Vitamin D can improve your bone and teeth health.

Vitamin D Benefits in Urdu for Men and Women

وٹامن ڈی انسانی جسم کے لیے ایک نہایت اہم وٹامن ہے۔ جو ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما، کیلشیم اور فاسفورس کے جذب اور جسم کے کئی اہم افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔ جسم سورج کی روشنی کے براہِ راست جلد پر پڑنے سے قدرتی طور پر وٹامن ڈی بنا سکتا ہے۔ جبکہ بعض غذاؤں اور غذائی سپلیمنٹس سے بھی اس کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں وٹامن ڈی ایک، ڈی دو اور ڈی تین شامل ہیں۔ ان میں وٹامن ڈی تین جسم میں بننے والی اہم شکل ہے۔

اگرچہ وٹامن ڈی کو عموماً ہڈیوں کی مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن اس کے کردار کو صرف ہڈیوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ جسم میں اس کی مناسب مقدار کیلشیم اور فاسفورس کے توازن اور مدافعتی نظام کے معمول کے کام کے لیے بھی اہم ہے۔

Benefits of Vitamin D in Urdu

وٹامن ڈی کو لینے سے انسانی جسم کو مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

1.      Bone Health

وٹامن ڈی کا سب سے اہم اور اچھی طرح ثابت شدہ کردار ہڈیوں کی صحت سے متعلق ہے۔ جسم کو ہڈیوں کی مضبوطی اور مناسب ساخت برقرار رکھنے کے لیے کیلشیم اور فاسفورس کی ضرورت ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی آنتوں سے کیلشیم کے جذب کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جس سے جسم کو کیلشیم استعمال کرنے میں سہولت ملتی ہے۔

بچوں میں وٹامن ڈی کی شدید کمی رکٹس کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کیفیت میں ہڈیاں مناسب طور پر مضبوط نہیں ہو پاتیں۔ اور نرم ہونے کے ساتھ اپنی ساخت بھی کھو سکتی ہیں۔ شدید صورت میں ہڈیوں میں درد، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ، دانتوں کے مسائل اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بالغ افراد میں طویل عرصے تک شدید کمی ہڈیوں کے نرم ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ جس سے ہڈیوں اور پٹھوں میں درد یا کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔

2.      Better Teeth

وٹامن ڈی دانتوں کی معمول کی نشوونما اور مضبوطی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ دانتوں اور ہڈیوں کی صحت کے لیے کیلشیم اور فاسفورس اہم معدنیات ہیں۔ اس لیے ان کے مناسب جذب اور استعمال میں وٹامن ڈی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

بچوں میں وٹامن ڈی کی شدید کمی کے دوران دانتوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بچوں کی عمر کے مطابق وٹامن ڈی کی مناسب مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

3.      Better Immunity

وٹامن ڈی مدافعتی نظام کے معمول کے کام میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ تحقیق میں کم وٹامن ڈی کی سطح اور مختلف انفیکشنز یا خودکار مدافعتی بیماریوں کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔

تحقیقی شواہد میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مناسب وٹامن ڈی کی سطح جسم کے دفاعی نظام کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ وٹامن ڈی ہر قسم کے انفیکشن یا بیماری سے یقینی طور پر بچاتا ہے۔

کچھ مطالعات میں کم وٹامن ڈی کی سطح کو شدید سانس کی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے جوڑا گیا ہے۔ جبکہ وٹامن ڈی اور بعض بیماریوں کے درمیان تعلق پر تحقیق اب بھی جاری ہے۔

4.      Vitamin D for Nerves

کچھ آبادی پر مبنی مطالعات میں وٹامن ڈی کی کم سطح اور ایک سے زیادہ عصبی تصلب کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی خودکار مدافعتی بیماری ہے جو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

مشاہداتی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مناسب وٹامن ڈی کی سطح اس بیماری کے خطرے سے تعلق رکھ سکتی ہے۔ لیکن ابھی اتنے مضبوط شواہد موجود نہیں کہ وٹامن ڈی کو اس بیماری سے بچاؤ یا علاج کا ثابت شدہ ذریعہ قرار دیا جائے۔

