پولی سسٹک اووری سنڈروم خواتین میں پائی جانے والی ایک عام ہارمونی اور میٹابولک بیماری ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر تولیدی عمر کی خواتین کو متاثر کرتا ہے۔ اور ماہواری، بیضہ بننے کے عمل، حمل ٹھہرنے اور جسم میں ہارمونز کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس بیماری میں مردانہ ہارمونز کی مقدار یا اثر بڑھ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ماہواری بے قاعدہ ہونا، بیضہ بننے میں دشواری، چہرے یا جسم پر غیرضروری بالوں کی زیادتی، بالوں کا جھڑنا اور مہاسے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً دس سے تیرہ فیصد خواتین پولی سسٹک اووری سنڈروم سے متاثر ہوتی ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس بیماری میں مبتلا تقریباً ستر فیصد خواتین کو اپنے مرض کا علم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بروقت پہچان اور مناسب طبی معائنہ بہت اہم ہے۔
اس بیماری کا نام اگرچہ بیضہ دانیوں میں موجود چھوٹی چھوٹی تھیلیوں یا رسولیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن ہر متاثرہ خاتون کی بیضہ دانی میں ایسی تبدیلیاں موجود ہونا ضروری نہیں۔ صرف بیضہ دانی میں ایسی تھیلیوں کی موجودگی کی بنیاد پر اس بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔
Symptoms of PCOS in Urdu
اس بیماری کی علامات ہر خاتون میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض خواتین میں چند علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ جبکہ بعض میں وقت گزرنے کے ساتھ علامات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔
Irregular Periods
ماہواری کا غیرمعمولی ہونا پولی سسٹک اووری سنڈروم کی عام علامات میں شامل ہے۔ ماہواری کئی دنوں یا ہفتوں کی تاخیر سے آ سکتی ہے۔ بعض اوقات بالکل نہیں آتی۔ جبکہ کچھ خواتین میں ماہواری زیادہ دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
بعض خواتین کو بہت زیادہ خون آنے یا ماہواری کے دوران شدید درد کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
Difficulty Conceiving
پولی سسٹک اووری سنڈروم میں بیضہ باقاعدگی سے نہیں بنتا یا خارج نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے حمل ٹھہرنے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بیماری خواتین میں بانجھ پن کی اہم وجوہات میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولی سسٹک اووری سنڈروم والی خاتون کبھی حاملہ نہیں ہو سکتی۔ مناسب علاج اور طبی نگرانی کے ذریعے بہت سی خواتین حمل حاصل کر سکتی ہیں۔
Hirsutism
مردانہ ہارمونز میں اضافے کی وجہ سے چہرے، سینے، پیٹ یا جسم کے دوسرے حصوں پر معمول سے زیادہ بال اگ سکتے ہیں۔ یہ علامت بعض خواتین کے لیے جسمانی اور جذباتی پریشانی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
Hair Loss
کچھ خواتین میں سر کے بال پتلے ہونے یا جھڑنے کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات سر کے مخصوص حصوں میں بالوں کی کثافت کم ہونے لگتی ہے۔
Acne and Oily Skin
ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے جلد زیادہ چکنی ہو سکتی ہے۔ اور مہاسے پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ نوجوانی کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
How Common Is PCOS?
