یورک ایسڈ کیا ہے؟ گاؤٹ کیا ہے؟ یورک ایسڈ اور گاؤٹ میں کیا فرق ہے؟ یورک ایسڈ کتنا ہونا چاہیے؟ آج ہم انہی تمام سوالات کے جوابات جانیں گے۔ یورک ایسڈ ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہے۔ اسی لیے آج ہم آپ کو یورک ایسڈ کا مکمل علاج بتانے لگے ہیں۔
یورک ایسڈ ایک قدرتی فضلہ ہے جو آپ کے جسم میں پیدا ہے۔ پیورین سے بھرپور غذائیں جب آپ کا جسم ہضم کرتا ہے تو پھر یورک ایسڈ بنتا ہے۔ عام طور پر آپ کا جسم یورک ایسڈ کو گردوں اور پیشاب کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ بہت زیادہ پیورین والی غذائیں کھاتے ہیں یا آپ کا جسم یورک ایسڈ کو خارج نہیں کرتا تو پھر آپ کے خون میں بھی یورک ایسڈ بننے لگتا ہے۔
یورک ایسڈ اور گاؤٹ کا تعلق جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ یورک ایسڈ کتنا ہونا چاہیے؟ یورک ایسڈ کا لیول 6.8 ملی گرام پر ڈیسی لیٹر ہونا چاہیے۔ اگر یورک ایسڈ کا لیول اس سے زیادہ ہے تو پھر پریشانی کی بات ہے۔ کیوں کہ یہ پھر گاؤٹ کی وجہ بنتا ہے۔ یعنی جسم میں یورک ایسڈ کا لیول بڑھ جانا۔
سب سے پہلے ہم یورک ایسڈ کی علامات کو جان لیتے ہیں۔ اس کے بعد یورک ایسڈ کا دیسی علاج پر بات کریں گے۔ تا کہ اس سے نجات پانے کے پراسس میں آپ کو کوئی بھی مشکل پیش نہ آئے۔
یورک ایسڈ کی علامات
یورک ایسڈ کی بہت ساری علامات ہوتی ہیں۔ اس کی پہلی علامت جوڑوں میں شدید درد ہے۔ یورک ایسڈ کی وجہ سے آپ کے جوڑ نہ صرف سوزش کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ علامات خاص طور پر رات کو شروع ہوتی ہیں اور آپ کی نیند کو شدید متاثر کرتی ہیں۔
یورک ایسڈ کی علامات زیادہ تر پاؤں کے بڑے انگوٹھے کے نچلے والے حصے پر ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ علامات ہر دفعہ اسی جگہ پر ظاہر ہوں۔ یورک ایسڈ آپ کے ٹخنوں، گھٹنوں، کہنیوں، کلائیوں، اور انگلیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی وجہ سے آپ کو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے جوڑوں میں آگ لگ گئی ہے۔ یعنی جوڑوں میں شدید گرماہٹ کا احساس۔ یہی یورک ایسڈ یا گاؤٹ کی علامات ہیں۔
یورک ایسڈ کا ٹیسٹ
یورک ایسڈ کا ٹیسٹ کوئی بہت زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ عام طور پر آپ کا ڈاکٹر آپ کے جوڑوں سے سرنج کی مدد سے سیال نکالتا ہے۔ پھر اس سیال کا مائیکرو سکوپ کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں یوریٹ کرسٹلز ہیں یا نہیں۔
یورک ایسڈ کا دوسرا ٹیسٹ بلڈ ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ آپ کے جسم میں یورک ایسڈ کا لیول کیا ہے۔ تاہم یورک ایسڈ کا بلڈ ٹیسٹ بہت زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔ کیوں کہ کچھ لوگوں میں گاؤٹ کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ان کے جسم میں یورک ایسڈ کا لیول نارمل ہوتا ہے۔
ایکسرے کی مدد سے بھی یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے جوڑ سوزش کا شکار کیوں ہوئے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ یورک ایسڈ کا ٹیسٹ آپ کا ڈاکٹر ہی تجویز کرے۔ خود سے ٹیسٹ کروانے سے گریز کریں۔
یورک ایسڈ کا مکمل علاج
اب ہم یورک ایسڈ کے مکمل علاج پر بات کر لیتے ہیں۔ یہ آسان علاج آپ کے لیے نہایت فائدہ مند ہوں گے۔
فائبر زیادہ لیں
فائبر کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنا بھی یورک ایسڈ کا دیسی علاج ہے۔ اس سے آپ کے یورک ایسڈ کے لیول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ فائبر سے آپ کو بلڈ شوگر اور انسولین کے لیول کو متوازن کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ فائبر سے آپ کو بھوک بھی کم لگتی ہے۔
بڑوں کو دن میں بائیس سے چونتیس گرام فائبر لینا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ فائبر سے بھرپور غذائیں استعمال کریں جیسا کہ تخم بالنگا۔ کیوں کہ تخم بالنگا سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ شروع میں تخم بالنگا، چیا سیڈز، یا اسپغول کو کم مقدار میں استعمال کریں۔