اسی لیے صرف ایک بیماری کے خوف سے وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار لینا مناسب نہیں۔ خون میں وٹامن ڈی کی سطح، عمر اور مجموعی صحت کو سامنے رکھ کر ہی اس کے استعمال کا فیصلہ ہونا چاہیے۔

5.      Heart Health

کم وٹامن ڈی کی سطح کو بعض مطالعات میں بلند فشار خون، دل کی ناکامی اور فالج سمیت دل کی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کم وٹامن ڈی اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی براہِ راست دل کی بیماری کا سبب بنتی ہے۔ بعض اوقات کم وٹامن ڈی مجموعی طور پر خراب صحت یا کسی دائمی بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے وٹامن ڈی کی گولیاں دل کی بیماری سے بچاؤ کا ثابت شدہ علاج نہیں سمجھی جاتیں۔

6.      Mental Health

وٹامن ڈی اور ذہنی کیفیت کے درمیان تعلق پر بھی تحقیق کی گئی ہے۔ کچھ مطالعات میں کم وٹامن ڈی کی سطح کو افسردگی اور بعض منفی جذبات کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

کچھ تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی رکھنے والے افراد میں سپلیمنٹ لینے کے بعد علامات میں بہتری بھی دیکھی گئی۔ لیکن تمام طبی آزمائشوں کے نتائج ایک جیسے نہیں ہیں۔

خاص طور پر بڑے پیمانے کی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ہر شخص میں وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ افسردگی کو روک یا ختم کر دیتا ہے۔ اس لیے ذہنی صحت کے مسائل میں وٹامن ڈی کو بنیادی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

7.      Vitamin D for Weight Loss

زیادہ جسمانی وزن رکھنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کم سطح زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے تحقیق میں وٹامن ڈی اور موٹاپے کے درمیان تعلق کا ذکر ملتا ہے۔

کچھ پرانی تحقیق میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کے استعمال کے ساتھ وزن میں کمی دیکھی گئی۔ لیکن موجودہ شواہد اس بات کی تائید نہیں کرتے کہ صرف وٹامن ڈی لینے سے وزن کم ہوتا ہے۔

لہٰذا وزن کم کرنے کے لیے وٹامن ڈی کو کسی خاص وزن گھٹانے والی دوا یا طریقے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ صحت مند غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور مجموعی طرز زندگی وزن کے انتظام میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

People with Vitamin Deficiency

ہر شخص سورج کی روشنی سے یکساں مقدار میں وٹامن ڈی حاصل نہیں کرتا۔ جو افراد زیادہ وقت گھروں کے اندر گزارتے ہیں، ان میں کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

بڑے شہروں میں بلند عمارتیں بھی سورج کی روشنی تک رسائی کم کر سکتی ہیں۔ اسی طرح فضا میں زیادہ آلودگی سورج کی روشنی کے ذریعے وٹامن ڈی بننے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

جلد میں موجود میلانین کی زیادہ مقدار بھی سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی بننے کی صلاحیت کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل دھوپ سے بچاؤ کے لیے سن اسکرین کا استعمال اور جسم کا زیادہ حصہ ڈھانپ کر رکھنا بھی وٹامن ڈی کی تیاری کو کم کر سکتا ہے۔

اس لیے بعض افراد کے لیے صرف دھوپ پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوتا اور انہیں غذاؤں یا ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Symptoms of Vitamin Deficiency

بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کی علامات ہمیشہ واضح نہیں ہوتیں۔ بعض افراد میں تھکن، جسم میں درد، ہڈیوں کا درد یا پٹھوں کی کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔

شدید کمی کی صورت میں ہڈیوں میں درد اور پٹھوں کی کمزوری زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے۔ ٹانگوں، کولہوں اور پیڑو کی ہڈیوں میں دباؤ سے ہونے والے چھوٹے فریکچر بھی بعض افراد میں سامنے آ سکتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی کی حتمی تشخیص صرف علامات سے نہیں کی جا سکتی۔ عام طور پر خون کے ایک مخصوص ٹیسٹ کے ذریعے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح معلوم کی جاتی ہے۔ شدید کمی یا ہڈیوں کی کمزوری کے شبہ میں ڈاکٹر مزید معائنے بھی تجویز کر سکتا ہے۔