پولی سسٹک اووری سنڈروم خواتین میں پائی جانے والی عام ہارمونی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ عالمی سطح پر تولیدی عمر کی تقریباً دس سے تیرہ فیصد خواتین اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
بہت سی خواتین میں اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں یا انہیں عام ماہواری کی بے قاعدگی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں خواتین بروقت تشخیص سے محروم رہتی ہیں۔
یہ بیماری بانجھ پن کی اہم وجوہات میں بھی شامل ہے۔ دراصل دنیا بھر میں بیضہ نہ بننے کی سب سے عام وجوہات میں پولی سسٹک اووری سنڈروم نمایاں ہے۔
Effects of PCOS in Urdu
پولی سسٹک اووری سنڈروم صرف ماہواری یا تولیدی صحت تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ طویل مدت میں جسم کے دوسرے حصوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
اس بیماری میں انسولین کے خلاف مزاحمت، دوسری قسم کی ذیابیطس، موٹاپا اور بلند فشار خون کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے اور دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا امکان بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
کچھ خواتین میں حمل کے دوران ذیابیطس یا حمل کے دوران بلند فشار خون کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری، جگر میں چربی جمع ہونے اور رحم کی اندرونی جھلی کے غیرمعمولی طور پر بڑھنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اگر رحم کی اندرونی جھلی مسلسل موٹی ہوتی رہے۔ تو مستقبل میں اس میں کینسر پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے ماہواری کی طویل بے قاعدگی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
Mental Effects
پولی سسٹک اووری سنڈروم خواتین کی زندگی کے معیار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ حمل ٹھہرنے میں دشواری، وزن میں اضافہ، مہاسے اور غیرضروری بالوں کی زیادتی بعض خواتین میں احساسِ کمتری اور جسمانی شکل کے بارے میں منفی سوچ پیدا کر سکتی ہے۔
کچھ خواتین میں بے چینی، افسردگی اور کھانے سے متعلق بے قاعدہ رویے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
معاشرتی رویے بھی اس مسئلے کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ غیرضروری بالوں کی زیادتی یا موٹاپے جیسی علامات کی وجہ سے بعض خواتین کو سماجی تنقید یا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کا اثر ان کے خاندانی تعلقات، سماجی زندگی، کام اور ذہنی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
Causes of PCOS
پولی سسٹک اووری سنڈروم کی اصل وجہ ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں ہے۔ تاہم بعض خواتین میں اس بیماری کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
اگر خاندان میں کسی خاتون کو پولی سسٹک اووری سنڈروم رہا ہو تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری قسم کی ذیابیطس سے خاندانی تعلق بھی خطرے میں اضافے سے وابستہ ہے۔
جسم میں ہارمونی تبدیلیوں اور انسولین کے خلاف مزاحمت کا اس بیماری سے تعلق پایا جاتا ہے۔ تاہم ہر خاتون میں بیماری کی کیفیت اور علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔
Diagnosis of PCOS in Urdu
اس بیماری کی تشخیص صرف ایک علامت یا صرف بیضہ دانی کے معائنے سے نہیں کی جاتی۔ پہلے دوسری ممکنہ وجوہات کو خارج کرنا ضروری ہوتا ہے۔
عام طور پر درج ذیل تین میں سے کم از کم دو علامات یا طبی شواہد موجود ہونے کی صورت میں تشخیص کی جا سکتی ہے
- جسم میں مردانہ ہارمونز کی زیادتی کی علامات، جیسے چہرے یا جسم پر غیرضروری بال، بالوں کا جھڑنا، مہاسے یا جلد کا زیادہ چکنا ہونا، یا خون میں مردانہ ہارمون کی زیادہ مقدار۔
- ماہواری کا بے قاعدہ ہونا یا بالکل نہ آنا۔
- معائنے میں بیضہ دانیوں میں پولی سسٹک تبدیلیوں کا نظر آنا۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ ہر ایسی خاتون جسے پولی سسٹک اووری سنڈروم ہو۔ ضروری نہیں کہ اس کی بیضہ دانی میں پولی سسٹک تبدیلیاں موجود ہوں۔ اسی طرح صرف ایسی تبدیلیوں کی موجودگی بیماری کی حتمی تشخیص کے لیے کافی نہیں۔
خون کے معائنے سے مردانہ ہارمونز کی مقدار جانچی جا سکتی ہے۔ بعض خواتین میں بیضہ بننے کے عمل میں خرابی جانچنے کے لیے بھی خون کے معائنے کیے جا سکتے ہیں۔
تشخیص کے دوران خاتون کی عمر، خاندانی تاریخ اور دوسری صحت کی حالتوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بلوغت کے ابتدائی عرصے میں ماہواری کا بے قاعدہ ہونا معمول کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ سنِ یاس سے پہلے بھی ماہواری میں تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔
تشخیص کے بعد انسولین کے خلاف مزاحمت اور دل اور خون کی شریانوں سے متعلق خطرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید خون کے معائنے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
Treatment of PCOS in Urdu
