پری ذیابیطس ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اسے مکمل ذیابیطس قرار دیا جا سکے۔ یہ دراصل ذیابیطس سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ اگر اس مرحلے میں مناسب توجہ نہ دی جائے تو وقت کے ساتھ مریض کو ذیابیطس لاحق ہو سکتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پری ذیابیطس کو اکثر صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے روکا یا واپس معمول پر لایا جا سکتا ہے۔
بہت سے افراد کو پری ذیابیطس ہونے کے باوجود اس کا علم نہیں ہوتا۔ کیونکہ اکثر اوقات اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کیفیت کی بروقت تشخیص اور احتیاط انتہائی اہم ہے۔
عام طور پر خالی پیٹ خون میں شکر کی مقدار ستر سے ننانوے ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر خالی پیٹ خون میں شکر کی مقدار سو سے ایک سو پچیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہو تو اسے پری ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر تین ماہ کی اوسط شکر جانچ کا نتیجہ پانچ اعشاریہ سات فیصد سے چھ اعشاریہ چار فیصد کے درمیان ہو تو یہ بھی پری ذیابیطس کی نشاندہی کرتا ہے۔
Causes of prediabetes in Urdu
پری ذیابیطس کی بنیادی وجہ انسولین کے اثر میں کمی یا جسم کا انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہے۔ جب ہم غذا کھاتے ہیں تو اس سے حاصل ہونے والی شکر خون میں شامل ہو جاتی ہے۔ انسولین اس شکر کو خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے تاکہ جسم اسے توانائی کے طور پر استعمال کر سکے۔
جب خلیات انسولین کا مناسب جواب نہیں دیتے یا لبلبہ مطلوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا تو شکر خون میں جمع ہونے لگتی ہے۔ یہی حالت وقت کے ساتھ پری ذیابیطس اور بعد میں ذیابیطس کا سبب بن سکتی ہے۔
Risk Factors
کئی عوامل ایسے ہیں جو پری ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔
- جسمانی وزن کا زیادہ ہونا
- پیٹ کے گرد چربی کا جمع ہونا
- خاندانی تاریخ میں ذیابیطس کا موجود ہونا
- جسمانی سرگرمیوں کی کمی
- حمل کے دوران ذیابیطس ہونا
- پولی سسٹک اووری سنڈروم
- بلند فشار خون
- خون میں نقصان دہ چکنائیوں کی زیادتی
- اچھی چکنائی کی کم مقدار
- سگریٹ نوشی
- نیند کی خرابی یا نیند میں سانس رکنے کی بیماری
- زیادہ میٹھے مشروبات اور پراسیس شدہ گوشت کا استعمال
- عمر میں اضافہ، خصوصاً پینتیس سال کے بعد
Symptoms of Prediabetes in Urdu
پیشگی ذیابیطس کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اکثر اس کی کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ طبی معائنہ بہت ضروری ہے۔
تاہم بعض افراد میں یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
- بھوک یا پیاس میں اضافہ
- تھکاوٹ اور کمزوری
- دھندلی نظر
- زخموں کا دیر سے بھرنا
- بار بار جلدی انفیکشن
- غیر ارادی وزن میں کمی یا اضافہ
- گردن، بغلوں یا رانوں کے پاس جلد کا سیاہ پڑ جانا
یاد رہے کہ یہ علامات ظاہر ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ حالت ذیابیطس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس لیے علامات کا انتظار کیے بغیر جانچ کروانا ضروری ہے۔
Diagnosis of Prediabetes
پری ذیابیطس کی تشخیص خون کے مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- خالی پیٹ شکر کا ٹیسٹ: اگر نتیجہ سو سے ایک سو پچیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہو تو پری ذیابیطس کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔
- گلوکوز برداشت ٹیسٹ: اس جانچ میں مخصوص مقدار میں میٹھا محلول پینے کے بعد خون میں شکر کی سطح دیکھی جاتی ہے۔ اگر نتیجہ ایک سو چالیس سے ایک سو ننانوے ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہو تو یہ پری ذیابیطس کی علامت ہے۔
- تین ماہ کی اوسط شکر جانچ: اگر نتیجہ پانچ اعشاریہ سات فیصد سے چھ اعشاریہ چار فیصد کے درمیان ہو تو پری ذیابیطس موجود ہو سکتی ہے۔
- اتفاقی خون میں شکر کی جانچ: بعض حالات میں یہ جانچ بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، لیکن حتمی تشخیص کے لیے مزید ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں۔
Treatment of Prediabetes in Urdu
پری ذیابیطس کے علاج کی بنیاد طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے ذیابیطس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین جسمانی وزن میں تقریباً سات فیصد کمی کا ہدف تجویز کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا وزن زیادہ ہو تو معمولی وزن میں کمی بھی خون میں شکر کی سطح کو بہتر بنا سکتی ہے۔
بعض مریضوں میں ڈاکٹر ادویات بھی تجویز کر سکتے ہیں۔ خصوصاً ایسے افراد میں جن میں ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ ہو یا صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی کافی ثابت نہ ہو۔
Change Your Diet
کھانے کی تھالی کو اس طرح ترتیب دیں۔
- آدھی تھالی بغیر نشاستے والی سبزیوں سے بھریں جیسے پتے دار سبزیاں
- ایک چوتھائی حصہ صحت مند اناج سے بھریں جیسے بھورے چاول یا جو
- ایک چوتھائی حصہ کم چکنائی والی پروٹین سے بھریں جیسے مچھلی، مرغی یا دالیں
اس کے علاوہ روزانہ پچیس سے تیس گرام ریشہ دار غذا کھانا ضروری ہے۔ میٹھے مشروبات، سفید روٹی، سفید چاول اور بازاری مٹھائیاں حتی الامکان ترک کریں۔
شکر کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی ہدایت یہ ہے کہ یہ روزانہ کی کل توانائی کے دس فیصد سے کم ہو۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن خواتین کو چھ چائے کے چمچ اور مردوں کو نو چائے کے چمچ سے زیادہ شکر نہ کھانے کا مشورہ دیتی ہے۔
بحیرہ روم کی غذا کو پیشگی ذیابیطس کے لیے سنہری معیار سمجھا جاتا ہے۔ جس میں سالم اناج، کم چکنائی والی پروٹین اور صحت مند چکنائیاں شامل ہوتی ہیں۔
Do Exercise
باقاعدہ ورزش خون میں شکر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ہفتے میں کم از کم ایک سو پچاس منٹ درمیانی یا تیز رفتار جسمانی سرگرمی کی سفارش کی جاتی ہے۔ روزانہ چہل قدمی، سائیکل چلانا یا دیگر جسمانی سرگرمیاں بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
Get Good Sleep
نیند کی کمی جسم میں شکر کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ کم نیند لینے والے افراد میں میٹھی غذاؤں کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔ جس سے وزن اور خون میں شکر دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
بالغ افراد کو روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے معیاری نیند لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Avoid These Foods
پری ذیابیطس میں مکمل طور پر کسی ایک غذائی گروہ کو ختم کرنا ضروری نہیں۔ لیکن بعض چیزوں کو محدود کرنا بہت اہم ہے۔
- میٹھے مشروبات
- مٹھائیاں
- کیک اور بسکٹ
- سفید آٹا
- سفید چاول
- زیادہ چکنائی والی غذائیں
- مصنوعی چکنائیاں
- اضافی شکر والی تیار شدہ غذائیں
پھل عام طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، تاہم پھلوں کے رس کے بجائے پورے پھل کھانا زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ ان میں فائبر زیادہ ہوتا ہے۔
Last Words on Prediabetes in Urdu
پری ذیابیطس ایک اہم انتباہی مرحلہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جسم میں شکر کا نظام متاثر ہونا شروع ہو چکا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ کیفیت اکثر قابلِ واپسی ہوتی ہے۔
صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، اچھی نیند اور دیگر مثبت طرزِ زندگی کی تبدیلیاں نہ صرف پری ذیابیطس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ بلکہ اسے مکمل ذیابیطس میں تبدیل ہونے سے بھی روک سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور مسلسل احتیاط صحت مند زندگی کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
FAQs
What is the meaning of prediabetes in Urdu?