Daily Dose of Vitamin D

وٹامن ڈی کی ضرورت عمر کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایک سال تک کے بچوں کے لیے روزانہ تقریباً 10 مائیکروگرام، یعنی 400 بین الاقوامی اکائیاں تجویز کی جاتی ہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے روزانہ تقریباً 15 مائیکروگرام، یعنی 600 بین الاقوامی اکائیاں درکار ہوتی ہیں۔ 18 سے 70 سال تک کے بالغ افراد کے لیے بھی تقریباً 15 مائیکروگرام یا 600 بین الاقوامی اکائیاں روزانہ تجویز کی جاتی ہیں۔

70 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے مقدار تقریباً 20 مائیکروگرام، یعنی 800 بین الاقوامی اکائیاں روزانہ ہے۔ حمل اور دودھ پلانے کے دوران بھی تقریباً 15 مائیکروگرام یا 600 بین الاقوامی اکائیاں روزانہ کی مقدار بتائی گئی ہے۔

تاہم کسی فرد کی حقیقی ضرورت اس کی صحت، خون میں وٹامن ڈی کی سطح اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

Sources of Vitamin D

وٹامن ڈی قدرتی طور پر محدود غذاؤں میں پایا جاتا ہے، جبکہ کچھ غذاؤں میں اسے اضافی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔

چکنائی والی مچھلیاں، مثلاً سالمَن، سارڈین، ہیرنگ اور ڈبے میں محفوظ ٹونا، وٹامن ڈی کے اچھے غذائی ذرائع ہیں۔ مچھلی کے جگر کا تیل بھی وٹامن ڈی فراہم کر سکتا ہے۔

انڈے کی زردی اور گائے کے جگر میں بھی وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ عام کھمبیوں اور بالائے بنفشی روشنی سے گزارے گئے کھمبیوں میں بھی وٹامن ڈی موجود ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض دودھ، ناشتے کے اناج، دلیے، دہی اور مالٹے کے رس میں وٹامن ڈی اضافی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ ان مصنوعات میں مقدار ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے غذائی معلومات دیکھنا مفید رہتا ہے۔

Conclusion on Vitamin D in Urdu

وٹامن ڈی جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جز ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی صحت، کیلشیم اور فاسفورس کے مناسب استعمال اور مدافعتی نظام کے معمول کے کام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سورج کی روشنی، وٹامن ڈی والی غذائیں اور ضرورت کے مطابق سپلیمنٹس اس کے حصول کے اہم ذرائع ہیں۔

اس کی کمی بچوں میں رکٹس اور بالغوں میں ہڈیوں اور پٹھوں سے متعلق مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ جبکہ سپلیمنٹ کی بہت زیادہ مقدار زہریلا پن پیدا کر سکتی ہے۔

لہٰذا وٹامن ڈی کی مناسب مقدار حاصل کرنا ضروری ہے۔ لیکن اپنی ضرورت سے زیادہ مقدار لینا فائدہ مند نہیں۔ اگر کمی کا شک ہو تو خون کا ٹیسٹ اور طبی مشورہ زیادہ محفوظ اور درست طریقہ ہے۔

FAQs

What are the main benefits of vitamin D?

وٹامن ڈی کے سب سے اہم فوائد ہڈیوں اور دانتوں کی صحت، کیلشیم اور فاسفورس کے مناسب جذب اور مدافعتی نظام کے معمول کے کام سے متعلق ہیں۔ یہ وٹامن بچوں کی ہڈیوں کی نشوونما اور بالغ افراد میں ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ہڈیوں کو نرم اور کمزور ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس کے علاوہ تحقیق میں وٹامن ڈی کی کم سطح اور بعض بیماریوں، مثلاً ایک سے زیادہ عصبی تصلب، دل کی بیماری، افسردگی اور بعض انفیکشنز کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ تاہم ان بیماریوں سے بچاؤ یا علاج کے لیے وٹامن ڈی کے اثرات کے شواہد ہر جگہ یکساں مضبوط نہیں ہیں۔ اس لیے اسے کسی بیماری کا مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

How does vitamin D help strengthen bones and teeth?

