ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس جلد کی ایک دائمی سوزشی بیماری ہے۔ جس میں جلد خشک، کھردری، خارش زدہ اور رنگت میں تبدیل شدہ دھبوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری جلد کی حفاظتی تہہ کو متاثر کرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں جلد اپنی نمی برقرار نہیں رکھ پاتی اور بیرونی جراثیم، الرجی پیدا کرنے والے مادے اور دیگر مضر عوامل آسانی سے جلد کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔
اس بیماری میں سب سے نمایاں علامت شدید خارش ہوتی ہے۔ مریض جتنی زیادہ خارش کرتا ہے، جلد اتنی ہی زیادہ متاثر ہوتی جاتی ہے۔ مسلسل کھجانے سے جلد میں سوجن، دراڑیں، رساؤ، چھلکے بننا اور موٹاپا پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے خارش کو روکنا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس سے متاثرہ فرد کے ساتھ رہنے یا ہاتھ ملانے سے کسی دوسرے شخص کو یہ بیماری نہیں لگتی۔
یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی جلد کی سب سے عام دائمی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں۔
یہ بیماری بچوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ لیکن بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بہت سے بچوں میں علامات عمر بڑھنے کے ساتھ کم ہو جاتی ہیں۔ جبکہ بعض افراد میں بیماری پوری زندگی وقفے وقفے سے ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ کچھ افراد میں پہلی مرتبہ یہ بیماری بالغ عمر میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔
Symptoms of Atopic Dermatitis in Urdu
اس بیماری کی علامات جسم کے کسی بھی حصے پر ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اور ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ عام علامات میں خشک اور پھٹی ہوئی جلد، شدید خارش، جلد پر سرخی مائل دانے، چھوٹے ابھرے ہوئے دانے، رطوبت کا اخراج اور اس کا خشک ہو کر پپڑی بن جانا شامل ہیں۔
بعض مریضوں میں جلد موٹی ہو جاتی ہے اور آنکھوں کے ارد گرد کا حصہ گہرا نظر آنے لگتا ہے۔ مسلسل کھجانے سے جلد چھلنے لگتی ہے اور حساس ہو جاتی ہے۔
بچوں میں یہ بیماری اکثر پانچ سال کی عمر سے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ تقریباً 45 فیصد مریضوں میں یہ زندگی کے پہلے چھ ماہ میں ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔
کچھ بچوں میں یہ بڑھتی عمر کے ساتھ خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ کچھ میں یہ جوانی اور بڑھاپے تک برقرار رہتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً 25 فیصد بالغ مریضوں میں یہ بیماری پہلی بار جوانی میں ہی نمودار ہوتی ہے۔
When to Contact a God for Symptoms
اگر خارش اتنی شدید ہو جائے کہ نیند اور روزمرہ کے کام متاثر ہونے لگیں، یا جلد پر انفیکشن کی علامات جیسے نئی لکیریں، پیپ یا زرد رنگ کی پپڑیاں نظر آئیں، تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اگر بخار کے ساتھ جلد پر انفیکشن کے آثار ہوں تو یہ ہنگامی طبی توجہ کا معاملہ ہے۔
Causes of Atopic Dermatitis in Urdu
ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس کی کوئی ایک واحد وجہ نہیں۔ بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کا مجموعہ کارفرما ہوتا ہے۔ سب سے اہم عنصر ایک مخصوص جین کی تبدیلی ہے۔ جسے فلیگرین کہا جاتا ہے۔ یہ جین جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری پروٹین بناتا ہے۔
جب یہ پروٹین کم ہو جاتا ہے تو جلد میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اور یہ آسانی سے جراثیم، الرجی پیدا کرنے والے اجزاء اور ماحولیاتی نقصان دہ عناصر کا شکار بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ جلد پر موجود قدرتی بیکٹیریا کا توازن بگڑ جانا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر اسٹیفائیلوکوکس اوریئس نامی بیکٹیریا کی زیادتی۔ جو تقریباً 90 فیصد مریضوں کی جلد پر پائی جاتی ہے۔ مفید بیکٹیریا کو دبا کر جلد کی حفاظتی تہہ کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ اس کمزور تہہ کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام زیادہ متحرک ہو جاتا ہے جو سوزش اور خارش کا باعث بنتا ہے۔
Risk Factors
اگر کسی شخص کو پہلے بھی ایگزیما، الرجی، بخار زکام یا دمہ لاحق رہ چکا ہو، تو اس میں ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ خاندان میں ان بیماریوں کی موجودگی بھی خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
Complications
اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ بہت سے مریضوں میں یہ بیماری دمہ اور بخار زکام کی طرف بڑھ جاتی ہے، جسے طبی زبان میں ایٹوپک مارچ کہا جاتا ہے۔ یعنی ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس سے شروع ہو کر خوراک کی الرجی، دمہ اور پھر ناک کی الرجی تک بیماری کا سفر۔
مسلسل کھجانے سے جلد موٹی اور سخت ہو سکتی ہے۔ جسے نیوروڈرماٹائٹس کہا جاتا ہے۔ بعض مریضوں کی جلد پر داغ دار حصے بن جاتے ہیں جو ارد گرد کی جلد سے گہرے یا ہلکے رنگ کے ہوتے ہیں، اور ان کا ختم ہونا کئی مہینے لے سکتا ہے۔ کھجانے سے جلد پر زخم بھی بن سکتے ہیں جو بیکٹیریا اور وائرس کے انفیکشن کا دروازہ کھول دیتے ہیں، اور بعض اوقات یہ انفیکشن جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
خارش کی وجہ سے نیند میں خلل پڑنا عام بات ہے۔ اس کے علاوہ طبی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس بیماری کا تعلق ذہنی دباؤ اور اضطراب سے بھی ہے۔ جو مسلسل خارش اور نیند کی کمی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔
Treatment of Atopic Dermatitis in Urdu
اس بیماری کا علاج شدت کے مطابق مختلف مراحل میں کیا جاتا ہے۔ ہلکی سے درمیانی نوعیت کے مریضوں کے لیے سب سے پہلے سٹیرائیڈ والی کریمیں تجویز کی جاتی ہیں۔ جو سوزش کم کرنے اور خارش پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
ان کریموں کی طاقت مختلف درجوں میں ہوتی ہے اور جلد کے حصے، عمر اور بیماری کی شدت کے مطابق ڈاکٹر مناسب طاقت کا انتخاب کرتے ہیں۔ عام طور پر شدید بھڑک اٹھنے کی صورت میں دو سے چار ہفتوں تک استعمال کی جاتی ہیں۔ جبکہ بچاؤ کے لیے ہفتے کے آخری دنوں میں ہلکی مقدار میں لگائی جاتی ہیں۔
طویل عرصے تک تیز سٹیرائیڈ کے استعمال سے جلد پتلی ہو سکتی ہے یا اس پر لکیریں پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔
جن مریضوں میں سٹیرائیڈ کریمیں مؤثر ثابت نہ ہوں یا حساس جگہوں جیسے چہرے پر استعمال درکار ہو، وہاں غیر سٹیرائیڈ ادویات جیسے کیلسینیورن روکنے والی کریمیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ادویات جلد کو پتلا نہیں کرتیں۔ مگر لگانے کی جگہ پر جلن اور چبھن جیسا احساس ہو سکتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے۔
شدید اور مسلسل رہنے والے کیسز میں، جہاں مقامی کریمیں کافی نہ ہوں، وہاں انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی جدید حیاتیاتی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ادویات جسم کے مخصوص مدافعتی مادوں کو روک کر سوزش کم کرتی ہیں اور بیماری کی شدت، خارش اور نیند کے مسائل میں نمایاں بہتری لاتی ہیں۔
ان کے مضر اثرات میں انجیکشن کی جگہ ہلکی سرخی اور آنکھوں کی معمولی سوزش شامل ہو سکتی ہے۔ جسے آنکھوں کے قطروں سے قابو کیا جا سکتا ہے۔
Oral Medicine
نہایت شدید کیسز کے لیے، جہاں دیگر علاج ناکام ہو جائیں، منہ کے ذریعے کھائی جانے والی مخصوص گولیاں بھی تجویز کی جاتی ہیں۔ جو مدافعتی نظام کے مخصوص راستے کو روک کر تیزی سے افاقہ دیتی ہیں۔ ان کا اثر چند دنوں میں ہی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔
مگر ان کے استعمال سے پہلے خون کے مکمل ٹیسٹ اور دیگر طبی معائنے ضروری ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے سنگین مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں انفیکشن کا بڑھا ہوا خطرہ شامل ہے۔ اس لیے یہ ادویات صرف ماہر معالج کی نگرانی میں ہی استعمال کی جانی چاہئیں۔
نہانے کے پانی میں مخصوص مقدار میں بلیچ ملانا بھی بعض مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ جراثیم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مگر اس کا دورانیہ ہفتے میں دو سے تین بار، دس منٹ تک محدود رکھنا چاہیے۔ اسی طرح گیلی پٹی کا طریقہ کار بھی شدید کیسز میں استعمال ہوتا ہے۔ جس میں نم کپڑے سے جلد کو ڈھانپا جاتا ہے تاکہ نمی برقرار رہے اور کھجانے سے بچاؤ ہو۔
مخصوص روشنی تھراپی بھی ان مریضوں کے لیے مفید ہے جو کریموں سے مکمل افاقہ نہ پائیں۔ اس میں مخصوص طول موج کی روشنی ہفتے میں تین بار جلد پر ڈالی جاتی ہے، جو سوزش اور خارش دونوں میں کمی لاتی ہے۔
Prevention Tips
اس بیماری سے بچاؤ کے لیے جلد کی روزمرہ دیکھ بھال انتہائی اہم ہے۔ دن میں کم از کم دو بار موئسچرائزر لگانا ضروری ہے۔ کریم، مرہم اور بغیر خوشبو والی لوشن جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ نومولود بچوں کی جلد پر ویزلین لگانا اس بیماری کے آغاز کو روکنے میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
نہانے کے دوران گرم پانی کی بجائے نیم گرم پانی استعمال کرنا چاہیے۔ اور نہانے کا دورانیہ تقریباً دس منٹ تک محدود رکھنا چاہیے۔ خوشبو اور کیمیکل سے پاک نرم صابن استعمال کریں، اور چھوٹے بچوں کے لیے صرف نیم گرم پانی ہی کافی ہوتا ہے۔ نہانے کے بعد جلد کو نرمی سے تولیے سے خشک کریں اور تین منٹ کے اندر موئسچرائزر لگائیں تاکہ نمی جلد کے اندر محفوظ رہے۔
ہر مریض میں خارش کو بھڑکانے والے عوامل مختلف ہوتے ہیں۔ عام محرکات میں اونی کپڑا، خشک موسم، پسینہ، ذہنی دباؤ، صفائی کے کیمیکل، دھول کے ذرات، پالتو جانوروں کے بال، پھپھوندی، جرگ اور تمباکو کا دھواں شامل ہیں۔ چھوٹے بچوں میں انڈے اور گائے کے دودھ جیسی غذائیں بھی خارش بھڑکا سکتی ہیں۔ اپنے محرکات کی نشاندہی کر کے انہیں دور رکھنا بیماری پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
Conclusion on Atopic Dermatitis in Urdu
ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس ایک طویل المدتی بیماری ہے۔ جو نہ صرف جلد بلکہ مریض کی مجموعی صحت، نیند اور ذہنی سکون پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ یہ بیماری مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ مگر مناسب دیکھ بھال، مستقل موئسچرائزیشن اور محرکات سے بچاؤ کے ذریعے اسے بخوبی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق نے اس بیماری کے علاج میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ خاص طور پر حیاتیاتی ادویات اور جدید گولیوں کی صورت میں۔ جنہوں نے شدید مریضوں کی زندگی میں واضح بہتری لائی ہے۔ تاہم ہر علاج کا انتخاب ڈاکٹر کی رہنمائی میں، مریض کی عمر، بیماری کی شدت اور دیگر طبی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریض اور ان کے اہل خانہ کو اس بیماری کی نوعیت سمجھنی چاہیے۔ یہ ایک طویل عرصے تک ساتھ رہنے والی کیفیت ہے جس میں بھڑک اٹھنے اور افاقے کے ادوار آتے رہتے ہیں۔ خوف یا مایوسی کے بجائے، درست معلومات، بروقت علاج اور جلد کی مستقل دیکھ بھال کے ذریعے مریض ایک نارمل اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگر خارش یا جلد کی خرابی معمول سے زیادہ محسوس ہو، یا انفیکشن کی کوئی بھی علامت نظر آئے، تو فوری طور پر ماہر امراض جلد سے رجوع کرنا ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔
FAQs
What is the meaning of atopic dermatitis in Urdu?
ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس کو عام اردو میں ایگزیما کہا جاتا ہے۔ یہ جلد کی ایک دائمی بیماری ہے۔ جس میں جلد خشک، خارش زدہ اور سوجی ہوئی ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر بچپن میں شروع ہوتی ہے۔ خاص طور پر پانچ سال کی عمر سے پہلے، مگر کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتی ہے۔
اس میں جلد بار بار بھڑک اٹھتی ہے اور پھر کچھ عرصے کے لیے سکون میں چلی جاتی ہے۔ یہ کوئی متعدی بیماری نہیں، یعنی چھونے سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ جلد کی حفاظتی تہہ کا کمزور ہونا اور مدافعتی نظام کا زیادہ متحرک ہو جانا ہے۔ اس کے ساتھ خوراک کی الرجی، بخار زکام اور دمہ لاحق ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جسے طبی زبان میں ایٹوپک مارچ کہا جاتا ہے۔
What is contact dermatitis?
کانٹیکٹ ڈرما ٹائیٹس جلد کی وہ سوزش ہے۔ جو کسی مخصوص چیز کو چھونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس سے مختلف بیماری ہے۔ مگر بعض اوقات ایٹوپک ڈرما ٹائیٹس کے مریضوں میں یہ اضافی پیچیدگی کے طور پر بھی سامنے آ سکتی ہے۔ اس میں جلد کسی الرجی پیدا کرنے والے مادے یا کیمیکل کے رابطے میں آنے سے سرخ اور خارش زدہ ہو جاتی ہے۔
اس کا رنگ جلد کی رنگت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ عام محرکات میں صابن، خوشبو دار مصنوعات، دھاتیں اور کچھ کیمیکل شامل ہیں۔ یہ بیماری بھی متعدی نہیں ہوتی۔ علاج میں سب سے پہلے متاثرہ چیز کی نشاندہی کر کے اس سے دور رہنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ سوزش کم کرنے والی کریمیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
Is phototherapy effective for atopic dermatitis?
جی ہاں، فوٹو تھراپی ان مریضوں کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ جن کی بیماری درمیانی سے شدید نوعیت کی ہو اور جو مقامی کریموں یا دیگر علاج سے مکمل افاقہ نہ پائیں۔ اس طریقہ علاج میں مخصوص طول موج کی روشنی جلد پر ڈالی جاتی ہے۔ جو خارش اور سوزش دونوں میں نمایاں کمی لاتی ہے۔ عام طور پر ہفتے میں تین بار، پانچ سے تیس منٹ تک یہ علاج کیا جاتا ہے۔
یہ طریقہ ان مریضوں کے لیے بھی موزوں ہے۔ جو کم مضر اثرات چاہتے ہیں یا جن کے لیے دوسری ادویات مناسب نہ ہوں۔ البتہ جن مریضوں کو جلد کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہو یا روشنی سے حساسیت ہو۔ ان کے لیے یہ طریقہ موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے مضر اثرات میں جلد کا جلنا اور رنگت میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے۔