آہستہ آہستہ ان کے استعمال کی مقدار کو بڑھاتے جائیں۔ اس سے آپ کا معدہ اور آنتیں ڈسٹرب نہیں ہوں گی۔
وزن کم کریں
زیادہ وزن یا پیٹ کی چربی آپ کے یورک ایسڈ کے لیول کو بڑھا سکتی ہے۔ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کے گردے مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے جسم سے یورک ایسڈ خارج نہیں ہوتا۔ اور جسم میں اس کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یورک ایسڈ کے شکار افراد کو سب سے پہلے وزن کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لیکن وزن کو کم کرنے کے لیے پہلے آپ کو اپنے طبی معالج سے مشورہ کرنا ہو گا۔ وہ معالج آپ کو بتائے گا کہ آپ نے کون سی غذائیں استعمال کرنی ہیں اور کون سی نہیں۔
اس کے علاوہ آپ اپنے معالج سے یہ بھی جان سکیں گے کہ ان غذاؤں کے ساتھ کون سی ورزش کرنی ہے۔ اور یہ غذائیں آپ کے جسم کو کون سے نیوٹرنٹس اور منرلز فراہم کریں گی۔
پانی کا زیادہ استعمال
پانی کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے آپ کے گردے آسانی سے یورک ایسڈ کو خارج کر دیتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گردے ستر فیصد تک جسم سے یورک ایسڈ کو خارج کرتے ہیں۔
اگر آپ پانی کو زیادہ مقدار میں استعمال کریں گے تو اس سے یورک ایسڈ کے دوران آپ کے گردوں میں پتھری نہیں بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین یہ بات کہتے ہیں کہ یورک ایسڈ کے مریضوں کو ہر وقت پانی کی ایک بوتل ساتھ رکھنی چاہیے۔
یر ایک یا دو گھنٹے بعد پانی لازمی استعمال کریں۔ لیکن ایک بات رکھیں۔ پانی کی جگہ بازار سے ملنے والے جوسز یا کولڈ ڈرنکس استعمال مت کریں۔ حتی کہ قدرتی یا فریش جوسز بھی نہیں۔ یہ آپ کی بلڈ شوگر کو بڑھائیں گے۔
بلڈ شوگر لیول میں کمی
کچھ طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورک ایسڈ اور زیابیطس کا آپس میں تعلق ہے۔ جن لوگوں کو زیابیطس لاحق ہو چکی ہوتی ہے ان میں یورک ایسڈ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے بلڈ شوگر کے لیول میں کمی لانے کو یورک ایسڈ کا آسان علاج سمجھا جاتا ہے۔
اگلی بار جب آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی شوگر چیک کی جائے۔ ڈاکٹر آپ کا سیرم انسولین لیول بھی چیک کر سکتا ہے کہ کہیں آپ کے جسم میں انسولین ریزسٹنس تو نہیں۔
وٹامن سی کا زیادہ استعمال
وٹامن سی کا استعمال آپ کے یورک ایسڈ کے لیول کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم کچھ طبی ماہرین کی یہ رائے ہے کہ اس ضمن میں ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ پتہ چل سکے گا کہ وٹامن سی کیسے یورک ایسڈ کے لیول کو کم کرتا ہے۔
بڑوں کو دن بھر میں 75 سے ایک بیس ملی گرام وٹامن سی لینا چاہیے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں استعمال کی جائیں۔ ان غذاؤں میں لیموں بھی شامل ہے۔ لیموں نہ صرف فائدہ مند ہے بلکہ یہ وٹامن سی کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔
لیموں کو آپ پانی میں نچوڑ کر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن سی لینے کے لیے کسی اچھی کمپنی کا سپلیمنٹ بھی لے سکتے ہیں۔
کافی بھی پئیں
کافی کے استعمال کو بھی یورک ایسڈ کا آسان علاج سمجھا جاتا ہے۔ یہ جسم میں ان انزائمز کی تعداد بڑھاتی ہے جو پیورین کو توڑتے ہیں۔ جس سے یورک ایسڈ کا لیول کم ہوتا ہے۔ کافی کے استعمال سے یورک ایسڈ کے جسم سے اخراج میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ بات کنفرم ہے کہ کافی آپ کے یورک ایسڈ کے لیول کو کم کرتی ہے۔ کافی کو روزانہ پینے سے آپ میں یورک ایسڈ کے خطرات بھی کم ہو جائیں گے۔ لیکن آپ نے کافی میں شوگر شامل کر کے اسے استعمال نہیں کرنا۔
الکوحل کا استعمال ترک کریں
الکوحل کو استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے آپ کا یورک ایسڈ کا لیول بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ الکوحل کی کچھ اقسام میں پیورین پائی جاتی ہے جو کہ یورک ایسڈ کی بڑی وجہ ہے۔ الکوحل کی دوسری اقسام آپ کے جسم میں پیورین بننے کی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں۔
طبی ماہرین اسی بنا پر یہ مشورہ دیتے ہیں کہ یورک ایسڈ کے مریضوں کو کسی بھی صورت میں الکوحل استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
چینی کے استعمال میں کمی
فرکٹوز ایک قدرتی چینی یا شکر ہے جو کہ شہد میں پائی جاتی ہے۔ جب آپ کا جسم اس فرکٹوز کو توڑتا ہے تو اسے پیورین پیدا ہوتی ہے۔ جس سے یورک ایسڈ کا لیول بڑھ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یورک ایسڈ کے مریضوں کے لیے چینی کا استعمال منع کر دیا جاتا ہے۔ انہیں کولڈ ڈرنکس اور جوسز بھی پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان جوسز میں فائبر نہیں ہوتا، جس سے یہ تیزی سے بلڈ شوگر کے لیول کو بڑھا دیتے ہیں۔
یورک ایسڈ کا پرہیز
یورک ایسڈ کا پرہیز بہت سادہ ہے۔ اس میں آپ کو ان غذاؤں کا استعمال ترک کرنا ہوتا ہے جن میں پیورین پائی جاتی ہے۔ اس میں آپ کو سرخ گوشت کا استعمال ترک کرنا ہو گا۔ جانوروں کے گردے اور کیلیجی کے استعمال کو بھی خیر آباد کہنا ہو گا۔
اس کے علاوہ مچھلی اور شیل فیش بھی یورک ایسڈ کا پرہیز ہے۔ پولٹری کا استعمال بھی آپ کو ہر صورت ترک کرنا ہو گا کیوں کہ یہ بھی پیورین کے لیولز کو بڑھا سکتی ہے۔
یورک ایسڈ کی میڈیسن
یورک ایسڈ کی میڈیسن عام طور پر ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کی جاتی ہے۔ لیکن میں یہاں کچھ ادویات کے جنیرک نام لکھنے لگا ہوں۔ ان ادویات میں کولچی سین، زینتھن آکسڈیز، اور پروبالان شامل ہیں۔ یورک ایسڈ کی میڈیسن آپ نے کبھی بھی خود سے نہیں لینی۔ ایک مستند ڈاکٹر ہی ان ادویات کو تجویز کر سکتا ہے۔
چاول اور یورک ایسڈ
چاول اور یورک ایسڈ کا آپس میں زیادہ تعلق نہیں ہے۔ یعنی کہ یورک ایسڈ لاحق ہونے کی صورت میں چاولوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بہت زیادہ مقدار میں نہ کھائے جائیں۔ کیوں کہ ان میں بھی پیورین پائی جاتی ہے۔
یورک ایسڈ میں چاولوں کو نارمل مقدار میں کھایا جا سکتا ہے۔ اگر چاول ابلے ہوئے ہوں تو یہ آپ کے لیے زیادہ فائدہ مند رہے گا۔
بادام اور یورک ایسڈ
یورک ایسڈ زیادہ بننے کی صورت میں بادام استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں پیورین کم مقدار میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے باداموں کا یورک ایسڈ میں استعمال محفوظ رہتا ہے۔ باداموں میں وٹامن ای بھی پایا جاتا ہے۔ جس سے یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پیاز اور یورک ایسڈ
پیاز کا استعمال بھی یورک ایسڈ کا مکمل علاج ہے۔ اس میں بھی پیورین کم مقدار میں پائی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پیاز استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں یورک ایسڈ کا لیول نہیں بڑھے گا۔ لیکن کسی بھی دوسری غذا کی طرح پیاز کو بھی یورک ایسڈ کی بیماری کے دوران متوازن مقدار میں ہی استعمال کریں۔
کچھ آخری الفاظ
یورک ایسڈ کا مکمل علاج تو آپ نے جان لیا ہے۔ اب کوشش کریں کہ ہر علاج آپ کی روٹین میں شامل ہو۔ یورک ایسڈ کو کنٹرول کریں اور صحت مند زنگی گزاریں۔
سوالات و جوابات
گاؤٹ کیا ہے؟
گاؤٹ ایک ایسی بیماری ہے جو جسم میں یورک ایسڈ کے زیادہ بننے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے آپ سے آپ کو شدید درد اور سوزش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یورک ایسڈ کیا ہے؟
یورک ایسڈ ایک قدرتی فضلہ ہے جو آپ کے جسم میں بنتا ہے۔ اس کو آپ کا جسم گردوں اور پیشاب کی مدد سے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن کئی یہ پیشاب سے خارج نہیں ہوتا جس سے جسم میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
یورک ایسڈ کتنا ہونا چاہیے؟
یورک ایسڈ کا لیول 6.8 ملی گرام پر ڈیسی لیٹر ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا یورک ایسڈ کا لیول اس سے بڑھ چکا ہے تو پھر چوکنے ہو جائیں۔ اور یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