وٹامن ڈی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ دونوں معدنیات ہڈیوں اور دانتوں کی مناسب ساخت کے لیے ضروری ہیں۔ اگر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو خوراک سے حاصل ہونے والا کیلشیم مناسب مقدار میں جذب نہیں ہو پاتا۔ جس سے ہڈیوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

بچوں میں شدید کمی رکٹس کا باعث بن سکتی ہے۔ جس میں ہڈیاں نرم اور کمزور ہو جاتی ہیں۔ بالغ افراد میں شدید یا طویل کمی ہڈیوں میں درد اور پٹھوں کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے وٹامن ڈی کے ساتھ کیلشیم اور متوازن غذا کا مناسب حصول بھی ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

What are the symptoms of vitamin D deficiency?

وٹامن ڈی کی کمی کی علامات ہر فرد میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اور بعض افراد میں واضح علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ بالغ افراد میں تھکن، جسم میں درد، ہڈیوں کا درد اور پٹھوں کی کمزوری عام علامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ شدید کمی کی صورت میں ہڈیوں یا پٹھوں کا درد زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ اور ٹانگوں، کولہوں یا پیڑو کی ہڈیوں میں دباؤ سے ہونے والے فریکچر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

بچوں میں شدید کمی رکٹس کا سبب بن سکتی ہے۔ جس سے ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ صرف علامات کی بنیاد پر وٹامن ڈی کی کمی کی حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے خون میں وٹامن ڈی کی سطح جانچنے والا مخصوص خون کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔

Can vitamin D improve the immune system?

وٹامن ڈی مدافعتی نظام کے معمول کے کام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسم کے دفاعی نظام کے مختلف حصوں کے لیے وٹامن ڈی کی مناسب سطح مفید سمجھی جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی سطح کم ہو، ان میں بعض انفیکشنز اور خودکار مدافعتی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض مطالعات میں وٹامن ڈی کی کم سطح کو شدید سانس کی بیماریوں کے ساتھ بھی منسلک کیا گیا ہے۔

تاہم یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ وٹامن ڈی ہر قسم کے انفیکشن سے یقینی طور پر بچاتا ہے۔ اسی طرح اسے انفیکشن کے علاج کا متبادل بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ مناسب غذا، صحت مند طرز زندگی اور ضرورت کے مطابق طبی مشورے سے وٹامن ڈی حاصل کرنا زیادہ مناسب طریقہ ہے۔

Which foods are rich in vitamin D?

وٹامن ڈی قدرتی طور پر محدود غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم بعض غذائیں اس کا اچھا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ سالمَن، سارڈین، ہیرنگ اور ڈبے میں محفوظ ٹونا جیسی مچھلیوں میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ مچھلی کے جگر کا تیل، انڈے کی زردی اور گائے کا جگر بھی وٹامن ڈی فراہم کر سکتے ہیں۔ عام کھمبیوں اور بالائے بنفشی روشنی سے گزارے گئے کھمبیوں میں بھی وٹامن ڈی موجود ہو سکتا ہے۔

بعض دودھ، ناشتے کے اناج، دلیے، دہی اور مالٹے کے رس میں وٹامن ڈی اضافی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ چونکہ مختلف غذاؤں میں اس کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے غذائی معلومات دیکھنا مفید ہے۔ اگر خوراک سے ضرورت پوری نہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

How much vitamin D do adults need daily?

بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی روزانہ تجویز کردہ مقدار عمر کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اٹھارہ سے ستر سال تک کے بالغ افراد کے لیے تقریباً پندرہ مائیکروگرام، یعنی چھ سو بین الاقوامی اکائیاں روزانہ تجویز کی جاتی ہیں۔ ستر سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے یہ مقدار تقریباً بیس مائیکروگرام، یعنی آٹھ سو بین الاقوامی اکائیاں روزانہ بتائی گئی ہے۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے تقریباً پندرہ مائیکروگرام یا چھ سو بین الاقوامی اکائیاں روزانہ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔ جبکہ ایک سال تک کے بچوں کے لیے تقریباً دس مائیکروگرام یا چار سو بین الاقوامی اکائیاں تجویز کی جاتی ہیں۔ حمل اور دودھ پلانے کے دوران بھی تقریباً پندرہ مائیکروگرام روزانہ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔ انفرادی ضرورت طبی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

Can vitamin D help with weight loss?

