامت ظاہر نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے تشخیص میں دیر ہو جاتی ہے۔
What are the treatment options for ulcer?
السر کا علاج بنیادی طور پر اس کی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ایچ پائلوری بیکٹیریا موجود ہو تو اینٹی بائیوٹکس ادویات تجویز کی جاتی ہیں تاکہ انفیکشن ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ تیزاب کم کرنے والی ادویات جیسے پروٹون پمپ انہیبیٹرز اور ہسٹامین بلاکرز بھی دی جاتی ہیں۔
حفاظتی ادویات معدے کی تہہ پر ایک تہہ بنا کر زخم کو محفوظ رکھتی ہیں تاکہ وہ جلدی بھر سکے۔ اگر السر کی وجہ درد کش ادویات ہوں تو انہیں بند کرنا یا مقدار کم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شدید یا پیچیدہ کیسز میں اینڈوسکوپی یا سرجری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