پولی سسٹک اووری سنڈروم کا فی الحال کوئی ایسا مستقل علاج موجود نہیں۔ جو بیماری کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ تاہم مناسب علاج کے ذریعے علامات کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ حمل ٹھہرنے کے امکانات بہتر کیے جا سکتے ہیں اور مستقبل میں پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
علاج کا انتخاب ہر خاتون کی علامات، عمر، صحت، حمل کی خواہش اور ذاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
Healthy Foods
صحت مند غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی پولی سسٹک اووری سنڈروم میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جسمانی سرگرمی اور متوازن غذا جسم کی مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اور اس بیماری سے وابستہ میٹابولک خطرات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد صرف وزن کم ہونے سے وابستہ نہیں۔ اگر وزن میں نمایاں کمی نہ بھی ہو تو صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند رہتی ہیں۔
Periods and Acne Treatment
بعض خواتین میں ماہواری کو باقاعدہ کرنے اور مہاسوں یا غیرضروری بالوں کی زیادتی کو کم کرنے کے لیے ہارمونی مانع حمل ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
مردانہ ہارمون کے اثرات کو روکنے والی ادویات بھی بعض صورتوں میں غیرضروری بالوں یا مہاسوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان ادویات کا انتخاب ڈاکٹر کی ہدایت اور خاتون کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔
Infertility Treatment
اگر پولی سسٹک اووری سنڈروم کی وجہ سے حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو تو طرزِ زندگی میں تبدیلی، ادویات اور بعض صورتوں میں بیضہ بننے کے عمل کو متحرک کرنے کے لیے جراحی طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ضرورت پڑنے پر مصنوعی طریقوں سے حمل ٹھہرانے کی جدید طبی تکنیکیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
پولی سسٹک اووری سنڈروم والی خواتین حاملہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن حمل کے دوران بعض پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے حمل کے دوران قریبی طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔
When Not to Ignore PCOS
اگر ماہواری مسلسل بے قاعدہ ہو، کئی ماہ تک نہ آئے، چہرے یا جسم پر غیرضروری بال تیزی سے بڑھیں، بال غیرمعمولی طور پر جھڑنے لگیں، مہاسوں کی شکایت برقرار رہے یا حمل ٹھہرنے میں مسلسل دشواری ہو تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔
بروقت تشخیص سے نہ صرف موجودہ علامات کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بلکہ مستقبل میں ذیابیطس، موٹاپے، بلند فشار خون، دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں اور رحم کی اندرونی جھلی سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرے کو بھی بہتر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے۔
Conclusion on PCOS in Urdu
پولی سسٹک اووری سنڈروم خواتین میں پائی جانے والی ایک عام ہارمونی اور میٹابولک بیماری ہے۔ جو ماہواری، بیضہ بننے کے عمل، جلد، بالوں، وزن اور تولیدی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کی علامات ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اور بعض خواتین میں بیماری طویل عرصے تک تشخیص کے بغیر رہ سکتی ہے۔ اس لیے ماہواری کی مسلسل بے قاعدگی، غیرضروری بالوں، مہاسوں، بالوں کے جھڑنے یا حمل ٹھہرنے میں دشواری کو معمول سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اگرچہ پولی سسٹک اووری سنڈروم کا مستقل علاج موجود نہیں۔ لیکن صحت مند طرزِ زندگی، مناسب ادویات، علامات کے مطابق علاج اور ضرورت پڑنے پر بانجھ پن کے علاج کے ذریعے اس بیماری کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے۔ بروقت طبی توجہ خواتین کو موجودہ علامات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی صحت کے تحفظ میں بھی مدد دیتی ہے۔
FAQs
Is permanent treatment of PCOS available?
فی الحال پولی سسٹک اووری سنڈروم کا ایسا مستقل علاج موجود نہیں۔ جو بیماری کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ لیکن مناسب علاج سے اس کی علامات اور طویل مدتی خطرات کو مؤثر انداز میں قابو کیا جا سکتا ہے۔ علاج کا انتخاب ہر خاتون کی علامات، صحت، عمر، حمل کی خواہش اور ذاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ صحت مند غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اور ان کے فوائد صرف وزن کم ہونے تک محدود نہیں۔
ماہواری کو باقاعدہ کرنے اور مہاسوں یا غیرضروری بالوں کی زیادتی کو کم کرنے کے لیے بعض ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اگر حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو تو بیضہ بننے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مختلف طبی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج زیادہ مؤثر اور محفوظ رہتا ہے۔
Does PCOS cause weight gain?