تحقیق میں وٹامن ڈی اور جسمانی وزن کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ کیونکہ زیادہ جسمانی وزن رکھنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی کم سطح نسبتاً زیادہ پائی جا سکتی ہے۔ بعض پرانی تحقیق میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کے استعمال کے ساتھ وزن میں کمی دیکھی گئی۔ لیکن موجودہ شواہد اس بات کی مضبوط تائید نہیں کرتے کہ صرف وٹامن ڈی لینے سے وزن کم ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی کو وزن گھٹانے والی دوا یا علاج سمجھنا درست نہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، بہتر نیند اور مجموعی طور پر صحت مند طرز زندگی زیادہ اہم ہیں۔ اگر کسی شخص میں وٹامن ڈی کی کمی موجود ہو تو اس کی کمی پوری کرنا مجموعی صحت کے لیے ضروری ہو سکتا ہے، مگر اسے براہِ راست وزن کم کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

Is it safe to take vitamin D every day?

اگر کسی شخص میں وٹامن ڈی کی کمی تشخیص ہو جائے تو طبی ماہر اس کے لیے روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔ شدید کمی کی صورت میں زیادہ مقدار کی گولیاں یا مائع شکل بھی مخصوص مدت کے لیے دی جا سکتی ہے۔ تاہم ہر شخص کے لیے خود سے زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی لینا محفوظ نہیں۔

سپلیمنٹ کی ضرورت اور مقدار عمر، خون میں وٹامن ڈی کی سطح اور صحت کی مجموعی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار خون میں کیلشیم بڑھا سکتی ہے۔ اور متلی، قے، پیٹ کے درد، شدید پیاس، بار بار پیشاب آنے اور پانی کی کمی جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے طویل مدت تک زیادہ مقدار لینے سے پہلے طبی مشورہ ضروری ہے۔

What happens if you take too much vitamin D?

وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار، خصوصاً سپلیمنٹس کے ذریعے، جسم میں زہریلا پن پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خون میں کیلشیم کی مقدار غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ اس کیفیت میں بار بار پیشاب آنا، بہت زیادہ پیاس لگنا، پانی کی کمی، متلی، قے، پیٹ میں درد، بھوک کم ہونا، کمزوری اور ذہنی الجھن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

شدید صورت میں گردوں کو نقصان، گردوں میں پتھری، جسم کے نرم حصوں میں کیلشیم جمع ہونا اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی جیسی خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر صرف دھوپ یا معمول کی غذا سے وٹامن ڈی کی زیادتی نہیں ہوتی۔ بلکہ مسئلہ زیادہ تر سپلیمنٹس کی غیر ضروری یا بہت زیادہ مقدار سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے تجویز کردہ مقدار سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

Can sunlight provide enough vitamin D?

سورج کی روشنی وٹامن ڈی کا ایک اہم قدرتی ذریعہ ہے۔ کیونکہ براہِ راست سورج کی روشنی جلد پر پڑنے سے جسم وٹامن ڈی بنا سکتا ہے۔ تاہم ہر شخص کو سورج سے حاصل ہونے والی مقدار یکساں نہیں ملتی۔ جو افراد زیادہ وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں۔ بڑے شہروں میں رہتے ہیں یا ایسی جگہوں پر ہوتے ہیں جہاں عمارتیں سورج کی روشنی روک دیتی ہیں۔ ان میں وٹامن ڈی کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جلد میں میلانین کی زیادہ مقدار بھی وٹامن ڈی بننے کی صلاحیت کم کر سکتی ہے۔ اسی طرح سن اسکرین کا استعمال بھی جلد میں وٹامن ڈی کی تیاری کو کم کر سکتا ہے۔ اس لیے بعض افراد کے لیے صرف دھوپ کافی نہیں ہوتی اور انہیں غذا یا طبی مشورے سے سپلیمنٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts