Milk thistle is beneficial for liver.

Milk Thistle Benefits in Urdu for Fatty Liver

اونٹ کٹارا ایک قدرتی جڑی بوٹی ہے۔ جسے صدیوں سے جگر کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پودا بحیرہ روم کے ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اور اس کے پھول جامنی رنگ کے ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے پتوں پر سفید دھاریاں نمایاں ہوتی ہیں۔

اس پودے کا سب سے اہم اور فعال جزو سلیمارین کہلاتا ہے۔ جو کئی مفید مرکبات کا مجموعہ ہے۔ ان مرکبات میں سلیبن، آئیسو سلیبن، سلیکرسٹن اور ٹیکسیفولن شامل ہیں۔ ان تمام مرکبات میں سب سے زیادہ تحقیق سلیمارین اور سلیبن پر ہوئی ہے۔

اونٹ کٹارا اپنی اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ روایتی طب میں اسے جگر اور پتے کی بیماریوں کے علاوہ دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آئیے اس کے سائنسی طور پر ثابت شدہ فوائد پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

Milk Thistle Benefits in Urdu

اونٹ کٹارا سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

1.      Liver Protection

اونٹ کٹارا سب سے زیادہ جگر کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ان افراد میں معاون علاج کے طور پر تجویز کیا جاتا ہے جو شراب نوشی سے جگر کے نقصان، غیر الکوحلی چکنائی والے جگر کی بیماری، یا ہیپاٹائٹس جیسی حالتوں کا شکار ہوں۔

اسے موت کی ٹوپی نامی زہریلی کھمبی سے پیدا ہونے والے زہر سے جگر کو بچانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 2021 میں ہونے والی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ اونٹ کٹارا کا استعمال کرنے والے غیر الکوحلی چکنائی والے جگر کی بیماری کے مریضوں میں جگر کے افعال بہتر ہوئے۔

اسی طرح 2014 کی ایک تحقیق کے مطابق اونٹ کٹارا نے الکوحل کی وجہ سے جگر سکڑنے کے مرض میں مبتلا افراد کی متوقع عمر میں معمولی اضافہ کیا۔ تاہم کچھ تحقیقات کے نتائج مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔ اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ صحیح مقدار اور علاج کا دورانیہ طے کیا جا سکے۔

یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اونٹ کٹارا جگر کی بیماریوں سے بچاؤ کی ضمانت نہیں دیتا۔ خاص طور پر اگر طرز زندگی غیر صحت مند ہو۔

2.      Mental Health

اونٹ کٹارا کو ہزاروں سال سے الزائمر اور پارکنسنز جیسی دماغی بیماریوں کے روایتی علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی سوزش کم کرنے والی اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات دماغی خلیوں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں دیکھا گیا کہ سلیمارین دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح یہ الزائمر کے مرض میں دماغ میں جمع ہونے والے نقصان دہ پروٹین کے ذخیروں کو کم کرنے میں بھی معاون پایا گیا۔

تاہم انسانوں پر اس حوالے سے کوئی مستند تحقیق موجود نہیں۔ اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ مرکبات دماغ تک کس حد تک پہنچ پاتے ہیں۔

3.      Bone Health

ہڈیوں کا بھربھرا پن ایک ایسا مسئلہ ہے۔ جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور ہڈیوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ جس سے معمولی گرنے پر بھی ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں۔

جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں اونٹ کٹارا نے ہڈیوں کی معدنیات بڑھانے اور ہڈیوں کے نقصان کو روکنے میں مثبت اثر دکھایا۔ 2013 کی دو تحقیقات کے مطابق یہ رجونورتی کے بعد خواتین میں ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچاؤ میں مفید ہو سکتا ہے۔ لیکن انسانوں پر تحقیق ابھی موجود نہیں۔ اس لیے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہو گا۔

4.      Milk Thistle for Cancer Prevention

2023 کی ایک تحقیق کے مطابق سلیمارین کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کینسر کے خلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کیمو تھراپی سے صحت مند خلیوں کو ہونے والے نقصان سے بھی بچا سکتی ہیں۔

2022 کے ایک جائزے میں بتایا گیا کہ اونٹ کٹارا کینسر کے علاج کے مضر اثرات کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں کیمو تھراپی کی افادیت بڑھانے کے علاوہ کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

قومی کینسر ادارے کے مطابق پروسٹیٹ، چھاتی، جِلد اور بڑی آنت سمیت کئی اقسام کے کینسر پر مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم انسانوں پر ہونے والی تحقیقات محدود ہیں اور ابھی تک کوئی واضح طبی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ خوراک کے ادارے نے اونٹ کٹارا کو کینسر کے علاج کے لیے منظور نہیں کیا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اونٹ کٹارا کے عرق میں ہارمون ایسٹروجن جیسے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہارمون سے متاثر ہونے والے چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔

5.      Beneficial in Breastfeeding

اونٹ کٹارا کو دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دودھ پیدا کرنے والے ہارمون کی مقدار بڑھاتا ہے۔

ایک پرانی تحقیق میں دیکھا گیا کہ چار سو بیس ملی گرام سلیمارین تریسٹھ دن تک لینے والی ماؤں نے پلیسیبو لینے والی ماؤں کے مقابلے میں چونسٹھ فیصد زیادہ دودھ پیدا کیا۔ تاہم یہ واحد تحقیق ہے، اس لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔

6.      Acne Treatment

مہاسے ایک دائمی سوزشی جلدی مسئلہ ہے۔ جو نشانات چھوڑ سکتا ہے اور ظاہری شکل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جسم میں آکسیڈیٹو تناؤ کو مہاسوں کی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اونٹ کٹارا کی اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے یہ مہاسوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ 2012 کی ایک تحقیق کے مطابق آٹھ ہفتوں تک روزانہ دو سو دس ملی گرام سلیمارین لینے والے افراد میں مہاسوں کے نشانات میں تریپن فیصد کمی دیکھی گئی۔ چونکہ یہ بھی واحد تحقیق ہے، اس لیے اسے حتمی نتیجہ سمجھنا مناسب نہیں۔

7.      Helpful for Diabetes

اونٹ کٹارا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے معاون علاج کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود مرکبات انسولین کی حساسیت بہتر بنا کر اور بلڈ شوگر کم کر کے کچھ ذیابیطس کی ادویات جیسا کام کرتے ہیں۔

2021 کے ایک جائزے میں دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سلیمارین لینے والے افراد کے فاسٹنگ بلڈ شوگر اور طویل مدتی بلڈ شوگر کنٹرول کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔ اس کے علاوہ اونٹ کٹارا کی سوزش کم کرنے والی خصوصیات ذیابیطس کی پیچیدگیوں جیسے گردوں کے مرض سے بچاؤ میں بھی مددگار ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس جائزے میں شامل تحقیقات کا معیار زیادہ اعلیٰ نہیں تھا۔ اس لیے مزید مضبوط تحقیق درکار ہے۔

8.      May Lower Cholesterol

بلند کولیسٹرول دل کی صحت کے مسائل اور فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ 2006 کی ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے علاج کے لیے اونٹ کٹارا لینے والے افراد میں کولیسٹرول کی سطح پلیسیبو لینے والوں کے مقابلے میں کم رہی۔

2016 کی ایک تحقیق میں زیادہ کولیسٹرول والی خوراک کھانے والے چوہوں کو سلیبن دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ان کے خون میں کل کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح نمایاں طور پر کم ہوئی۔

9.      Weight Management

غیر الکوحلی چکنائی والے جگر کی بیماری اور موٹاپے کے شکار افراد پر 2022 کی ایک مختصر تحقیق میں آٹھ ہفتوں تک اونٹ کٹارا کا استعمال کرنے والوں کے جسمانی وزن کے اشاریے میں بہتری دیکھی گئی۔

2024 کی ایک تحقیق میں موٹاپے کی شکار خواتین جو ذیابیطس کی مریضہ نہیں تھیں۔ ان میں سلیمارین نے انسولین کے خلاف مزاحمت کم کرنے میں مدد دی۔ 2020 کے ایک جائزے میں بھی سلیمارین کو موٹاپے اور ذیابیطس کے مریضوں میں انسولین مزاحمت کے علاج کے لیے ایک امید افزا مادہ قرار دیا گیا۔

10.  Asthma and Immunity

دمہ ایک دائمی سوزشی بیماری ہے۔ جس میں مدافعتی نظام ماحولیاتی محرکات پر ضرورت سے زیادہ رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ 2012 کی ایک تحقیق کے مطابق سلیمارین نے الرجک دمہ کے شکار جانوروں میں سانس کی نالیوں کی سوزش سے بچاؤ میں مدد کی۔

اونٹ کٹارا مدافعتی نظام کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ 2002 کی ایک تحقیق میں انسانوں پر اس کے مدافعتی نظام پر مثبت اثرات دیکھے گئے۔ تاہم دونوں معاملات میں مزید انسانی تحقیق کی ضرورت ہے۔

Side Effects of Milk Thistle

اونٹ کٹارا کو عمومی طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کے مضر اثرات نایاب ہیں۔ مضر اثرات ظاہر ہوں تو ان میں پیٹ خراب ہونا، متلی، سینے میں جلن اور اسہال جیسی علامات شامل ہو سکتی ہیں۔ زیادہ مقدار میں لینے پر ہلکی الرجک ردعمل بھی ممکن ہے۔

حمل میں خواتین کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کے حوالے سے مستند معلومات موجود نہیں۔ جن افراد کو ڈیزی خاندان کے پودوں سے الرجی ہو۔ انہیں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر بہت زیادہ کم ہونے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

چونکہ اونٹ کٹارا کو دوا کے طور پر باقاعدہ طور پر منظور نہیں کیا گیا۔ اس لیے مختلف برانڈز میں فعال اجزا کی مقدار میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسے معتبر جگہ سے ہی خریدنا چاہیے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کینسر کی ادویات اور تابکاری علاج کے ساتھ اس کے تعامل کے حوالے سے بھی معلومات محدود ہیں۔ اس لیے کوئی بھی نیا سپلیمنٹ شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

Conclusion on Milk Thistle Benefits in Urdu

اونٹ کٹارا ایک ایسی قدرتی جڑی بوٹی ہے۔ جو صدیوں سے جگر کی حفاظت اور مجموعی صحت کے لیے استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ اس کے اندر موجود سلیمارین نامی مرکب اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات کی وجہ سے جگر، جلد، ہڈیوں اور دماغ کی صحت میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے باوجود یہ سمجھنا ضروری ہے۔ زیادہ تر تحقیقات یا تو جانوروں پر ہوئی ہیں یا لیبارٹری کے تجربات تک محدود رہی ہیں۔ انسانوں پر ہونے والی تحقیقات نسبتاً کم اور بعض اوقات معیار کے لحاظ سے کمزور ہیں۔ اس لیے اونٹ کٹارا کو کسی بھی بیماری کا مکمل یا مستقل علاج سمجھنا درست نہیں ہو گا۔

طبی ماہرین کے مطابق اونٹ کٹارا کو معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر جگر سے متعلقہ مسائل، بلڈ شوگر کے کنٹرول اور کولیسٹرول کم کرنے کے لیے۔ لیکن اسے کبھی بھی بنیادی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

اگر آپ کسی بھی دائمی بیماری کا شکار ہیں۔ یا کوئی دوا استعمال کر رہے ہیں۔ تو اونٹ کٹارا شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی ممکنہ تعامل یا نقصان سے بچا جا سکے۔ صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ طبی معائنہ کے ساتھ اونٹ کٹارا کا مناسب استعمال مجموعی صحت میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

FAQs

Is milk thistle beneficial for liver patients?

اونٹ کٹارا کو عام طور پر جگر کے مریضوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اور کئی تحقیقات میں اسے معاون علاج کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خاص طور پر غیر الکوحلی چکنائی والے جگر کی بیماری اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں جگر کے افعال بہتر بنانے میں مددگار پایا گیا ہے۔ ٓ

اس کے اندر موجود سلیمارین جگر کو زہریلے مادوں سے پیدا ہونے والے نقصان دہ اثرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم چونکہ اسے دوا کے طور پر باقاعدہ منظور نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے بنیادی علاج کے بجائے معاون علاج کے طور پر ہی استعمال کرنا چاہیے۔ جگر کے سنگین مسائل کی صورت میں کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔ تاکہ خوراک اور دورانیہ درست طریقے سے طے کیا جا سکے۔

Does milk thistle have side effects?

اونٹ کٹارا کے مضر اثرات نایاب ہیں۔ اور عام طور پر ہلکے نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان میں پیٹ خراب ہونا، اسہال، متلی اور سینے میں جلن جیسی علامات شامل ہو سکتی ہیں۔ کچھ افراد کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے پر ہلکی الرجک ردعمل بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں میں جنہیں ڈیزی خاندان کے پودوں جیسے کہ گل داؤدی یا رگ ویڈ سے الرجی ہو۔

حاملہ خواتین کو اس سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس حوالے سے مستند تحقیق موجود نہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو بھی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بلڈ شوگر کو کم کر سکتا ہے۔ کسی بھی نئے سپلیمنٹ کی طرح، استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

What is the dose of milk thistle?

اونٹ کٹارا کی کوئی مقررہ یا معیاری خوراک موجود نہیں ہے۔ اس لیے سپلیمنٹ کے پیکٹ پر دی گئی ہدایات کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔ یہ عام طور پر کیپسول، گولیوں یا مائع عرق کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے۔ اگر اسے چائے کی صورت میں لیا جائے تو ماہرین روزانہ چھ کپ سے زیادہ نہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

چونکہ اسے دوا کے طور پر باقاعدہ منظور نہیں کیا گیا۔ اس لیے مختلف برانڈز کے فعال اجزا کی مقدار میں فرق ہو سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے معتبر اور بھروسہ مند برانڈ سے خریدنا نہایت ضروری ہے۔ کسی مخصوص بیماری کے علاج کے لیے استعمال سے پہلے معالج سے مناسب مقدار کے بارے میں مشورہ لینا بہترین طریقہ ہے۔

Is milk thistle beneficial for diabetic patients?

اونٹ کٹارا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک معاون سپلیمنٹ کے طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود مرکبات انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا کر اور بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کر کے کچھ ذیابیطس کی ادویات جیسا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق باقاعدگی سے سلیمارین لینے والے افراد کے فاسٹنگ بلڈ شوگر اور طویل مدتی بلڈ شوگر کنٹرول کی سطح میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

اس کے علاوہ یہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں جیسے گردوں کے مسائل سے بچاؤ میں بھی معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم چونکہ یہ بلڈ شوگر کم کرتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کی ادویات کے ساتھ استعمال کرتے وقت بلڈ شوگر بہت زیادہ کم ہونے کے خطرے سے بچنے کے لیے معالج کی نگرانی ضروری ہے۔

Can pregnant and breastfeeding women use milk thistle?

حاملہ خواتین کو اونٹ کٹارا کے استعمال سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کے حوالے سے مستند اور کافی تحقیق موجود نہیں ہے۔ تاہم دودھ پلانے والی ماؤں کے حوالے سے کچھ محدود تحقیقات موجود ہیں۔ جن میں دیکھا گیا کہ اونٹ کٹارا دودھ کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ایک پرانی تحقیق میں سلیمارین لینے والی ماؤں نے پلیسیبو لینے والی ماؤں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ دودھ پیدا کیا۔ لیکن چونکہ یہ واحد قابل بھروسہ تحقیق ہے۔ اس لیے دودھ پلانے والی خواتین کو بھی اسے استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت محفوظ رہے۔

About the author

Saeed Iqbal

Saeed Iqbal is a content conqueror who loves to pen down his thoughts, enabling the masses to live a healthy and balanced life. As a content writer, he has more than five years of experience, producing health-oriented and SEO-driven articles and blogs.

View all posts