پولی سسٹک اووری سنڈروم میں وزن بڑھنے کا مسئلہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اور بعض خواتین میں خاص طور پر پیٹ کے گرد وزن بڑھ سکتا ہے۔ اس بیماری کا تعلق انسولین کے خلاف مزاحمت اور دیگر میٹابولک تبدیلیوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے وزن اور مجموعی صحت کو سنبھالنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
تاہم ہر خاتون جسے پولی سسٹک اووری سنڈروم ہو۔ ضروری نہیں کہ اس کا وزن زیادہ ہو۔ اسی طرح صحت مند طرزِ زندگی کے فوائد صرف وزن کم کرنے سے وابستہ نہیں۔ متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی مجموعی صحت بہتر بنانے اور بیماری سے وابستہ طویل مدتی خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اگر وزن میں تبدیلی یا دیگر علامات نمایاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
Does PCOS lead to other disease?
پولی سسٹک اووری سنڈروم صرف ماہواری اور تولیدی صحت کو متاثر نہیں کرتا۔ بلکہ طویل مدت میں کئی دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔ اس بیماری میں انسولین کے خلاف مزاحمت، دوسری قسم کی ذیابیطس اور موٹاپے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین میں بلند فشار خون، خون میں کولیسٹرول کی زیادتی اور دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری اور جگر میں چربی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہواری کی طویل بے قاعدگی رحم کی اندرونی جھلی کے غیرمعمولی طور پر بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ جس سے مستقبل میں رحم کی اندرونی جھلی کے سرطان کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے طویل مدتی طبی نگرانی اہم ہے۔
Does PCOS affect mental health?
جی ہاں، پولی سسٹک اووری سنڈروم خواتین کی ذہنی اور جذباتی صحت پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ اس بیماری سے وابستہ علامات، جیسے موٹاپا، مہاسے، غیرضروری بالوں کی زیادتی، بالوں کا جھڑنا اور حمل ٹھہرنے میں دشواری، بعض خواتین کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ کچھ خواتین میں بے چینی، افسردگی، کھانے سے متعلق بے قاعدہ رویے اور اپنی جسمانی شکل کے بارے میں منفی احساسات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
معاشرتی تنقید یا جسمانی علامات کی وجہ سے شرمندگی کا احساس خاندانی تعلقات، سماجی زندگی اور کام پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے علاج صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بیماری کے ساتھ مسلسل ذہنی پریشانی یا جذباتی مشکلات محسوس ہوں تو ڈاکٹر سے اس بارے میں بات کرنا بھی ضروری ہے۔
Why is healthy lifestyle is essential in PCOS?
پولی سسٹک اووری سنڈروم میں صحت مند طرزِ زندگی بیماری کو سنبھالنے کا اہم حصہ ہے۔ متوازن اور صحت مند غذا جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے کے ساتھ مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ جبکہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی جسمانی صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی خاص طور پر اس لیے اہم ہے۔
کیونکہ پولی سسٹک اووری سنڈروم انسولین کے خلاف مزاحمت، دوسری قسم کی ذیابیطس، موٹاپے اور دل اور خون کی شریانوں سے متعلق مسائل کے زیادہ خطرے سے وابستہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمی کے فوائد صرف وزن کم ہونے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتے۔ وزن میں نمایاں کمی نہ ہونے کے باوجود صحت مند عادات مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند رہتی ہیں۔
When to contact a doctor in PCOS?
اگر ماہواری مسلسل بے قاعدہ ہو۔ کئی ماہ تک ماہواری نہ آئے۔ غیرمعمولی طور پر زیادہ یا طویل خون آئے۔ چہرے یا جسم پر غیرضروری بال بڑھنے لگیں۔ مہاسے برقرار رہیں۔ سر کے بال غیرمعمولی طور پر جھڑیں یا حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بروقت طبی معائنہ اس بیماری کی تشخیص اور دوسری ممکنہ وجوہات کو خارج کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پولی سسٹک اووری سنڈروم کی تشخیص کے بعد انسولین کے خلاف مزاحمت اور دل اور خون کی شریانوں سے متعلق خطرات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس بیماری کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ کیونکہ طویل مدت میں دوسری قسم کی ذیابیطس، موٹاپا، بلند فشار خون اور رحم کی اندرونی جھلی سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مناسب طبی نگرانی سے ان خطرات کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے۔