پری ذیابیطس کا مطلب خون میں شکر کی ایسی حالت ہے جس میں گلوکوز کی مقدار معمول سے زیادہ ہوتی ہے. لیکن اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اسے ٹائپ دو ذیابیطس کہا جا سکے۔ یہ ایک ابتدائی اور تنبیہی مرحلہ ہوتا ہے. جس میں جسم انسولین کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا یا انسولین کی مقدار مناسب نہیں ہوتی۔
اس حالت میں اگر توجہ نہ دی جائے تو وقت کے ساتھ یہ بیماری ذیابیطس میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ مناسب غذا، وزن میں کمی اور ورزش کے ذریعے اسے واپس نارمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک قابل واپسی حالت ہے اگر بروقت احتیاط کی جائے۔
What are the complications of prediabetes?
پری ذیابیطس اگر کنٹرول نہ کی جائے تو یہ آہستہ آہستہ جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سب سے پہلے خون کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں۔ جس سے دل کی بیماریاں اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گردوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور وقت کے ساتھ گردوں کی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔
آنکھوں کی بینائی کمزور ہو سکتی ہے اور ریٹینا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اعصابی نظام متاثر ہونے سے ہاتھ پاؤں میں سن ہونا اور جھنجھناہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ زخم دیر سے بھرنے لگتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ حالت آگے چل کر ٹائپ دو ذیابیطس میں تبدیل ہو سکتی ہے جو مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
What are the symptoms of prediabetes?
پری ذیابیطس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ زیادہ تر افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اسی لیے اسے خاموش حالت بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں میں عمومی کمزوری، تھکن، زیادہ بھوک لگنا اور توانائی کی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کی جلد خاص طور پر گردن، بغلوں یا جسم کے موڑ والے حصوں میں سیاہ پڑ سکتی ہے۔
کچھ مریضوں میں زخم دیر سے بھرنے لگتے ہیں اور جلدی انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اگر بیماری آگے بڑھے تو شدید پیاس، بار بار پیشاب آنا، دھندلا دکھائی دینا اور ہاتھ پاؤں میں سن ہونا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ اس وقت تشخیص ہوتے ہیں جب خون کا ٹیسٹ کیا جائے۔
What is the diagnosis of prediabetes?
پری ذیابیطس کی تشخیص خون کے مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سب سے اہم ٹیسٹ خالی پیٹ خون میں شکر کا ہوتا ہے۔ اگر یہ مقدار سو سے ایک سو پچیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہو تو اسے پری ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا اہم ٹیسٹ گلوکوز برداشت ٹیسٹ ہے جس میں میٹھا محلول پینے کے بعد خون میں شکر کی سطح دیکھی جاتی ہے۔
اگر نتیجہ ایک سو چالیس سے ایک سو ننانوے کے درمیان ہو تو یہ بھی پری ذیابیطس کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تین ماہ کی اوسط شکر جانچ بھی کی جاتی ہے جس میں پانچ اعشاریہ سات سے چھ اعشاریہ چار فیصد کا نتیجہ خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ بعض اوقات اتفاقی خون کا ٹیسٹ بھی مدد دیتا ہے مگر حتمی تشخیص مزید ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔
What are the foods to avoid in prediabetes?
پری ذیابیطس میں ایسی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے۔ جو خون میں شکر کو تیزی سے بڑھاتی ہیں۔ سب سے پہلے میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور پیک شدہ جوس سے بچنا چاہیے۔ مٹھائیاں، کیک، بسکٹ، چاکلیٹ اور اضافی شکر والی اشیاء بھی نقصان دہ ہیں۔
سفید آٹا، سفید چاول اور پراسیس شدہ کاربوہائیڈریٹس خون میں شکر کو تیزی سے بڑھاتے ہیں۔ اس لیے ان کو محدود کرنا ضروری ہے۔ تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی غذائیں بھی انسولین مزاحمت کو بڑھا سکتی ہیں۔
فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ کھانے بھی نقصان دہ ہیں۔ پھلوں کا رس بھی محدود ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس میں فائبر کم اور شکر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بجائے تازہ سبزیاں، دالیں، مکمل اناج اور فائبر والی غذائیں بہتر انتخاب ہیں۔